PDA

View Full Version : گھنگروؤں کی جھنکار



ام حازم
07-09-2009, 04:59 AM
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم لوگ اسکول میں ہوا کرتے تھے ـ ہمارے گھر سے چوتھے گھر میں جو لوگ رہتے تھے وہ بہت اچھے تھے ملنسار تھے ـ کچھ عرصے بعد وہ لوگ انگلینڈ موو ہو گئے اور اپنا گھر کسی کو بیچ گئے ـ ان کے گھر میں جو صاحب آئے وہ موسیقار تھے ـ ان کی آمد کو کچھ پسند نہیں کیا گیا ـ لیکن والد صاحب نے کہا کہ یہ وہ موسیقار نہیں ہیں بھائی یہ تو جنگلز بناتے ہیں ـ یعنی ایڈورٹیزمنٹس میں جو گانے ہوتے ہیں اور میوزک ہوتا ہے ـ امی سے کہا کہ ان کی بیٹی اور بیگم دونوں ہیں تم کسی دن جا کر مل آنا اور اپنے گھر آنے کی بھی دعوت دے دینا ـ خیر والدہ ایک دن ان کے گھر گئیں اور ان کی بیگم اور صاحبزادی سے ملاقات کی ـ واپسی میں تعریف بھی بہت کی کہ اچھی خاتون ہیں ـ پردہ دار ہیں گھر سے بلاوجہ باہر نہیں نکلتی ہیں وغیرہ وغیرہ ـ کچھ دنوں تک تو سب کچھ نارمل رہا لیکن پھر ان کے گھر کے آنگن میں جو نیم کا درخت تھا اس پر سے گھنگروؤں جیسی آوازیں آنے لگیں ـ پہلے پہل تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے آتی تھیں تو سب سمجھے کہ شاید جھینگر بولتے ہیں لیکن پھر غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہ تو نیم کے درخت سے آتی ہیں ـ آوازوں کا دورانیہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیاـ گھنگروؤں کی کھنک سے بالکل ایسا لگتاتھا جیسے کوئی نرتکی ناچ رہی ہے اور جیسے جیسے وقت بڑھتا جاتا تھا تیزی آتی جاتی تھی ـ ـ ان کا ایک بیٹا تو بالکل بی با تھا لیکن جو چھوٹا تھا بقول بھائی کہ وہ کافی تیز ہے ـ اس نے ایک دن کیا کیا کہ رات کو جب آوازیں آنی شروع ہوئیں تو درخت پر چڑھ گیا یہ دیکھنے کو کہ کس چیز کی آواز ہے ـ لیکن اسے اتنی زور کی پٹخی پڑی کہ وہ درخت سے نیچے جا گرا اور اس کے ہاتھ میں فریکچر ہو گیا ـ باہر لڑکوں کو اس نے بتایا کہ جب میں درخت پر چڑھا تو میں نے ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کی لیکن مجھے کچھ نظر نہ آیا اور اچانک میں نیچے گر گیا شاید میرا پاؤں پھسل گیا ہوا ـ پھر گھنگروؤں کی آوازیں ٹھیک رات بارہ بجے سے شروع ہوتیں تھیں اور صبح جب مسجد میں آذان کے لئے مولوی صاحب مائیک کر ٹھک ٹھک کرتے تھے تو بند ہو جاتی تھیں ـ یہ بات سب کے لئے تشویش کا باعث تھی ـ کیونکہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ـ ان صاحب سے بھی بات کی گئی تو انہوں نے کچھ واضع جواب نہ دیا ـ لیکن ان کے پڑوس کے لڑکے نے میرے بھائی کو بتایا کہ اب یہ مغرب کے بعد سے مصلہ بچا کر اس درخت کی طرف رخ کرکے کچھ پڑھتے ہیں اور روز یہ عمل کر رہے ہیں ـ لڑکے تو ویسے ہی جاسوسی کے شوقین ہوتے ہیں میرا بھائی بھی اپنے دوست کے ساتھ اس کے گھر کی چھت سے انہیں دیکھنے کے لئے گیا اور پھر ہمیں بھی بتایا ـ والدہ بہت پریشان ہوئیں بولیں تم کیوں گئے ـ علی کا حال نہیں دیکھا کہ درخت پر صرف چڑھا تھا تو کیسے ہاتھ میں فریکچر ہو گیا ـ بھائی نے کہا امی ہم کوئی درخت پر تھوڑی گئے تھے ہم تو حسنین کی چھت سے دیکھ رہے تھے اور وہ بالکل واضع نظر آرہے تھے کہ قبلہ کی بجائے اس درخت کی طرف رخ کرکے جائے نماز پر بیٹھے کچھ پڑھ رہے ہیں ـ خیر والدہ نے پھر بھائی کو منع کر دیا کہ اب کہیں نہ جانا ـ ان کا جو بھی وظیفہ یا چلّا تھا اس کے شروع ہونے کے کچھ دنوں بعد سے ہی گھنگروؤں کی آواز کے دورانیے میں فرق آنے لگا اورکم ہوتے ہوتے وہ بالکل ختم ہو گئیں ـ پھر ایک دن صبح بھائی گھر سے نکلا اور پھر واپس دوڑتا ہوا آیا کہ وہ اپنا نیم کا درخت کٹوا رہے ہیں ـ چھٹی کا دن تھا ـ والد صاحب گھر پر ہی تھے ـ بولے تم رکو میں دیکھ کر آتا ہوں ـ پھر وہ گئے تو لیکن نہ درخت کاٹنے والے نے کوئی بات کی اور نہ ان موسیقار نے ـ بس یہی کہا کہ دھوپ نہیں آتی ہے آنگن میں تو اسلیے کٹوا رہا ہوں ـ اﷲ کا شکر رہا کہ اس درخت کے کٹنے کے بعد کوئی گھٹنا نہیں گھٹی یعنی کوئی واقعہ یا حادثہ نہیں ہوا ـ لیکن یہ بھی واضع نہ ہو سکا کہ یہ ان کے وظیفے کا کرشمہ ہے جو یہ مغرب کے بعد سے پڑھتے تھے یا پھر کچھ اور ـ لیکن اس دن سے بہت دنوں تک ہم لوگ گھنگروؤں کی آواز کے منتظر رہے لیکن پھر کبھی کوئی آواز نہیں آئی ـ

Biya
07-09-2009, 04:41 PM
بہت دلچسپ واقعات ہیں آپ کے پاس خرد ۔
یہ بھی حیرت انگیز ہی ہے ۔
???

شیئر کرنے کا شکریہ ۔
مزید کا انتظار رہے گا ۔

SadiaMuhammad
07-09-2009, 05:19 PM
بہت دلچسپ واقعہ یے خرد ۔
حیرت انگیز ہی ہے ۔

شیئر کرنے کا شکریہ ۔