PDA

View Full Version : حویلیاں کا آسیب زدہ مکان



Shami
17-08-2009, 11:29 PM
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں اپنی محبت کو پانے میں مکمل ناکام رہا اور لاہور شہر سے دل اچاٹ ہو گیا۔ دل چاہتا کسی پہاڑی مقام پر کچھ عرصہ گزاروں تاکہ دل و دماغ پر صدمے کی کہر چھٹ سکے۔ اس سلسلے میں میں نے لاہور میں واقع اپنی الیکٹرونکس کی دکان کو ختم کر دیا اور مشہور روح افزا مقام ایبٹ آباد کے نواح میں ایک قصبہ حویلیاں میں رہنے لگا۔ وہاں اپنے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے ایک دکان بھی بنا لی۔



چند ماہ تو میں ایک فلیٹ میں رہا، بعد ازاں فلیٹ کے مالک نے تقاضا کیا کہ آپ کوئی اور مکان دیکھ لیں، یہ فلیٹ مجھے ذاتی طورپر چاہئیے، ناچار وہ فلیٹ مجھے خالی کرنا پڑا اور میں نے حویلیاں کے لاڈی اڈہ سے تقریبا سو میٹر دور مین حویلیاں روڈ پر واقع ایک عمارت میں مکان کرائے پر لے لیا۔ اس عمارت کی زمینی منزل پر چند دکانیں اور ایک ریستورنٹ تھا اور دوسری منزل پر میرا فلیٹ واقع تھا۔



اس مکان کے دو کمرے تھے، اس کے علاوہ ایک کچن اور باتھ روم وغیرہ تھا، میرے لئے تو ایک کمرہ ہی کافی تھا، دوسرا کمرہ میں نے چند دنوں بعد ہری پور کے رہنے والے ایک نوجوان، عاقل کو دے دیا جو حویلیاں میں سنار کا کام کرتا تھا اور ہم مل جل کر رہنے لگے۔



دونوں کمروں کے درمیان ایک دروازہ تھا جو دونوں کمروں کو آپس میں ملاتا تھا۔ ہم دونوں رات گئے تک گپ شپ لگاتے اور سوتے وقت درمیانی دروازے کو کنڈی لگا دیتے۔ جب میں نےیہ مکان لیا اور پہلے ہی دن رات کو میں دکان بند کرکے مکان میں آیا توبتیاں بند ہونے کی وجہ سے مکان پوری طرح اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ میں نے برآمدے میں پہنچ کر بلب جلانے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو چونک گیا۔ مجھے ایسا احساس ہوا جیسے برآمدے میں کوئی موجود ہے، ایک سایہ سا میرے آگے سے گزر گیا۔ میں تھوڑا سا کنفیوژ ہوا اور بٹن دبا دیا، وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔



میں کھانا باہر ہی کھاتا تھا، اور حسبِ معمول کھا کر آیا تھا، تھوڑی دیر ٹی وی دیکھا اور لائٹ آف کر کے لیٹ گیا۔ تھوڑی دیر گزری ہو گی کہ چھت پر کسی کے دوڑنے کی آواز آئی، میں نے سوچا شائد بل یاں وغیرہ



لڑ رہی ہونگی، لیکن یہ تو بھاری قدموں کی آوازیں تھیں۔ میں تھوڑی دیر لیٹا سوچتا رہا کہ یہ آوازیں کیسی ہیں، پھر میں بستر سے اٹھا اور سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر پہنچ گیا۔ وہاں سردیوں کی کہر آلود چاندنی میں چھت سنسان پڑی تھی اور کسی ذی روح کا وجود نہیں تھا۔ میں چھت پر کچھ دیر ٹہلتا رہا اور آس پاس کی چھتوں پر بھی جھانکا، لیکن سوائے ٹھنڈی کہر آلود اداس چاندنی کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ میں تھک ہار کر کمرے میں آگیا۔



آکر لیٹا، تو کچھ دیر سکون رہا اور پھر وہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ میں مکان میں باکل اکیلا تھا،ہمت کر کے لیٹا رہا اور پھر نہ جانے کب نیند نے آگھیرا، میں سوگیا۔



صبح ناشتے کرتے ہوئے میں رات کے واقعہ پر سوچنے لگا، اور پھر اسے اپنا وہم سمجھ کر پر سکون ہو گیا اور اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا۔



پھر یہ روز کا معمول بن، میرا ساتھی عاقل ہفتے میں ایک دو دن چھوڑ کر اپنے گھر ہری پور چلا جاتا تھا،جو کہ حویلیاں سے تقریبا ۲۵ کلومیٹر دور ہے۔ جب وہ اپنے گھر ہوتا تو میں مکان میں اکیلا رہ جاتا۔ ان پراسرار آوازوں کا عاقل بھی عادی ہو چکا تھا اور ہم ہمت سے کام لے کر رہ رہے تھے کیونکہ اس علاقے میں دوسرا مکان ملنا بہت دشوار تھا اور یہ مکان بھی ہمیں کافی تگ و دو کے بعد ملا تھا۔



میرا یک بہت قریبی دوست نوشہرہ چھاؤنی میں فوج کی ٹریننگ لے رہا تھا۔ اُس کو ہفتے میں دو چھٹیاں ملتی تھیں، وہ بدھ کی رات دیر گئے میرے پاس پہنچتا اور جمعرات اور جمعہ کا دن میرے ساتھ گزارتا۔ اس طرح میرا بھی وقت اچھا کٹ جاتا۔



جب وہ پہلی بار میرے پاس حویلیاں آیا ،ہم کھانا وغیرہ کھا کر کمرے میں پہنچے اور گپ شپ لگانے لگے۔ تھوڑی دیر بعد وہی پراسرار آوازوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ میرا دوست پرویز تھوڑی دیر تک وہ آوازیں سنتا رہا اور پھر دریافت کیا" شامی یہ آوزیں کیسی ہیں؟"



" مجھے تو خود پتہ نہیں یہ کیسی آوازیں۔" میں جواب دیا۔



" کیا مطلب؟" اُس نے حیرانی سے پوچھا۔



" ہاں صحیح کہ رہا ہوں، میں ابھی تک سراغ نہیں لگا پایا کہ یہ کیسی آوازیں ہیں۔ روز مجھے ان آوازوں سے واسطہ پڑتا ہے اور یہی آوازیں سنتے سنتے سو جاتا ہوں۔ اب تو میں نے ان آوازوں کی پرواہ کرنا بھی چھوڑ دیا ہے،کیونکہ صرف آوازیں سنائی دیتی ہیں، مجھے کبھی نقصان نہیں پہنچا۔"



" نہیں یار اوپر کوئی آدمی دوڑ رہا ہے"۔ اُس نے غور سے آوازیں سنتے ہوئے کہا۔



"اوپر کوئی نہیں ہے،یہ آوازیں اسی طرح روز آتی ہیں"۔ میں نے سکون سے جواب دیا۔



"آؤ اوپر جاکر دیکھتے ہیں"۔ اس نے پر خیال لہجے میں کہا



"چلو آؤ"۔ میں نے اس کی تسلی کے لئے کہا۔



رات کے بارہ بجے سے زیادہ کا عمل ہوگا۔ سردیوں کی اس رات میں باہر سنسانی پڑی ہوئی تھی۔ ہم سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چھت پر پہنچ گئے۔ اوپر ہمیشہ کی طرح کچھ بھی نہیں تھا۔ چار سو خاموشی تھی،رات کے اس پہر،دور کسی کتے کے بھونکنے کی آواز اس خاموشی میں ارتعاش پیدا کرتی اور پھر خاموشی چھا جاتی۔



پرویز حیرانی اور الجھن کے ساتھ چاروں طرف دیکھ ریا تھا۔پھر اس نے لیٹ کر چھت کے فرش کے ساتھ کان لگا کر سننے کی کوشش کی،لیکن اسے مایوسی ہوئی۔ہم نیچے اتر آئے۔



"یار تم اس آسیب زدہ ماحول میں کیسے رہ رہے ہو؟" اس نے حیرانی سے دریافت کیا۔



" کیا کروں، پہلی بات تو یہ کہ اب مجھے ڈر نہیں لگتا، دوسرے کوئی مکان ملنا بھی مشکل ہے" میں نے جواب دیا۔ ابھی ہم باتیں کر رہے تھے کہ آوازیں دوبارہ آنا شروع ہو گئیں۔ دن اسی طرح گزرتے رہے،پرویز آتا ،چھٹیاں میرے ساتھ گزارتا اور چلا جاتا۔ اب وہ بھی ان آوازوں کا عادی ہو چکا تھا۔



یہ جمعرات کی رات تھی۔میں دکان بند کر کے اور کھانا کھا کر گھر آگیا۔ میرا ساتھی عاقل حسبِ معمول اپنے گھر ہری پور گیا ہوا تھا۔آج پرویز بھی نہیں تھا اور میں گھر میں باکل تنہا تھا۔ میں نے آتے ہی ٹی وی آن کیا۔ پی ٹی وی پر "ویک اینڈ سینما" میں انگلش فیچر فلم شروع ہونے والی تھی۔ اُن دنوں پی ٹی وی ہفتہ میں دو انگریزی فلمیں دکھاتا تھا۔ ایک جمعرات کی رات "ویک اینڈ سینما" میں اور دوسری " سیچر ڈے نائٹ سپیشل" میں۔ یہ دونوں فلمیں میں ضرور دیکھا کرتا تھا اور بہت سی یاد گار فلمیں دیکھیں۔ فلم شروع ہوئی، مجھے اچھی طرح یاد ہے فلم کا نام تھا" ڈیز آف جیکل" یہ ایک فل آف سسپنس فلم تھی۔ ایک ملک کی تنظیم ایک انتہائی پیشہ ور قاتل کی خدمات حاصل کرتی ہے اور ایک ملین ڈالر کے عوض اپنے مخالف ملک کے وزیرِ اعظم کو قتل کرنے کا مشن سونپتی ہے۔قاتل بھی اپنے فن پر اعتماد کرتے ہوئے اسے چیلنج سمجھ کر قبول کرتا ہے۔ مخالف ملک کی انٹیلی جنس کو بھی خبر ہوجاتی ہے اور وزیرِ اعظم کی سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی جاتی ہے اور ممکنہ قاتل کی تلاش بھی شروع ہو جاتی ہے۔ قاتل بھیس بدل بدل کر انٹیلی جنس کو دھوکہ دیتا ہے، غرض انتہائی دلچسپ اور سسپنس فل فلم شروع تھی، میں دنیا و مافیہا سے بے خبر فلم میں مگن تھا کہ اچانک کمرے میں گھپ اندھیرا چھا گیا، تاریکی اتنی گہری تھی کہ بقول شخصے ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔



پہلے خیال آیا کہ شائد بجلی چلی گئی ہے،پھر سوچا دیکھنا تو چاہئے ہوا کیا ہے۔ میں نے اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار کر ماچس تلاش کی ،دیا سلائی جلاکر دروازے تک پہنچا اور کنڈی کھول کر باہر صحن میں نکل آیا۔باہر سڑک کی مین لائٹ روشن تھی، اس کا مطلب تھا کہ بجلی نہیں گئی بلکہ کچھ اور گڑ بڑ تھی۔ میں دیا سلائی کی روشنی میں بجلی کے کنٹرول پینل تک پہنچا اور فیوز نکال کر چیک کیا۔ فیوز اُڑا ہوا تھا۔ مجھے یاد تھا کہ صحن میں ایریل کی بیکار تار کا ایک ٹوٹا پڑا ہوا ہے، میں نے اسے تلاش کیا اور فیوز بنا کر لگا دیا، بجلی بحال ہو گئی۔



میں کمرے میں آکر پھر فلم دیکھنے لگا۔ قاتل اب اپنے ٹارگٹ شہر میں پہنچ چکا تھا اور ایک دکاندار سے بیساکھی خرید رہا تھا، بیساکھی خرید کر وہ اپنے ہوٹل میں آگیا اور اپنی خاص قسم کی گن کو بیساکھی میں فٹ کر رہا تھا۔



دس منٹ کی فلم مزید چلی ہو گی کہ کمرہ پھر اندھیرے میں ڈوب گیا۔ مجھے بہت غصہ آیا کہ ایک دلچسپ ترین فلم میں تعطل آرہا تھا۔ میں پھر باہر آیا،فیوز پھر اڑا ہوا تھا، میں نے پھر فیوز لگایا اور بجلی آگئی۔



میں پھر ٹی وی کے آگے آبیٹھا۔آج بھی پراسرار آوازوں کا سلسلہ جاری تھا، بلکہ آج تو آوازیں معمول سے تیز تھیں، لیکن میں نے اب ان کا نوٹس لینا چھوڑ دیا تھا اور محویت سے فلم دیکھ رہا تھا۔ قاتل اب ایک پریڈ گراؤنڈ میں موجود تھا اور بیساکھی کے سہارے چل رہا تھا۔ اسی گراؤنڈ میں وزیرِ اعظم کی آمد متوقع تھی۔



سیکیورٹی والے اور انٹیلی جنس والے ہر کسی کو شک کی نظر سے دیکھ رہے تھے۔ دو بار قاتل کو بھی روکا گیا مگر معذور سمجھ کر در گزر کر گئے۔ قاتل اب ایک عمارت کی سیڑھیاں چڑھنے لگا اور چھٹی یا ساتویں منزل کے ایک کمرے میں اپنی بیساکھی میں سے گن نکال کر سٹینڈ پر فٹ کرنے لگا۔ گن فٹ کرکے کر کے اس نے گاڑی سے اترتے وزیرِ اعظم کے سینے کا نشانہ لیا۔ وزیرِ اعظم مختلف لوگوں سے ہاتھ ملا رہا تھا اور قاتل کو نشانہ لینے میں مشکل کا سامنا تھا۔ پھر قاتل کو موقع مل گیا، وزیرِ اعظم کا سینہ گن پر لگی دور بین کے باکل وسط میں تھا اور کوئی رکاوٹ بھی موجود نہیں تھی، قاتل نے گولی چلا دی، کمرے میں ٹھاہ کی آواز گونجی اور میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ کمرے میں پھر تاریکی ہو چکی تھی۔ مجھے ازحد غصہ آیا کہ قاتل کی گولی کا نتیجہ تک نہیں دیکھ سکا تھا۔ میں نے پھر ماچس تلاش کرنے کی کوشش کی، لیکن اس بار ماچس نہیں ملی۔ نہ جانے میں کہاں رکھ دی تھی۔ میں نے اندھوں کی طرح اندھیرے میں مختلف جگہوں پر ہاتھ مارے لیکن ماچس ہاتھ نہیں لگی۔ اب میں سوچنے لگا کہ اس گھپ اندھرے میں دروازہ کیسے کھولوں۔ ماچس تلاش کرنے کے چکر میں مجھے سمت کا بھی اندازہ نہیں رہا تھا، اب اس گھپ اندھرے میں دروازہ تلاش کرنا تھوڑا مشکل تھا۔ میں اُٹھا اور ایک سمت میں چلتا ہو دیوار تک پہنچ گیا۔ اس خیال سے کہ دیواروں کو ٹٹولتا ٹٹولتا دروازہ تلاش کرلوں گا۔ میں نے ایک دیوار کواندھوں کی طرح تھتپھتھا کر آکر بڑھنا شروع کر دیا۔ وہ دیوار ختم ہو گئی، اور اس میں مجھے دروازہ نہیں ملا۔ نکڑ آنے کے بعد میں نے دوسری دیوار کا طواف شروع کردیا یہ دیوار بھی ختم ہو گئی لیکن دروازہ نہیں ملا۔ اب تیسری دیوار کی باری تھی، میں نے اندھوں کی طرح ہاتھ سے چھوتے چھوتے یہ دیوار بھی ختم کر لی اور اب میں حیران اور پریشان ہو گیا۔ کیونکہ دیوار میں کوئی نہ کوئی راستہ ضرور ہو نا چائیے تھا۔ یا کم از کم وہ دروازہ جو دونوں کمروں کو ملاتا تھا وہ بھی نہیں مل رہا تھا۔ میں نے اللہ کا نام لے کر چوتھی اور آخری دیوار کو چیک کرنا شروع کر دیا، لیکن ڈھاک کے تین پات، یعنی نہ صرف دروازہ نہیں ملا، بلکہ دروازے والی دیوار میں موجود لوہے کی کھڑکی بھی غائب تھی۔ چاروں دیواریں سپاٹ معمول دیتی تھیں جیسے ان میں کوئی دروازہ یا کھڑکی بنائی ہی نہیں گئی۔ میں گھبراہٹ کا شکار ہو چکا تھا اور خوف بھی رگوں میں سرائت کرتا جارہا تھا۔ میں نے ہمت نہیں ہاری اور ا یک بار پھر دیواریں دوبارہ چیک کرنے کا ارادہ کر لیا۔ اندھیرے میں مجھے قطعا اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ میرا منہ مشرق کی طر ف ہے یا شمال کی طرف۔ اس دفعہ بھی میں نے ساری دیواریں چیک کر لیں، لیکن بے درو بام دیواریں میرا منہ چڑا رہی تھیں۔ اب میں بے چینی، بے بسی اور خوف کا شکار ہو چکا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کروں۔



پھر میں نے ارادہ کیا کہ لعنت بھیجو اس سارے سلسلے پر، سونے کی کوشش کرتا ہوں صبح ہوگی تو اندھیرے سے خود بخود جان چھوٹ جائے گی۔ یہی سوچ کر میں اندازے سے کمرے کے وسط کی بڑھا۔ ابھی میں نے دو قدم ہی اٹھائے ہونگے کہ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی بہت بڑے جسیم جسم نے مجھے پیچھے سے جکڑ لیا ہے۔ آپ خود تصور کریں کہ کوئی کنگ کانگ ٹائپ کی نامعلوم مخلوق گھپ اندھرے میں آپ کو جکڑ لے تو آپ کے کیا احساسات ہونگے؟ اس جسم کے میرے ساتھ مس ہوتی ہی میں شدت خوف سے ہوش و ہواس کھو بیٹھا اور غالبا بے ہوش ہوگیا۔ میں کتنی دیر بے ہوش رہا، اس کااندازہ مجھے نہیں ہے، لیکن جب ہو ش یا تو کمرے سے باہر دن کی روشنی نظر آرہی تھی گھڑی میں وقت دیکھا تو صبح کے نو بج رہے تھے۔ میں نےکمرے کے گردش و پیش پر نظر ڈالی اور مجھے رات کےبھیانک واقعات یاد آنے لگے۔ مجھ پر پھر خوف طاری ہو نا لگا۔



میں نے پھر کمرے میں ایک اوراچٹی سی نظر ڈالی تو حیران رہ گیا۔ وہ رضائی جو میں نے اپنے دوست پرویز کے لئے مخصوص کر رکھی تھی اس میں کوئی لیٹا ہوا تھا۔میں حیران ہوا کہ اس رضائی میں کون لیٹا ہوا ہے؟ کیونکہ کل رات نہ تو عاقل ادھر تھا اور نہ پرویز ہی آیا تھا، پھر یہ کون ہو سکتا ہے؟



میں نے ہمت کر کے آواز دی۔



"کون ہے رضائی میں؟" رضائی میں تھوڑی سی حرکت ہوئی لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ میں نے پھر آوز دی لیکن اس بار بھی جواب ندارد۔ میں نے ہمت کی اور رضائی کا ایک کونا اٹھا کر اندر جھانکا ، اندر جو میں نے دیکھا اسے دیکھ کر میرے حواس پھر منتشر ہونے لگے۔ رضائی میں تین چار سال کا ایک بچہ لیٹا ہوا تھا، اس کی رنگت تانبے کی طرح سرخ تھی، اسکا پیٹ غیر معمولی حد تک بڑا تھا، اور اسکا منہ بھولی کتے کی تھا۔ یعنی بڑے بڑے کان، گالوں کا گوشت لٹکا ہوا اور ہونٹ بھی بڑے بڑے اور لٹکے ہوے تھے۔ یہ منظر دیکھتے ہی میں چلاتا ہوا کمرے سے بھاگا اور اندھا دندھ بھاگتا ہوا تیزی سے سیڑھیاں اتر اپنے دوست کی دکان، جس کا ویڈیو سنٹر تھا وہاں آگیا۔ نصیر نے بڑے غور سے مجھے سر سے لیکر پاؤں تک مجھے دیکھا اور حیرانی سے بولو۔



"شامی تمہاری جوتی کہاں ہے؟ اور یہ تمہیں ہوا کیا ہے؟" میرا سانس بری طرح پھولا ہوا تھا، سردی کے باوجود جسم پسینے سے شرابور تھا، میں نے اسے انگلی سے اشارہ کیا کہ مجھے سانس لینے دے۔ جب میں بولنے کے قابل ہوا تو اسے بتایا کہ میرے کمرے میں رضائی میں کوئی پراسرار مخلوق لیٹی ہوئی ہے۔ پہلے تو اس نے یقین نہ کیا پھر میرے اڑے ہوئے رنگ، اور غیر حالت نے اسے کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔



" آؤ میرے ساتھ۔ " اسنے اٹھتے ہوئے کہا۔ میں اس کےساتھ چل پڑا۔ گھر کے سارے دروازے چوپٹ کھلے ہوئے تھے،ہم اس کمرے میں پہنچے جس میں رضائی میں "کوئی" لیٹا ہوا تھا۔ نصیر نے ڈرتے ڈرتے رضائی احتیاط سے ہٹائی، لیکن وہاں کچھ بھی نہیں تھا"یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے" اس نے طنزیہ انداز سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ میں نے پھر اسے شروع سے ساری کہانی سنائی اور رات کے واقعات بھی بتائے، لیکن اس نے یقین نہ کیا۔ "پھر اچانک اس نے پوچھا "شامی کل رات تم نے کوئی نشہ وغیرہ تو نہیں کیا تھا؟"



"نصیر بھائی، آپ نے زندگی میں کبھی مجھے کوئی نشہ کرتے دیکھاہے؟ میں نے الٹا سوال داغ دیا۔ اور وہ لا جواب ہو گیا۔



پھر ہم اس مکان کے مالک سے ملے اور مکان کے بارے میں اسے کریدا۔ اس نے تسلیم کیا کہ ہاں واقعی یہ مکان آسیب زدہ ہے ،پہلے تین کرائے دار تو ایک ایک ماہ گزار کر بھاگ گئے، لیکن میں حیران ہوں آپ نے پورے چھ ماہ گزار لئے۔



میں ناراض ہوا کہ اگر مکان میں کوئی گڑ بڑ تھی تو آپ نے مکان دیتے وقت کیوں نہ بتایا۔ وہ ہنس کر ڈھٹائی سےبولا، اگر میں بتا دیتا تو آپ سے چھ ماہ کا کرایہ کیسے وصول کرتا؟ مجھے اس کے جواب پر غصہ تو بہت آیا، لیکن کیا کرسکتا تھا۔



میرا لاہور چھوڑنے کا مقصد بھی پورا ہو چکا تھا، دل کے گھاؤ بھر گئے تھے، میں نے مزید اب یہاں رہنا فضول سمجھا اور لاہور کی راہ لی۔ اب بھی کبھی کبھی یہ واقعات یاد آتے ہیں تو یقین نہیں آتا کہ یہ سب میرے ساتھ بیت چکا ہے۔



ایک اور بھی چھوٹا سا واقع ذہن میں ہے، اگر آپ نےاس واقعہ کو پسند کیا تو وہ بھی کسی وقت ضرور سناؤں گا۔

Noor-ul-Ain Sahira
17-08-2009, 11:40 PM
افففففففففففففففف
اتنا خوفناک واقعہ شامی بھائ
پڑھتے پڑھتے خوف سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اُپ شیور ہیں کہ یہ سب ڈراؤنا خواب نہیں تھا؟
جب آپ صبح 9 بجے اٹھے تو بیڈ پر سوئے ہوئے تھے یا زمین پر گرے ہوئے تھے۔
میں بہت ڈرتی ہون ایسی باتوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کی رات مجھے نیند نہیں آنے والی۔ توبہ اور آپ آیات وغیرہ کیوں نہیں پڑھ رھے تھے؟

SadiaMuhammad
17-08-2009, 11:44 PM
السلام علیکم

اف اللہ شامی بھائی آپ نے چھ ماہ گزار دیے وہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہت مزا آیا آپ کی آپ بیتی پڑھ کر خاص طور پہ جہاں جہاں آپ نے ساتھ ساتھ فلم کے مناظر بھی ڈسکس کیے ہیں

بہت اچھا لگا آئندہ بھی کوشش کرتے رہیں میں آپ کے اگلے وقعے کیمنتظر ہوں

Shami
17-08-2009, 11:49 PM
ساحرہ بہن ہم لوگ وہاں زمین پر قیمتی سی چٹائی اور اس کے اوپر بستر بچھا کر سوتے تھے۔ اس لئے گرنے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ فلم "ڈیز آف جیکل میری زندگی کی یادگار فلم تھی، اگر میں نے خوب میں دیھکی ہوتی تو قاتل کی گولی کا انجام دیکھنے کے لئے مجھے وہ فلم دوبارہ نہ دیکھنا پڑتی۔ یہ خواب نہیں تھا۔

Diya
17-08-2009, 11:53 PM
افففففففففففففف۔۔۔۔۔کیا واقعی؟
بڑی ہمت ہے بچ گئے آپ۔۔۔۔ورنہ بچہ دیکھ کے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Noor-ul-Ain Sahira
17-08-2009, 11:55 PM
ساحرہ بہن ہم لوگ وہاں زمین پر قیمتی سی چٹائی اور اس کے اوپر بستر بچھا کر سوتے تھے۔ اس لئے گرنے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ فلم "ڈیز آف جیکل میری زندگی کی یادگار فلم تھی، اگر میں نے خوب میں دیھکی ہوتی تو قاتل کی گولی کا انجام دیکھنے کے لئے مجھے وہ فلم دوبارہ نہ دیکھنا پڑتی۔ یہ خواب نہیں تھا۔


اچھا جلدی سے دوسرا واقعہ بھی بتا دیجیئے نا اب

Rizwan
18-08-2009, 12:15 AM
بھائی میرا واقعہ بھی آپ سے ملتا جلتا ہے مگر میں نے اس جگہ بہت ٹائم گزار ہے
یہ تب کی بات ہے جب میں نیا نیا امارات آیا تھا، اور میری عمر 23 تھی مطلب 4تقریبا چار سال پہلے اور میری جاب ہو گئی تو کمپنی نے مجھے ایک امارات رائس خیمہ ہے وہاں پوسٹ کیا، مجھے پورا فرنش گھر ملا 2 بیٹ روم فلیٹ اور میں اکیلا اور جس بلڈنگ میں مجھے گھر ملا وہ 8 سٹوری اور پوری خالی میں اور صرف ناطور(واچ مین) بس اور پھر جب آفس سے واپس آنا صرف میں ہی پوری بلڈنگ میں اگر میں کچھ بولوں تو میری ہی آواز مجھے ہی کتنی دفعہ سنائی دیتی تھی، وہاں میرے فلیٹ میں جن رہتے تھے ، (مذاق نہ سمجھیے گیا ) مجھے شروع میں محسوس ہوا شاید میرا وہم ہو ، مگر جب اسطرح کی باتیں بڑھنا شروع ہو گئی جیسے میں اپنی چیزیں رکھتا کہیں تھا اور ، مجھے ملتی کہیں تھی،کبھی کبھی بہت تیز خوشبو پورے فلیٹ میں پھیل جاتی ، اور کبھی کبھی ایسا لگتا کہ کوئی چل کر میرے کمرے میں آ رہا ہے اور جا رہا ہے یہ بلڈنگ پہاڑوں کے پاس تھی مطلب شام کو 7 بجے کے بات اگر میں سڑک پر نظر دوڑاتا تو شاید آدھے گھنٹے بعد کوئی کار یا کوئی ہیوئی ٹرک گزرتا، میں اتنا اکیلا تھا کہ کبھی کبھی میں اپنے آپ سے بھی باتیں کرنا شروع کر دیتا، اتنی ویرانی میں اور اوپر سے جنوں کا بسیرا، اوپر سے زندگی کہ پہلی جاب اور اتنی اچھی جاب کے دل جاب چھوڑنے کو بھی نہ کرئے ، پھر میں نے اپنے ابو کو فون کیا، اور سارا مسلئہ بیان کیا ابو نے مجھے بولا کے تم سورتہ البقرہ کی تلاوت کرو ، اگر انشااللہ سب ٹھیک ہو جائے گا، میں نے وہ بھی پڑھی ، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا، مجھے اپنے فلیٹ میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کم از کم 2 اور ہستایاں ہیں یہاں پر، مگر انہوں نے مجھے ایک دفعہ بھی تنگ نہیں کیا بس اپنے ہونے کا احساس دلایا، الحمدللہ میں نماز بڑی باقاعدگی سے پڑھتا تھا، میں نے پھر ابو سے بات کے کے لگتا ہے کوئی میرے ساتھ رہتا ہے مگر مجھے تنگ نہیں کرتا، ابو نے پھر کسی سے پوچھا اور مجھے بولے کہ اگر وہ تم کو تنگ نہیں کر رہے تو تم بھی کچھ نہ کروں شاید وہ مسلمان جن ہوں اورتم بس نماز باقاعدگی سے پڑھتے رہو،
اور پھر 3، 4 ماہ بعد میرا ڈر اور خوف قدرے کم ہو گیا، مگر وہ میرے ساتھ رہتے تھے اور اپنے ہونے کا احساس دلاتے رہتے تھے، کبھی کچن میں آہٹ ہوتی کبھی کمرے میں وہاں ایک روم تو میں نہیں کبھی کھولا نہیں تھا، اور میں صرف ٹی وی لانج اور ایک روم استعمال کرتا ، اگر کبھی میں اس روم کو کھولتا تو مجھے بہت صاف اور ایسا ملتا کہ جیسے ابھی کیسی نے صافی کی ہو ، میں جب بھی اپنے فلیٹ سے نکلتا اونچی آواز میں سلام کرتا اور جب باہر جاتا تب بھی میں اس فلیٹ میں 3 سال رہا ، اور ایسے ہی ہستیوں کے درمیان رہا، جہنوں نے مجھے کبھی تنگ نہین کیا اور میں بھی کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جو انکو ناگوار گزری،

اس گزرے وقت کو جب میں یاد کرتا ہوں تو ایک ٹھنڈ کے لہر پورے جسم میں دوڑ جاتی ہے ، اور ایک مسکراہٹ آ
جاتی ہے ، اور ان کے ساتھ اور اسطرح کے ماحول نے مجھے کافی نڈر اور بہادر بنا دیا، اگر میں کسی کو بولوں کہ میں جنوں کے ساتھ 3 سال رہا ہوں تو وہ بہت ہنسے گا یہ بات صرف میرے خاص دوست ہی جانتے تھے اگر کبھی وہ میرے پاس آتے تو رات سے پہلے بھاگ جاتے ، آج آپ کی سٹوری سننی تو اپنی سٹوری یاد آ گئی

SadiaMuhammad
18-08-2009, 12:20 AM
اف میرے اللہ رضوان بھائی شامی بھائی سے بھی بہادرنکلے

Diya
18-08-2009, 12:23 AM
بھائی میرا واقعہ بھی آپ سے ملتا جلتا ہے مگر میں نے اس جگہ بہت ٹائم گزار ہے
یہ تب کی بات ہے جب میں نیا نیا امارات آیا تھا، اور میری عمر 23 تھی مطلب 4تقریبا چار سال پہلے اور میری جاب ہو گئی تو کمپنی نے مجھے ایک امارات رائس خیمہ ہے وہاں پوسٹ کیا، مجھے پورا فرنش گھر ملا 2 بیٹ روم فلیٹ اور میں اکیلا اور جس بلڈنگ میں مجھے گھر ملا وہ 8 سٹوری اور پوری خالی میں اور صرف ناطور(واچ مین) بس اور پھر جب آفس سے واپس آنا صرف میں ہی پوری بلڈنگ میں اگر میں کچھ بولوں تو میری ہی آواز مجھے ہی کتنی دفعہ سنائی دیتی تھی، وہاں میرے فلیٹ میں جن رہتے تھے ، (مذاق نہ سمجھیے گیا ) مجھے شروع میں محسوس ہوا شاید میرا وہم ہو ، مگر جب اسطرح کی باتیں بڑھنا شروع ہو گئی جیسے میں اپنی چیزیں رکھتا کہیں تھا اور ، مجھے ملتی کہیں تھی،کبھی کبھی بہت تیز خوشبو پورے فلیٹ میں پھیل جاتی ، اور کبھی کبھی ایسا لگتا کہ کوئی چل کر میرے کمرے میں آ رہا ہے اور جا رہا ہے یہ بلڈنگ پہاڑوں کے پاس تھی مطلب شام کو 7 بجے کے بات اگر میں سڑک پر نظر دوڑاتا تو شاید آدھے گھنٹے بعد کوئی کار یا کوئی ہیوئی ٹرک گزرتا، میں اتنا اکیلا تھا کہ کبھی کبھی میں اپنے آپ سے بھی باتیں کرنا شروع کر دیتا، اتنی ویرانی میں اور اوپر سے جنوں کا بسیرا، اوپر سے زندگی کہ پہلی جاب اور اتنی اچھی جاب کے دل جاب چھوڑنے کو بھی نہ کرئے ، پھر میں نے اپنے ابو کو فون کیا، اور سارا مسلئہ بیان کیا ابو نے مجھے بولا کے تم سورتہ البقرہ کی تلاوت کرو ، اگر انشااللہ سب ٹھیک ہو جائے گا، میں نے وہ بھی پڑھی ، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا، مجھے اپنے فلیٹ میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کم از کم 2 اور ہستایاں ہیں یہاں پر، مگر انہوں نے مجھے ایک دفعہ بھی تنگ نہیں کیا بس اپنے ہونے کا احساس دلایا، الحمدللہ میں نماز بڑی باقاعدگی سے پڑھتا تھا، میں نے پھر ابو سے بات کے کے لگتا ہے کوئی میرے ساتھ رہتا ہے مگر مجھے تنگ نہیں کرتا، ابو نے پھر کسی سے پوچھا اور مجھے بولے کہ اگر وہ تم کو تنگ نہیں کر رہے تو تم بھی کچھ نہ کروں شاید وہ مسلمان جن ہوں اورتم بس نماز باقاعدگی سے پڑھتے رہو،
اور پھر 3، 4 ماہ بعد میرا ڈر اور خوف قدرے کم ہو گیا، مگر وہ میرے ساتھ رہتے تھے اور اپنے ہونے کا احساس دلاتے رہتے تھے، کبھی کچن میں آہٹ ہوتی کبھی کمرے میں وہاں ایک روم تو میں نہیں کبھی کھولا نہیں تھا، اور میں صرف ٹی وی لانج اور ایک روم استعمال کرتا ، اگر کبھی میں اس روم کو کھولتا تو مجھے بہت صاف اور ایسا ملتا کہ جیسے ابھی کیسی نے صافی کی ہو ، میں جب بھی اپنے فلیٹ سے نکلتا اونچی آواز میں سلام کرتا اور جب باہر جاتا تب بھی میں اس فلیٹ میں 3 سال رہا ، اور ایسے ہی ہستیوں کے درمیان رہا، جہنوں نے مجھے کبھی تنگ نہین کیا اور میں بھی کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جو انکو ناگوار گزری،

اس گزرے وقت کو جب میں یاد کرتا ہوں تو ایک ٹھنڈ کے لہر پورے جسم میں دوڑ جاتی ہے ، اور ایک مسکراہٹ آ
جاتی ہے ، اور ان کے ساتھ اور اسطرح کے ماحول نے مجھے کافی نڈر اور بہادر بنا دیا، اگر میں کسی کو بولوں کہ میں جنوں کے ساتھ 3 سال رہا ہوں تو وہ بہت ہنسے گا یہ بات صرف میرے خاص دوست ہی جانتے تھے اگر کبھی وہ میرے پاس آتے تو رات سے پہلے بھاگ جاتے ، آج آپ کی سٹوری سننی تو اپنی سٹوری یاد آ گئی



:eek:
???
بڑے بہادر ہیں پھر تو آپ رضوان بھائی۔۔۔تین سال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جنوں کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔افففففف ففففف۔۔۔۔
اور اس وقت سچی مجھے بھی کمرے کے دروازے کی ہلکی سی آہٹ سے ڈر لگ رہا ہے۔:(۔

Wish
18-08-2009, 12:40 AM
ابھی تو میں نے بس شامی بھائی کا واقعہ پڑھا ہے۔ ۔ ۔۔
واقعہ تو جو ناقابلِ فراموش ہے سو ہے آپ کا انداز بھی بہت اچھا ہے بتانے کا۔ ۔ ۔۔
اور پڑھ کر بہت مزا بھی آیا

اب کچھ باتوں کے جواب دے دیں تو عین نوازش ہو گی
:)


ایک یہ کہ آپ نے ساری دیواریں جو ٹٹولی تو کیا بیچ میں فرنیچر وغیرہ کچھ نہیں تھا؟
رداصل پڑھتے پڑھتے جب میں آپ کو دیواریں ٹٹولتے امیجن کر رہی تو مجھے لگا کہ جو ہر دیوار کے ساتھ اتنی چیزیں ہوتی ہیں کمرے میں تو آپ کیسے ٹٹول پائے۔ ۔۔ ۔ ۔


اور دوسرا یہ کہ پھر ہمیں بھی بتا دیں اس گولی کا رزلٹ کیا رہا؟

اور یہ بھی بتا دیں کہ اس واقعے نے آپ پر کسی قسم کے اثرات مرتب کیئے؟ اگر شیئر کریں تو مزید اچھا لگے گا
شکریہ

Romana
18-08-2009, 01:04 AM
افففففففففف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ ے نیند کیسے آئے گی:(

Diya
18-08-2009, 01:10 AM
افففففففففف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ ے نیند کیسے آئے گی:(

آنکھیں بند کر کے;d

Shami
18-08-2009, 03:24 PM
ابھی تو میں نے بس شامی بھائی کا واقعہ پڑھا ہے۔ ۔ ۔۔
واقعہ تو جو ناقابلِ فراموش ہے سو ہے آپ کا انداز بھی بہت اچھا ہے بتانے کا۔ ۔ ۔۔
اور پڑھ کر بہت مزا بھی آیا

اب کچھ باتوں کے جواب دے دیں تو عین نوازش ہو گی
:)


ایک یہ کہ آپ نے ساری دیواریں جو ٹٹولی تو کیا بیچ میں فرنیچر وغیرہ کچھ نہیں تھا؟
رداصل پڑھتے پڑھتے جب میں آپ کو دیواریں ٹٹولتے امیجن کر رہی تو مجھے لگا کہ جو ہر دیوار کے ساتھ اتنی چیزیں ہوتی ہیں کمرے میں تو آپ کیسے ٹٹول پائے۔ ۔۔ ۔ ۔


اور دوسرا یہ کہ پھر ہمیں بھی بتا دیں اس گولی کا رزلٹ کیا رہا؟

اور یہ بھی بتا دیں کہ اس واقعے نے آپ پر کسی قسم کے اثرات مرتب کیئے؟ اگر شیئر کریں تو مزید اچھا لگے گا
شکریہ

جیسا کہ میں نے بتایا،ہم زمین پر بستر لگا کر سوتے تھے(صوبہ سرحد میں اکثر لوگ زمین پر بستر لگا کر ہی سوتے ہیں اور اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ وہاں کا رواج ہے، میں سعودیہ میں بھی کافی عرصہ رہا وہاں بھی یہی سسٹم تھا، آخری تین چار سال میں بیڈ پر سویا ہون گا)یہ میرا پردیس میں کرائے کا مکان تھا، میرا ذاتی گھر نہیں تھا کہ میں فرنیچر وغیرہ کا تکلف کرتا۔ رہا دیواریں ٹٹولنے کا معاملہ تو دیواریں ٹٹولتے راستے میں رکاوٹیں آتی تھیں، مثلا ٹی وی سٹینڈ، بستر وغیرہ۔ لیکن حیرت انگیز طور پر باہر جانے کے راست غائب کر دئے گئے تھے، ان سے "اُن" کا کیا مقصد تھا؟ وہی جانتے ہیں۔
میں کوشش کروں گا کہ میرے دوست پروہز کا فون نمبر آپ کو مہیا کر سکوں، جو ان سارے معاملات کا گواہ ہے کہ ہم کس قسم کے مکان میں رہ رہے تھے۔
رہا قاتل کی گولی کا نتیجہ، تو میرا خیال ہے آپ یہ فلم ڈھوند کر خود دیکھیں تو آپ کو بہت مزہ آئے گا، لیکن شرط یہ کہ فلم تحمل سے پوری اور سمجھ کر دیکھنی ہے، اگر آپ نہ دیکھنا چاہیں تو میں نتیجہ بتادوں گا۔

Wish
18-08-2009, 03:30 PM
جیسا کہ میں نے بتایا،ہم زمین پر بستر لگا کر سوتے تھے(صوبہ سرحد میں اکثر لوگ زمین پر بستر لگا کر ہی سوتے ہیں اور اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ وہاں کا رواج ہے، میں سعودیہ میں بھی کافی عرصہ رہا وہاں بھی یہی سسٹم تھا، آخری تین چار سال میں بیڈ پر سویا ہون گا)یہ میرا پردیس میں کرائے کا مکان تھا، میرا ذاتی گھر نہیں تھا کہ میں فرنیچر وغیرہ کا تکلف کرتا۔ رہا دیواریں ٹٹولنے کا معاملہ تو دیواریں ٹٹولتے راستے میں رکاوٹیں آتی تھیں، مثلا ٹی وی سٹینڈ، بستر وغیرہ۔ لیکن حیرت انگیز طور پر باہر جانے کے راست غائب کر دئے گئے تھے، ان سے "اُن" کا کیا مقصد تھا؟ وہی جانتے ہیں۔
میں کوشش کروں گا کہ میرے دوست پروہز کا فون نمبر آپ کو مہیا کر سکوں، جو ان سارے معاملات کا گواہ ہے کہ ہم کس قسم کے مکان میں رہ رہے تھے۔
رہا قاتل کی گولی کا نتیجہ، تو میرا خیال ہے آپ یہ فلم ڈھوند کر خود دیکھیں تو آپ کو بہت مزہ آئے گا، لیکن شرط یہ کہ فلم تحمل سے پوری اور سمجھ کر دیکھنی ہے، اگر آپ نہ دیکھنا چاہیں تو میں نتیجہ بتادوں گا۔


ارے نہیں مجھے کسی بھی قسم کی کوئی بے یقینی نہیں
بس جو میرے ذہن میں آیا تھا پوچھ لیا، اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں نے اس سب کو سچ نہ مانا ہو۔ ۔۔ ۔
میرا تو خود بڑا یقین ہے جنوں بھوتوں پر۔ ۔۔ ۔
کافی کہانیاں بھی سنی ہوئی ہیں لیکن اللہ کا بڑا شکر ہے کوئی تجربہ نہیں۔ ۔۔
اور اگر کبھی ہوا تو شاید میں بتانے کے لیئے یہاں آ نہ سکوں۔ ۔ ۔
آپ تو بے ہوش ہوئے تھے میں نے تو ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
:(

اور اینڈ بھی بتا ہی دیں، یہاں سے کون اب فلمیں لا لا کے دے ہمیں؟

Shami
18-08-2009, 04:39 PM
ارے نہیں مجھے کسی بھی قسم کی کوئی بے یقینی نہیں
بس جو میرے ذہن میں آیا تھا پوچھ لیا، اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں نے اس سب کو سچ نہ مانا ہو۔ ۔۔ ۔
میرا تو خود بڑا یقین ہے جنوں بھوتوں پر۔ ۔۔ ۔
کافی کہانیاں بھی سنی ہوئی ہیں لیکن اللہ کا بڑا شکر ہے کوئی تجربہ نہیں۔ ۔۔
اور اگر کبھی ہوا تو شاید میں بتانے کے لیئے یہاں آ نہ سکوں۔ ۔ ۔
آپ تو بے ہوش ہوئے تھے میں نے تو ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
:(

اور اینڈ بھی بتا ہی دیں، یہاں سے کون اب فلمیں لا لا کے دے ہمیں؟

جب قاتل نے ٹرائگر دبایا، عین وقت پر وزیرِ اعظم کسی ہاتھ ملانے جھکے اور گولی ان کے سر گزر کر ایک سیکیورٹی گارڈ کو لگی۔ انٹیلی جنس والوں نے فورا وزیرِ اعظم کو کور کر لیا اور قاتل والی بلڈنگ میں پہنچ کر کراس فائر میں قاتل مارا گیا۔ سچ ہے گیدڑ کے دن گنے چنے ہوتے ہین۔

ام حمزہ
18-08-2009, 07:36 PM
آپ کے اگلے واقعہ کا انتظار ھے

Noor-ul-Ain Sahira
18-08-2009, 08:27 PM
جیسا کہ میں نے بتایا،ہم زمین پر بستر لگا کر سوتے تھےہے، اگر آپ نہ دیکھنا چاہیں تو میں نتیجہ بتادوں گا۔


آہ ہاااااااااااااا شامی بھائ آپکے اس واقعے کی وجہ سے میں کل رات کو بالکل نہیں سو پائ۔ ساری رات خوف سے کانپتی رھی اور آنکھیں کھول کھول کر ادھر ادھر دیکھتی رھی کہ کوئی یہاں وہاں سے نا آ رہا ھو۔ اسکا نتیجہ یہ کہ کہ جاب پر بیٹھی اونگ رھی ہوں اب

Diya
18-08-2009, 08:33 PM
آہ ہاااااااااااااا شامی بھائ آپکے اس واقعے کی وجہ سے میں کل رات کو بالکل نہیں سو پائ۔ ساری رات خوف سے کانپتی رھی اور آنکھیں کھول کھول کر ادھر ادھر دیکھتی رھی کہ کوئی یہاں وہاں سے نا آ رہا ھو۔ اسکا نتیجہ یہ کہ کہ جاب پر بیٹھی اونگ رھی ہوں اب

مجھے بھی رات کو یہ پڑھنے کے بعد کچن میں پانی پینے جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی;d۔۔۔

Noor-ul-Ain Sahira
18-08-2009, 08:34 PM
بھائی میرا واقعہ بھی آپ سے ملتا جلتا ہے مگر میں نے اس جگہ بہت ٹائم گزار ہے

پاس آتے تو رات سے پہلے بھاگ جاتے ، آج آپ کی سٹوری سننی تو اپنی سٹوری یاد آ گئی





رضوان بھائ یہ کیا بات ہوئی؟ ڈرانا ہے تو ٹھیک طرح سے ڈرایئے نا تاکہ آج رات بھی ڈرتے ڈرتے کمرے کی نگرانی میں گزرے۔ یہ کیا بچوں کی طرح بہلا رھے ہیں۔ آپکو کس بات یا کس حرکت سے لگتا تھا وہاں کوئی ھے؟ ایسی آوازیں تو مجھے بھی اپنے گھر سے اکثر آتی رھتی ہیں اور کھبی کھبی ایسے شبہ ہوتا ھے کوئ پاس سے گذرا ہو مگر آج تک کوئی ایسی بات آنکھوں سے نہیں دیکھی سوائے ایک رات ھمارے روم کے باہر سٹوریج کا درواز رات 2 بجے زور سے بند ہوا تھا۔ ھم نے ہزار کوشش کی خود کو بہلانے کی مگر کوئی تاویل وہاں فٹ نہیں ہوتی۔ میری امی کہتی ہیں داخل ہو کر زور سے السلام علیکم کہا کرو وہ خود بھی کہتی ہیں جب بھی میرے گھر آتی ہیں مگر میں کھبی نہیں کہتی ڈر کے مارے۔ مجھے خوف ہوتا ھے اگر کسی نے میرے سلام کا جواب دے دیا تو کیا ھو گا۔ میں تو وہیں گر کر خلاص ہو جاؤں گی ایک سیکنڈ میں۔

Wish
18-08-2009, 08:39 PM
آہ ہاااااااااااااا شامی بھائ آپکے اس واقعے کی وجہ سے میں کل رات کو بالکل نہیں سو پائ۔ ساری رات خوف سے کانپتی رھی اور آنکھیں کھول کھول کر ادھر ادھر دیکھتی رھی کہ کوئی یہاں وہاں سے نا آ رہا ھو۔ اسکا نتیجہ یہ کہ کہ جاب پر بیٹھی اونگ رھی ہوں اب


ویسے ساحرہ وہ تو پاکستان میں تھے جو کہ ایک مسلم ملک ہے تو وہاں جن بھی مسلمان ہی ہوتے ہوں گے نا اکثریت اس لیئے کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا

اور امریکہ میں تو جن بھی۔ ۔۔ ۔ ۔ امریکی ہوں گے
اور اب امریکی کیسے مزاج کے ہوتے ہیں یہ تو آپ زیادہ بہتر جان سکتی ہیں نا
;)

Noor-ul-Ain Sahira
18-08-2009, 08:44 PM
ویسے ساحرہ وہ تو پاکستان میں تھے جو کہ ایک مسلم ملک ہے تو وہاں جن بھی مسلمان ہی ہوتے ہوں گے نا اکثریت اس لیئے کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا

اور امریکہ میں تو جن بھی۔ ۔۔ ۔ ۔ امریکی ہوں گے
اور اب امریکی کیسے مزاج کے ہوتے ہیں یہ تو آپ زیادہ بہتر جان سکتی ہیں نا
;)


ھاھھاھاھاھھاھاھھا
وش زبردست کہا تم نے
مجھے انکے ہونے کا یقین تو نہیں بس شک ھے اور شک صرف میرا وہم بھی تو ہو سکتا ھے اور میری ایک سیکنڈ پہلے کی کوئی بھی چیز اکثر کسی اور حیران کن جگہ پر ملتی ھے تو میں مجھے یقین ہو جاتا ھے کوی نا کوئ ہے اس گھر میں کیونکہ میں نے سنا ھے جن جان بوجھ کر ایسی چھوٹی چھوٹئ حرکتیں کر کے ہمیں ستا کر مزہ لیتے ہیں۔
کیا پتہ ہماری طرح کوئی پاکستنای یا مسلمان جن مائیگریٹ ہو کر امریکہ پہنچ گیا ہو تو۔۔۔۔۔۔

Wish
18-08-2009, 08:51 PM
ھاھھاھاھاھھاھاھھا
وش زبردست کہا تم نے
مجھے انکے ہونے کا یقین تو نہیں بس شک ھے اور شک صرف میرا وہم بھی تو ہو سکتا ھے اور میری ایک سیکنڈ پہلے کی کوئی بھی چیز اکثر کسی اور حیران کن جگہ پر ملتی ھے تو میں مجھے یقین ہو جاتا ھے کوی نا کوئ ہے اس گھر میں کیونکہ میں نے سنا ھے جن جان بوجھ کر ایسی چھوٹی چھوٹئ حرکتیں کر کے ہمیں ستا کر مزہ لیتے ہیں۔
کیا پتہ ہماری طرح کوئی پاکستنای یا مسلمان جن مائیگریٹ ہو کر امریکہ پہنچ گیا ہو تو۔۔۔۔۔۔



اوہ ساحرہ آپ بھی بہت ہی بھولی ہیں۔ ۔ ۔
پاکستانی جن پاکستانیوں کے گھر میں ہی کیوں جائیں گے؟
وہاں گوریاں کم ہیں کیا۔ ۔ ۔ ۔؟؟
اب یہ بھی سمجھاوٴں کیا؟
;d

اور بس سبزے کے آس پاس تو ویسے بھی ۔۔ ۔ ۔ ۔
ہم جب اسلام آباد میں تھے تو وہاں بھی بڑا سبزہ تھا امی کہتی تھیں نہیں شام کے بعد نہیں جانا۔ ۔۔ ۔
سمجھ آئی کچھ کہ کیوں کہتی تھیں؟
;)

رفعت
18-08-2009, 08:56 PM
واہ جی واہ بہادریاں
شامی بھائی آُ پ جب ڈرے تو آیت الکرسی کیوں نہیں پڑھی وہ فورا بھاگ جاتے اس سے تو

میں جس جامعہ سے پڑھی ہوں وہاں بھی یہ مخلوق موجود تھی اور کچھ جن عورتٰیں وہاں ہماری ٹیچر سے پڑھنے بھی آتی تھین
لیکن تنگ نہیں کیا کبھی کسی کو
پھر بھی ان کی موجودگی کا احساس ہوتا تھا
ایک دفعہ تو بہت قریب سے محسوس کیا تھا میں نے
ہوا یوں کہ گرمیوں کے دن تھے تو ہماری ٹیچر جن کا نام عابدہ ہے وہ ماشاءاللہ ھافظ قرآن ہیں اور ان کی آواز بہت ہی پیاری ہے
تو وہ عشاء کے بعد کلاس لے رہی تھیں زیادہ گرمی کی وجہ سے صحن میں ہی کلاس لگائی گئی تھی
ایسے کہ دونوں سائیڈوں پر لڑکیاں اپنے بنچ رکھ کر بیٹھی تھیں اور سامنے دونوں لائنوں کے درمیان میں باجی کا بنچ تھا
اچھا یہ بتادوں کہ مجھ سے ان کی بہت اچھی دوستی تھی یعنی وہ فرینکلی مجھ سے بات کر لیتی تھیں
اس وقت بھی میں ان کے ساتھ ہی بیٹھی تھی کہ وہ مجھ سے باتیں کرتی کرتی اچانک چپ ہو گئیں
اور سامنے چھت کی طرف دیکھنے لگیں
میں نے بھی دیکھا مجھے کچھ نظر نہیں آیا
انہوں نے مجھے ایک دم سے کہا کہ تم پیچھے ہو جاؤ میں ان کی شکل دیکھ رہی تھی کہ اتنا پسینہ اور ایک دم اتنی سیریس کیوں ہو گئیں
خیر میں تھوڑا پیچھے ہو گئی
اور تھوڑی ہی دیر میں مجھے ان کو سبق سنانے کی آوازیں آنے لگیں جو کہ بہت مدھم سی تھیں
اور باجی ان کی غلطیاں بھی نکال رہی تھیں
اب مجھے تو ڈر کے مارے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہاں سے اٹھوں یا بیٹھی رہوں
پھر سوچا کہ اللہ کا کلام پڑھ رہی ہیں تنگ نہیں کریں گی سو میں چپ ہو کر بیٹھی رہی

اس کے علاوہ جب بھی درس ہوتا تھا باجی دعا مانگتے تھے تو وہ لوگ آمین کہا کرتے تھے
باجی کے ابو جی کے دوست تھے کچھ جن لیکن مسلمان تھے

ہاں جب انہوں نے یہ زمین لی تھی جامعہ بنانے کے لیے تو وہاں رہنے والوں میں سے ایک نے کہا کہ یہاں جامعہ نہٰیں بننے دیں گے ان کا ٹھکانہ اس جگہ تھا جہاں باجی لوگوں کا ڈرائنگ روم بنا ہے تو باجی کے ہسبنڈ رات کو چارپائی ڈرائنگ روم میں دال کر سوتے اور صبح جب اٹھتے تو کبھی چھت پر ہوتے
کبھی پانی کی ٹینکی پر چارپائی لگی ہوتی اور کبھی مین ڈور کے پاس
لیکن ان کو آخر میں ہار ماننا پڑی اور وہ لوگ وہاں سے چلے گئے

اچھا میں کئی دفعہ سوتے میں ڈر جاتی ہوں لیکن اللہ کا شکر ہے جب بھی آنکھ کھلت ہے ڈر کر تو میری زبان پر آیت الکرسی ہتی ہے نیند میں بھی یاد رہتی ہے کہ پڑھوں گی تو ڈر نہیں لگے گا


ویسے ایک بیماری بھی ہوتی ہے جس میں ہمیں سچ میں سب نظر آتا ہے لیکن ہوتا کچھ نہٰں ہے
وہ بھی بتاتی ہوں ابھی

رفعت
18-08-2009, 09:05 PM
کچھ لوگوں کو ایک بیماری ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کو اپنے سامنے جیتے جاگتے لوگ نظر آتے ہیں اور ہم لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کو جن نظر آتے ہیں

میری تائی جان جو میری ساس بھی تھیں اللہ ان کو جنت الفردوس میں جگہ دے آمین
وہ بہت اچھی خاتون تھیں
دل کی صاف اور رحم دل
اچھا تو ہوا کیا کہ ایک دن نماز پڑھ رہی تھیں
نماز بیچ میں سے چھوڑ کر تایا جی کے پاس آگئیں بہت ڈری ہوءی تھیں
انہوں نے پوچھا کہ کیا ہوا تو بتایا کہ میں نماز پڑھ رہی تھی اچانک میرے سامنے ایک لمبا سا آدمی آکر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ میں تمہیں دھکا دے دوں گا
میں ڈر گئی
تایا جی ڈاکٹر ہیں
انہوں نے کہا کہ کوئی بات نہٰن سب ٹھیک ہو جائے گا
دوسرے دن کی ہی بات ہے وہ سب کے کاموں پر جانے کے بعد گھر پر اکیلی تھیں
بتایا کہ میں چھوٹے کمرے میں سے کچھ لینے کے لیے گئی جیسے ہی دروازہ کھولا تین موٹے موٹے آدمی جن کا قد عام انسانوں سے بہت بڑا تھا ایک برا سا تھال سامنے رکھ کر کچھ کھا رہے ہیں مٹھیاں بھر بھر کے
تائی جان کہتی ہیں کہ پہلے میں نے اپنا ہم سمجھا لیکن میں ادھر ایک دو منٹ کھڑی رہی وہ سب کھاتے رہے پھر ایک آدمی نے تائی جان کی طرف دیکھا کہتی ہٰں کہ مجھے اس کی آنکھوں سے بہت خوف آیا اور کمرے سے باہر ٓٓاگئیں

شام کو تایاجان کو بتایا انہوں نے ایک ہفتے تک لگاتار ہومیو پیتھک دوائی دی اور الحمدللہ اس کے بعد وہ بالکل بھلی چنگی ہو گئیں تھیں

Shami
18-08-2009, 09:18 PM
آہ ہاااااااااااااا شامی بھائ آپکے اس واقعے کی وجہ سے میں کل رات کو بالکل نہیں سو پائ۔ ساری رات خوف سے کانپتی رھی اور آنکھیں کھول کھول کر ادھر ادھر دیکھتی رھی کہ کوئی یہاں وہاں سے نا آ رہا ھو۔ اسکا نتیجہ یہ کہ کہ جاب پر بیٹھی اونگ رھی ہوں اب

میرا خیال ہے آپ کسرِ نفسی سے کام لے رہی ہیں۔ یہ معمولی سا واقع سننے کے بعد رات سو نہیں سکیں تو کل کو آپ شامی لائبریری کے"ڈر کارنر" میں تو آپ کبھی بھی نہیں آئیں گی۔ کیونکہ اس میں ملک کے معروف مصنفوں کی صرف ڈراؤنی کہانیاں اور ناول ہی پیش کئے جائیں گے اور وہ بھی ڈھیروں کی تعداد میں۔( اس سلسلے میں معاہدہ ہو چکا ہے)۔ اپنا حوصلہ قائم رکھئے، آپ جیسے لوگوں ہی نے تو شامی لائبریری کو کامیاب بنانا ہے ۔ خدانخواستہ آپ کو کبھی ایسے حالات سے واسطہ پڑگیا تو کیا کریں گی؟

Noor-ul-Ain Sahira
18-08-2009, 09:21 PM
میرا خیال ہے آپ کسرِ نفسی سے کام لے رہی ہیں۔ یہ معمولی سا واقع سننے کے بعد رات سو نہیں سکیں تو کل کو آپ شامی لائبریری کے"ڈر کارنر" میں تو آپ کبھی بھی نہیں آئیں گی۔ کیونکہ اس میں ملک کے معروف مصنفوں کی صرف ڈراؤنی کہانیاں اور ناول ہی پیش کئے جائیں گے اور وہ بھی ڈھیروں کی تعداد میں۔( اس سلسلے میں معاہدہ ہو چکا ہے)۔ اپنا حوصلہ قائم رکھئے، آپ جیسے لوگوں ہی نے تو شامی لائبریری کو کامیاب بنانا ہے ۔ خدانخواستہ آپ کو کبھی ایسے حالات سے واسطہ پڑگیا تو کیا کریں گی؟


جی نہیں یہ کسر نفسی نہیں بلکہ میں سچ میں اتنا ھی ڈرتی ہوں۔ کوئ بھی ہارر مووی دیکھ لوں یا ایسا واقعہ پڑھ لوں اسکے بعد ایک دو ھفتے تک بہت ڈرنا میرا معمول ھے۔ پھر آہستہ آہستہ نارمل ہو جاتی ہوں اور اتنی دیر میں دوبارہ ایسا کوئی واقعہ ہو جاتا ھے۔ آپکے اس کارنر میں میں کھبی نہیں آنے والی چاھے کچھ بھی ہو جائے۔
اور خدا نا کرے کھبی میرے ساتھ ایسا کچھ ہو جائے؟؟؟؟ تو میں آپکو بتانے کے قابل کہاں رھوں گی۔:cool:

Shami
18-08-2009, 09:26 PM
واہ جی واہ بہادریاں
شامی بھائی آُ پ جب ڈرے تو آیت الکرسی کیوں نہیں پڑھی وہ فورا بھاگ جاتے اس سے تو

میں جس جامعہ سے پڑھی ہوں وہاں بھی یہ مخلوق موجود تھی اور کچھ جن عورتٰیں وہاں ہماری ٹیچر سے پڑھنے بھی آتی تھین
لیکن تنگ نہیں کیا کبھی کسی کو
پھر بھی ان کی موجودگی کا احساس ہوتا تھا
ایک دفعہ تو بہت قریب سے محسوس کیا تھا میں نے
ہوا یوں کہ گرمیوں کے دن تھے تو ہماری ٹیچر جن کا نام عابدہ ہے وہ ماشاءاللہ ھافظ قرآن ہیں اور ان کی آواز بہت ہی پیاری ہے
تو وہ عشاء کے بعد کلاس لے رہی تھیں زیادہ گرمی کی وجہ سے صحن میں ہی کلاس لگائی گئی تھی
ایسے کہ دونوں سائیڈوں پر لڑکیاں اپنے بنچ رکھ کر بیٹھی تھیں اور سامنے دونوں لائنوں کے درمیان میں باجی کا بنچ تھا
اچھا یہ بتادوں کہ مجھ سے ان کی بہت اچھی دوستی تھی یعنی وہ فرینکلی مجھ سے بات کر لیتی تھیں
اس وقت بھی میں ان کے ساتھ ہی بیٹھی تھی کہ وہ مجھ سے باتیں کرتی کرتی اچانک چپ ہو گئیں
اور سامنے چھت کی طرف دیکھنے لگیں
میں نے بھی دیکھا مجھے کچھ نظر نہیں آیا
انہوں نے مجھے ایک دم سے کہا کہ تم پیچھے ہو جاؤ میں ان کی شکل دیکھ رہی تھی کہ اتنا پسینہ اور ایک دم اتنی سیریس کیوں ہو گئیں
خیر میں تھوڑا پیچھے ہو گئی
اور تھوڑی ہی دیر میں مجھے ان کو سبق سنانے کی آوازیں آنے لگیں جو کہ بہت مدھم سی تھیں
اور باجی ان کی غلطیاں بھی نکال رہی تھیں
اب مجھے تو ڈر کے مارے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہاں سے اٹھوں یا بیٹھی رہوں
پھر سوچا کہ اللہ کا کلام پڑھ رہی ہیں تنگ نہیں کریں گی سو میں چپ ہو کر بیٹھی رہی

اس کے علاوہ جب بھی درس ہوتا تھا باجی دعا مانگتے تھے تو وہ لوگ آمین کہا کرتے تھے
باجی کے ابو جی کے دوست تھے کچھ جن لیکن مسلمان تھے

ہاں جب انہوں نے یہ زمین لی تھی جامعہ بنانے کے لیے تو وہاں رہنے والوں میں سے ایک نے کہا کہ یہاں جامعہ نہٰیں بننے دیں گے ان کا ٹھکانہ اس جگہ تھا جہاں باجی لوگوں کا ڈرائنگ روم بنا ہے تو باجی کے ہسبنڈ رات کو چارپائی ڈرائنگ روم میں دال کر سوتے اور صبح جب اٹھتے تو کبھی چھت پر ہوتے
کبھی پانی کی ٹینکی پر چارپائی لگی ہوتی اور کبھی مین ڈور کے پاس
لیکن ان کو آخر میں ہار ماننا پڑی اور وہ لوگ وہاں سے چلے گئے

اچھا میں کئی دفعہ سوتے میں ڈر جاتی ہوں لیکن اللہ کا شکر ہے جب بھی آنکھ کھلت ہے ڈر کر تو میری زبان پر آیت الکرسی ہتی ہے نیند میں بھی یاد رہتی ہے کہ پڑھوں گی تو ڈر نہیں لگے گا


ویسے ایک بیماری بھی ہوتی ہے جس میں ہمیں سچ میں سب نظر آتا ہے لیکن ہوتا کچھ نہٰں ہے
وہ بھی بتاتی ہوں ابھی

بات یہ ہے کہ چانکہ میں پہلے سے ان کا عادی تھا اور اس رات مجھے قطعا اندازہ نہیں تھا کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اگر اندازہ ہوتا تو ضرور پڑھتا( الحمد للہ یاد بھی ہے)۔ جب کچھ پڑھنے کا موقع آیا تو بے ہوش ہو گیا۔

رفعت
18-08-2009, 09:33 PM
شامی بھائی اپنے ڈر کارنر کے بارے میں مجھے ضرور بتائیے گا
میں ضرور پڑھوں گی
کیونکہ مجھے ڈراؤنی کہانیوں پڑھنے کا مزہ بھی آتا ہے اور ہنسی بھی آتی ہے
یہ میں سیریس ہو کر کہہ رہی ہوں مذاق نہیں سمجھیے گا
وہ الگ بات ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب میں اپنے ہپی گھر میں ڈرنے لگی تھی
کسی روم میں رات کے ٹائم لائٹ جلانے نہیں جاتی تھی چاہے کتنی بھی ڈانٹ پڑ جائے اور اگر جانا ہی پڑتا تھا تو لائٹ کا سوئچ دبا کر باہر بھاگتی تھی جب لائٹ جل جاتی تب اندر آتی تھی
لیکن آہستہ آہستہ ڈر ختم ہو گیا اب ان چیزون سے ڈر نہیں لگتا انسانوں سے ڈر لگتا ہے

Shami
18-08-2009, 10:28 PM
آپ کے اگلے واقعہ کا انتظار ھے
وہ واقعہ "وہ کون تھے؟" کے نام سے پیش کر دیا گیا ہے۔

رفعت
18-08-2009, 10:38 PM
وہ واقعہ "وہ کون تھے؟" کے نام سے پیش کر دیا گیا ہے۔

کہاں

Shami
19-08-2009, 03:20 PM
کہاں
یہ واقعہ "ذاتی مشاہدات" کے تحت " وہ کون تھے" کے نام سے پیش کیا گیا ہے۔
اسکا لنک ہے۔

http://www.oneurdu.com/forums/showthread.php?t=55804

Biya
23-08-2009, 06:08 PM
شامی بھائی بہت ہی دلچسپ و عجیب واقع تھا ۔
بھلا وہ چیز کیا ہو سکتی ہے جس نے آپ کو رات مین جکڑ لیا تھا ۔
یہ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے کہ آپ کوئی ڈراؤنی فلم دیکھ رہے تھے اسلیے ایسا ہوا کیونکہ آپ تو سسپنس فلم دیکھ رہے تھے ۔
اور پھر تین دفع فیوز کا اڑ جانا ۔
اففففف میں اتنی محو ہو کر پڑھ رہی تھی کہ اچانک بہن کمرے میں آئی تو میں بھی ڈر کر سیٹ سے ایک دم اٹھی ۔
وہ بھی پوچھنے لگی کہ کیا ہوگیا ہے۔
;d~