PDA

View Full Version : آئینوں میں عکس



ام حازم
02-09-2009, 04:36 AM
آئینوں میں عکس





ھمممممممممممممممم بات کہاں سے شروع کروں ـ کئی ایک واقعات ہیں جو کہ شیشوں یعنی آئینوں سے ہی متعلق ہیں ـ ھمم چلیں آرزو سے شروع کرتے ہیں ـ نا نا یہ میری آرزو نہیں ہے بلکہ میری سہیلی آرزو جس کے والدین نے اس کا نام بہت ارمان سے آرزو رکھا تھا ـ





آرزو بتاتی ہے کہ جب وہ 12 یا 13 سال کی تھی تو یہ لوگ سوات سے کراچی آگئے تھے والد کی نوکری کی وجہ سے ـ جس نئے گھر میں یہ لوگ رہنے لگے کراچی میں اس میں انہیں کوئی مسئلہ نہیں تھا اچھا خاصا کشادہ گھر تھا ـ آرزو چونکہ گھر کی بڑی بیٹی تھی اس لیے اس کا بیڈ روم الگ تھا ـ باقی دو بہنیں اور دونوں بھائیوں کو ایک ایک کمرہ شئیر کرنا پڑتا تھا ـ کچھ ہی دنوں کے بعد آرزو کے ساتھ کچھ عجیب سا ہونے لگا ـ وہ صبح جاگ ہی نہیں پاتی تھی اس کی والدہ جب اس کے کمرے میں جاتیں تو اس کو بہت مشکل سے اٹھاتیں تھیں ـ ہمیشہ وہ انہیں پیٹ کے بل سوتے ہوئے ملی ـ انہوں نے اسے اس قبیح حرکت پر ڈانٹا بھی کہ اس طرح سونا ٹھیک نہیں ہوتاہے ـ آرزو کہتی بھی تھی امی میں تو کروٹ سے ہی سوتی ہوں لیکن پتا نہیں کیسے یہ میں الٹی سونے لگی ہوں ـ پھر کچھ دنوں کے بعد یہ ہوا کہ اس کی شرٹ بھی اتری ہوئی ملی والدہ کو تو وہ بہت پریشان ہوئیں ـ والد سے تذکرہ کیا ـ والد نے ایک دوست سے کہا کہ کچھ پریشانی ہو رہی ہے گھر میں اگر کوئی اچھا مولوی ہو تو بتاؤ جو دم وغیرہ کردے ـ ان کے دوست کے رشتہ دار تھے اس نے کہا کہ اوروں کی تو کوئی گارنٹی نہیں لے سکتا ہون لیکن یہ میرے رشتہ دار ہیں ان کے پاس چلتے ہیں تو آرزو کے والد اپنے دوست کے ساتھ ان کے پاس گئے ـ انہوں نے مسئلہ سنا اور پھر کچھ دیر کے توقف کے بعد بولے کہ لڑکی کے کمرے میں ایک ڈریسنگ ٹیبل ہے ـ آرزو کے والد صاحب چونکے اور بولے ہاں ایک بیڈ ، ایک ڈریسنگ ٹیبل اور ایک الماری ہے اس کے کمرے میں ـ انہوں نے کہا کہ ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے میں جن ہے اور اسے آپ کی بیٹی کی کمر پسند ہے ـ آرزو کے والد بہت گھبرائے اور انہوں نے کہا کہ کچھ حل ہے اس کا کیونکہ بچی بہت چھوٹی ہے اور یہ چیزیں اگر ساتھ لگ جائیں تو پیچھا نہیں چھوڑتی ہیں ـ انہوں نے کہا کہ فکر نہیں کرو ـ گھر لے کر چلو ـ پھر وہ مولوی صاحب آرزو کے گھر آئے اور اس کے کمرے سے سب کو نکال کر اﷲ جانے کیا پڑھائی کی ـ جب روم کھلا تو انہوں نے شیشے پر کپڑا باندھا ہوا تھا ـ بولے کہ اس ڈریسنگ ٹیبل کو کیماڑی لے کر جانا ہے ـ میں نے اس جن کو اسی شیشے میں قید کر دیا ہے اور لازم ہے کہ اسے سمندر میں ڈبو دیا جائے ـ خیر یہ لوگوں نے جب ڈریسنگ ٹیبل کو اٹھانے کی کوشش کی تو بہت پریشان ہوئے ـ ایک عام سی روٹ آئرن کی ڈریسنگ چار پانچ مردوں نے مل کر بمشکل اٹھائی ـ اور اسے سمندر برد کر کے آگئے ـ پھر اس کے والد نے گھر بھی تبدیل کر لیا ـ اس کے بعد کچھ بھی واقعہ آرزو کے ساتھ نہیں ہوا ـ کاش ایسے مولوی حضرات جو فی سبیل اﷲ کام کرتے ہوں سب کو مل جائیں تو ایسے مسائل بھی حل ہو جائیں اور جھوٹے مال بٹورنے والے عامل باواؤں سے بھی جان چھوٹ جائے ـ






ہم لوگ نئے نئے جدہ آئے تھے اور ایک رشتہ دار کے گھر ٹھہرے تھے ـ ان کے گھر میں بیڈروم میں بیڈ کی پشت پر شیشہ ـ پھر بیڈ کے ساتھ اٹیچ ڈریسنگ ٹیبل میں بھی شیشے ـ الماری مٰیں بھی شیشے ـ غرضیکہ شیشے ہی شیشے تھے ـ ایک دن دوپہر کے وقت میں عادت کے مطابق جو روم انہوں نے ہمیں دیا تھا اس میں سونے کے لئے لیٹ گئی ـ بہت نیند آرہی تھی لیکن کچھ آہٹ اپنے پشت پر محسوس کرکے میں کچھ الرٹ ہو گئی تھی ـ میں کروٹ کے بل لیٹی ہوئی تھی اور مجھے لگا کہ میرے پیچھے ایک بچہ فورم کے میٹرس پر اچھل رہا ہے ـ میں سمجھی ان کی بیٹی ہوگی جو دو سال کی تھی ـ غصہ بہت آیا کہ میں بتا کر بھی آئی ہوں کہ مجھے سخت نیند آرہی ہے لیکن پھر بھی انہوں نے بچی کو روکا نہیں روم میں آنے سے ـ بچے نے اچھلتے اچھلتے میری کمر کو پکڑکر اب اچھلنا شروع کر دیا تھا ـ کسلمندی سے مندی مندی آنکھوں سے میں نے آنکھیں کھول کر سامنے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں دیکھا لیکن یہ کیا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ وہاں کوئی عکس نہیں تھا لیکن مجھے ابھی بھی اپنی کمر پر ایک بچے کے ہاتھ اور اس کی اچھلن بستر پو محسوس ہو رہی تھی ـ میں تو آیتہ الکرسی پڑھتے ہوئے بھاگی ـ کمرے سے نکل کر خاتون خانہ سے ٹکرائی تو انہوں نے کہا کہ کیا ہوا ـ میں نےانہیں سب کچھ بتایا تو بولیں ـ ہاں دوسرے بیڈروم میں سو جاؤ ـ ہمیں تو عادت ہو گئی ہے ایسا ہوتاہے ہمارے گھر میں ـ میں نے کہا کہ آپ لوگ گھر کیوں نہٰں چینج کر لیتے ـ بولیں کیا فائدہ یہاں کہ ہر گھر میں کچھ نہ کچھ ہے ـ






خیر دوسرے بیڈ روم میں سونا شروع کیا تو وہاں بھی وییسا ہی فرنیچر تھا ـ ایک دن میں سو رہی تھی کہ سوتے میں اچانک سب کچھ روشن ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ بیڈ کراؤن کے شیشے میں سے ایک کالے بن مانس نے ہاتھ نکال کر میرے سر پر رکھ دیا ہو ـ ڈر کے مارے میں فوراً جاگ گئی لیکن پاس میں ماں سو رہی تھیں انہیں جگایا تو انہوں نے کہا کہ آیتہ الکرسی پڑھ کر سویا کرو اور کھاتے ہی نہ سو جایا کرو ـ الٹی ڈانٹ پڑ گئی ـ خیر کچھ دنوں کے بعد رات میں سوتے ہوئے میٰں نے بیڈ کی سائیڈ پر جو لمبا سا شیشہ لگا ہوا تھا اس میں ایک سفید کپڑوں میں ملبوس لمبے کھلے بالوں والی لڑکی کو دیکھا ـ میں نے خاتون خانہ کو بتایا تو بولیں بھئی پریشان کیوں ہوتی ہو ـ میری نندیں آتیں تھیں تو انہیں تو یہ چیزیں چھوتی بھی تھیں ـ اب کیا کریں ـ میں نے ان سے کہا کہ آپ یہ سب فرنیچر نکال دیں کیونکہ اس کے شیشوں میں جنات ہیں ـ وہ بڑی حیران ہوئیں ـ پھر میں نے انہیں آرزو والا واقعہ بتایا تو کچھ سوچ میں پڑ گئیں ـ پھر اپنے شوہر سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ انہیں بھی یہ سب چیزیں نظر آتیں ہیں اور جو لڑکی مینا (خرد) کو نظر آئی ہے اسے میں نے بھی دیکھا ہے ـ ایک بار وہ شیشے سے نکل کر بستر تک آئی تھی تو میرا سانس رکنے لگا تھا اور میں جاگ کر کمرے سے بھاگ نکلا تھا ـ اگر یہ کہتی ہے کہ شیشوں میں جن ہیں تو ہوں گے ـ پھر جلد ہی انہوں نے پورے گھر کا فرنیچر نکال دیا ـ نئے فرنیچر میں کوئی شیشہ نہٰیں ہے ـ


::) ::) ::)

Biya
05-09-2009, 04:23 PM
~
یہ شیشوں میں جن تو پہلی بار سنا ہے میں نے ۔
لیکن آپ کے واقعات پڑھ کر تو لگتا ہے آپ کے ساتھ کافی کچھ عملی طور پر ہو چکا ہے۔
تو اب انہوں نے صرف شیشوں والا فرنیچر تبدیل کیا ہے نا گھر تو نہیں کیا۔
تو کیا اب سکون ہے ان کے گھر میں؟
مطلب اب ایسی چیزیں نظر نہیں آتیں کیا؟
???

ام حازم
06-09-2009, 11:54 PM
~
یہ شیشوں میں جن تو پہلی بار سنا ہے میں نے ۔
لیکن آپ کے واقعات پڑھ کر تو لگتا ہے آپ کے ساتھ کافی کچھ عملی طور پر ہو چکا ہے۔
تو اب انہوں نے صرف شیشوں والا فرنیچر تبدیل کیا ہے نا گھر تو نہیں کیا۔
تو کیا اب سکون ہے ان کے گھر میں؟
مطلب اب ایسی چیزیں نظر نہیں آتیں کیا؟
???


جی میرے ساتھ کافی کچھ عملی طور پر ہو چکا ہے ابھی تو میں نے کچھ لکھا ہی نہیں ہے اس بارے میں ـ

جی گھر نہیں تبدیل کیا کیونکہ گھر کا مسئلہ ہی نہیں تھا ورنہ مجھے یہ چیزیں گھر میں نظر آتیں جیسے بہن کے گھر میں کالے بلے نظر آئے تھے لیکن ان کے گھر میں صرف شیشوں میں ہی عکس نظر آتے تھے ـ اب الحمداﷲ ایسی کوئی چیز انہیں نظر نہیں آتی ـ