PDA

View Full Version : وہ کون تھے؟



Shami
18-08-2009, 04:26 PM
یہ واقعہ پہلے واقعہ کی طرح ڈراؤنا تو نہیں ہے، لیکن اسے پراسرار اور سمجھ میں نہ آنے والا واقعہ ضرور کہا جاسکتا ہے۔

سن 1985 مارچ کا مہینہ تھا۔ میرا بچپن کا دوست عثمان( جو صحیح معنوں میں اللہ کا بندہ ہے، اللہ کو یاد کرنے والا، دوسروں کے دکھ دور کرنے والا حتی کی جن بھوت بھی نکالتا ہے اور کسی سے ایک پیسہ نہیں لیتا۔ وقت ملا تو جنوں بھوتوں کے اسکے مشاہدات بھی کسی وقت پیش کروں گا)۔ رات بارہ نبے میرے پاس آیا اور بولا" شامی جلدی سے تیار ہو جاؤ، ہم نے کہیں جانا ہے۔"۔
کہاں؟" میں سوال کیا
بس سمجھ لو ہم دس پندرہ دن کے لئے لاھور سے باہر جارہے ہیں اور ہماری پہلی منزل ہو
"گی قلعہ روہتاس
ٹھیک ہے"۔ میں نے جواب دیا اور ضروری تیاری کے بعد ہم رات تین بجے گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ صبح چھ بجے کی ٹرین سے ہم راولپنڈی کی جانب روان دواں تھے۔
تین گھنٹے کے سفر کے بعد دینہ ریلوے سٹیشن پر اترے اور لوگوں سے دریافت کیا کہ قلہعہ روہتاس کونسی گاڑی جائے گی؟ بتایا گیا کہ کوئی باقاعدہ گاڑی تو نہیں جاتی یہاں سے جیپیں روہتاس تک جاتی ہیں ( سنا ہے اب تو راست بھی اچھے بن گئے ہیں اور ٹرانسپورٹ کا بھی اچھا انتظام ہے)۔ ہم نے ایک جیپ لی اور جیپ نے تقریبا ایک گھنٹے کے سفر کے بعد ہمیں قلعہ پہنچا دیا۔ ہم نے اپنے بیگ اور دوسرا سامان ریسٹ ہاؤس میں رکھا اور ایک کیمرہ، اور تھرموس جس میں تھنڈا پانی تھا لے کر قلعہ گھومنے نکل گئے۔
گھومتے گھومتے ہم قلعہ کے اس گیٹ کی طرف چلے گئے جو ٹلہ جوگیاں کی طرف ہے۔
ہم اس گیٹ سے باہر نکل گئے۔ باہر نکلے تو ہمیں قلعے کی دیواروں کی اطراف گیری گیری کھائیاں نظر آئیں، جو بڑے بڑے پودوں، جھاڑیوں اور چھوٹے چھوٹے درختوں سے اٹی پڑی تھیں۔ دیکھنے میں منظر نہائت ایڈونچر فل تھا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ کھائیوں میں اتر کر گھومتے ہیں( جو خطرے سے خالی نبہٰں تھا، پوٹھوہار کے اس خطے میں بھیڑھیے اور ریچھ عموما پائے جاتے تھے۔ ہماری ایڈونچر پسند طبیعت ہمیں نیچے اترنے پر اکسارہی تھی)۔ ہم باتیں کرت نیچے اتر گئے اور اپنے دفاع کے لئے ایک درخت سے لمبی سے مظبوط ساخ توڑ لی تاکہ بوقتِ مصیبت کام آئے۔ ہم نے کھائیوں میں اتر کر خوب فوٹو گرافی کی اور پھر کھائیوں میں ہی چلتے چلتے قلعہ کی دیوار کے ساتھ ایک اور طرف نکل آئے۔ یہاں ہم نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا دیو ہیکل ٹوٹا پھوٹا دروازہ تھا۔ اس دروازے کے اطراف میں چھوٹ بڑے پتھر بکھرے پڑے تھے۔ وہ دروازہ ہم سے تقریبا تین سو میٹر دور ہوگا۔ ہم نے مشورہ کیا اس دروازے کے پاس جاکر فوٹو گرافی کرتے ہیں۔ یہاں ہر سو ویرانی کا راج تھا اور دورو نزدیک کسی آدم ذاد کا وجود نہیں تھا۔
ہم نے اپنا تھرماس اور کیمرے کا کور گھاس سے بھری زمین پر رکھ دیا اور دراوزے کی طرف بڑھنے لگے۔ ہم نے وہاں آدھا گھنٹہ صرف کیا ہوگا۔ تھک ہار واپس اپنے تھرموس کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہاں ایک نہائت خوبصورت لڑکی اور ایک پچاس پچپن سال کا بوڑھا کھڑا تھا۔ دونوں نے قدیم طرز کے لباس پہن رکھے تھے، لڑکی کا لباس خصوصی طور پر موجودہ زمانے کے لباس سے قطعا میل نہیں کھاتا تھا۔ ہم سامان کے قریب پہنچے تو بوڑھا بولا
بیٹا اپنا سامان اس لا پرواہی سے نہیں پھینکتے، اگر کوئی اٹھا کر لیجاتا تو پھر"۔
ہم پہلے تو بوڑھے کا شکریہ ادا کیا اور پھر میں بولا" بابا جی ادھر ہے کون؟ ہم تقریبا ڈیڑھ گھنٹے سے ادھر گھوم رہے ہیں ہمیں آپ کے علاوہ کوئی انسان نظر نہیں آیا۔ جہاں کوئی نہ ہو وہاں سے سامان کون لے جائے گا"؟
بوڑھا مسکرایہ اور گویا ہوا" بیٹا پھر بھی احتیاط اچھی ہوتی ہے"۔
میں نے دوبارہ ان کا شکرہ ادا کیا، میں جھکا اور میں نے تھرماس اٹھا لیا،عثمان جھکا اور اس نے کیمرے کا کور اٹھا لیا۔ ہم دوں کے جھک کر اٹھنے میں زیادہ سے تین سیکنڈ لگے ہونگے۔ ہم جھک کر اٹھے تو وہ لڑکی اور بوڑھا غائب تھے۔ ہم حیرانی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے،کہ یہ لوگ کہاں چلے گئے۔ آس پاس قریب میں کوئی ایسی جھاڑی ،درخت یا بڑا پتھر بھی نہیں تھا کہ وہ اس کے پیچھے اوجھل ہو جاتے۔
عثمان تم نے کچھ محسوس کیا؟ مٰ نے عثمان سے پوچھا۔
ہاں میں حیران ہوں کہ یہاچانک کہاں غائب ہو گئے"۔ عثمان پرخیلا انداز میں بولا۔
جہاں ہم کھڑے تھے ویاں سے سو میٹر دور بادشاہوں کے وقت کا ایک حمام تھا۔ ہم آوازیں دیتے اسکی طرف بڑھے کہ مبادہ وہ ادھر آگئے ہوِں۔ لیکن کافی تلاش و بسیار کے بوجود ہمیں ان کا سراغ نہیں ملا کہ ان کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا۔ کیونکہ اتنی مختصر مدت میں کسی انسان کا ہماری نظروں سے اوجھل ہو جانا ناممکن تھا۔
یہ راز اب تک ہم حل نہیں کر پائے کہ وہ کون تھے؟ اور پلک جھپکتے میں کہاں غائب ہوگئے۔
قلعہ روہتاس کا کوئی باسی یہ تحریر پڑھے تو اس راز کو سمجھنے میں ہماری مدد کرے۔ میں نشاندہی کے لئے اس بوسیدہ دروازے کی تصویر بھی مہیا کردوں گا۔ نشانی کے لئے اتنا عرض کردوں کہ یہ دروازہ شاہی حمام سے زرا فاصلے پر ہے۔
میرا خیال ہے وہ اللہ کے نیک بندے تھے جو ہمیں کسی مصیبت سء بچانے کے لئے وہاں آئے تھے اور اپنی ڈیوٹی پوری کر کے غائب ہو گئے۔
۔

Umama
05-09-2009, 01:43 PM
ho sakta hay wo hazrat khizar hon kiun k wo hayat hain or masibat zada ki madad kertay hain.

Sad_Fairy
24-09-2009, 09:07 PM
???