PDA

View Full Version : Kleptomania



Nosheen Qureshi
19-10-2009, 10:12 AM
کلیپٹومینیا(جنون سرقہ) ایک ایسی ذھنی بیماری ہے جس میں انسان ایک خاص قسم کے جنون میں بنتلا ہوتا ہے اس میں چوری کی شدید تحریک پیدا ہوتی ہے اور وہ اس شدید خواھش سے بچ نہیں پاتا اور خود کو بلا ضرورت چیزیں چرانے پر مجبور پاتا ہے، اس میں انھیں لذت ملتی ہے۔ اس مرض میں مبتلا افراد کے گھر والے بھی عموماً ان کی اس بیماری کے متعلق نہیں جان پاتے، تحقیق سے ثابت ہے کہ شدید قسم کے موڈ کے عارضے میں مبتلا افراد میں یہ مرض پایا جاسکتا ہے اور اس چوری کے بعد ان کی علامات کافی بہتر ہو جاتی ہیں۔
یہ عموماً ذاتی استعمال کی چھوٹی موٹی غیر ضروری یا انتہائی کم قیمت اشیاء چراتے ہیں، چرانے سے پہلے شدید بے چینی/ ذھنی تنائو محسوس ہوتا ہے لیکن چوری کرنے پر انتہائی خوشی و سکون کا احساس ہوتا ہے، اس چوری کی وجہ غصہ و جارحیت یا بدلے کی خواھش نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ کسی واہمہ /خبط کا نتیجہ ہوتی ہے۔
عام طور پر یہ چوری کچھ محسوس اشیاء تک ہی محدود ہوتی ہے لیکن مریض کو خود بھی کم ہی اس کا ادراک ہوتا ہے، ویسے تو اس مرض کی شرح انتہائی کم ہے لیکن مردوں کی نسبت یہ عورتوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔
یہ عام ڈکیتی سے بہت مختلف ہے کیونکہ اس میں چیزیں باقاعدہ منصوبہ بندی سے اور مالی فائدے کیلئے نہیں چرائی جاتیں بلکہ اپنی اندر کی تحریک کے باعث یہ چوری کی جاتی ہے، انھیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا یہ عمل دوسروں کیلئے تکلیف دہ بھی ہے اور نقصان دہ بھی لیکن وہ اپنی آپ کو اس پر مجبور پاتے ہیں کیونکہ بصورت دیگر انکے اندر شدید بےچینی کی کیفیت رہتی ہے جو کسی صورت پرسکون نہیں ہونے دیتی۔ اگرچہ بعد میں ان کے اندر شرم، احساس جرم اور پکڑے جانے کا خوف پیدا ہوتا ہے لیکن جیسے ہی یہ تحریک دوبارہ اٹھتی ہے وہ دوبارہ چوری کرنے لگتے ہیں۔
اس مرض کی زیادہ وجوھات کا ابھی تک اندازہ نہیں ہو سکا لیکن بری تربیت، آپس کی رنجشیں، فوری صدمہ، کسی کام پر مجبور کیا جانا وغیرہ اس کے شروع ہونے کی وجہ بن سکتے ہیں اس کی کوئی خاص عمر تو نہیں یہ 5 سال میں بھی شروع ہوسکتی ہے لیکن زیادہ امکان 30 کے بعد ہوتا ہے۔
اس مرض میں مبتلا افراد عموماً مارکیٹ یا سپر سٹور میں کوئی بھی عام سی چیز چپکے سے اٹھا لیتے ہیں لیکن یہ چوری دوستوں اور ملنے والوں کے ھاں بھی کی جاسکتی ہے، کسی پارٹی میں بھی ایسا ہوسکتا ہے، چرائی جانے والی اشیاء کو عموماً ادھر ادھر پھینک دیا جاتا ہے، چھپا دیا جاتا ہے یا کسی کو دے دی جاتی ہیں اور بعض اوقات تو واپس رکھ دی جاتی ہیں اس کا امکان بہت ہی کم ہوتا ہے کہ وہ خود ان اشیاء کو استعمال میں لائیں۔
اس کے علاج کیلئے سب سے پہلے مریض کو اس کا ادراک ہونا ضروری ہے کہ یہ ایک مرض ہے جسے علاج کی ضرورت ہے، لیکن زیادہ تر مریض اپنے اندر ہی اندر احساس جرم و شرمندگی میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں لیکن معاشرے و گھر والوں کے خوف سے اسکے علاج کی کوشش نہیں کرتے، اس کے علاج کا پہلا حصہ مکمل نفسیاتی جائزہ ہوتا ہے کہ مریض کی شخصیت کے تمام پہلوئوں اور ان تمام محرکات کا جائزہ لیا جاسکے جو اس مرض کی وجہ بن سکتے ہیں، اس میں بہتری کی تحریک پیدا کی جاتی ہے ، اس کے علاج میں خواھشات پر قابو پانا سکھایا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ اس مرض پر قابو پایا جاسکے کیونکہ وہ خواھش کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں اور اس کی عدم تکمیل پر شدید بے چینی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اگر مریض اس کے علاج میں تعاون پر آمادہ ہو تو بہت جلد اس سے نجات حاصل کرسکتا ہے