PDA

View Full Version : آسان شکار



1US-Writers
06-10-2010, 07:00 AM
http://i1025.photobucket.com/albums/y313/Sabih_UlHassan/shaitan1.jpg
http://i1025.photobucket.com/albums/y313/Sabih_UlHassan/shaitan2.jpg
http://i1025.photobucket.com/albums/y313/Sabih_UlHassan/shaitan3.jpg
http://i1025.photobucket.com/albums/y313/Sabih_UlHassan/shaitan4.jpg

1US-Writers
06-10-2010, 07:00 AM
http://i1025.photobucket.com/albums/y313/Sabih_UlHassan/shaitan5.jpg
http://i1025.photobucket.com/albums/y313/Sabih_UlHassan/shaitan6.jpg
http://i1025.photobucket.com/albums/y313/Sabih_UlHassan/shaitan7.jpg


”آسان شکار“ کے بارے میں اپنی رائے دینا نہ بھولیے
آپ کی تعریف، تنقید اور حوصلہ افزائی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔

Sabih
10-10-2010, 12:39 PM
آسان شکار




صبح کا وقت تھا۔ سڑکوں پر معمول کی چہل پہل تھی۔ کام پر جانے والے لوگ اور سکولوں کو جانے والے بچے سب اپنی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے۔ہوٹلوں میں ناشتہ کرنے والوں کا رش کم ہو چکا تھا۔خزاں کے موسم کی شروعات ہونے کے باعث فضا میں ایک خوشگوار قسم کی خنکی تھی۔ اس نے ایک لمبی سانس بھر کر خوشگوار ہوا کو اپنے پھیپھڑوں میں اتارا اور ایک جانب قدم بڑھا دئیے۔
اسے تمام دنیا شیطان کے نام سے جانتی تھی لیکن کوئی اسے پہچانتا نہ تھا۔ وہ کتنے ہی ہفتوں سے یہاں رہ رہا تھا لیکن کسی کو اس پر شک نہیں ہوا تھا۔ یہاں وہ ناشاد کے نام سے جانا جاتا تھا۔اس نے یہاں رہتے ہوئے خاصی کامیابیاں حاصل کی تھیں۔بہت سے لوگ اس کی چنگل میں پھنس چکے تھے۔ لوگوں کو مستقبل کے سبز باغ دکھا کر برائی اوربے ایمانی پر اکسانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔وہ سوچ رہاتھا کہ جن خرابیوں کے بیج وہ یہاں بو چکا ہے جلد ہی وہ تناور درخت بن جائیں گے۔ اور ہر طرف جھوٹ ریاکاری اور دھوکادہی کا ہی راج ہو گا۔اور اب وہ اپنی آخری اسائنمنٹ کی تکمیل کے لیے سرگرداں تھا۔ اس کا آخری چیلنج کسی آدمی کو خود کشی پر آمادہ کرنا تھا۔اس کے بعد یہ علاقہ بھی اس کے مفتوح علاقوں میں شامل ہو جاتا۔اور وہ یہاں سے اپنا بوریا بستر سمیٹ کر اپنی توجہ کسی اور ان چھوئے علاقے پر لگا سکتا تھا۔ اسے اپنی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ تھا اور وہ پر یقین تھا کہ آج شام تک ہی کوئی نہ کوئی شکار مل جائے گا۔
وہ چلتے ہوئے ایک خستہ سے ہوٹل میں پہنچ گیا۔ دروازہ کھول کر اندر جھانکا اور سر ہلاتے ہوئے اند ر بڑھ گیا۔ اسے اپنا کام شروع کرنے کے لیے بالکل درست جگہ مل گئی تھی۔ یہ ہوٹل پھجے کے ہوٹل کے نام سے مشہور تھا اور وجہ شہرت تھی ہوٹل کے مالک استاد پھجا خان۔ جو اس وقت کاؤنٹر پر بیٹھے نان کلچہ کھانے میں مشغول تھے۔ وہ بھی ایک قریب ہی کی میز پر بیٹھ گیا اور چائے کا کہہ دیا۔
اس سے ایک میز آگے اور پھجے خان کے بالکل ساتھ والی میز پر کوئی شخص کرتے اور شیروانی میں ملبوس سر جھکائے بیٹھا تھا اور شاید رو رہا تھا کیوں سڑ سڑ کی آوازیں تواتر کے ساتھ آ رہی تھیں۔اس کے آگے پانی کا جگ اور گلاس پڑے تھے۔ گلاس میں پانی بھرا تھا۔ پھجا بھائی بھی اس کی جانب تشویش بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ اچانک اس شخص نے سر اٹھایا۔ شیطان اسے دیکھتے ہی پہچان گیا۔یہ اس کی ساتھ والی بلڈنگ میں رہنے والے ایک شاعر تھے جو مرزا نوشہ کے نام سے جانے جاتے تھے۔بہ لحاظ عمر کوئی چالیس کی پیٹے میں تھے
پھجے بھائی نے اچانک آواز لگائی۔ ’’مرزا جی! کیوں بیٹھے روئے جا رہے ہو آخر ہوا کیا ہے؟‘‘
شیطان نے بھی دلچسپی سے مرزا نوشہ کی طرف دیکھا۔ مرزا نے سبڑ سبڑ روتے ہوئے ہی ہانک لگائی۔
’’پھجے بھائی ئی ئی ئی! میں بہت بدنصیب بندہ ہوں۔‘‘
’’کیوں مرزا جی ! ایسا کیا ہو گیا جو یوں آنسو رک ہی نہیں رہے؟‘‘
’’ارے کیا کیا نہیں ہوا پھجے بھائی! کوئی ایک غم ہو تو سناؤں۔‘‘ مرزا جی نے رونے کا شغل جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’ جس کاروبار میں ہاتھ ڈالا بد نصیبی ہی پلے پڑی۔ پولٹری فارم بنایا تو برڈ فلو آ گیا۔‘‘
مرزا جی نے اپنی داستان غم سناتے ہوئے کہا۔ شیطان کو بھی اس قصے میں دلچسپی محسوس ہوئی۔
’’ناچار ساری مرغیاں گفٹ کرنی پڑیں۔ہائے کتنی پیاری تھیں مجھے۔‘‘
مرزا نے ایک اور آہ بھری اور پھر رومال میں گم ہچکیا ں لینے لگے۔
’’یہ تو بہت ہی برا ہوا مرزا جی۔ لیکن اتنے مایوس کیوں ہیں۔‘‘ پھجا بھائی نے کہا۔
’’ارے یہی نہیں ۔ پھر کھجوروں کا فارم بنایا۔ ابھی درخت پریگنینٹ ہی ہوئے تھے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
شیطان کو پانی پیتے ہوئے اچھو لگ گیا کہ یہ درخت کیسے پریگنینٹ ہو گیا۔
مرزا جی نے اس کی کھانسی پر گھور کر اسے دیکھا اور وضاحت کی۔
’’یعنی درختوں پر پھل لگا تھا تو ادھر سے سیلاب آ گیا۔
اور تو اور دو دن پہلے بیوی بھی چھوڑ کر چلی گئی۔‘‘ مرزا نے نئی شدتوں سے آنسو بہاتے ہوئے کہا۔
’’اور تنگ آکر شاعری شروع کی تو پتہ چلاکہ وہ بھی کوئی ناہنجار ڈیڑھ سو سال قبل ہی چرا چکا ہے۔‘‘ مرزا نے ہچکیا ں لیتے ہوئے کہا۔
’’ابھی سنو۔ دو دن سے گھر میں پانی نہیں آ رہا۔
کل ہی اس پر شعر بنایا
آوے آوے کب یہ پانی تو مرے بھائی نہ پوچھ
صبح کرنا غسل کا لانا ہے جوئے شیر کا


پھر پتہ چلا کہ یہ بھی وہ ناہنجار شاعر پہلے ہی چرا چکا ہے۔‘‘
ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ اچانک دروازہ کھلا اور ایک پسینے میں شرابور شخص اندر داخل ہوا۔ ادھر ادھر تیزی سے نظر دوڑائی۔ اس کی نگاہ مرزا کے سامنے پڑے گلاس پر پڑی۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور گلاس اٹھایا۔ پانی ایک جانب پھینکا اور گلاس کھنگال کر دوبارہ بھرا اور پانی پینے لگا۔ دو گلاس پانی پینے کے بعد اس نے گلاس دوبارہ کھنگالا اور بھر کر مرزا کے سامنے رکھ دیا۔ اور خود باہر نکل گیا۔
مرزا جو یہ سب حیرت سے منہ کھولے دیکھ رہے تھے ایک چیخ مار کر پھر رونے لگے۔
’’پھجے بھائی ! یہی دیکھ لو۔ ۔ ۔ ۔ میرے گلاس میں تو سپرائٹ کی بوتل تھی۔ وہ پاگل پانی سمجھ کر پھینک گیا۔ دنیا اب مجھے بوتل بھی نہیں پینے دیتی۔‘‘ مرزا کی ہچکیوں میں مزید اضافہ ہو چکا تھا۔
شیطان بھی بڑی دلچسپی سے ساری بات سن رہا تھا۔
’’ارے مرزا صاحب اب دل چھوٹا نہ کریں۔‘‘ پھجے بھائی نے تسلی دینے والے انداز میں کہا۔
’’پھجے بھائی اب میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا۔ میں جا رہا ہوں خود کشی کرنے۔‘‘
شیطان کے اچھل پڑا۔ یہ تو بنا بنایا شکار مل گیا تھا۔ اس کی باچھیں کھل گئیں۔اسی اثنا میں مرزا اٹھ کر باہر نکل چکے تھے۔
پھجے بھائی جو حیرت سے یہ سب دیکھ رہے تھے۔ جلدی سے اٹھے۔
’’ارے مرزا جی اتنے دلبرداشتہ کیوں ہو رہے ہیں۔‘‘
’’ارے پھجے بھائی۔ ۔ لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں۔ ۔ ‘‘ مرزا جی نے ایک آہ بھر کر کہا۔ پھجے بھائی روکتے ہی رہ گئے پر مرزا جی دروازہ کھول کر باہر نکل گئے۔ شیطان نے بھی جلدی سے حساب چکایا۔اور مرزا کے پیچھے ہی باہر نکل آیا۔
مرزا سر جھکائے ایک جانب چلے جا رہے تھے۔ شیطان چندبڑے بڑے ڈگ بھر کر ان کے برابر جا پہنچا۔ اور بڑے دوستانہ انداز میں ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
’’تو آپ خودکشی کر نا چاہتے ہیں۔‘‘ شیطان نے بڑے شیریں انداز میں پوچھا۔
مرزا جی نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ چند لحظے گھورتے رہے پھر اچانک ان کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ اور وہ روتے ہوئے بولے۔
’’بھائی آپ مجھے روکنے کی کوشش نہ کرنا میرا رادہ پکا ہے۔‘‘
’’ارے روک کون رہا ہے میں تو خود آپ کے ساتھ ہوں۔ ویسے میرا نام ناشاد ہے۔‘‘ شیطان نے تعارف کروایا۔
’’میں خود یہ سمجھتا ہوں کہ یہ دنیااب ہمارے جیسے حساس دل لوگوں کے رہنے کے قابل نہیں رہی۔ آپ بے فکر ہو کر خود کشی کیجیے میں بھی آپ کے پیچھے ہی آیا۔‘‘
مرزا جی کی سبڑ سبڑ میں قدرے کمی ہوئی۔
’’بہت شکریہ بھائی۔ چلو کوئی تو غم گسار اور ہم سفر ملا۔ایک سے دو بھلے ۔ چلو مل کر کلو خان سے زہر خریدتے ہیں۔ ‘‘
’’مرزا جی اصل میں مجھے کچھ ضروری کام نپٹانے ہیں تاکہ کوئی مرنے کے بعد لعن طعن تو نہ کرے۔ اس لیے آپ چلئے میں چند دن بعد کی فلائٹ پر آ جاؤں گا۔‘‘ شیطان نے کہا۔
پکا وعدہ نا۔ دیکھو بھائی مکر نہ جانا۔میں جا کر کمرہ بک کرواتا ہوں دونوں کے لئے۔‘‘ مرزا جی بولے۔
’’ارے دل جلے ایک دوسرے سے جھوٹ نہیں بولتے۔ آپ چلئے اور ہاں یہ میرا فون نمبراور ایڈریس اپنے پاس رکھئے اگر کوئی مسئلہ ہو تو بلاجھجھک فون کیجیے۔‘‘ شیطان ایک کاغذ پر لکھا نمبر بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’بہت شکریہ ناشاد بھائی! آج کی دنیا میں آپ جیسے اچھے لوگ کہاں ملتے ہیں۔‘‘ مرزا جی نے کاغذ پکڑتے ہوئے کہا۔
شیطان نے مسکرا کر ہاتھ ملایا اور واپس چل پڑا۔ وہ دل میں بے حد مسرور تھا کہ آخری مشن بھی پایہ تکمیل کو پہنچا۔
ٌٌٌٌٌٌٌ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


آدھی رات کا وقت تھا۔ آج فون کی گھنٹی بجی اور پھر بجتی چلی گئی۔ شیطان نے اٹھ کر وقت دیکھا تو رات کے بارہ بج رہے تھے۔
’’اس وقت کون ہو سکتا ہے؟‘‘ اس نے جھلا کرکہا اور ہاتھ بڑھا کر فون اٹھا لیا۔


’’ہیلو۔‘‘
دوسری طرف سے مرزا جی کی سبڑ سبڑ سنائی دی۔
’’ناشاد بھائی کچھ کرو۔ آپ کا بھائی اب مر بھی نہیں پا رہا اپنی مرضی سے۔‘‘
’’ارے مرزا جی آپ ابھی تک زندہ ہیں؟‘‘ شیطان نے حیرت سے کہا۔
’’یہی تو مسئلہ ہے کہ ابھی تک زندہ ہوں۔‘‘ مرز ا جی کی آواز سنائی دی۔
’’کیوں کیا مسئلہ ہو گیا؟‘‘ شیطان نے سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’زہر نہیں مل رہا ناشاد بھائی اب کیا کروں؟؟‘‘ مرزا جی کی روتی آواز سنائی دی۔
’’شیطان نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
’’ارے مرزا جی زہر کونسا ایک ہی طریقہ ہے۔ آپ کسی اونچی جگہ سے چھلانگ لگا کر مکتی پا سکتے ہیں۔‘‘
مرزا جی کی سبڑ سبڑ کو بریک لگی۔ ’’اچھا جی۔ اونچی جگہ کیسے؟؟‘‘
’’کوئی بلڈنگ کوئی جہاز کوئی مینار وغیرہ۔ ۔ ۔‘‘
’’اچھا کیا ان سے کود کر خود کشی ہو جائے گی؟‘‘ مرزا جی کی شک بھری آواز سنائی دی۔
’’بالکل بلکہ سو فیصد۔ آپ بے فکر ہو کر چھلانگ مارئیے۔‘‘
شیطان نے جواب دیا۔
سبڑ سبڑ پھر شروع ہو گئی۔
’’اچھا ناشاد بھائی ۔ میں چلا۔ آپ کو اور اس دنیا کو میرا آخری سلام۔آپ آرہے ہیں نا۔‘‘
’’ہاں جی آپ کے پیچھے پیچھے ہی۔ بے فکر ہو کر جائیے۔‘‘
شیطان نے اطمینان دلاتے ہوئے کہا۔
فون بند ہونے کی آواز سن کر ریسیور کریڈل پر رکھا اور یہ کہتے ہوئے لیٹ گیا۔
’’مرزا جی بھی نا۔ ۔ ۔ ۔ چلو کم از کم ان کاا رادہ تو نہیں بدلا۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔


صبح ہو رہی تھی جب دروازے کی گھنٹی بجی۔ چند بار گھنٹی بج چکی تو شیطان نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ دیکھا تو ایک مرزا جی نیلوں نیل کھڑے ہیں۔ شیطان کا حیرت سے منہ کھل گیا۔
تھوڑی دیر بعد اس نے حیرت پر قابو پا کر کہا۔ ’’مرزا جی یہ آپ زندہ کیسے؟؟‘‘
’’اماں یار۔ ۔ ۔ کیا الٹا آئیڈیا دیا تھا تم نے۔ اونچی جگہ سے چھلانگ لگانے کا۔ دیکھ لو کچھ بھی نہیں ہوا۔‘‘ مرزا جی اندر گھستے ہوئے بولے۔
شیطان بھی ساتھ ہی اند آتا ہوا حیرانی سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ ایک کرسی پر بیٹھ گئے۔ شیطان نے بھی سامنے والی کرسی سنبھال لی۔
’’آخر بتائیے تو ہوا کیا؟؟‘‘
’’ہونا کیا ہے یار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جہاز سے چھلانگ ماری ۔ ۔ ۔ پر کچھ بھی نہیں ہوا۔۔ ۔ ابھی تمہارے سامنے بیٹھا ہوں۔‘‘
’’ جہاز سے چھلانگ مار کر بچ گئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘‘ شیطان کے چہرے پر حیرت پھیل گئی۔
’’جہاز پر کیسے بیٹھ گئے۔ ۔ ۔‘‘ شیطان کچھ سوچ کر بولا۔
’’پہلے ائیر پورٹ گیا لیکن انہوں نے بھگا دیا۔ ‘‘ مرزا جی بولے۔
’’پھر جہاز کہاں سے ملا؟؟؟‘‘ شیطان حیرت سے بولا۔
’’ابے یہ اگلے چوک میں کھڑا ہے نا۔ ۔ ۔ ۔‘‘ مرزا جی فخر سے بولے۔
شیطان کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔
’’یعنی وہ جو چوک میں جہاز لگا ہے اس سے چھلانگ ماری؟؟‘‘
’’اور کیا میں فارسی بول رہا ہوں۔ ویسے ایک دم خراب آئیڈیا تھا۔ ایک تو کچھ ہوا نہیں اوپر سے پولیس والوں نے پکڑ لیا کہ کچھ چرا رہے تھے۔‘‘
مرزا جی نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔’’بری مشکل سے جان چھڑا کر آیا۔‘‘
شیطان کا دل چاہ رہا تھا کہ سامنے دیوار کو سر دے مارے۔ کون احمق زمین پر کھڑے جہاز سے کود کر خود کشی کرے گا۔ لیکن اس نے خود پر قابو پا کر سوچا کہ آخری مشن ہے ۔
’’تو اب آپ کا کیا ارادہ ہے۔‘‘
’’ارادے جن کے پختہ ہو ں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ارادہ تو پکا ہے۔ آپ کوئی اچھا آئیڈیا دیں نا۔‘‘
شیطان نے کچھ سوچا اور پھر ان کے کان میں کھسر پھسر کرنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام ہونے والی تھی۔ شیطان اپنے اپارٹمنٹ میں موجود تھا اوراس کا چمکتا چہر ہ بتا رہا تھا کہ بہت ہی خوش تھا۔ہلکے سے میوزک پر کولڈڈرنک پیتا وہ ہولے ہولے تھرک رہا تھا۔ آج اس کا آخری مشن بھی پورا ہو چکا تھا وہ جتنا بھی خوش ہوتا کم تھا۔
وہ سوچ رہا تھا کہ اسی خوشی میں آج پورے شہر کی سیر کی جائے۔ کہ اچانک دروازے کی گھنٹی بجی۔
اس نے میوزک کی آواز بند کی اور یونہی تھرکتے ہوئے جا کر دروازہ کھولا۔ لیکن دروازہ کھولتے ہی تھرکنا تو کیا سانس لینا بھی بھول گیا۔
اس پر حیرت کا کوہ ہمالیہ ٹوٹ پڑا تھا۔ سامنے سر سے پاؤں تک گیلے مرزا جی کھڑے کسی بھیگے چوہے کاسماں پیش کر رہے تھے۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ خواب دیکھ رہا تھا یا یہ مرزا جی کا بھوت تھا جو اس سے آخری سلام دعا کرنے آیا تھا۔وہ کتنے ہی لمحے حیرت سے منہ کھولے انہیں دیکھتا رہا۔ آخرکار مرزا جی خود ہی بولے۔
’’ارے ناشاد میاں اب ہٹو بھی۔ ایک تو الٹے سیدھے مشورے دے کر خوار کرتے ہو دوسرے اند ر بھی نہیں آنے دیتے۔‘‘ مرزا جی نے شیطان کو ہٹاتے ہوئے کہا۔ شیطان ابھی بھی حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہا تھا۔
’’آپ زندہ ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔؟؟‘‘ اس نے حیرت سے لبریز آواز میں کہا۔
’’ارے کوئی مرنے دے تو مروں نا۔‘‘ مرزا جی نے رونے والی آواز میں کہا۔
’’اب کیا ہوا؟‘‘ شیطان نے حیرت پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
’’ہونا کیا تھا۔ تم نے سمندر میں چھلانگ لگانے کو کہا تھانا۔‘‘ مرزا جی لڑنے والے انداز میں بولے۔ ’’ہاں ۔ ۔ ۔ یہی کہا تھا۔‘‘
’’میں کشتی پر سمندر کے بیچوں بیچ گیا۔ اپنی ناقدری پر آنسو بہائے اور سمندر میں چھلانگ لگا دی۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’پھر کیا۔ ۔ ۔ ۔ صبح سے سمندر میں پڑا رہا۔ ۔ ۔ ابھی ایک اور کشتی آ گئی۔ پہلے تو وہ حیران تھے کہ کشتی ساتھ تیر رہی ہے تو یہ کیوں پانی میں ہے۔ ۔ ۔ ۔کشتی میں کیوں نہیں چڑھتا۔ ۔ ۔ پر انہیں کیا پتہ کہ میں تو مرنے گیا تھاپھر انہوں نے نکال لیا۔ ‘‘ مرزا جی پھر سے زارو قطار رونے لگے۔
’’تو کیا ڈوبے نہیں۔ ۔ ۔ ۔‘‘ شیطان نے حیرت سے پوچھا۔
’’ارے کمال کرتے ہو یار اگر ڈوب جاتا تو کیا یہاں بیٹھا رو رہا ہوتا۔ ۔ ۔‘‘ مرزا جی ہچکیوں کی ساتھ روتے ہوئے بولے۔
’’اوہ واقعی۔ ۔ ۔ لیکن ڈوبے کیوں نہیں۔ ۔ ۔؟؟‘‘ شیطان حیرت سے بولا۔
’’مجھے کیا معلوم تم نے ہی کہا تھا اب تم ہی بتاؤ۔ ۔ ۔‘‘مرزا جی بولے۔
شیطان سوچ میں پڑگیا۔’’آپ سمندر کے بیچ میں ہی تھے نا۔ ۔ ۔‘‘
’’ہاں بھئی۔ ۔ ۔ ۔‘‘
’’کیا لائف جیکٹ اتاری تھی۔ ۔ ۔ ۔‘‘ اچانک شیطان کو خیال آیا۔
’’وہ کیا ہوتی ہے۔ ۔ ۔‘‘
شیطان کا دل بیٹھ گیا۔
’’وہ جو نارنجی سی چیز گلے میں ڈالی ہوتی ہے۔‘‘ شیطان نے کہا۔
’’ارے ۔ ۔ ۔ تو کیا وہ اتارنی تھی۔ ۔ ۔‘‘ مرزا جی حیرانی سے بولے۔
شیطان کا دل چاہا کہ پھوٹ پھوٹ کر رودے۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔
’’ارے یار ایک تو تم پوری بات ہی نہیں بتاتے۔ ۔ ۔ ۔ تمہاری وجہ سے میں پورا دن سمندر میں جھولے لیتا رہا۔‘‘ مرزا جی خفا سے لہجے میں بولے۔ ۔ ۔
شیطان بے چارہ سوچ رہاتھا کہ مرزا جی یوں نہیں مریں گے۔ خود ہی ساتھ جانا ہوگا۔
اس نے ایک نظر مرزا جی پر ڈالی وہ اگلا پلان سوچ چکا تھا۔
۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کا ڈھلتا سورج ہر طرف سرخی مائل کرنیں پھیلا رہا تھا۔ آسمان پر پرندے گھروں کی جانب رواں دواں تھے۔ کھیتوں کے بیچوں بیچ کھڑے شیطان نے اپنے انتظامات پر نگاہ دوڑائی اور مطمئن انداز میں سر ہلایا۔
سامنے ریل کی پٹڑی پرمرزا جی آلتی پالتی مارے بیٹھے تھے۔ ان کی آنکھیں بند تھیں۔ اور چہرے پر ایسے تاثرات تھے جیسے ابھی رو دیں گے۔ کسی بھی گڑ بڑ سے بچنے کے لئے شیطان خود موقع پر موجود تھا۔ اس نے ایک نگاہ گھڑی پر ڈالی ۔ ٹرین کا وقت ہو چکا تھا۔ وہ پٹڑی کے ساتھ آ کر کھڑا ہو گیا۔ دور سے ٹرین آتی نظر آنے لگی۔
جوں جوں ٹرین قریب آتی جا رہی تھی شیطان کے دل کی دھڑکن بڑھتی جا رہی تھی۔ آخرکار اس کا مشن پورا ہونے جا رہا تھا۔ ٹرین قریب آئی اور قریب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور قریب۔ ۔ ۔ مرزا جی سے صرف چند سیکنڈ کے فاصلے پر کہ اچانک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
’’پوںںںںںںںںںںںںںںںںںںں۔ ‘‘


فضا ٹرین کے ہارن سے تھرا اٹھی۔مرزا جی نے ایک چیخ ماری اور چھلانگ لگا کر شیطان کی گود میں آگرے۔ ۔ ۔ ۔
ٹرین ان کو چھوتی ہوئی زناٹے سے گزر گئی۔ شیطان نے ایک نظر جاتی ٹرین پر ڈالی اور دوسری نظر اپنی گود میں چڑھے تھر تھر کانپتے مرزا جی پر ڈالی۔
’’ارے ن ن ن ن نانا شاد بھائی ئی ئی! آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں تھا کہ خودکشی کے وقت یوں سلامی بھی پیش کی جاتی ہے۔ ۔‘‘
شیطان کا دل بے اختیار رونے کو چاہا۔
اس نے مرزا جی کو زمین پر پٹخا اور ہاتھ یوں اٹھائے جیسے سر پیٹ لینے کا ارادہ ہو۔ پھر ایک جانب دوڑ لگا دی۔ کچھ دور جا کر رک کر کچھ سوچا مڑا اور واپس آ کر ایک زوردار جھانپڑ مرزا کو رسید کیا۔
’’اگر مرنا پسند نہیں تو کیوں دوسرے لوگوں کا وقت ضائع کرتے ہو۔۔۔۔۔‘‘
اور پھر بھاگ لیا۔
وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ اگر اللہ نے اسے قیامت تک کی مہلت نہ دی ہوتی تو وہ یقینا اس ٹرین کے نیچے آ کر خود کشی کر لیتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوبی
12-10-2010, 01:15 AM
بہتتتتتت مزےدار اور دلچسپ تحریر تھی صبیح بھائی۔
آسان شکار نے تو شیطان کو سچ مچ چکرا کر رکھا دیا اینڈ پر بہت ہنسی آئی کہ شیطان اس ٹرین کے نیچے آکے خودکشی کر لیتا ہی ;dہی ہی،

رمیصا
12-10-2010, 01:31 AM
بہت مزے کی تحریر ہے صبیح۔۔۔بے چارے مرزا صاحب۔۔۔انہیں مشہور زمانہ سیبوں والے افسانے میں بھیج دیں۔ہاہاہا۔

Rubab
12-10-2010, 01:47 AM
تو آج کا افسانہ یہ والا ہے۔

مجھے اس افسانے کا آئڈیا بہت اچھا لگا اور صبیح بھائی نے اس کو لکھا بھی بہت خوب ہے۔ شیطان کے ساتھ بہت اچھا ہوا، یہی ہونا چاہئے تھا۔

Rubab
12-10-2010, 01:48 AM
بہت مزے کی تحریر ہے صبیح۔۔۔بے چارے مرزا صاحب۔۔۔انہیں مشہور زمانہ سیبوں والے افسانے میں بھیج دیں۔ہاہاہا۔
سیبوں والے بابا جی نے کہا تھا کہ ان کے افسانے میں کوئی ذکر نہیں کرنا ہے، اسی لئے تو ہم دوسرے افسانوں میں ان کا ذکر کر رہے ہیں۔ ہاہاہاہاہا

Durre Nayab
12-10-2010, 01:58 AM
بہت مزے دار، انسٹنٹ مزاح شاید اسے ہی کہتے ہیں۔ صبیح بھائی مزاحیہ تحریر آپ کا ٹریڈ مارک ہونے جارہی ہے۔ بہت خوب ایسے ہی لکھتے رہیئے۔

AmirShahzad
12-10-2010, 02:03 AM
sara hi afsana acha hai

per mujhe tu sprite wali bat ka ziada maza aaya ;d;d

Noor-ul-Ain Sahira
12-10-2010, 02:26 AM
صبیح
بہت ہی اچھا افسانہ لکھا ہے ماشا ءاللہ، وہ بھی کسی کے سیبوں والے باغ سے چوری چوری کچھ سیب چرانے کے بعد;d۔ آپکے مزاح لکھنے کی حس تو ویسے بھی بہت اچھی ہے ہم پہلے سے مانے ہوئے ہیں۔مگر اتنی جلدی آئیڈیا لے کر اس پر لکھ بھی دینا تو بس کمال ہے:)جو آپ ھی کر سکتے ہیں۔۔۔۔ گڈ جاب۔۔۔
شکر ھے ویسے ننھے کی رسائی اس بار سیبوں کے اصل درخت تک نا ہو سکی;d۔

Ahmed Lone
12-10-2010, 02:51 AM
آپ کا افسانہ

آسان شکار پڑھا

بہت اچھا لکھا

بہت مزے کا تھا

اس کے لیے بہت بہت شکریہ

Nigar
12-10-2010, 03:36 AM
آسان شکار





صبح کا وقت تھا۔ سڑکوں پر معمول کی چہل پہل تھی۔ کام پر جانے والے لوگ اور سکولوں کو جانے والے بچے سب اپنی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے۔ہوٹلوں میں ناشتہ کرنے والوں کا رش کم ہو چکا تھا۔خزاں کے موسم کی شروعات ہونے کے باعث فضا میں ایک خوشگوار قسم کی خنکی تھی۔ اس نے ایک لمبی سانس بھر کر خوشگوار ہوا کو اپنے پھیپھڑوں میں اتارا اور ایک جانب قدم بڑھا دئیے۔
اسے تمام دنیا شیطان کے نام سے جانتی تھی لیکن کوئی اسے پہچانتا نہ تھا۔ وہ کتنے ہی ہفتوں سے یہاں رہ رہا تھا لیکن کسی کو اس پر شک نہیں ہوا تھا۔ یہاں وہ ناشاد کے نام سے جانا جاتا تھا۔اس نے یہاں رہتے ہوئے خاصی کامیابیاں حاصل کی تھیں۔بہت سے لوگ اس کی چنگل میں پھنس چکے تھے۔ لوگوں کو مستقبل کے سبز باغ دکھا کر برائی اوربے ایمانی پر اکسانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔وہ سوچ رہاتھا کہ جن خرابیوں کے بیج وہ یہاں بو چکا ہے جلد ہی وہ تناور درخت بن جائیں گے۔ اور ہر طرف جھوٹ ریاکاری اور دھوکادہی کا ہی راج ہو گا۔اور اب وہ اپنی آخری اسائنمنٹ کی تکمیل کے لیے سرگرداں تھا۔ اس کا آخری چیلنج کسی آدمی کو خود کشی پر آمادہ کرنا تھا۔اس کے بعد یہ علاقہ بھی اس کے مفتوح علاقوں میں شامل ہو جاتا۔اور وہ یہاں سے اپنا بوریا بستر سمیٹ کر اپنی توجہ کسی اور ان چھوئے علاقے پر لگا سکتا تھا۔ اسے اپنی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ تھا اور وہ پر یقین تھا کہ آج شام تک ہی کوئی نہ کوئی شکار مل جائے گا۔
وہ چلتے ہوئے ایک خستہ سے ہوٹل میں پہنچ گیا۔ دروازہ کھول کر اندر جھانکا اور سر ہلاتے ہوئے اند ر بڑھ گیا۔ اسے اپنا کام شروع کرنے کے لیے بالکل درست جگہ مل گئی تھی۔ یہ ہوٹل پھجے کے ہوٹل کے نام سے مشہور تھا اور وجہ شہرت تھی ہوٹل کے مالک استاد پھجا خان۔ جو اس وقت کاؤنٹر پر بیٹھے نان کلچہ کھانے میں مشغول تھے۔ وہ بھی ایک قریب ہی کی میز پر بیٹھ گیا اور چائے کا کہہ دیا۔
اس سے ایک میز آگے اور پھجے خان کے بالکل ساتھ والی میز پر کوئی شخص کرتے اور شیروانی میں ملبوس سر جھکائے بیٹھا تھا اور شاید رو رہا تھا کیوں سڑ سڑ کی آوازیں تواتر کے ساتھ آ رہی تھیں۔اس کے آگے پانی کا جگ اور گلاس پڑے تھے۔ گلاس میں پانی بھرا تھا۔ پھجا بھائی بھی اس کی جانب تشویش بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ اچانک اس شخص نے سر اٹھایا۔ شیطان اسے دیکھتے ہی پہچان گیا۔یہ اس کی ساتھ والی بلڈنگ میں رہنے والے ایک شاعر تھے جو مرزا نوشہ کے نام سے جانے جاتے تھے۔بہ لحاظ عمر کوئی چالیس کی پیٹے میں تھے
پھجے بھائی نے اچانک آواز لگائی۔ ’’مرزا جی! کیوں بیٹھے روئے جا رہے ہو آخر ہوا کیا ہے؟‘‘
شیطان نے بھی دلچسپی سے مرزا نوشہ کی طرف دیکھا۔ مرزا نے سبڑ سبڑ روتے ہوئے ہی ہانک لگائی۔
’’پھجے بھائی ئی ئی ئی! میں بہت بدنصیب بندہ ہوں۔‘‘
’’کیوں مرزا جی ! ایسا کیا ہو گیا جو یوں آنسو رک ہی نہیں رہے؟‘‘
’’ارے کیا کیا نہیں ہوا پھجے بھائی! کوئی ایک غم ہو تو سناؤں۔‘‘ مرزا جی نے رونے کا شغل جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’ جس کاروبار میں ہاتھ ڈالا بد نصیبی ہی پلے پڑی۔ پولٹری فارم بنایا تو برڈ فلو آ گیا۔‘‘
مرزا جی نے اپنی داستان غم سناتے ہوئے کہا۔ شیطان کو بھی اس قصے میں دلچسپی محسوس ہوئی۔
’’ناچار ساری مرغیاں گفٹ کرنی پڑیں۔ہائے کتنی پیاری تھیں مجھے۔‘‘
مرزا نے ایک اور آہ بھری اور پھر رومال میں گم ہچکیا ں لینے لگے۔
’’یہ تو بہت ہی برا ہوا مرزا جی۔ لیکن اتنے مایوس کیوں ہیں۔‘‘ پھجا بھائی نے کہا۔
’’ارے یہی نہیں ۔ پھر کھجوروں کا فارم بنایا۔ ابھی درخت پریگنینٹ ہی ہوئے تھے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
شیطان کو پانی پیتے ہوئے اچھو لگ گیا کہ یہ درخت کیسے پریگنینٹ ہو گیا۔
مرزا جی نے اس کی کھانسی پر گھور کر اسے دیکھا اور وضاحت کی۔
’’یعنی درختوں پر پھل لگا تھا تو ادھر سے سیلاب آ گیا۔
اور تو اور دو دن پہلے بیوی بھی چھوڑ کر چلی گئی۔‘‘ مرزا نے نئی شدتوں سے آنسو بہاتے ہوئے کہا۔
’’اور تنگ آکر شاعری شروع کی تو پتہ چلاکہ وہ بھی کوئی ناہنجار ڈیڑھ سو سال قبل ہی چرا چکا ہے۔‘‘ مرزا نے ہچکیا ں لیتے ہوئے کہا۔
’’ابھی سنو۔ دو دن سے گھر میں پانی نہیں آ رہا۔
کل ہی اس پر شعر بنایا
آوے آوے کب یہ پانی تو مرے بھائی نہ پوچھ
صبح کرنا غسل کا لانا ہے جوئے شیر کا


پھر پتہ چلا کہ یہ بھی وہ ناہنجار شاعر پہلے ہی چرا چکا ہے۔‘‘
ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ اچانک دروازہ کھلا اور ایک پسینے میں شرابور شخص اندر داخل ہوا۔ ادھر ادھر تیزی سے نظر دوڑائی۔ اس کی نگاہ مرزا کے سامنے پڑے گلاس پر پڑی۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور گلاس اٹھایا۔ پانی ایک جانب پھینکا اور گلاس کھنگال کر دوبارہ بھرا اور پانی پینے لگا۔ دو گلاس پانی پینے کے بعد اس نے گلاس دوبارہ کھنگالا اور بھر کر مرزا کے سامنے رکھ دیا۔ اور خود باہر نکل گیا۔
مرزا جو یہ سب حیرت سے منہ کھولے دیکھ رہے تھے ایک چیخ مار کر پھر رونے لگے۔
’’پھجے بھائی ! یہی دیکھ لو۔ ۔ ۔ ۔ میرے گلاس میں تو سپرائٹ کی بوتل تھی۔ وہ پاگل پانی سمجھ کر پھینک گیا۔ دنیا اب مجھے بوتل بھی نہیں پینے دیتی۔‘‘ مرزا کی ہچکیوں میں مزید اضافہ ہو چکا تھا۔
شیطان بھی بڑی دلچسپی سے ساری بات سن رہا تھا۔
’’ارے مرزا صاحب اب دل چھوٹا نہ کریں۔‘‘ پھجے بھائی نے تسلی دینے والے انداز میں کہا۔
’’پھجے بھائی اب میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا۔ میں جا رہا ہوں خود کشی کرنے۔‘‘
شیطان کے اچھل پڑا۔ یہ تو بنا بنایا شکار مل گیا تھا۔ اس کی باچھیں کھل گئیں۔اسی اثنا میں مرزا اٹھ کر باہر نکل چکے تھے۔
پھجے بھائی جو حیرت سے یہ سب دیکھ رہے تھے۔ جلدی سے اٹھے۔
’’ارے مرزا جی اتنے دلبرداشتہ کیوں ہو رہے ہیں۔‘‘
’’ارے پھجے بھائی۔ ۔ لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں۔ ۔ ‘‘ مرزا جی نے ایک آہ بھر کر کہا۔ پھجے بھائی روکتے ہی رہ گئے پر مرزا جی دروازہ کھول کر باہر نکل گئے۔ شیطان نے بھی جلدی سے حساب چکایا۔اور مرزا کے پیچھے ہی باہر نکل آیا۔
مرزا سر جھکائے ایک جانب چلے جا رہے تھے۔ شیطان چندبڑے بڑے ڈگ بھر کر ان کے برابر جا پہنچا۔ اور بڑے دوستانہ انداز میں ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
’’تو آپ خودکشی کر نا چاہتے ہیں۔‘‘ شیطان نے بڑے شیریں انداز میں پوچھا۔
مرزا جی نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ چند لحظے گھورتے رہے پھر اچانک ان کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ اور وہ روتے ہوئے بولے۔
’’بھائی آپ مجھے روکنے کی کوشش نہ کرنا میرا رادہ پکا ہے۔‘‘
’’ارے روک کون رہا ہے میں تو خود آپ کے ساتھ ہوں۔ ویسے میرا نام ناشاد ہے۔‘‘ شیطان نے تعارف کروایا۔
’’میں خود یہ سمجھتا ہوں کہ یہ دنیااب ہمارے جیسے حساس دل لوگوں کے رہنے کے قابل نہیں رہی۔ آپ بے فکر ہو کر خود کشی کیجیے میں بھی آپ کے پیچھے ہی آیا۔‘‘
مرزا جی کی سبڑ سبڑ میں قدرے کمی ہوئی۔
’’بہت شکریہ بھائی۔ چلو کوئی تو غم گسار اور ہم سفر ملا۔ایک سے دو بھلے ۔ چلو مل کر کلو خان سے زہر خریدتے ہیں۔ ‘‘
’’مرزا جی اصل میں مجھے کچھ ضروری کام نپٹانے ہیں تاکہ کوئی مرنے کے بعد لعن طعن تو نہ کرے۔ اس لیے آپ چلئے میں چند دن بعد کی فلائٹ پر آ جاؤں گا۔‘‘ شیطان نے کہا۔
پکا وعدہ نا۔ دیکھو بھائی مکر نہ جانا۔میں جا کر کمرہ بک کرواتا ہوں دونوں کے لئے۔‘‘ مرزا جی بولے۔
’’ارے دل جلے ایک دوسرے سے جھوٹ نہیں بولتے۔ آپ چلئے اور ہاں یہ میرا فون نمبراور ایڈریس اپنے پاس رکھئے اگر کوئی مسئلہ ہو تو بلاجھجھک فون کیجیے۔‘‘ شیطان ایک کاغذ پر لکھا نمبر بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’بہت شکریہ ناشاد بھائی! آج کی دنیا میں آپ جیسے اچھے لوگ کہاں ملتے ہیں۔‘‘ مرزا جی نے کاغذ پکڑتے ہوئے کہا۔
شیطان نے مسکرا کر ہاتھ ملایا اور واپس چل پڑا۔ وہ دل میں بے حد مسرور تھا کہ آخری مشن بھی پایہ تکمیل کو پہنچا۔
ٌٌٌٌٌٌٌ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


آدھی رات کا وقت تھا۔ آج فون کی گھنٹی بجی اور پھر بجتی چلی گئی۔ شیطان نے اٹھ کر وقت دیکھا تو رات کے بارہ بج رہے تھے۔
’’اس وقت کون ہو سکتا ہے؟‘‘ اس نے جھلا کرکہا اور ہاتھ بڑھا کر فون اٹھا لیا۔


’’ہیلو۔‘‘
دوسری طرف سے مرزا جی کی سبڑ سبڑ سنائی دی۔
’’ناشاد بھائی کچھ کرو۔ آپ کا بھائی اب مر بھی نہیں پا رہا اپنی مرضی سے۔‘‘
’’ارے مرزا جی آپ ابھی تک زندہ ہیں؟‘‘ شیطان نے حیرت سے کہا۔
’’یہی تو مسئلہ ہے کہ ابھی تک زندہ ہوں۔‘‘ مرز ا جی کی آواز سنائی دی۔
’’کیوں کیا مسئلہ ہو گیا؟‘‘ شیطان نے سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’زہر نہیں مل رہا ناشاد بھائی اب کیا کروں؟؟‘‘ مرزا جی کی روتی آواز سنائی دی۔
’’شیطان نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
’’ارے مرزا جی زہر کونسا ایک ہی طریقہ ہے۔ آپ کسی اونچی جگہ سے چھلانگ لگا کر مکتی پا سکتے ہیں۔‘‘
مرزا جی کی سبڑ سبڑ کو بریک لگی۔ ’’اچھا جی۔ اونچی جگہ کیسے؟؟‘‘
’’کوئی بلڈنگ کوئی جہاز کوئی مینار وغیرہ۔ ۔ ۔‘‘
’’اچھا کیا ان سے کود کر خود کشی ہو جائے گی؟‘‘ مرزا جی کی شک بھری آواز سنائی دی۔
’’بالکل بلکہ سو فیصد۔ آپ بے فکر ہو کر چھلانگ مارئیے۔‘‘
شیطان نے جواب دیا۔
سبڑ سبڑ پھر شروع ہو گئی۔
’’اچھا ناشاد بھائی ۔ میں چلا۔ آپ کو اور اس دنیا کو میرا آخری سلام۔آپ آرہے ہیں نا۔‘‘
’’ہاں جی آپ کے پیچھے پیچھے ہی۔ بے فکر ہو کر جائیے۔‘‘
شیطان نے اطمینان دلاتے ہوئے کہا۔
فون بند ہونے کی آواز سن کر ریسیور کریڈل پر رکھا اور یہ کہتے ہوئے لیٹ گیا۔
’’مرزا جی بھی نا۔ ۔ ۔ ۔ چلو کم از کم ان کاا رادہ تو نہیں بدلا۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔


صبح ہو رہی تھی جب دروازے کی گھنٹی بجی۔ چند بار گھنٹی بج چکی تو شیطان نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ دیکھا تو ایک مرزا جی نیلوں نیل کھڑے ہیں۔ شیطان کا حیرت سے منہ کھل گیا۔
تھوڑی دیر بعد اس نے حیرت پر قابو پا کر کہا۔ ’’مرزا جی یہ آپ زندہ کیسے؟؟‘‘
’’اماں یار۔ ۔ ۔ کیا الٹا آئیڈیا دیا تھا تم نے۔ اونچی جگہ سے چھلانگ لگانے کا۔ دیکھ لو کچھ بھی نہیں ہوا۔‘‘ مرزا جی اندر گھستے ہوئے بولے۔
شیطان بھی ساتھ ہی اند آتا ہوا حیرانی سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ ایک کرسی پر بیٹھ گئے۔ شیطان نے بھی سامنے والی کرسی سنبھال لی۔
’’آخر بتائیے تو ہوا کیا؟؟‘‘
’’ہونا کیا ہے یار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جہاز سے چھلانگ ماری ۔ ۔ ۔ پر کچھ بھی نہیں ہوا۔۔ ۔ ابھی تمہارے سامنے بیٹھا ہوں۔‘‘
’’ جہاز سے چھلانگ مار کر بچ گئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘‘ شیطان کے چہرے پر حیرت پھیل گئی۔
’’جہاز پر کیسے بیٹھ گئے۔ ۔ ۔‘‘ شیطان کچھ سوچ کر بولا۔
’’پہلے ائیر پورٹ گیا لیکن انہوں نے بھگا دیا۔ ‘‘ مرزا جی بولے۔
’’پھر جہاز کہاں سے ملا؟؟؟‘‘ شیطان حیرت سے بولا۔
’’ابے یہ اگلے چوک میں کھڑا ہے نا۔ ۔ ۔ ۔‘‘ مرزا جی فخر سے بولے۔
شیطان کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔
’’یعنی وہ جو چوک میں جہاز لگا ہے اس سے چھلانگ ماری؟؟‘‘
’’اور کیا میں فارسی بول رہا ہوں۔ ویسے ایک دم خراب آئیڈیا تھا۔ ایک تو کچھ ہوا نہیں اوپر سے پولیس والوں نے پکڑ لیا کہ کچھ چرا رہے تھے۔‘‘
مرزا جی نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔’’بری مشکل سے جان چھڑا کر آیا۔‘‘
شیطان کا دل چاہ رہا تھا کہ سامنے دیوار کو سر دے مارے۔ کون احمق زمین پر کھڑے جہاز سے کود کر خود کشی کرے گا۔ لیکن اس نے خود پر قابو پا کر سوچا کہ آخری مشن ہے ۔
’’تو اب آپ کا کیا ارادہ ہے۔‘‘
’’ارادے جن کے پختہ ہو ں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ارادہ تو پکا ہے۔ آپ کوئی اچھا آئیڈیا دیں نا۔‘‘
شیطان نے کچھ سوچا اور پھر ان کے کان میں کھسر پھسر کرنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام ہونے والی تھی۔ شیطان اپنے اپارٹمنٹ میں موجود تھا اوراس کا چمکتا چہر ہ بتا رہا تھا کہ بہت ہی خوش تھا۔ہلکے سے میوزک پر کولڈڈرنک پیتا وہ ہولے ہولے تھرک رہا تھا۔ آج اس کا آخری مشن بھی پورا ہو چکا تھا وہ جتنا بھی خوش ہوتا کم تھا۔
وہ سوچ رہا تھا کہ اسی خوشی میں آج پورے شہر کی سیر کی جائے۔ کہ اچانک دروازے کی گھنٹی بجی۔
اس نے میوزک کی آواز بند کی اور یونہی تھرکتے ہوئے جا کر دروازہ کھولا۔ لیکن دروازہ کھولتے ہی تھرکنا تو کیا سانس لینا بھی بھول گیا۔
اس پر حیرت کا کوہ ہمالیہ ٹوٹ پڑا تھا۔ سامنے سر سے پاؤں تک گیلے مرزا جی کھڑے کسی بھیگے چوہے کاسماں پیش کر رہے تھے۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ خواب دیکھ رہا تھا یا یہ مرزا جی کا بھوت تھا جو اس سے آخری سلام دعا کرنے آیا تھا۔وہ کتنے ہی لمحے حیرت سے منہ کھولے انہیں دیکھتا رہا۔ آخرکار مرزا جی خود ہی بولے۔
’’ارے ناشاد میاں اب ہٹو بھی۔ ایک تو الٹے سیدھے مشورے دے کر خوار کرتے ہو دوسرے اند ر بھی نہیں آنے دیتے۔‘‘ مرزا جی نے شیطان کو ہٹاتے ہوئے کہا۔ شیطان ابھی بھی حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہا تھا۔
’’آپ زندہ ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔؟؟‘‘ اس نے حیرت سے لبریز آواز میں کہا۔
’’ارے کوئی مرنے دے تو مروں نا۔‘‘ مرزا جی نے رونے والی آواز میں کہا۔
’’اب کیا ہوا؟‘‘ شیطان نے حیرت پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
’’ہونا کیا تھا۔ تم نے سمندر میں چھلانگ لگانے کو کہا تھانا۔‘‘ مرزا جی لڑنے والے انداز میں بولے۔ ’’ہاں ۔ ۔ ۔ یہی کہا تھا۔‘‘
’’میں کشتی پر سمندر کے بیچوں بیچ گیا۔ اپنی ناقدری پر آنسو بہائے اور سمندر میں چھلانگ لگا دی۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’پھر کیا۔ ۔ ۔ ۔ صبح سے سمندر میں پڑا رہا۔ ۔ ۔ ابھی ایک اور کشتی آ گئی۔ پہلے تو وہ حیران تھے کہ کشتی ساتھ تیر رہی ہے تو یہ کیوں پانی میں ہے۔ ۔ ۔ ۔کشتی میں کیوں نہیں چڑھتا۔ ۔ ۔ پر انہیں کیا پتہ کہ میں تو مرنے گیا تھاپھر انہوں نے نکال لیا۔ ‘‘ مرزا جی پھر سے زارو قطار رونے لگے۔
’’تو کیا ڈوبے نہیں۔ ۔ ۔ ۔‘‘ شیطان نے حیرت سے پوچھا۔
’’ارے کمال کرتے ہو یار اگر ڈوب جاتا تو کیا یہاں بیٹھا رو رہا ہوتا۔ ۔ ۔‘‘ مرزا جی ہچکیوں کی ساتھ روتے ہوئے بولے۔
’’اوہ واقعی۔ ۔ ۔ لیکن ڈوبے کیوں نہیں۔ ۔ ۔؟؟‘‘ شیطان حیرت سے بولا۔
’’مجھے کیا معلوم تم نے ہی کہا تھا اب تم ہی بتاؤ۔ ۔ ۔‘‘مرزا جی بولے۔
شیطان سوچ میں پڑگیا۔’’آپ سمندر کے بیچ میں ہی تھے نا۔ ۔ ۔‘‘
’’ہاں بھئی۔ ۔ ۔ ۔‘‘
’’کیا لائف جیکٹ اتاری تھی۔ ۔ ۔ ۔‘‘ اچانک شیطان کو خیال آیا۔
’’وہ کیا ہوتی ہے۔ ۔ ۔‘‘
شیطان کا دل بیٹھ گیا۔
’’وہ جو نارنجی سی چیز گلے میں ڈالی ہوتی ہے۔‘‘ شیطان نے کہا۔
’’ارے ۔ ۔ ۔ تو کیا وہ اتارنی تھی۔ ۔ ۔‘‘ مرزا جی حیرانی سے بولے۔
شیطان کا دل چاہا کہ پھوٹ پھوٹ کر رودے۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔
’’ارے یار ایک تو تم پوری بات ہی نہیں بتاتے۔ ۔ ۔ ۔ تمہاری وجہ سے میں پورا دن سمندر میں جھولے لیتا رہا۔‘‘ مرزا جی خفا سے لہجے میں بولے۔ ۔ ۔
شیطان بے چارہ سوچ رہاتھا کہ مرزا جی یوں نہیں مریں گے۔ خود ہی ساتھ جانا ہوگا۔
اس نے ایک نظر مرزا جی پر ڈالی وہ اگلا پلان سوچ چکا تھا۔
۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کا ڈھلتا سورج ہر طرف سرخی مائل کرنیں پھیلا رہا تھا۔ آسمان پر پرندے گھروں کی جانب رواں دواں تھے۔ کھیتوں کے بیچوں بیچ کھڑے شیطان نے اپنے انتظامات پر نگاہ دوڑائی اور مطمئن انداز میں سر ہلایا۔
سامنے ریل کی پٹڑی پرمرزا جی آلتی پالتی مارے بیٹھے تھے۔ ان کی آنکھیں بند تھیں۔ اور چہرے پر ایسے تاثرات تھے جیسے ابھی رو دیں گے۔ کسی بھی گڑ بڑ سے بچنے کے لئے شیطان خود موقع پر موجود تھا۔ اس نے ایک نگاہ گھڑی پر ڈالی ۔ ٹرین کا وقت ہو چکا تھا۔ وہ پٹڑی کے ساتھ آ کر کھڑا ہو گیا۔ دور سے ٹرین آتی نظر آنے لگی۔
جوں جوں ٹرین قریب آتی جا رہی تھی شیطان کے دل کی دھڑکن بڑھتی جا رہی تھی۔ آخرکار اس کا مشن پورا ہونے جا رہا تھا۔ ٹرین قریب آئی اور قریب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور قریب۔ ۔ ۔ مرزا جی سے صرف چند سیکنڈ کے فاصلے پر کہ اچانک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
’’پوںںںںںںںںںںںںںںںںںںں۔ ‘‘


فضا ٹرین کے ہارن سے تھرا اٹھی۔مرزا جی نے ایک چیخ ماری اور چھلانگ لگا کر شیطان کی گود میں آگرے۔ ۔ ۔ ۔
ٹرین ان کو چھوتی ہوئی زناٹے سے گزر گئی۔ شیطان نے ایک نظر جاتی ٹرین پر ڈالی اور دوسری نظر اپنی گود میں چڑھے تھر تھر کانپتے مرزا جی پر ڈالی۔
’’ارے ن ن ن ن نانا شاد بھائی ئی ئی! آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں تھا کہ خودکشی کے وقت یوں سلامی بھی پیش کی جاتی ہے۔ ۔‘‘
شیطان کا دل بے اختیار رونے کو چاہا۔
اس نے مرزا جی کو زمین پر پٹخا اور ہاتھ یوں اٹھائے جیسے سر پیٹ لینے کا ارادہ ہو۔ پھر ایک جانب دوڑ لگا دی۔ کچھ دور جا کر رک کر کچھ سوچا مڑا اور واپس آ کر ایک زوردار جھانپڑ مرزا کو رسید کیا۔
’’اگر مرنا پسند نہیں تو کیوں دوسرے لوگوں کا وقت ضائع کرتے ہو۔۔۔۔۔‘‘
اور پھر بھاگ لیا۔
وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ اگر اللہ نے اسے قیامت تک کی مہلت نہ دی ہوتی تو وہ یقینا اس ٹرین کے نیچے آ کر خود کشی کر لیتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

bohat acha

بنت احمد
12-10-2010, 05:00 AM
ہاہاہا۔۔ یہ تو ناکام شکار ہوگیا۔۔

اچھا لکھا ہے بھائی۔
اچھا ہوا کسی نے تو شیطان سے بدلہ لیا۔

روشنی
12-10-2010, 05:23 AM
افسانہ تو بہے اچھا ہے لیکن میں اب سوچ رہی ہوں کہ آخر ڈاکٹر صاحب کھاتے کیا ہیں کہ یہ آئدیاز آتے ہیں کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Rubab
12-10-2010, 05:58 AM
افسانہ تو بہے اچھا ہے لیکن میں اب سوچ رہی ہوں کہ آخر ڈاکٹر صاحب کھاتے کیا ہیں کہ یہ آئدیاز آتے ہیں کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنگلی سیب۔۔

Samia Ali
12-10-2010, 07:26 AM
بہت خوب بہت اچھا لکھا بھائی

Ifzaan
12-10-2010, 08:06 AM
aoa achi story hi thanks for this and good luck for next one:)

KishTaj
12-10-2010, 09:11 AM
ہاہاہاہا
بہت زبردست صبیح بھائی
اور مرزا کی "پختہ" کردار ہی ہی ہی ۔ ۔ ویلڈن ۔ ۔ بہت ہی عمدہ
کیپ رائٹنگ

KishTaj
12-10-2010, 09:13 AM
ہاہاہا۔۔ یہ تو ناکام شکار ہوگیا۔۔

اچھا لکھا ہے بھائی۔
اچھا ہوا کسی نے تو شیطان سے بدلہ لیا۔
ہی ہی ہی
اس کا مطلب شیطان سے بدلہ لینے کے لئے آدمی کو مرزا جی جیسا ہونا پڑے گا۔;d۔

روزبیہ خواجہ
12-10-2010, 10:26 AM
بہت عمدہ لکھا ہے صبیح بھائی۔ ۔ ۔ ۔شیطان کے کردار نے کہانی میں جان ڈال دی۔ بیچ بیچ میں مزاح کا رنگ دیا گیا ہے۔ بے اختیار مسکراہٹ آتی رہی۔

اور یہ اچھا ہوا کہ شیطان۔ ۔ ۔کامیاب نہ ہو پایا۔ امید ہے آئیندہ تحاریر میں بھی کچھ مختلف پڑھنے کو ملے گا۔ لکھتے رہیے۔ تاکہ ہم پڑھتے ہیں۔

کیا خیال ہے؟؟;d

Parishay
12-10-2010, 10:36 AM
صبیح بھیا۔ بہت اچھا لکھا ہے۔

مرزا جی بھی مستقل مزاج تھے اور شیطان کے کہنے پر عمل بھی کرتے مگر پھر بھی شیطان جیت نہ سکا۔

واہ بہت اچھے

Sabih
12-10-2010, 02:07 PM
بہتتتتتت مزےدار اور دلچسپ تحریر تھی صبیح بھائی۔
آسان شکار نے تو شیطان کو سچ مچ چکرا کر رکھا دیا اینڈ پر بہت ہنسی آئی کہ شیطان اس ٹرین کے نیچے آکے خودکشی کر لیتا ہی ;dہی ہی،
بہت شکریہ سوبی سس:)

Sabih
12-10-2010, 02:08 PM
بہت مزے کی تحریر ہے صبیح۔۔۔بے چارے مرزا صاحب۔۔۔انہیں مشہور زمانہ سیبوں والے افسانے میں بھیج دیں۔ہاہاہا۔

بہت شکریہ رمیصا سس
ہاہا سیبوں والوں نے ٹھکائی کر دینی ہے ہماری۔ ۔ ۔

Sabih
12-10-2010, 02:09 PM
تو آج کا افسانہ یہ والا ہے۔

مجھے اس افسانے کا آئڈیا بہت اچھا لگا اور صبیح بھائی نے اس کو لکھا بھی بہت خوب ہے۔ شیطان کے ساتھ بہت اچھا ہوا، یہی ہونا چاہئے تھا۔
بہت شکریہ سمارا سس:)

سیبوں والے بابا جی نے کہا تھا کہ ان کے افسانے میں کوئی ذکر نہیں کرنا ہے، اسی لئے تو ہم دوسرے افسانوں میں ان کا ذکر کر رہے ہیں۔ ہاہاہاہاہا

ہاہا
اچھا جی کیا سیبوں والی سرکار نے منع کیا ہے۔ ۔ ۔
;d

Sabih
12-10-2010, 02:10 PM
بہت مزے دار، انسٹنٹ مزاح شاید اسے ہی کہتے ہیں۔ صبیح بھائی مزاحیہ تحریر آپ کا ٹریڈ مارک ہونے جارہی ہے۔ بہت خوب ایسے ہی لکھتے رہیئے۔
بہت شکریہ پسندیدگی کا نایاب سس

Sabih
12-10-2010, 02:11 PM
sara hi afsana acha hai

per mujhe tu sprite wali bat ka ziada maza aaya ;d;d
آج کے افسانے میں آنے اور پسند فرمانے کا شکریہ عامر بھائی۔ ۔

Sabih
12-10-2010, 02:13 PM
صبیح
بہت ہی اچھا افسانہ لکھا ہے ماشا ءاللہ، وہ بھی کسی کے سیبوں والے باغ سے چوری چوری کچھ سیب چرانے کے بعد;d۔ آپکے مزاح لکھنے کی حس تو ویسے بھی بہت اچھی ہے ہم پہلے سے مانے ہوئے ہیں۔مگر اتنی جلدی آئیڈیا لے کر اس پر لکھ بھی دینا تو بس کمال ہے:)جو آپ ھی کر سکتے ہیں۔۔۔۔ گڈ جاب۔۔۔
شکر ھے ویسے ننھے کی رسائی اس بار سیبوں کے اصل درخت تک نا ہو سکی;d۔
ہاہاہاہا
ٹھیک کہا ساحرہ آپی۔ ۔
لیکن ایک بات ہے چوری کے سیب اکثر میٹھے نکلتے ہیں۔ ۔ ۔;d

اور اب میری اتنی تعریف مت کریں کہ پھولنے کی وجہ سے میری پنٹ تنگ ہو جائے۔ ۔ ۔;d

Sabih
12-10-2010, 02:14 PM
آپ کا افسانہ

آسان شکار پڑھا

بہت اچھا لکھا

بہت مزے کا تھا

اس کے لیے بہت بہت شکریہ

بہت شکریہ پسندیدگی کا احمد بھائی۔ ۔

Sabih
12-10-2010, 02:15 PM
bohat acha
بہت شکریہ نگار سس
اور بھی شکر گزار ہوں گا اگر آپ یہ آنا جانا جاری رکھیں اس سیکشن میں۔ ۔ ۔

Sabih
12-10-2010, 02:16 PM
ہاہاہا۔۔ یہ تو ناکام شکار ہوگیا۔۔

اچھا لکھا ہے بھائی۔
اچھا ہوا کسی نے تو شیطان سے بدلہ لیا۔
بہت شکریہ پسندیدگی کا بنت احمد سس
شیطان کی طرف تو میرے بہت حساب نکلتے ہیں گن گن کر بدلے لوں گا ان شااللہ8)

Sabih
12-10-2010, 02:17 PM
افسانہ تو بہے اچھا ہے لیکن میں اب سوچ رہی ہوں کہ آخر ڈاکٹر صاحب کھاتے کیا ہیں کہ یہ آئدیاز آتے ہیں کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاہا
نہار منہ چار بادام۔ ۔ ۔ ۔
سونے کے بعد دو ماشہ مغز خربوزہ
جاگنے سے قبل ایک چھٹانک مغز تربوزہ۔ ۔ ۔
;d

Sabih
12-10-2010, 02:19 PM
جنگلی سیب۔۔
ہاہاہا
ارے سمارا سس وہ تو بے خیالی میں کھائے گئے ورنہ وہاں کرنے تو کچھ اور ہی گئے تھے۔ ۔ ۔
;d

Sabih
12-10-2010, 02:19 PM
بہت خوب بہت اچھا لکھا بھائی
بہت شکریہ سائرہ سس

Sabih
12-10-2010, 02:20 PM
aoa achi story hi thanks for this and good luck for next one:)
بہت شکریہ افزان سس
:)

Sabih
12-10-2010, 02:21 PM
ہاہاہاہا
بہت زبردست صبیح بھائی
اور مرزا کی "پختہ" کردار ہی ہی ہی ۔ ۔ ویلڈن ۔ ۔ بہت ہی عمدہ
کیپ رائٹنگ
بہت شکریہ کش سس

ہی ہی ہی
اس کا مطلب شیطان سے بدلہ لینے کے لئے آدمی کو مرزا جی جیسا ہونا پڑے گا۔;d۔
ہاہاہا
نہیں جی ہم جیسوں سے بھی کام چل سکتا ہے۔ ۔ ۔;d

Sabih
12-10-2010, 02:23 PM
بہت عمدہ لکھا ہے صبیح بھائی۔ ۔ ۔ ۔شیطان کے کردار نے کہانی میں جان ڈال دی۔ بیچ بیچ میں مزاح کا رنگ دیا گیا ہے۔ بے اختیار مسکراہٹ آتی رہی۔

اور یہ اچھا ہوا کہ شیطان۔ ۔ ۔کامیاب نہ ہو پایا۔ امید ہے آئیندہ تحاریر میں بھی کچھ مختلف پڑھنے کو ملے گا۔ لکھتے رہیے۔ تاکہ ہم پڑھتے ہیں۔

کیا خیال ہے؟؟;d

بہت شکریہ پسندیدگی کا روز سس
ہاہا
بالکل جی ان شااللہ ۔ ۔ ۔:)

Sabih
12-10-2010, 02:24 PM
صبیح بھیا۔ بہت اچھا لکھا ہے۔

مرزا جی بھی مستقل مزاج تھے اور شیطان کے کہنے پر عمل بھی کرتے مگر پھر بھی شیطان جیت نہ سکا۔

واہ بہت اچھے

شکریہ پریشے سس
شیطان سیر ہے تو مرزا بھی سوا سیر ہیں جی۔ ۔ ۔

Trueman
12-10-2010, 03:42 PM
واااااااااااااااااااااااا ہ ۔ ۔ ۔ پاء جی ۔ ۔ مزا آگیا بہت خوب ۔ ۔ ۔شیطان کی شیطانیاں مرزا جی کو نہ زیر کرسکیں ۔ ۔ ۔ ویسے درختوں کے لیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور لائف جیکٹ والے سین نے بھی بہت ہنسایا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخر میں شیطان کا حق بنتا تھا ریل کے نیچے آنے کا ۔ ۔ ۔ ۔ بے چار آخری مشن میں شاعر کے ہاتھ جو لگ گیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ویسے مجھے ڈر تھا کہ کہیں مرزا صاحب آخر میں شیطان سے یہ نہ کہیں کہ یار میں اپنے بچنے کے واقعات پر ایک غزل لکھ پایا ہوں ۔ ۔ تازہ ہے تمہیں سناوں کیا ۔ ۔ پھر شیطان کی خیر نہیں تھی ۔ ۔ہی ہی

IN Khan
12-10-2010, 03:49 PM
بہت شاندار صبیح

مزاح لکھنا اتنا آسان کام نہیں ہے جتنا سب لوگ سمجھتے ہیں۔۔

وہ کہتے ہیں نا کہ رلا تو ہر کوئی لیتا ہے لیکن ہنسانا مشکل ہوتا ہے۔۔

شستہ مزاح جب کبھی بھی پڑھنے کو ملتا ہے تو دل خوش ہو جاتا ہے۔۔

لکھتے رہو۔۔۔ اللہ تمہارے قلم کی روانی ہمیشہ برقرار رکھے۔آمین

Sabih
12-10-2010, 04:41 PM
واااااااااااااااااااااااا ہ ۔ ۔ ۔ پاء جی ۔ ۔ مزا آگیا بہت خوب ۔ ۔ ۔شیطان کی شیطانیاں مرزا جی کو نہ زیر کرسکیں ۔ ۔ ۔ ویسے درختوں کے لیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور لائف جیکٹ والے سین نے بھی بہت ہنسایا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخر میں شیطان کا حق بنتا تھا ریل کے نیچے آنے کا ۔ ۔ ۔ ۔ بے چار آخری مشن میں شاعر کے ہاتھ جو لگ گیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ویسے مجھے ڈر تھا کہ کہیں مرزا صاحب آخر میں شیطان سے یہ نہ کہیں کہ یار میں اپنے بچنے کے واقعات پر ایک غزل لکھ پایا ہوں ۔ ۔ تازہ ہے تمہیں سناوں کیا ۔ ۔ پھر شیطان کی خیر نہیں تھی ۔ ۔ہی ہی

بہت شکری پاء جی۔ ۔۔
ہاہاہا یہ بھی اچھی کہی۔ ۔ ۔
واقعی یوں تو شیطان کے چودہ طبق روشن ہو جاتے اگر مرزا کا دیوان سننا پڑ جاتا۔ ۔;d

رمیصا
12-10-2010, 06:35 PM
سیبوں والے بابا جی نے کہا تھا کہ ان کے افسانے میں کوئی ذکر نہیں کرنا ہے، اسی لئے تو ہم دوسرے افسانوں میں ان کا ذکر کر رہے ہیں۔ ہاہاہاہاہا




ویسے سوچیں ذرا سیبوں والے باباجی کیسے ہوں گے۔۔۔؟
ہاتھ میں سیب۔۔۔سر پہ سیب۔۔۔۔چوغے میں سیب۔۔۔۔بولتے بھی ہوں گے تو۔۔۔
"بیٹا تمہیں سیبوں جتنی مٹھاس ملے"
"تم پر ترش سیبوں جیسا یہ ہو،یا وہ ہو" جلال میں۔
" زندگی تو بس اللہ کا دیا ہوا ایک سیب ہے"ہاہاہا
اور کبھی اگر قلم پکڑا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہا۔

Sabih
12-10-2010, 06:45 PM
ویسے سوچیں ذرا سیبوں والے باباجی کیسے ہوں گے۔۔۔؟
ہاتھ میں سیب۔۔۔سر پہ سیب۔۔۔۔چوغے میں سیب۔۔۔۔بولتے بھی ہوں گے تو۔۔۔
"بیٹا تمہیں سیبوں جتنی مٹھاس ملے"
"تم پر ترش سیبوں جیسا یہ ہو،یا وہ ہو" جلال میں۔
" زندگی تو بس اللہ کا دیا ہوا ایک سیب ہے"ہاہاہا
اور کبھی اگر قلم پکڑا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہا۔

سیبوں والے بابا جی نہیں سیبوں والی سرکار۔ ۔ ۔ ۔ اور آستانہ عالیہ ایپلیہ;d;d

Sabih
12-10-2010, 07:56 PM
بہت شاندار صبیح

مزاح لکھنا اتنا آسان کام نہیں ہے جتنا سب لوگ سمجھتے ہیں۔۔

وہ کہتے ہیں نا کہ رلا تو ہر کوئی لیتا ہے لیکن ہنسانا مشکل ہوتا ہے۔۔

شستہ مزاح جب کبھی بھی پڑھنے کو ملتا ہے تو دل خوش ہو جاتا ہے۔۔

لکھتے رہو۔۔۔ اللہ تمہارے قلم کی روانی ہمیشہ برقرار رکھے۔آمین
بہت شکریہ عمران بھائی۔ ۔ ۔
آپ کے تعریف کے چند لفظ سیروں خون بڑھا دیتے ہیں۔ ۔ ۔

Sehar Azad
12-10-2010, 08:16 PM
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

صبیح بھائی آپ کی تحریر بہت اچھی ہے۔

مگر

کافی مختصر ہے۔

منظر نگاری پر آپ نے اچھی توجہ دی مگر اس کو مزید تفصیلاً ہونا چاہیے تھا۔

کرداری نگاری میں مرزا صاحب کا کردار مزید اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ کوئی ماضی کا واقعہ بھی اس کردار کی تشریح کے لیے استعمال ہونا چاہیے تھا۔

ڈائیلاگ آپ نے بہت اچھے لکھے ہیں مگر زبان کے استعمال میں مزید محتاط ہو جائیں تو کیا ہی بات ہے۔

افسانے کی اصل جان اس کا اینڈ ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ کا اینڈ کمزور سے تھوڑاہی اوپر ہے۔ اینڈ پر مزید توجہ دینی چاہیے تھی۔ سچوئشن کو طوالت اور سچوئشن کا اختتام چونکا دینے والا ہونا چاہیے تھا۔


اگر آپ ان گزارشات پر نظر کریں گے تو انشاءاللہ اسی تحریر کی ضمامت ایک اسٹینڈر افسانے تک ہو جائے گی۔
ٌاگر آپ کو میری کوئی بری لگے ہے تو لگتی رہے۔ میں نے تواچھی نیت اور آپ کے اچھے کے لیے یہ لائنز لکھی ہیں۔

Sabih
12-10-2010, 08:27 PM
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

صبیح بھائی آپ کی تحریر بہت اچھی ہے۔

مگر

کافی مختصر ہے۔

منظر نگاری پر آپ نے اچھی توجہ دی مگر اس کو مزید تفصیلاً ہونا چاہیے تھا۔

کرداری نگاری میں مرزا صاحب کا کردار مزید اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ کوئی ماضی کا واقعہ بھی اس کردار کی تشریح کے لیے استعمال ہونا چاہیے تھا۔

ڈائیلاگ آپ نے بہت اچھے لکھے ہیں مگر زبان کے استعمال میں مزید محتاط ہو جائیں تو کیا ہی بات ہے۔

افسانے کی اصل جان اس کا اینڈ ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ کا اینڈ کمزور سے تھوڑاہی اوپر ہے۔ اینڈ پر مزید توجہ دینی چاہیے تھی۔ سچوئشن کو طوالت اور سچوئشن کا اختتام چونکا دینے والا ہونا چاہیے تھا۔


اگر آپ ان گزارشات پر نظر کریں گے تو انشاءاللہ اسی تحریر کی ضمامت ایک اسٹینڈر افسانے تک ہو جائے گی۔
ٌاگر آپ کو میری کوئی بری لگے ہے تو لگتی رہے۔ میں نے تواچھی نیت اور آپ کے اچھے کے لیے یہ لائنز لکھی ہیں۔
احسان بھائی بہت شکریہ یہ تحریر پڑھنے اور اتنا اچھا تجزیہ کرنے کے لیے۔ ۔ ۔
انشااللہ آپ کی تمام باتیں مد نظر رکھنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ ۔ ۔
بہت شکریہ۔ ۔ ۔:)

بنت احمد
12-10-2010, 08:33 PM
ہی ہی ہی
اس کا مطلب شیطان سے بدلہ لینے کے لئے آدمی کو مرزا جی جیسا ہونا پڑے گا۔;d۔
شیطان سے بدلے کے لئے آدمی کو "آدمی" ہونا پڑے گا۔ ٭ونک٭

Sabih
12-10-2010, 08:44 PM
شیطان سے بدلے کے لئے آدمی کو "آدمی" ہونا پڑے گا۔ ٭ونک٭
کیا مطلب آپ کو ہماری آدمیت پر شک ہے؟؟؟؟
:o:o

جیا آپی
12-10-2010, 08:47 PM
اچھا لکھا ہے، کافی دلچسپ کردارنگاری اور پس منظر کا پیان بھی بہت اچھا ہے۔۔۔

Sabih
12-10-2010, 08:49 PM
اچھا لکھا ہے، کافی دلچسپ کردارنگاری اور پس منظر کا پیان بھی بہت اچھا ہے۔۔۔
بہت شکریہ جیا سس

:)

Lubna Ali
12-10-2010, 09:12 PM
ویری نائس صبیح ۔۔۔اچھی شگفتہ تحریر تھی مرزا جی کی باتیں پڑھ کر بے اختیار چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔۔۔ مزاح تو ماشاءاللہ بہت اچھا لکھ لیتے ہیں۔۔۔ خدا کرے زور قلم ہو اور زیادہ۔۔۔۔

Sabih
12-10-2010, 09:39 PM
ویری نائس صبیح ۔۔۔اچھی شگفتہ تحریر تھی مرزا جی کی باتیں پڑھ کر بے اختیار چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔۔۔ مزاح تو ماشاءاللہ بہت اچھا لکھ لیتے ہیں۔۔۔ خدا کرے زور قلم ہو اور زیادہ۔۔۔۔
بہت شکریہ لبنیٰ سس پسندیدگی کا

Rubab
12-10-2010, 09:48 PM
شیطان سے بدلے کے لئے آدمی کو "آدمی" ہونا پڑے گا۔ ٭ونک٭
بڑی پتے کی بات کی ہے جی۔

Kainat
12-10-2010, 09:50 PM
بہت اچھا اور کافی منفرد افسانہ آپ نے لکھا ہے صبیح بھائی،
مجھے پتہ ہے اگر آپ کو تھیم اچھی مل جائے تو پھر اس کو کہانی یا افسانے کا روپ دینا آپ کے لیے قطعا مشکل نہیں۔ سو آلویز کیپ گڈ ورک:)

Sabih
12-10-2010, 10:10 PM
بہت اچھا اور کافی منفرد افسانہ آپ نے لکھا ہے صبیح بھائی،
مجھے پتہ ہے اگر آپ کو تھیم اچھی مل جائے تو پھر اس کو کہانی یا افسانے کا روپ دینا آپ کے لیے قطعا مشکل نہیں۔ سو آلویز کیپ گڈ ورک:)
بہت شکریہ کائنات سس
آپ کی راہنمائی شامل حال رہی تو انشااللہ بہتری ہو گی۔ ۔

Aqsa
12-10-2010, 10:11 PM
صبیح یہ قصہ بہت مزاحیہ ہے، وہی باتیں جو ہمیں روزمرہ زندگی میں دلچسپ لگتی ہیں مخصوص حالات میں چند کرداروں کے منہ سے سن کر اور بھی زیادہ مزاحیہ لگتی ہیں۔ تحریر کے تناظر میں ٹائیٹل بھی مزے کا ہے۔
آپ کے سلیس اور رواں انداز بیان سے مزاح کی چستی بڑھ گئی۔ چند لائینز کوٹ کر رہی ہوں۔

’’پھر جہاز کہاں سے ملا؟؟؟‘‘ شیطان حیرت سے بولا۔
’’ابے یہ اگلے چوک میں کھڑا ہے نا۔ ۔ ۔ ۔‘‘ مرزا جی فخر سے بولے۔
شیطان کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔
’’یعنی وہ جو چوک میں جہاز لگا ہے اس سے چھلانگ ماری؟؟‘


’’کیا لائف جیکٹ اتاری تھی۔ ۔ ۔ ۔‘‘ اچانک شیطان کو خیال آیا۔
’’وہ کیا ہوتی ہے۔ ۔ ۔‘‘
شیطان کا دل بیٹھ گیا۔
’’وہ جو نارنجی سی چیز گلے میں ڈالی ہوتی ہے۔‘‘ شیطان نے کہا۔
’’ارے ۔ ۔ ۔ تو کیا وہ اتارنی تھی۔ ۔ ۔‘‘ مرزا جی حیرانی سے بولے۔

مجھے لگتا ہے مرزا کے کردار میں مستقل کردار کا روپ ڈھالنے والی خصوصیت ہے۔ امید ہے آپ اچھا کام جاری رکھیں گے۔

Sabih
13-10-2010, 12:50 AM
صبیح یہ قصہ بہت مزاحیہ ہے، وہی باتیں جو ہمیں روزمرہ زندگی میں دلچسپ لگتی ہیں مخصوص حالات میں چند کرداروں کے منہ سے سن کر اور بھی زیادہ مزاحیہ لگتی ہیں۔ تحریر کے تناظر میں ٹائیٹل بھی مزے کا ہے۔
آپ کے سلیس اور رواں انداز بیان سے مزاح کی چستی بڑھ گئی۔ چند لائینز کوٹ کر رہی ہوں۔

’’پھر جہاز کہاں سے ملا؟؟؟‘‘ شیطان حیرت سے بولا۔
’’ابے یہ اگلے چوک میں کھڑا ہے نا۔ ۔ ۔ ۔‘‘ مرزا جی فخر سے بولے۔
شیطان کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔
’’یعنی وہ جو چوک میں جہاز لگا ہے اس سے چھلانگ ماری؟؟‘


’’کیا لائف جیکٹ اتاری تھی۔ ۔ ۔ ۔‘‘ اچانک شیطان کو خیال آیا۔
’’وہ کیا ہوتی ہے۔ ۔ ۔‘‘
شیطان کا دل بیٹھ گیا۔
’’وہ جو نارنجی سی چیز گلے میں ڈالی ہوتی ہے۔‘‘ شیطان نے کہا۔
’’ارے ۔ ۔ ۔ تو کیا وہ اتارنی تھی۔ ۔ ۔‘‘ مرزا جی حیرانی سے بولے۔

مجھے لگتا ہے مرزا کے کردار میں مستقل کردار کا روپ ڈھالنے والی خصوصیت ہے۔ امید ہے آپ اچھا کام جاری رکھیں گے۔
بہت شکریہ رافعہ سس

Zainab
13-10-2010, 01:02 AM
صبیح بھائی بہت اچھی لکھا ہے ، پڑھ کر مزا آگیا

ahanjum1960
13-10-2010, 02:54 AM
BAHOUT ACHA LIKHA HA.HALKA PHULKA MZAH.

رفعت
13-10-2010, 04:29 AM
بہت مزے کا لکھا صبیح بھائی
شیطان کے ساتھ ایسی ہی ہونی چاہیے

Nida Sulaiman
13-10-2010, 06:07 AM
بہت خوب۔ بہت اچھی اور شگفتہ تحریر ہے۔

Sabih
13-10-2010, 11:23 AM
صبیح بھائی بہت اچھی لکھا ہے ، پڑھ کر مزا آگیا
بہت شکریہ زینب سس

Sabih
13-10-2010, 11:24 AM
BAHOUT ACHA LIKHA HA.HALKA PHULKA MZAH.
بہت شکریہ بھائی۔ ۔ ۔:)

Sabih
13-10-2010, 11:25 AM
بہت مزے کا لکھا صبیح بھائی
شیطان کے ساتھ ایسی ہی ہونی چاہیے


ہاہا
بالکل جی شیطان ڈیزرو کرتا تھا۔ ۔ ۔;d

Sabih
13-10-2010, 11:26 AM
بہت خوب۔ بہت اچھی اور شگفتہ تحریر ہے۔

بہت شکریہ پسندیدگی کا۔ ۔ ۔

Hira Qureshi
13-10-2010, 06:59 PM
بہت اچھا افسانہ لکھا ہے پڑھ کر مزہ آیا۔ مرزا جی کا کردار بڑا زبردست تھا۔ ;d

Sabih
14-10-2010, 04:32 PM
بہت اچھا افسانہ لکھا ہے پڑھ کر مزہ آیا۔ مرزا جی کا کردار بڑا زبردست تھا۔ ;d
بہت شکریہ حرا سس

Meem
14-10-2010, 06:37 PM
بہت بہت بہت اچھا لکھا، سچ میں بہت اچھی ہوئی شیطان کے ساتھ۔ سیر کو سوا سیر پڑ گیا۔ خوش رہیئے اور ہمیشہ خوشیاں بانٹتے رہیے۔

NaimaAsif
14-10-2010, 10:09 PM
بہت ہی خوب صبیح بھائی۔ میری نظر سے آپ کا افسانہ آج گزرا۔ بہت شگفتہ انداز ِ بیاں ہے۔ مرزا صاحب اور شیطان دونوں کے کردار خوب رہے۔ لکھتے رہیے۔:)

*HURD*
14-10-2010, 10:22 PM
السلام علیکم

ھاھاھاھا
آسان شکار نے تو شکاری کو ناکوں چنے چبوا دئیے لیکن ھاتھ پھر بھی نہ آیا۔
بہہہت ھی پر لطف تحریر تھی۔ پڑھ کر بہہہت مزہ آیا۔

سمر
15-10-2010, 12:46 PM
صبیح بہت اچھا لکھا ھے
مزاح لکھنا کافی مشکل ھوتا ھے لیکن آپ نے کمال مہارت کا مظاہرہ کیا ھے _ آئیندہ بھی انتظار رھے گا

Sabih
16-10-2010, 03:17 AM
بہت بہت بہت اچھا لکھا، سچ میں بہت اچھی ہوئی شیطان کے ساتھ۔ سیر کو سوا سیر پڑ گیا۔ خوش رہیئے اور ہمیشہ خوشیاں بانٹتے رہیے۔


بہت شکریہ میم آپی۔ ۔ ۔:)

Sabih
16-10-2010, 03:18 AM
بہت ہی خوب صبیح بھائی۔ میری نظر سے آپ کا افسانہ آج گزرا۔ بہت شگفتہ انداز ِ بیاں ہے۔ مرزا صاحب اور شیطان دونوں کے کردار خوب رہے۔ لکھتے رہیے۔:)
ناعمہ سس
شکریہ جی شکریہ

Sabih
16-10-2010, 03:20 AM
السلام علیکم

ھاھاھاھا
آسان شکار نے تو شکاری کو ناکوں چنے چبوا دئیے لیکن ھاتھ پھر بھی نہ آیا۔
بہہہت ھی پر لطف تحریر تھی۔ پڑھ کر بہہہت مزہ آیا۔
وعلیکم السلام
بہت شکریہ ہما آپی۔ ۔۔:):)

Sabih
16-10-2010, 03:20 AM
صبیح بہت اچھا لکھا ھے
مزاح لکھنا کافی مشکل ھوتا ھے لیکن آپ نے کمال مہارت کا مظاہرہ کیا ھے _ آئیندہ بھی انتظار رھے گا
بہت بہت شکریہ ماظق بھائی۔ ۔ ۔:):)

HJaved
16-10-2010, 03:57 AM
بہت زبردست لکھا ہے صبیح بھائی۔ آپ بہت اچھے مزاح نگار ہیں۔ لکھتے رہیں۔

Fozan
16-10-2010, 06:17 AM
صبیح بھائی کیا خوب لکھا ہے۔۔۔۔بھگو بھگو کے مارا ہے۔۔۔۔۔ مگر آپ نے مجھے ایک خوش فہمی میں بھی مبتلا کر دیا ہے۔۔۔۔کیا شیطان اب تنگ آ کر ہم پاکستانی قوم کا پیچھا چھوڑنے والا ہے!

کیونکہ ہر وار خالی جا رہا ہے۔۔۔۔۔صبح بھی ٹی وی پر شیطان کاایک چیلا بیٹھا 6 آرٹیکل کے حوالے سے ڈینگیں مار رہا تھا اور ججز کا تمسخر اڑا رہا تھا۔۔۔۔اب کیا پاکستانی عوام کی سادہ لوحی اور بیوقوفیوں نے شیطان کے ناک میں بھی دم کر دیا ہے۔۔۔۔اللہ کرے ایسا ہی ہو۔۔۔۔آپکے منہ میں گھی شکر!

Hina Rizwan
18-10-2010, 07:39 AM
ہاہاہا
بہت خوب صبیح بھائی
بہت اچھا افسانہ لکھا ہے
شیطان کے ساتھ بالکل صحیح ہوا
افسانہ پڑھتے ہوئے بیچ مین بےاختیار مسکراہٹ آجاتی تھی
ویل ڈن اور کیپ رائٹنگ:)

Wish
18-10-2010, 11:39 PM
ہاہا صبیح بھائی کیا بات ہے۔ ۔ ۔
آپ کا مزاح قابلِ تعریف ہے۔ ۔ ۔ اور الفاظ پر گرفت اور پختگی بھی ہے۔ امید ہے مزید تحاریر بھی جلد ہی پڑھنے کو ملیں گی۔

اور شیطان تو سچ یہاں بیچارہ ہی لگنے لگ گیا۔
ویری نائس جناب

Nesma
19-10-2010, 11:36 PM
;d;d

صبیح بھائی بہت خوب زبردست

Sabih
21-10-2010, 05:08 AM
بہت زبردست لکھا ہے صبیح بھائی۔ آپ بہت اچھے مزاح نگار ہیں۔ لکھتے رہیں۔
بہت شکریہ۔ ۔ ۔ ہما آپی۔ ۔ ۔

Sabih
21-10-2010, 05:10 AM
صبیح بھائی کیا خوب لکھا ہے۔۔۔۔بھگو بھگو کے مارا ہے۔۔۔۔۔ مگر آپ نے مجھے ایک خوش فہمی میں بھی مبتلا کر دیا ہے۔۔۔۔کیا شیطان اب تنگ آ کر ہم پاکستانی قوم کا پیچھا چھوڑنے والا ہے!

کیونکہ ہر وار خالی جا رہا ہے۔۔۔۔۔صبح بھی ٹی وی پر شیطان کاایک چیلا بیٹھا 6 آرٹیکل کے حوالے سے ڈینگیں مار رہا تھا اور ججز کا تمسخر اڑا رہا تھا۔۔۔۔اب کیا پاکستانی عوام کی سادہ لوحی اور بیوقوفیوں نے شیطان کے ناک میں بھی دم کر دیا ہے۔۔۔۔اللہ کرے ایسا ہی ہو۔۔۔۔آپکے منہ میں گھی شکر!
ہاہاہا
بہت ہی منفرد پوائنٹ پکڑا ہے آپ نے آمنہ سس

انشااللہ شیطان تو کیا اس کا باپ بھی پیچھا چھوڑنے پر مجبور ہو جائے گا۔ ۔ ۔

Sabih
21-10-2010, 05:11 AM
ہاہاہا
بہت خوب صبیح بھائی
بہت اچھا افسانہ لکھا ہے
شیطان کے ساتھ بالکل صحیح ہوا
افسانہ پڑھتے ہوئے بیچ مین بےاختیار مسکراہٹ آجاتی تھی
ویل ڈن اور کیپ رائٹنگ:)
بہت شکریہ حنا سس

Sabih
21-10-2010, 05:11 AM
ہاہا صبیح بھائی کیا بات ہے۔ ۔ ۔
آپ کا مزاح قابلِ تعریف ہے۔ ۔ ۔ اور الفاظ پر گرفت اور پختگی بھی ہے۔ امید ہے مزید تحاریر بھی جلد ہی پڑھنے کو ملیں گی۔

اور شیطان تو سچ یہاں بیچارہ ہی لگنے لگ گیا۔
ویری نائس جناب



بہت شکریہ پسندیدگی کا وش سس

Sabih
21-10-2010, 05:12 AM
;d;d

صبیح بھائی بہت خوب زبردست

بہت شکریہ نیسمہ سس