PDA

View Full Version : سیپریشن اینزائٹی کیا ہے؟



روزبیہ خواجہ
26-03-2010, 03:13 PM
اسلام علیکم نوشین جی:
آپ سے سوال ہے کہ سیپریشن اینزائٹی کیا ہے؟ وجہ؟ اور علاج کیا ہے؟ آپ کہ جواب کا انتظار رہے گا۔
شکریہ

Nosheen Qureshi
11-04-2010, 06:50 PM
سپریشن اینگزائٹی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں گھر یا انتہائی قریبی رشتوں میں سے کسی سے جدائی کا شدید خوف اور بےچینی ہوتی ہے، یہ بہت سے طریقوں سے ظاہر ہو سکتی ہے مثلاً گھر یا پیاروں میں سے کسی سے جدا ہوتے ہوئے یا ان سے جدا ہونے کا سوچ کر ہی شدید پریشانی محسوس ہونا، ہر وقت کسی اپنے کو کھونے کا خوف محسوس ہونا، ہر وقت اس واہمہ کا شکار رہنا کہ کوئی بھی برا واقعہ ہمارے اپنوں کو ہم سے دور کر سکتا ہے، سکول جانے سے کترانا یا گھر سے باہر نکلتے ہوئے گھبرانا کہ کہیں ہمیشہ کیلئے دور نہ ہو جائیں، تنہا رہنے یا اپنے پیاروں سے دور رہنے کے خیال سے بھی گھبراہٹ محسوس ہونا، اکیلے سونے سے کترانا، جدائی یا اپنوں کو کھونے سے متعلق پریشان کن خواب آنا،رات کو سوتے میں بستر گیلا کرنا، مزاج میں شدید قسم کی تبدیلی، بات نہ سننا نہ ماننا، بہت ضد کرنا, جدائی کے خیال سے ہی سر درد، متلی، قے یا معدے میں درد کا احساس ہونا وغیرہ۔

عام طور پر یہ ان بچوں میں ہوتی ہے جن کے والدین ان کا ضرورت سے زیادہ خیال رکھتے ہیں، بہت چھوٹے بچوں میں تو یہ عموماً کسی حد تک ہوتی ہی ہے جیسے چند ماہ کے بچہ میں تو اس کا ہونا کوئی حیران کن بات نہیں، اگر ماں اسے صرف اپنا عادی بنا لے تو وہ اس سے دور ہوتے عدم تخفظ کا شکار ہو گا اور پھر شدید بےچینی محسوس کرے گا، لیکن اگر بچے کی عمر چھ سال سے زیادہ ہو اور پھر اس میں ایسے اثرات محسوس ہوں جو انتہائی شدت کو پہنچے ہوں تو یہ پریشان کن بات ہے۔ یہ عمومی طور پر 5-7 اور11-14 سال کے بچوں میں پائی جاتی ہے، وہ اپنی اس کیفییت کی وجوہات سے انجان ہوتے ہیں یا انھیں دوسروں تک پہنچا نہیں پارہے ہوتے لیکن دوسروں کی زندگی کیونکہ اس سب سے متاثر ہو رہی ہوتی ہے تو بعض اوقات ان کے رویہ میں منفی تبدیلی اس کیفیت کو بڑھانےکا سبب بھی بن جاتی ہے۔

اس کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ماحول کی تبدیلی بھی ہے جو کہ کسی نہ کسی بڑی پریشانی کو جنم دے، کسی اپنے کا کھو جانا، کسی پالتو کا مرنا، کسی غیر معمولی حادثہ کا ہونا، ایک طویل عرصہ بعد اپنوں سے دور ہونا، خاندان میں نفسیاتی بیماریوں کی شرح زیادہ ہونا، توجہ کا حصول، ذھنی طور پر اپنی عمر سے پیچھے ہونا وغیرہ سب اس کی وجوہات میں شامل ہیں۔

اس کے علاج کیلئے والدین کو بھی کافی فعال ہونا پڑتا ہے، بچے کی ذھنی کیفیت کو سمجھتے ہوئے اسے ڈیل کرنا ہوتا ہے،اس میں سپریشن اینگزائٹی کی وجوہات کیا تھیں ان کی بنیاد پر علاج ہوتا ہے، اس میں سے عدم تخفظ کا احساس دور کر کے اس میں تخفظ کا احساس پیدا کیا جاتا ہے، اسے اس کے منفی خیالات کی پہچان میں مدد دی جاتی ہے اور ان سے نمٹنے کا طریقہ بتایا جاتا ہے، اس کے اندر ہمت پیدا کی جاتی ہے، کھونے کے شدید خوف سے نکلنے کیلئے تخیل کی مدد بھی لی جاسکتی ہے جس میں درجہ بہ درجہ اس کے خوف تک پہنچا جاتا ہے اور اسے پرسکون ہونے کی ورزش کرائی جاتی ہے اور آخرکار وہ اپنے خوف پر تخیل میں حاوی ہوجاتا ہے پھر اسے حقیقت میں کیا جاتا ہے، اس کے سامنے مثبت رویہ اپنایا جاتا ہے اور اسے مثبت رویہ رکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے، اپنے خوف کے اظہار کا موقع فراہم کیا جاتا ہے، اس کے سامنے مثالی بچے پیش کرنے سے یا انھیں ایسی کتب اور دیگر اشیاء جو ان میں مثبت تحریک کا باعث ہوں ان میں بہتر تبدیلی لائی جاسکتی ہے، اچھے رویہ کی حوصلہ افزائی کرکے اور برے طریقہ کو نظر انداز کرکے بھی بہتری لائی جاسکتی ہے، اسے ہر وقت ‘میں‘ کی سوچ سے نکالنے کے راستے اپنا کر بھی اس میں بہتری آسکتی ہے۔

روزبیہ خواجہ
07-05-2010, 01:20 AM
بہت شکریہ آپ کا نوشین جی:)
اب اسی سے متعلق ایک اور بات کہ میری کزن ہے نو دس سال کی وہ پہلے بہت شوق سے پڑھتی تھی۔ پھر اچانک سے اس میں تبدیلی آئی سکول نہ جانے کے بہانے کرتی اس کے سکول سے فون پر فون کے اتنی ذہین بچی کو کیا ہوا ہے اس کا سال ضایع ہو گیا ہے اسی چکر میں کبھی پیٹ میں درد کبھی کچھ کبھی کچھ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے مجھے بتاؤ میں کسی کو کچھ نہیں کہوں گی۔ تو اس نے مجھے بتایا کہ اس کو گھر والوں سے دور ہونے سے ڈر لگتا ہے۔ اور واقعی اس کی حالت رحم کے قابل ہوتی ہے جب سکول جانا ہو۔ تو اب اس کو کیسے ٹریٹ کیا جائے؟ آپ کو کیا لگتا ہے کہ کیا کہیں وہ اس مرض کا شکار تو نہیں ہوگئی۔ اور اگر یہ مرض بڑی عمر کے لوگوں کو ہو تب کیا کیا جائے۔ پلیز جلدی جواب دینے کی کوشش کیجیے گا۔
شکریہ۔

Nosheen Qureshi
18-06-2010, 04:38 PM
روبینہ جی ہو سکتا ہے کہ ایسا ہو لیکن ایک بات ہے کہ پہلے اور اب میں رویوں میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا کچھ نہ کچھ تو ایسا ہوا ہے جس نے اس میں یہ خوف پیدا کیا ہے کہ گھر والوں سے دور نہیں جانا۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے سکول میں کچھ ایسا ہوا ہو جس کی وجہ سے وہ سکول جانے سے کتراتی ہے کیونکہ پہلے تو وہ گھر والوں سے دور بھی جارہی تھی اور شوق سے پڑھ بھی رہی تھی، سکول کے حالات کا جائزہ لیں کہ جب سے اس نے ایسا کرنا شروع کیا ہے اس وقت سے وہاں ایسا کیا ہوا ہے کہ بچی سکول جانے سے کترا رہی ہے بچے بہت معصوم ہوتے ہیں اور بہت جلد خوف پال لیتے ہیں ہو سکتا ہے کہ اس نے سکول سے متعلق کوئی خوف پال لیا ہو اور گھر میں اسے پناہ کا احساس ہوتاہو۔

بڑی عمر کے لوگوں میں بھی یہ مرض ہو تو سکتا ہے لیکن اس کے امکانات بہت ہی کم ہوتے ہیں، جس خوف کے زیر اثر ان میں یہ مرض پیدا ہو رہا ہو اسی خوف کو نکال کر ان میں بہتری لائی جاتی ہے۔