PDA

View Full Version : ٭مقابلہ ۔۔ شعر کی تشریح کریں٭



Wish
12-06-2010, 04:47 AM
السلام علیکم معزز ممبران۔ اُمید کرتی ہوں آپ سب خیریت سے ہوں گے۔
آج میں آپ کے سامنے ایک نیا مقابلہ لے کر حاضر ہوئی ہوں اور اُمید کرتی ہوں کہ آپ کا تعاون اس مقابلے میں بھی بھر پور رہے گا۔

تو آپ لوگوں نے کرنا یہ ہے کہ دیئے گئے شعر کی اپنی سوچ کے مطابق تشریح کرنی ہے۔۔




میں نے پوچھا تھا اک ستارے سے
انتہا سفر کی بھی ہے کوئی
سُن کر میرے سوال کو شبنم
رات بھر پھوٹ پھوٹ کر روئی


قوانین:


1۔ پوسٹ کرتے وقت سگنیچر آف رکھیں۔ بعد میں یاد آنے پر ایڈٹ بھی کر سکتے ہیں۔

2۔ تشریح آپ کی اپنی ہو اور صرف اردو میں ہی لکھئی گئی ہو۔

3۔ ایک ممبر زیادہ سے زیادہ دو تشریحات ہوسٹ کر سکتا ہے۔


انعامات:

پہلا انعام 1000 پوائنٹس
دوسرا انعام 800 پوائنٹس
تیسرا انعام 500 پوائنٹس

تمام شرکت کرنے والوں کو بھی پوائنٹس دیئے جائیں گے۔

مقابلے میں حصہ لینے کہ آخری تاریخ 24 جون 2010 پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات کے 12 بجے تک ہے۔



آپ سب کی شرکت کا انتظار رہے گا۔

Sabih
12-06-2010, 05:45 AM
اس شعر میں شاعر ایک ستارے سے استفسار کرتا ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ روز اول سے لے کر لمحہِ حاضر تک سفر کے دائرے میں محوِ گردش ہے۔ لیکن کیا اس سلسلہ سفر کی کوئی انتہا بھی ہے یا نہیں۔
یہ سوال سن کر شبنم نے اپنے آنسوؤں کی زبان میں جواب دیا۔ کہ پانی کے ایک قطرے سے بڑھ کر اس سفر کی بے کرانی سے کون آشنا ہو سکتا ہے۔ پانی کی ایک بوند جو بحرِ بے کراں کے تپتے سینے سے بھاپ بن کر اٹھتی ہے اور اس فضائے بسیط میں ہوا کے کندھوں پر سوار ہوکر ہزاروں میل کے سفر پر گامزن ہوتی ہے۔ پھر آسمان کی وسعتوں میں بادل کو روپ دھارتی ہے اور پھر ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ واپس زمین کے سینے پر گرتی ہے کبھی برسات کی صورت اور کبھی رات کے آنسو بن کر۔ پھر زمین کی بھول بھلیاں پار کرتی جوئے رواں کا روپ دھارتی سمندر کی آبیاری کرنے پہنچ جاتی ہے۔ وہیں سے پھر سورج کی حدت پا کر اک نئی پرواز کے لیے اپنا رختِ سفر باندھتی ہے۔ اور یوں یہ سفر کبھی نہ رکنے والے وقت کے شانہ بشانہ جاری و ساری رہتا ہے۔
یہ تماشا ازل سے ہوتا آیا ہے اور ابد تک جاری رہے گا۔ اس سارے کھیل میں کون ہے جو یہ دعویٰ کر سکے کہ وہ اس سفر کی معراج کو چھو پایا ہے۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Wish
12-06-2010, 12:20 PM
آہا۔ ۔ ۔ زبردست۔ کیا کہنے آپ کے صبیح بھائی۔ اتنی جلدی اتنی عُمدہ تشریح لکھ بھی لائے۔ ویل ڈن۔ ۔

باقیوں کی شرکت کا بھی انتظار ہے۔ ۔

NaimaAsif
17-06-2010, 05:07 PM
السلام علیکم۔

لو وش میں بھی جسارت کر رہی ہوں اس شعر کی بیاں بازی میں۔~


*********


میرے نزدیک تو یہ شعر کسی انسان کے کرب کو بیان کرتا ہے، ایسا انسان جو زندگی کی بے انت مسافت سے تھکن محسوس کرتا ہو۔ جسے گلے شکووں کی عادت نہ ہو مگر زندگی کے کسی موڑ پر وہ اتنا مجبور ہو جائے کہ اپنا درد بیان کرے۔

اس نے ستارے سے سوال کیا۔ جس کا سفر بھی کبھی ختم ہوتا نہیں دِکھتا۔ اس فرد نے اپنا دکھ اس ستارے سے مشابہ سمجھ کر اس سے بیان کیا کہ کیا یہ زندگی کی، درد کی یہ مسافت کبھی ختم بھی ہو گی؟ یا تمہیں یونہی سدا چلنا ہے اور مجھے یونہی سدا سہنا ہے؟

اور شبنم کا کردار اس انسان کے کسی دوست کا سا ہے۔ جو اس کے ٹوٹ جانے پر، دکھ بیان کرنے پر اس کا درد اپنے دل پر اپنی ذات پر محسوس کرتی ہے۔ انسان اپنے لیے یا صرف اس کے لیے روتا ہے جسے وہ بے حد عزیز رکھے۔ شبنم کی صورت ایک دوست اپنے دوست کی مایوسی اور تھکان پر آنسو بہا رہا ہے۔

کیونکہ اس سوال کا جواب نہ ستارے کے پاس ہے، نہ شبنم کے اور نہ سوال کرنے والے انسان کے پاس۔

Sehar Azad
17-06-2010, 05:25 PM
میں نے پوچھا تھا اک ستارے سے
انتہا سفر کی بھی ہے کوئی
سُن کر میرے سوال کو شبنم
رات بھر پھوٹ پھوٹ کر روئی

اس شعر میں شاعر تھکا تھکااور ناآسودہ ہے۔ اور اپنی جدوجہد کا جائزہ لیتے ہوئے اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے کہ منزل کب ملے گی۔ تمام حساب و فکر کرنے کے بعد اسے دور دور تلک اپنی منزل دکھائی نہیں دیتی۔ تو اس کو پورا جہاں غمگین لگ رہا ہے۔


یہ سگنیچر کیسے آف کروں۔

شایان
17-06-2010, 06:16 PM
میں نے پوچھا تھا اک ستارے سے
انتہا سفر کی بھی ہے کوئی
سُن کر میرے سوال کو شبنم
رات بھر پھوٹ پھوٹ کر روئی



شاعر کہتا ہے کہ رات کی خوابناکی میں جب میں ستارے سے محو گفتگو ہوا تو میں نے یہ سوال پوچھ ہی لیا کہ تیرے سفر کی کوئی انتہا بھی ہے۔شاعر ستارے میں دراصل اپنا عکس دیکھ کر اس کے سفر کے ذکر کے پس پردہ دراصل خود میں اور ستارے میں مماثلت کا متلاشی ہے کہ اے ستارے تیرا اور میرا سفر ایک ہی جیسا معلوم ہوتا ہے مجھے لگتا ہے کہ میری طرح تیری بھی کوئی منزل نہیں۔کسی بھی سفر کا منزل پر پہنچ کر اختتام ہوجاتا ہے لیکن مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سفر کا کوئی اختتام نہیں۔کیونکہ میری طرح تیری بھی کوئی منزل نہیں ۔اگر ہے تو مجھے تو ہی بتا کہ اس سفر کی کوئی انتہا ہے دراصل شاعر اپنی مسافت میں آنے والے مصائب کے ذکر پر نوحہ کنعاں ہے ۔ کہ اے ستارے منزل پر پہنچ کر تو سفر کا اختتام ہو جاتا ہے لیکن کیا ہمارے اس سفر کی کوئی حد نہیں ۔ ہمیں یوں ہی محو سفر رہنا ہوگا

کسی شاعر نے کیا خوب کہا کہ


یارب میرے نصیب کا کچھ فیصلہ تو کردے
میں یوں ہی ڈوب جاؤں گا یا منزل بھی آئے گی


گو کہ اس آوارہ بادل کی طرح جس کی کوئی منزل نہیں یا اس بنجارے کی طرح جس کا کوئی ٹھکانہ نہیں
یہ سننا تھا کہ ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے۔ شبنم قطرہ قطرہ برسنے لگی ۔ اس شبنم کے برسنے میں ستارے کے آنسو ہی تو ہیں جو شائد جواب ہیں کہ تیرا غم میرا غم اک جیسا ۔۔۔ہم دونوں کی ایک کہانی کے مصداق یا پھر آ عندلیب مل کر کریں آہ وزاریاں کی مثل ۔۔اس بند میں شاعر نے اپنے سفر کی تھکن کو بیان کرنا چاہاہے کہ منزل کی تلاش میں جب تھک گیا اور جس کو منزل سمجھ رہا تھا وہ تو ایک سراب کی طرح تھا۔
اس طرح شاعر کا جی ہلکا ہوگیا کہ کوئی تو ہے جس کا غم میرے جیسا ہے جو محو سفر ہے ۔منزل کی پروا کیئے بغیر اپنے سفر میں مگن ہے ۔ آنسوؤں کی ایک جھڑی لگی اور دل کا سارا بوجھ بہا لے گئی کیونکہ پھر سے محو سفر ہونا تھا

شایان
17-06-2010, 06:46 PM
میں نے پوچھا تھا اک ستارے سے
انتہا سفر کی بھی ہے کوئی
سُن کر میرے سوال کو شبنم
رات بھر پھوٹ پھوٹ کر روئی



اب دو طریقے سے پوسٹ کر سکتے ہیں تو کچھ مزاحیہ کرلیتے ہیں(پسند نا آئے تو ڈیلیٹ کر دیجئے گا)

شاعر کہتا ہے کہ ایک فلمی ستارہ ندیم میرا بہت ہی اچھا دوست ہے اس نے پاکستان فلم انڈسٹری کو بڑی ہٹ فلمیں دی ہیں یہ تو اب ایسا ہوا کہ انڈسٹری کا پٹھا بٹھا دیا لوگاں نے ایک دن شاعر نے ستارے(ندیم) کو اپنے ہاں رات کے کھانے پر بلایا۔ اور شاعر کہتا ہے کہ میں نے ستارے (ندیم) سے پوچھا کہ بھیا بڑے ادھر اُدھر کے دورے کرتے رہتے ہو۔ کوئی انتہا بھی ہے آپ کے سفر کی مطبل ٹک کر کہیں بیٹھتے بھی ہو۔(شاعر نے دراصل ندیم کے ساتھ شبنم کو بھی دعوت دے ڈالی تھی اور ندیم جی شبنم سے منہ موڑے بیٹھے تھے)
اس پر ندیم جی نے آہستہ سے کہا کہ "دل تو بچہ ہے جی"بس جی ابھی تو دنیا دیکھنے کی عمر ہے

تو جی ندیم صاحب آگے تو کیا بولتے بلکہ بولنے کے لئے پر تول ہی رہے تھے کہ اُس سے پہلے ڈھاکہ سے تشریف لائی شبنم جی کو ندیم کے رویے کی اس قدر سرد مہری نے مجبور کردیا کہ انہوں نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیا کہ جی یہ تو مجھے بھول گئے جس کے ساتھ ان کی جوڑی سینما اسکرین پر چمکتی تھی ۔
اور شبنم جی کو تو شاعر دعوت دے کر ہی پچھتایا کہ اس نے ساری رات یہی رونا ڈالا
نوٹ: (شاعر کے ساتھ دلی معذرت ۔ابھی شائد اور بہت کچھ لکھ سکتا ہوں۔ لیکن بہت بہت معذرت )

Wish
17-06-2010, 07:40 PM
السلام علیکم۔

لو وش میں بھی جسارت کر رہی ہوں اس شعر کی بیاں بازی میں۔~


*********





زبردست ناعمہ سس۔ ۔ کیا بات ہے،
بہت ہی اچھی اور گہری بات کہی۔ ۔ ۔ تمام تشریح ہی بہتتت کمال کی ہے اور مجھے پسند آئی بہتتت۔ ۔ ۔
:)




اس شعر میں شاعر تھکا تھکااور ناآسودہ ہے۔ اور اپنی جدوجہد کا جائزہ لیتے ہوئے اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے کہ منزل کب ملے گی۔ تمام حساب و فکر کرنے کے بعد اسے دور دور تلک اپنی منزل دکھائی نہیں دیتی۔ تو اس کو پورا جہاں غمگین لگ رہا ہے۔


یہ سگنیچر کیسے آف کروں۔


بہتت خُوب۔ ۔ نائس تشریح۔ ۔ ۔
سگنیچر آف کرنے کے لیے میسج باکس کے نیچے دیکھیں ایک آپشن ہو گا۔
Show your signature

اس کا ان چیک کر دیں تو سگنیچر آف ہو جائے گا۔ ۔ ۔

Saahil
18-06-2010, 06:38 PM
السلام علیکم معزز ممبران۔ اُمید کرتی ہوں آپ سب خیریت سے ہوں گے۔
آج میں آپ کے سامنے ایک نیا مقابلہ لے کر حاضر ہوئی ہوں اور اُمید کرتی ہوں کہ آپ کا تعاون اس مقابلے میں بھی بھر پور رہے گا۔

تو آپ لوگوں نے کرنا یہ ہے کہ دیئے گئے شعر کی اپنی سوچ کے مطابق تشریح کرنی ہے۔۔




میں نے پوچھا تھا اک ستارے سے
انتہا سفر کی بھی ہے کوئی
سُن کر میرے سوال کو شبنم
رات بھر پھوٹ پھوٹ کر روئی










وعلیکم السلام مش جی ۔۔۔
آپ بھی نا عجیب عجیب اور اتنے مشکل مشکل مقابلے لے کر :pآتی ھیں ۔۔۔۔۔


اس قطعے میں سب سے اہم نقطہ سفر کی انتہا ہے

اردو شاعری میں سفر دکھ کی علامت رہا ہے نا تو کہیں اس کا مطلب جدو جہد کے معنوں میں بھی آیا ہے۔لیکن عموما دکھ ،تکلیف جدائی کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے۔۔۔۔۔۔

جیسے کہ انسان اور ستارے میں ایک ہی مماثلت ہے کہ دونوں سفر میں ہیں۔کسی منزل کے تعین کے بغیر۔انسان بھی روز و شب کی سختیاں سہتا، جھیلتا آگے ہی آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے اور ستارہ بھی اپنی جگہ ایستادہ رات دن کا کھیل دیکھتا رہتا ھے دونوں بے اختیار ہیں ۔۔۔۔

اسی مماثلت کی بناء پر شاعر کو اپنا دکھ اور ستارے کا دکھ ایک سا لگا۔
یہ ایک قدرتی عمل ہے کہ انسان اپنا دکھ اسی کو بتاتا ہے جو اسے اپنے جیسا لگتا ہے یا جو اس تکلیف سے گرز رہا ہو یا گزر چکا ہو تو شاعر بھی اپنے وسیع تخیل کی بناء پرایک ستارے سے محو گفتگو ہے۔ اپنے چہرے پر سفر کی گرد لیئے آنکھوں میں راستوں کی دھول لیئے تھکے تھکے تھکے سے لہجے میں اس تکلیف دے سفر کی انتہا پوچھ رھا ھے اپنا دکھ بتا رہا ہے۔

حالانکہ یہ وہ بھی جانتا ہے۔کہ اس سفر کی انتہا تو اسی روز ہو گی جب یہ کائنات اور اس کا ہر ذرہ اللہ کے حکم سے رک جائے گا اور پر سب ختم ہو جائے گا۔ اس سے پہلے چلتے رہنا سفر کرنا قسمت ہے۔۔۔۔

جب اس گفتگو میں انتہائے سفر کی بات آتی ہے تو اس سوال کو سن کو شبنم بھی پھوٹ پھوٹ کر روتی ہے۔یہاں شاعر کے تخیل نے شبنم اور رونے کا استعارہ استعمال کیا ہے۔

شبنم تو رات بھر اوس کے قطروں کی صورت گرتی ہے۔لیکن شاعر نے اس عمل کے ہونے کی وجہ اپنا دکھ بتایا ہے۔یعنی جب میں ستارے سے محوِ گفتگو تھا ۔تو ہمارے دکھ اور بے بسی کو سن کر شبنم رات بھر روتی رہی،اور اوس کے قطروں کی صورت گرتی رہی۔۔۔۔

شکریہ

Sabih
21-06-2010, 08:37 AM
میں ایک تشریح پہلے سبمٹ کر چکا ہوں دوسری کاوش پیشِ خدمت ہے۔

مذکورہ بالا قطعہ کے پہلے شعر میں شاعر کو ایک پریشان حال انسان سے تشبیہہ دی گئی ہے جو زندگی کی الجھی ڈور کے سروں کو سلجھاتے سلجھاتے تھک چکا ہے اور اب جب وہ اس سفر کے اختتام کے نزدیک آ چکا ہے تو اسے اپنی تمام جدو جہد اور ریاضت لاحاصل محسوس ہوتی ہے اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ


تفریق و جمع سب کا انجام صفر نکلا
اک عمر کی بےچینی، اک عمر کا حاصل ہے
اس حقیقت سے آشنا ہو نے کے بعد جب وہ اس نظر سے اپنے آس پاس دیگر چیزوں کا تجزیہ کرتا ہے تو اسے اس کائنات کی ہر شے اس کی طرح ایک لاحاصل اور کبھی نہ ختم ہونے والے سفر میں محو نظر آتی ہے۔

جب وہ ستاروں پر نگاہ ڈالتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ستارے بھی ہر رات امید کی جوت جگائے سورج دیوتا کی تلاش میں نکلتے ہیں اور تمام رات سرگرداں رہتے ہیں لیکن جیسے ہی اس کے رخِ روشن کا دیدار نصیب ہوتا ہے تو ان کا وقتِ زوال آ جاتا ہے۔ اور ستاروں کے حصے میں سوائے آبلہ پائی اور کچھ نہیں آتا۔
اسی بات کو ایک پینجابی شاعر نے یوں بیان کیا ہے


نیلے امبریں، چن تے تارے
پھردے بال مشالاں
گھپ انھیریں سورج ڈوبیا
لبھدے اونہوں تھاں تھاں
ترجمہ۔ ۔
نیلے آسمان پر چاند اور ستارے مشعلیں جلا کر گھوم رہے ہیں۔ اور سورج جو کہ گھپ اندھیرے میں ڈوب چکا ہے اس کو جگہ جگہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔

پھر ساتھ ہی اس کے ذہن میں خیال آتا ہے کہ انسان کی یہ آزمائش تو فقط چند دہائیوں پر مشتمل ہے لیکن یہ ستارے تو روزِ اول سے اسی تلاش میں گردوں کی خاک چھانتے پھر رہے ہیں۔
اسی بات کو ذہن میں لے کر وہ ستاروں سے استفسار کرتا ہے کہ جب ہم سب جانتے ہیں کہ اس سفر کی کوئی منزل نہیں کوئی حاصل نہیں
تو پھر کیا کوئی مقام ایسا ہے جہاں اس لامتناہی سلسلہ کہ انتہا ہوتی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
جب اس کا یہ سوال سماعتِ شبنم پر دستک دیتا ہے تو بلا اختیار شبنم کی آنکھوں کے جام چھلک جاتے ہیں اور وہ اپنی آبلہ پائی پر نوحہ کناں ہوتی ہے۔
ہر رات شبنم صبح کے رخ روشن کی جویا ہوتی ہے۔ اور اپنی تلاش میں اشکوں کے کوزے خالی کرتی رہتی ہے لیکن جیسے ہی اس کی پیاسی نظر صبح کی نظارے سے سیراب ہونے لگتی ہے اسی وقت شبنم کا اپنا وقتِ زوال آ جاتا ہے۔

فارسی کے ایک شاعر نے اسی بات کو ایک شمع کے حوالے سے یوں بیان کیا ہے کہ


من شمعِ جاں گدازم تو صبحِ دلربائی
سوزم گرت نہ بینم میرم چوں رخ نمائی
نزدیک ایں چنینم دور آں چناں کہ گفتم
نے تابِ وصل دارم نے طاقتِ جدائی

ترجمہ۔ ۔
میں جان گھلا دینے والی شمع ہوں تو صبحِ دلربائی ہے۔
تمہیں نہ دیکھوں تو جلتی رہتی ہوں اور دیکھتے ہی مر جاتی ہوں
قریب ہوں تو یہ حٓال ہوتا ہے۔ دور رہوں تو اپنا حال بتا چکی ہوں
نہ تو مجھ میں وصل کی تاب ہے اور نہ دور رہنے کی طاقت ہے۔

SadiaMuhammad
25-08-2010, 10:44 PM
السلام علیکم
اس مقابلے کا وقت تو ختم ہو چکا ہے
لیکن کو نتیجہ نہیں نکلا ابھی تک۔
کیا میں بھی تشریح سبمٹ کر سکتی ہوں۔۔۔

NaimaAsif
25-08-2010, 10:46 PM
السلام علیکم
اس مقابلے کا وقت تو ختم ہو چکا ہے
لیکن کو نتیجہ نہیں نکلا ابھی تک۔
کیا میں بھی تشریح سبمٹ کر سکتی ہوں۔۔۔



وعلیکم السلام۔

جناب مقابلے کا نتیجہ نہ سہی تفریح ہی سہی، ضرور کرو:cool:

منتظر:cool:

SadiaMuhammad
25-08-2010, 11:54 PM
السلام علیکم
میں نے اتنی مشکل سے اتنی لمبی پوسٹ لکھی اور جب پوسٹ کرنے لگی تو سرور بزی اور اب وہ غائب اب کیا کروں۔۔۔؟

Pardaisi
26-08-2010, 12:02 AM
السلام علیکم


میں نے اتنی مشکل سے اتنی لمبی پوسٹ لکھی اور جب پوسٹ کرنے لگی تو سرور بزی اور اب وہ غائب اب کیا کروں۔۔۔؟



سعدیہ آپ صبر کریں

SadiaMuhammad
26-08-2010, 12:05 AM
وہی تو کر رہی ہوں
اتنی لمبی تشریح اب دوبارہ کہاں ویسا موڈ بنے گا
کہاں مجھ سے وہی الفاظ اسی ترتیب میں لکھے جائیں گے

Sabih
26-08-2010, 12:16 AM
وہی تو کر رہی ہوں
اتنی لمبی تشریح اب دوبارہ کہاں ویسا موڈ بنے گا
کہاں مجھ سے وہی الفاظ اسی ترتیب میں لکھے جائیں گے

آپ بھی میری طرح چند ایک ریڈی میڈ تشریحات بنا کر رکھ لیں نا۔ جب ضرورت پڑی نکال کر پیش کر دی۔

SadiaMuhammad
26-08-2010, 12:19 AM
میں نے پوچھا تھا اک ستارے سے
انتہا سفر کی بھی ہے کوئی
سُن کر میرے سوال کو شبنم
رات بھر پھوٹ پھوٹ کر روئی

اردو ادب میں سفر کا لفظ کہیں لا حاصل اور لمبی جدو جہد کے لیے استعمال ہوا ہے تو کہیں اسی سفر کو وسیلہ ظفر یعنی وجہ کامیابی کہا گیا ہے۔۔۔۔
اس شعر میں شاعر اس سفر کو پہلے معنوں یعنی لاحاصل جدوجہد کے معنوں میں استعمال کر رہا ہے۔ شاعر جب سارے دن کا تھکا ماندہ، اپنی تمام تر تھکن لیے رات کو لیٹتا ہے اور آسمان کی جانب نگاہ کیے اس جدو جہد کو کسی بھی طرح کہیں بھی رکتے ہوئے نہیں دیکھتا اور اپنے آپ کو ایک ایسے سفر کا مسافر جانتا ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا تو اسی وقت اس کی نگاہ اس ستارے پر پڑتی جو روز کی طرح آسمان پر اسی جگہ اسی طرح موجود ہے۔۔ شاعر کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ شاعر بھی اسی ستارے کی طرح محوِ سفر ہے ۔۔۔ جو روز اسی جگہ آ کے رکتا ہے جہاں سے شروع کیا گیا تھا،،۔۔۔ شاعر اس ستارے سے سوالیہ انداز میں اس سفر کے اختتام کے بارے میں دریافت کرتا ہے کہ کیا واقعی اس سفر کا کوئی اختتام ہے یو یہ ہمیشہ یونہی رہے گا


وہ راہ سے چلا گیا، تو راہ موڑ بن گئی
میرے سفر نے راستہ کہاں چھپا کے رکھ دیا
کسی دیئے کی طرز سے گزر رہی ہے زندگی
یہاں جلا کہ رکھ دیا، وہاں بجھا کے رکھ دیا

شاعر کو لگتا ہے کہ اسے راستہ تو میسر ہے اس راستے پہ چلنے کے لیے سازوسامان بھی میسر ہے لیکن یہ راستہ اسے کسی منزل تک نہیں لے جا پا رہا۔۔۔
اسی نارسائی اور کرب کی کیفیت کو شاعر ستارے کے سامنے بیان کرتا ہے۔۔۔

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ


باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے، اب میرا انتظار کر

یعنی یہ سفر تو تبھی شروع ہو گیا تھا جب بابا آدم کو جنت سے نکالا گیا۔۔۔ مسافر بدلتے رہتے ہیں لیکن سفر جاری رہتا ہے۔۔
انسان کو یوں لگتا ہے کہ ہو روز ایک نیا سفر درپیش ہے حالانکہ سفر وہی ہے بس اس میں جگہ جگہ موڑ ہیں جو انسان کی زندگی کو نئی نئی سمتو ں میں لے جاتے ہیں اور یوں یہ سفر ختم نہیں ہوتا جب تک پروانہ موت نہ آ جائے۔۔۔۔۔
یہاں شبنم کا بیان دو معنوں میں لیا گیا ہے
ایک تو ستارے کے آنسووں سے استعارا لیا گیا ہے اور دوسرا شاعر کے کرب و نارسائی کے بیان میں محویت سے۔۔۔
یوں کہ شاعر اپنے کرب، دکھ اور نارسائی کے بیان میں اس ستارے سے اس قدر مگن تھا کہ اسے احساس ہی نہیں ہوا کہ کب صبح ہوئی اور شبنم بھی ان کا دکھ سن کر رو پڑی۔۔
دوسرے کہ شاید شاعر کے دکھ پر یہ شبنم اس ستارے اور اس جیسے کئی ستاروں کے جو کہ محو سفر ہیں آنسو ہیں جو انہوں نے شاعر اور اپنے دکھ پر بہائے ہیں۔۔۔
جب بھی کوئی کسی ایسے شخص کو دیکھتا ہے جو اسی دکھ میں مبتلا ہو جس کا شکار وہ خود ہے تو خود بخود اس کا دل اور آنکھیں بھر آتے ہیں ایسا ہی اس ستارے کے ساتھ اور شاعر کے ساتھ بھی ہوا۔۔۔۔


لیکن یہ سفر تو جاری ہے
اسے جاری رہنا ہے کہ شاید یہی زندگی کی علامت ہے۔۔
یہ شب و روز کا کھیل جسے ہم زندگی کے سفر کا نام دیتے ہیں یہی اصل میں زندگی ہے۔۔۔

آنکھوں میں لے کے جلتے ہوئے موسموں کی راکھ!
درد سفر کو تن کا لبادہ کیے ہوئے
دیکھو تو کون لوگ ہیں! آئے کہاں سے ہیں !
اور اب ہیں کس سفر کا ارادہ کیے ہوئے

SadiaMuhammad
26-08-2010, 12:20 AM
آپ بھی میری طرح چند ایک ریڈی میڈ تشریحات بنا کر رکھ لیں نا۔ جب ضرورت پڑی نکال کر پیش کر دی۔

جی صبیح بھائی لگتا ہے اب یہی کرنا پڑے گا
خیر میں نے دوبارہ لکھنے کی کوشش کی ہے ذرا پڑھیے اور کمنٹ فرمائیے

Sabih
26-08-2010, 12:24 AM
میں نے پوچھا تھا اک ستارے سے
انتہا سفر کی بھی ہے کوئی
سُن کر میرے سوال کو شبنم
رات بھر پھوٹ پھوٹ کر روئی


اردو ادب میں سفر کا لفظ کہیں لا حاصل اور لمبی جدو جہد کے لیے استعمال ہوا ہے تو کہیں اسی سفر کو وسیہ ظفر یعنی وجہ کامیابی کہا گیا ہے۔۔۔۔
اس شعر مین شاعر اس سفر کو پہلے معنوں یعنی لاحاصل جدوجہدکے معنوں میں استعمال کر رہا ہے۔ شاعر جب سارے دن کا تھکا ماندہ، اپنی تمام تر تھکن لیے رات کو لیٹتا ہے اور آسمان کی جانب نگاہ کیے اس جدو جہد کو کسی بھی طرح کہیں بھی رکتے ہوئے نہیں دیکھتا اور اپنے آپ کو ایک ایسے سفر کا مسافر جانتا ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا تو اسی وقت اس کی نگاہ اس ستارے پر پڑتی جو روز کی طرح آسمان پر اسی جگہ اسی طرح موجود ہے۔۔ شاعر کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ شاعر بھی اسی ستارے کی طرح محوِ سفر ہے ۔۔۔ جو روز اسی جگہ آ کے رکتا ہے جہاں سے شروع کیا گیا تھا،،۔۔۔ شاعر اس ستارے سے سوالیہ انداز میں اس سفر کے اختتام کے بارے میں دریافت کرتا ہے کہ کیا واقعی اس سفر کا کوئی اختتام ہے یو یہ ہمیشہ یونہی رہے گا


وہ راہ سے چلا گیا، تو راہ موڑ بن گئی
میرے سفر نے راستہ کہاں چھپا کے رکھ دیا
کسی دیئے کی طرز سے گزر رہی ہے زندگی
یہاں جلا کہ رکھ دیا، وہاں بجھا کے رکھ دیا


شاعر کو لگتا ہے کہ اسے راستہ تو میسر ہے اس راستے پہ چلنے کے لیے سازوسامان بھی میسر ہے لیکن یہ راستہ اسے کسی منزل تک نہیں لے جا پا رہا۔۔۔
اسی نارسائی اور کرب کی کیفیت کو شاعر ستارے کے سامنے بیان کرتا ہے۔۔۔

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ


باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے، اب میرا انتظار کر


یعنی یہ سفر تو تبھی شروع ہو گیا تھا جب بابا آدم کو جنت سے نکالا گیا۔۔۔ مسافر بدلتے رہتے ہیں لیکن سفر جاری رہتا ہے۔۔
انسان کو یوں لگتا ہے کہ ہو روز ایک نیا سفر درپیش ہے حالانکہ سفر وہی ہے بس اس میں جگہ جگہ موڑ ہیں جو انسان کی زندگی کو نئی نئی سمتو ں میں لے جاتے ہیں اور یوں یہ سفر ختم نہیں ہوتا جب تک پروانہ موت نہ آ جائے۔۔۔۔۔
یہاں شبنم کا بیان دو معنوں میں لیا گیا ہے
ایک تو ستارے کے آنسووں سے استعارا لیا گیا ہے اور دوسرا شاعر کے کرب و نارسائی کے بیان میں محویت سے۔۔۔
یوں کہ شاعر اپنے کرب، دکھ اور نارسائی کے بیان میں اس ستارے سے اس قدر مگن تھا کہ اسے احساس ہی نہیں ہوا کہ کب صبح ہوئی اور شبنم بھی ان کا دکھ سن کر رو پڑی۔۔
دوسرے کہ شاید شاعر کے دکھ پر یہ شبنم اس ستارے اور اس جیسے کئی ستاروں کے جو کہ محو سفر ہیں آنسو ہیں جو انہوں نے شاعر اور اپنے دکھ پر بہائے ہیں۔۔۔
جب بھی کوئی کسی ایسے شخص کو دیکھتا ہے جو اسی دکھ میں مبتلا ہو جس کا شکار وہ خود ہے تو خود بخود اس کا دل اور آنکھیں بھر آتے ہیں ایسا ہی اس ستارے کے ساتھ اور شاعر کے ساتھ بھی ہوا۔۔۔۔


لیکن یہ سفر تو جاری ہے
اسے جاری رہنا ہے کہ شادی یہی زندگی کی علامت ہے۔۔
یہ شب و روز کا کھیل جسے ہم زندگی کے سفر کا نام دیتے ہیں یہی اصل میں زندگی ہے۔۔۔

آنکھوں میں لے کے جلتے ہوئے موسموں کی راکھ!
درد سفر کو تن کا لبادہ کیے ہوئے
دیکھو تو کون لوگ ہیں! آئے کہاں سے ہیں !
اور اب ہیں کس سفر کا ارادہ کیے ہوئے




:o:o
ہیٹس آف ٹو یو جی۔ ۔ ۔ ۔ ہیٹس آف ٹو یو۔

آج سے آپ بھی میری استاد ٹھہریں۔

SadiaMuhammad
26-08-2010, 12:30 AM
:o:o
ہیٹس آف ٹو یو جی۔ ۔ ۔ ۔ ہیٹس آف ٹو یو۔

آج سے آپ بھی میری استاد ٹھہریں۔

یہ کیا ہے
طنز یا۔۔۔۔:confused:

Pardaisi
26-08-2010, 12:30 AM
بہت ہی عمدہ لکھا ہے
بلکہ کمال کر دیتا اے

Sabih
26-08-2010, 12:34 AM
یہ کیا ہے
طنز یا۔۔۔۔:confused:

میں طنز نہیں کیا کرتا۔ میں نے جو بھی لکھا پوری ایمانداری کے ساتھ سچ لکھا تھا۔
سوری اگر آپ کو یہ طنز محسوس ہوا۔
:(

SadiaMuhammad
26-08-2010, 12:38 AM
نہیں نا
آپ تو خفا ہو گئے
میں سمجھی کہ کہ شاید کچھ گڑ بڑ لکھ دیا ہے میں نے
او کے او کے
یہ سیڈو سیڈو ہونے کی ضرورت نہیں ہے
آپ پگڑی اور مٹھائی کا انتظام کریں
میں رسمِ شاگردی کی محفل کا انعقاد کراتی ہوں
اب مسکرائیں
ایسے:)

SadiaMuhammad
26-08-2010, 12:40 AM
ویسے صبیح بھائی آپ اور ننھے میاں تو خود اتنا کمال لکھتے ہیں کہ آپ کی تعریف میرے لیے کم نہیں

Sabih
26-08-2010, 12:44 AM
نہیں نا
آپ تو خفا ہو گئے
میں سمجھی کہ کہ شاید کچھ گڑ بڑ لکھ دیا ہے میں نے
او کے او کے
یہ سیڈو سیڈو ہونے کی ضرورت نہیں ہے
آپ پگڑی اور مٹھائی کا انتظام کریں
میں رسمِ شاگردی کی محفل کا انعقاد کراتی ہوں
اب مسکرائیں
ایسے:)

اور ہاں۔ ۔ ۔
میں اپنے استادوں سے خفا نہیں ہوا کرتا۔
:)
اب شکل ٹھیک ہے کیا؟؟

NaimaAsif
26-08-2010, 12:45 AM
بہتتتتتت ہی خوب سعدی۔ میری طرف سے پہلا انعام تمہارا ہوا۔:cool:
مجھے بہت اچھا لگا تمہاری تشریح پڑھ کر۔ لکھتی رہا کرو ایسے سس۔:)

SadiaMuhammad
26-08-2010, 12:45 AM
ٹھیک کیا گڈ ہے جی گڈ
او کے شاگرد صاحب اللہ کر آپ یونہی ہنستے مسکراتے رہیں آمین

Arain
26-08-2010, 12:52 AM
:) بہت ہی عمدہ زبردست تشریح کی آپ نے سعدی سس ۔

خاص کر سفر کو بڑے واضح انداز میں بیان کیا ۔

اتنا سارا لکھ کر ضائع ہونا واقعی بہت افسوس ناک رہا ہوگا ۔

SadiaMuhammad
26-08-2010, 12:55 AM
:) بہت ہی عمدہ زبردست تشریح کی آپ نے سعدی سس ۔

خاص کر سفر کو بڑے واضح انداز میں بیان کیا ۔

اتنا سارا لکھ کر ضائع ہونا واقعی بہت افسوس ناک رہا ہوگا ۔


ہاں نا ایک مرتبہ تو میرا دل پیسیوں پیسی ہو گیا تھا۔۔۔

SadiaMuhammad
26-08-2010, 01:16 AM
بہتتتتتت ہی خوب سعدی۔ میری طرف سے پہلا انعام تمہارا ہوا۔:cool:
مجھے بہت اچھا لگا تمہاری تشریح پڑھ کر۔ لکھتی رہا کرو ایسے سس۔:)

شکریہ اپیا جی