PDA

View Full Version : واقعہ



Naqsh
20-12-2009, 12:35 AM
یہ واقعہ آج سے کئ سال پھلے ھمارے ساتھ پیش آیا،
ھوا یوں کہ ھم سب گھر والے اپنی کزن کی مھندی سے واپس آنے کے لئیے ان کے گھر سے نکلے۔۔جنوری کا مھینہ اور رات کے 3 بج گئے تھے۔ھمارے ساتھ ھماری کزن کی پھپھو بھی اپنے گھر جانے کے لیئے نکلیں۔۔
اس وقت بھائی کے پاس فوکسی تھی۔۔دوسرے بھای کو گاڑی چلانا نھیں آتی تو ھم آدھےگھر والے گاڑی میں تھے اور میں ،میری دونوں بھنیں اور بھائ ٹیکسی میں تھے۔۔
بھای نے رات کی وجہ سے گاڑی والے بھای سے کہ دیا تھا کہ ٹیکسی کے ساتھ ساتھ رھیں۔۔
خیر ھم روانہ ھوئے،جب ھمارے،ٹیکسی،پھپو کی گاڑے اور بھای کی گاڑے روڈ پر آی تو ساتھ ساتھ تھے،،،پھر دیکھتے دیکھتے بھای آگے نکل گئے۔۔ھمیں پھپھو کی گاڑی دکھتی رھی،اب میرے بھوی ناراض ھونے لگے کی بھای سے کھا بھی تھا لیکن وہ غایب ھو گیے۔۔
اس پورے ّعرصے مین بھای ٹیکسی ڈرائیور سے باتیں بھی کرتے رھے،اور ؤہ چپ چاپ گاڑی چلاتا رھا۔۔
بھای کو گرمی لگنے لگی تو کوٹ اتار دیا۔ ھمیں بڑی حیرت ھوی کیونکہ اچھی خاصی سردی میں بھای کو گرمی لگ رھی تھی۔۔ٴجبکہ پیچھے ھم بھنون کو لگ رھا تھا کاے پتا نھیں سردی اتنی کیوں ھے اور پیروں پر اتنی ھوا لگ رھی تھی جیسے ٹیکسی میں ھولز ھوں۔
خیر ھم لوگ جب کافی دور آگئے تو آگے جو پھپھو کی گاڑی تھی ان کا گھر آگیا تو ؤہ اپنی روڈ پر مڑ گیں اور بھائی کو انھوں نے اشارے سے خدا حافظ کر دیا۔۔۔
ھم تھوڑی دور گئے تو کچھ لوگ روڈ کراس کرنے لگے۔ایک پولیس والا بھی وھیں کھڑا ھوا تھا۔۔۔
خھیر جناب بھائی دل ھی دل میں سخت غصے میں تھے۔۔
ھمارے گھر کو جو روڈ جاتی ھے وہ کافی لمبی ھے۔۔روڈ دور تک سنسان تھی۔بھائی کی گاڑی کہیں نہیں تھی۔۔ھم جیسے ھی اپنی گلی میں مڑے تو دیکھا کے بھائی کی گاڑی رکی ھے اور سب اتر رھے ھیں۔
ھم سب گھر میں آئے تو بھائی دوسرے بھائی کو ڈانتنے لگے اور پوچھا کے کیا تم لوگ دوسرے راستے سے آئے ھو جبکہ ساتھ رھنے کا کہا تھا،لیکن گاڑی والے بھائی کہنے لگے کے ھم تو پھپھو کی گاڑی کاے کبھی ساتھ اور کبھی آگے تھے۔۔
اب تو ھم سب پرعچان ھوئے کہ یہ کیا ھوا۔
گاڑی چلانے والے بھای نے کہا کے پھھو لوگون نے ھمیں خدا حافظ کہا تھا۔۔
جب ھم بھائیوں نے اور نشانیاں پوچیھیں تو انھیں بھی اسی مقام پر لوگ دکھے تھے،،
لیکن حیرت کی بات نہ انھیں ھماری ٹیکسی نظر آرھی تھی نہ ھمیں ان کی گاڑی۔
حطہ کہ فوکسی کی آواز جو اچھی خاصی تھی وہ بھی پورے راستے جو کہ سنسان تھا اور سردیوں کی وجھ سے اور رات کے تین بجے خاموش بھی تھا ھمیں کوئی آواز نھیں آی تھی۔۔
وہ سب کیا تھا۔سمجھ نھیں آیا،
۔