PDA

View Full Version : شہتوت کا درخت



Shami
19-08-2009, 06:19 PM
مشہور شہر کامونکی کے مضافات میں ایک "چجھوکی" نام کا گاؤں ہے، وہاں میرے قریبی رشتے دار رہتے ہیں۔ میرا جب کبھی شہر کے ہنگاموں سے دل بھر جائے تو چند دن چھجوکی رہنے چلا جاتا ہوں۔ ہری بھری کھیتیاں، سبزیوں کے کھیت اور کھلی آب و ہوا طبیعت پر اچھا اثر ڈالتی ہے۔




اس گاؤں میں داخلے کے تین راستے ہیں،ایک راستہ شمال کی جانب سے ہے جو پرانا راستہ کہلاتا ہے، دوسرا مشرق کی طرف سے جو ہر طرف سے سر سبز کھیتوں سے گھرا ہو ہے۔ تیسرا راستہ جنوب کی سمت سے گاؤں میں داخل ہو تا ہے جو پکی سڑک کہلاتا ہے اور زیادہ پرانا نہیں ہے۔




مشرقی راستے پر گاؤں سے تقریبا دو تین سو میٹر باہر کچے راستے کے عین کنارے ایک بہت پرانا شہتوت کا درخت ہے جو میں بچپن سے دیکھتا آرہا ہوں۔ اس درخت کے بارے میں گاؤں میں مشہور ہے کہ یہ"پکا" ہے، یعنی اس پر جنوں بھوتوں کا بسیرہ ہے۔ یہ درخت گاؤں کے کسی بھی مکان کی چھت پر چڑھ کر مشرق کی جانب دیکھا جاسکتا ہے۔ سنی سنائی باتوں کے مطابق بہت سے لوگوں نے رات کے وقت اپنی چھت پر سے اس درخت کے گرد روشنیاں منڈلاتے دیکھی ہیں۔ تاہم گاؤں کے کسی باسی کو کسی نقصان کے شواہد نہیں ملے۔




دس بارہ سال پہلے کی بات ہے ہم ایک شادی کے سلسلے میں اس گاؤں میں گئے۔ دسمبر یا جنوری کا مہینہ تھا اور شدید سردی پڑ رہی تھی۔ رات کے گیارہ بجے سے زیادہ کا عمل ہوگا۔ عورتیں اور مرد دلہا کی مہندی کی رسم میں مشغول تھے۔ رش کی وجہ سے میرا دل گھبرایا تو گھر سے باہر کھلی فضا میں آگیا۔ آہستہ آہستہ ٹہلتے ٹہلتے اس راستےپر آگیا جو مشرق کی جانب گاؤں سے باہر جاتا تھا۔ میں چلتا چلتا گاؤں سے باہر آگیا، جہاں سے کھیت شروع ہوجاتے تھے۔




زندگی میں پہلی بار میں نے قدرت کا ایک نہائت خوبصورت لیکن سنسنی خیز نظارہ دیکھا۔ چاندنی میں زمین کی سطح سے دس بارہ فٹ کی بلندی تک کہرے کی دبیز چادر تنی ہوئی تھی،دس بارہ فٹ کی بلندی سے اوپر فضا باکل صاف تھی اور چاند صاف نظر آتا تھا۔ لیکن زمین سے چمٹی کہرے اور دھند کی چادر اتنی دبیز تھی کہ چاندنی بمشکل زمین تک پہن پارہی تھی اور زمین ینم تاریک تھی۔




میں تھوڑا سا اور آگے بڑھا تو دور سے مجھے شہتوت کے درخت کا ہیولہ سا نظر آیا جس کے بارے میں گاؤں میں مختلف پراسرار کہانہاں مشہور تھیں۔ میں نے سوچا چلو آج اس درخت کا جائزہ لیتے ہیں، ( میں اپنے خیالات ہو بہو لکھ رہا ہوں ،مذاق مت اڑائیے گا)۔ یہ سوچ کر میں چند قدم آگے بڑھا تو ذہن میں وہ ساری کہانیاں آنے لگیں جو اس درخت سے منسوب تھیں۔ میں ٹھہر گیا، اور سوچنے لگا اگر ان کہانیوں میں واقعی حقیقت ہوئی اور " کسی" سے مڈبھیڑ ہو گئی تو پھر کیا ہوگا؟ میں اپنے جسم میں سنسنی لئے کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر دل کو ڈھارس بندھائی کہ کچھ نہیں ہو گا۔




اب تھوڑی تھوڑی ہوا بھی چلنا شروع ہو گئی تھی، جو اس سرد موسم میں ہڈیوں میں گھستی محسوس ہو رہی تھی۔ دھند کی چادر بھی مزید دبیز ہو رہی تھی جس کی وجہ سے تاریکی میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ منظر مزید پراسرار اور ڈراؤنا ہوتا جا رہا تھا۔ میں جی کڑا کر کے آگے بڑھا ،آٹھ دس قدم کے بعد پھر ذہن میں خیال آیا کہ شامی،تم ایک خطر ناک کام کرنے جا رہے ہو،جس کے انجام کا تمہیں کچھ پتہ نہیں ،کیا تمہیں یقین ہے کہ کچھ نہیں ہوگا؟ اگر واقعی وہاں کسی پراسرار مخلوق کا بسیرہ ہوا اور کسی سے سامنا ہو گیا تو کیا برداشت کر لوگے؟ تمہیں یہ پراسرار تجربہ مہنگا نہ پڑ جائے"۔ غرض اسی قسم کے خیالات نے مجھے آگھیرا اور میں کھڑا کافی دیر شش و پنج میں پڑا رہا کہ کیا کروں؟ آگے جاؤں یا واپس لوٹ جاؤں۔ لیکن ایڈونچر پسند طبیعت کو واپس لوٹنا منظور نہیں تھا۔ پھر میں نے ایک فیصلہ کیا اور تیز تیز قدموں سے درخت کی طرف بڑھنے لگا۔ اور درخت سے دس فٹ کی دوری پر کھڑا ہو گیا۔ چاروں طرف کے کھیت اندھیرے میں ڈوبے محسوس ہو رہے تھے، حشرات کی آوازیں فضا میں تیر رہی تھیں۔ میں آہستہ آہستہ درخت کی طرف بڑھنے لگا اور قریب جاکر کھڑا ہو گیا او سوچنے لگا کہ اب کیا کروں۔ دل و دماغ پر ایک تجسس اور خوف طاری تھا کہ نجانے کیا ہو جائے۔ میں نے تھوڑی دیر انتظار کیا اور ایک اور قدم درخت کی طرف بڑھا دیا۔ اب میں درخت کے بہت قریب تھا کہ دل اچھل کر ہلک میں آگیا اور میں ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔ درخت سے ایک تیز قسم کی آواز برآمد ہوئی تھی۔ میں نے گھبراہٹ میں غور کیا کہ یہ آواز کیسی ہے۔ جب سمجھ آگئی تو کھسیانی سے مسکراہٹ لبوں پر آگئی۔یہ جھینگر کی آواز تھی،جھینگر کی آواز اتنی تیز ہوتی ہے کہ میلوں دور سے بھی سنی جاسکتی ہے۔ جھینگر ایک حشرہ ہے، جب یہ اپنے پاؤں کو آپس میں رگڑتاہے تو ایک تیز آواز برآمد ہوتی ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ جھینگر اپنی آواز سے چالیس ٹن ہوا میں ارتعاش پیدا کر سکتا ہے۔



جب اس آواز کا راز معلوم ہوا تو میں دوبارہ آگے بڑھا اور درخت کے بالکل قریب پہنچ گیا اور درخت کو غور سے دیکھنے لگا، کچھ دیر ایسے ہی گزری اور کسی قسم کا رد عمل سامنے نہ آنے پر مزید قریب ہو گیا۔ لیکن دل پر اب بھی انجانے خدشات کے باعث خوف تھا۔ میں نے درخت کے قریب پہنچ کر نہائت ادب سے" اسلام علیکم" کہا( ہنسئے مت) اور جواب کا انتظار کیا۔ جب کوئی جواب نہیں آیا تو آہستہ آہستہ ہاتھ درخت کی طرف بڑھایا اور درخت کو انگلی سے ایسے چھوا جیسے بجلی کی تار میں کرنٹ چیک کیا جاتا ہے۔ جب کوئی رد عمل نہ ہوا تو درخت کو آہستہ سے چھولیا اور پھر باقاردہ ہاتھ پھیرنے لگا۔ جب حوصلہ اور بڑھا تو درخت سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا اور کافی دیر کھڑا رہا۔ تیز ہوا سائیں سائیں کر رہی تھی،درخت کے پتے خوفناک شور پیدا کر رہے تھے، میں درخت سےٹیک لگائے کافی دیر کھڑا رہا اور پھر ایک اور جرات کی کہ درخت پر چڑھ کر اسکے ایک شاخے پر بیٹھ کر سوچنے لگا کہ کیا لوگ جھوٹ بولتے ہیں کہ یہ درخت آسیب ہے یا انہوں نے مجھے اپنی موجودگی کا احساس نہیں دلایا۔



بات کچھ بھی ہو،قطع نظر اس کے کہ یہ درخت آسیب زدہ ہے یا نہیں میں اپنی مہم جو طبیعت کے باعث ایک سنسنی خیز تجربہ کر چکا تھا۔ پھر میں نے درخت سے اتر کر واپسی کی راہ لی، ابھی میں گاؤں کی حدود سے تھوڑا دور تھا کہ گاؤں کے کتے بھونکتے ہوئے میری طرف بڑھے۔ میں نے ڈر کر کھیتوں میں سے چند پتھر ہاتھ میں پکڑ لئے،پھر میری ہنسی چھوٹ گئی، کہ اتنے بہادر بنے پھرتے تھے کہ آسیب زدہ درخت کو سر لیا اور ان کتوں سے ڈر گئے؟ میں نے پتھر پھینک دئیے اور ہاتھ جھاڑتا ہوا گاؤں کی طرف بڑھنے لگا۔

SadiaMuhammad
19-08-2009, 07:03 PM
;d


بہت اچھے شامی بھائی

لا ریب
19-08-2009, 08:12 PM
مشہور شہر کامونکی کے مضافات میں ایک "چجھوکی" نام کا گاؤں ہے، وہاں میرے قریبی رشتے دار رہتے ہیں۔ میرا جب کبھی شہر کے ہنگاموں سے دل بھر جائے تو چند دن چھجوکی رہنے چلا جاتا ہوں۔ ہری بھری کھیتیاں، سبزیوں کے کھیت اور کھلی آب و ہوا طبیعت پر اچھا اثر ڈالتی ہے۔




اس گاؤں میں داخلے کے تین راستے ہیں،ایک راستہ شمال کی جانب سے ہے جو پرانا راستہ کہلاتا ہے، دوسرا مشرق کی طرف سے جو ہر طرف سے سر سبز کھیتوں سے گھرا ہو ہے۔ تیسرا راستہ جنوب کی سمت سے گاؤں میں داخل ہو تا ہے جو پکی سڑک کہلاتا ہے اور زیادہ پرانا نہیں ہے۔




مشرقی راستے پر گاؤں سے تقریبا دو تین سو میٹر باہر کچے راستے کے عین کنارے ایک بہت پرانا شہتوت کا درخت ہے جو میں بچپن سے دیکھتا آرہا ہوں۔ اس درخت کے بارے میں گاؤں میں مشہور ہے کہ یہ"پکا" ہے، یعنی اس پر جنوں بھوتوں کا بسیرہ ہے۔ یہ درخت گاؤں کے کسی بھی مکان کی چھت پر چڑھ کر مشرق کی جانب دیکھا جاسکتا ہے۔ سنی سنائی باتوں کے مطابق بہت سے لوگوں نے رات کے وقت اپنی چھت پر سے اس درخت کے گرد روشنیاں منڈلاتے دیکھی ہیں۔ تاہم گاؤں کے کسی باسی کو کسی نقصان کے شواہد نہیں ملے۔




دس بارہ سال پہلے کی بات ہے ہم ایک شادی کے سلسلے میں اس گاؤں میں گئے۔ دسمبر یا جنوری کا مہینہ تھا اور شدید سردی پڑ رہی تھی۔ رات کے گیارہ بجے سے زیادہ کا عمل ہوگا۔ عورتیں اور مرد دلہا کی مہندی کی رسم میں مشغول تھے۔ رش کی وجہ سے میرا دل گھبرایا تو گھر سے باہر کھلی فضا میں آگیا۔ آہستہ آہستہ ٹہلتے ٹہلتے اس راستےپر آگیا جو مشرق کی جانب گاؤں سے باہر جاتا تھا۔ میں چلتا چلتا گاؤں سے باہر آگیا، جہاں سے کھیت شروع ہوجاتے تھے۔




زندگی میں پہلی بار میں نے قدرت کا ایک نہائت خوبصورت لیکن سنسنی خیز نظارہ دیکھا۔ چاندنی میں زمین کی سطح سے دس بارہ فٹ کی بلندی تک کہرے کی دبیز چادر تنی ہوئی تھی،دس بارہ فٹ کی بلندی سے اوپر فضا باکل صاف تھی اور چاند صاف نظر آتا تھا۔ لیکن زمین سے چمٹی کہرے اور دھند کی چادر اتنی دبیز تھی کہ چاندنی بمشکل زمین تک پہن پارہی تھی اور زمین ینم تاریک تھی۔




میں تھوڑا سا اور آگے بڑھا تو دور سے مجھے شہتوت کے درخت کا ہیولہ سا نظر آیا جس کے بارے میں گاؤں میں مختلف پراسرار کہانہاں مشہور تھیں۔ میں نے سوچا چلو آج اس درخت کا جائزہ لیتے ہیں، ( میں اپنے خیالات ہو بہو لکھ رہا ہوں ،مذاق مت اڑائیے گا)۔ یہ سوچ کر میں چند قدم آگے بڑھا تو ذہن میں وہ ساری کہانیاں آنے لگیں جو اس درخت سے منسوب تھیں۔ میں ٹھہر گیا، اور سوچنے لگا اگر ان کہانیوں میں واقعی حقیقت ہوئی اور " کسی" سے مڈبھیڑ ہو گئی تو پھر کیا ہوگا؟ میں اپنے جسم میں سنسنی لئے کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر دل کو ڈھارس بندھائی کہ کچھ نہیں ہو گا۔




اب تھوڑی تھوڑی ہوا بھی چلنا شروع ہو گئی تھی، جو اس سرد موسم میں ہڈیوں میں گھستی محسوس ہو رہی تھی۔ دھند کی چادر بھی مزید دبیز ہو رہی تھی جس کی وجہ سے تاریکی میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ منظر مزید پراسرار اور ڈراؤنا ہوتا جا رہا تھا۔ میں جی کڑا کر کے آگے بڑھا ،آٹھ دس قدم کے بعد پھر ذہن میں خیال آیا کہ شامی،تم ایک خطر ناک کام کرنے جا رہے ہو،جس کے انجام کا تمہیں کچھ پتہ نہیں ،کیا تمہیں یقین ہے کہ کچھ نہیں ہوگا؟ اگر واقعی وہاں کسی پراسرار مخلوق کا بسیرہ ہوا اور کسی سے سامنا ہو گیا تو کیا برداشت کر لوگے؟ تمہیں یہ پراسرار تجربہ مہنگا نہ پڑ جائے"۔ غرض اسی قسم کے خیالات نے مجھے آگھیرا اور میں کھڑا کافی دیر شش و پنج میں پڑا رہا کہ کیا کروں؟ آگے جاؤں یا واپس لوٹ جاؤں۔ لیکن ایڈونچر پسند طبیعت کو واپس لوٹنا منظور نہیں تھا۔ پھر میں نے ایک فیصلہ کیا اور تیز تیز قدموں سے درخت کی طرف بڑھنے لگا۔ اور درخت سے دس فٹ کی دوری پر کھڑا ہو گیا۔ چاروں طرف کے کھیت اندھیرے میں ڈوبے محسوس ہو رہے تھے، حشرات کی آوازیں فضا میں تیر رہی تھیں۔ میں آہستہ آہستہ درخت کی طرف بڑھنے لگا اور قریب جاکر کھڑا ہو گیا او سوچنے لگا کہ اب کیا کروں۔ دل و دماغ پر ایک تجسس اور خوف طاری تھا کہ نجانے کیا ہو جائے۔ میں نے تھوڑی دیر انتظار کیا اور ایک اور قدم درخت کی طرف بڑھا دیا۔ اب میں درخت کے بہت قریب تھا کہ دل اچھل کر ہلک میں آگیا اور میں ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔ درخت سے ایک تیز قسم کی آواز برآمد ہوئی تھی۔ میں نے گھبراہٹ میں غور کیا کہ یہ آواز کیسی ہے۔ جب سمجھ آگئی تو کھسیانی سے مسکراہٹ لبوں پر آگئی۔یہ جھینگر کی آواز تھی،جھینگر کی آواز اتنی تیز ہوتی ہے کہ میلوں دور سے بھی سنی جاسکتی ہے۔ جھینگر ایک حشرہ ہے، جب یہ اپنے پاؤں کو آپس میں رگڑتاہے تو ایک تیز آواز برآمد ہوتی ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ جھینگر اپنی آواز سے چالیس ٹن ہوا میں ارتعاش پیدا کر سکتا ہے۔



جب اس آواز کا راز معلوم ہوا تو میں دوبارہ آگے بڑھا اور درخت کے بالکل قریب پہنچ گیا اور درخت کو غور سے دیکھنے لگا، کچھ دیر ایسے ہی گزری اور کسی قسم کا رد عمل سامنے نہ آنے پر مزید قریب ہو گیا۔ لیکن دل پر اب بھی انجانے خدشات کے باعث خوف تھا۔ میں نے درخت کے قریب پہنچ کر نہائت ادب سے" اسلام علیکم" کہا( ہنسئے مت) اور جواب کا انتظار کیا۔ جب کوئی جواب نہیں آیا تو آہستہ آہستہ ہاتھ درخت کی طرف بڑھایا اور درخت کو انگلی سے ایسے چھوا جیسے بجلی کی تار میں کرنٹ چیک کیا جاتا ہے۔ جب کوئی رد عمل نہ ہوا تو درخت کو آہستہ سے چھولیا اور پھر باقاردہ ہاتھ پھیرنے لگا۔ جب حوصلہ اور بڑھا تو درخت سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا اور کافی دیر کھڑا رہا۔ تیز ہوا سائیں سائیں کر رہی تھی،درخت کے پتے خوفناک شور پیدا کر رہے تھے، میں درخت سےٹیک لگائے کافی دیر کھڑا رہا اور پھر ایک اور جرات کی کہ درخت پر چڑھ کر اسکے ایک شاخے پر بیٹھ کر سوچنے لگا کہ کیا لوگ جھوٹ بولتے ہیں کہ یہ درخت آسیب ہے یا انہوں نے مجھے اپنی موجودگی کا احساس نہیں دلایا۔



بات کچھ بھی ہو،قطع نظر اس کے کہ یہ درخت آسیب زدہ ہے یا نہیں میں اپنی مہم جو طبیعت کے باعث ایک سنسنی خیز تجربہ کر چکا تھا۔ پھر میں نے درخت سے اتر کر واپسی کی راہ لی، ابھی میں گاؤں کی حدود سے تھوڑا دور تھا کہ گاؤں کے کتے بھونکتے ہوئے میری طرف بڑھے۔ میں نے ڈر کر کھیتوں میں سے چند پتھر ہاتھ میں پکڑ لئے،پھر میری ہنسی چھوٹ گئی، کہ اتنے بہادر بنے پھرتے تھے کہ آسیب زدہ درخت کو سر لیا اور ان کتوں سے ڈر گئے؟ میں نے پتھر پھینک دئیے اور ہاتھ جھاڑتا ہوا گاؤں کی طرف بڑھنے لگا۔



قصہ بھی اچھا تھا،اور تحریر بھی۔۔۔۔۔۔۔شکریہ

Sad_Fairy
24-09-2009, 09:50 PM
Ufff aap to bht hi bahadur hain :eek:

KishTaj
03-10-2009, 11:20 PM
اف تو بہ
میں سمجھی کہ اب کچھ ہوگا لیکن کچھ نا ہوا
ہی ہی ہی

kashif!
16-02-2011, 09:54 AM
بہت اچھے!!

ویسے میرے خیال میں بھی ان توہمات کی کچھ خاص حقیقت نہیں ہوتی نا۔۔

بس لوگ مشہور زیادہ کر دیتے ہیں نا۔۔

پھر بھی۔۔۔ آپ کی بہادری قابل داد ہے!!