PDA

View Full Version : نڈر بچہ



gul1
13-07-2009, 10:53 PM
سلام

سسٹر ھمارے ھمسایے میں ایک پاکستانی فیمیلی ائی ھے ان کا ایک 4سال کا بیٹا ھے وہ بہت ھی نقصان کی حد تک شرارتی ندتمیز اور اورایکٹو ھے مار یا پیار کچھ اس پہ اثر نیہں کرتا ابھی وہ ادھر کنڈرگارڈن جا رھا ھے وہاں سب اس سے تنگ اور روز کی شکایت اتی ھے کہ بات نہیں سنتا اپنی ھی مرضی کرتا ھے یہاں تک کہ اسے wildبچہ بولا گیا

بچہ کی خاص باتوں میں وہ بہت اونچا بولتا بلکہ چلاتا ھی ھے چاھے اگلا بندہ اسے ھی توجہ سے سن رھا ھو بولے گا اونچا ھی وہ کسی کی بات نہیں سنتا کرتا اپنی مرضی ھے ماں باپ پیار سے یا مار سے سمجھیں نہیں سنتا مار پڑے تو 2 4 منٹ چپ پھر ایسے ھی جیسے کچھ ھوا نہیں اور پیار سے سرے سے سنتا ھی نہیں
پلیز سس اس کا کوئی حل بتائیں کہ کس طرح اسے ھینڈل کیا جائے

Nosheen Qureshi
20-07-2009, 10:30 AM
اس کے اس رویہ کے پیچھے بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں، اس کے مکمل اور تفصیلی معائنہ کی ضرورت ہے ایسے ہی اسے کسی نفسیاتی مسئلہ کا شکار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سب سے پہلے تو اسے کسی چائلڈ سپیشلسٹ کو دکھائیں تاکہ وہ اس کا مکمل معائنہ کر سکیں اور یہ بھی دیکھ سکیں کہ اونچا بولنے کی وجہ سماعت کا مسئلہ تو نہیں ہے، کیونکہ جو سننے میں دقت محسوس کریں وہ عموماً بہت اونچا بولتے ہیں، وہ کسی لرننگ پرابلم کا شکار بھہ ہو سکتا ہے، اس کے علاوہ اس کے گھر کا ماحول اس کی شخصیت کو بنانے یا بگاڑنے میں اہم ہے، والدین کا رویہ کیا ہے، آپس میں ان کے تعلقات کیسے ہیں، شروع سے اسے کیسا ماحول ملا ہے کن خطوط پر اس کی تربیت ہوئی یہ سب بہت اہم ہیں، آپ نے تو اسے کچھ عرصہ پہلے سے دیکھا ہے ناں وہ
ایسا ایک دن میں تو نہیں بنا ہو گا بہت سے محرکات ہوں گے۔ ایسے رویہ کو ٹھیک کرنے کیلئے سب پہلے
کی behavioral observation
جاتی ہےاور اس کے ساتھ ساتھ تمام حالات کا جائزہ لینا پڑتا ہے کہ کیا چیزیں اور کون کون سے واقعات رویہ کی
خرابی کا باعث بن رہے ہیں کیا چیزیں اسے بڑھاوا دے رہی ہیں۔ ابھی بچہ بہت چھوٹا ہے جو بھی بگاڑ ہے اسے ٹھیک کرنے کی گنجائش اور امکان بہتر ہیں پہلے اسے چائلڈ سپیشلسٹ کو ایک دفعہ دکھا لیں اگر ایسا کوئی جسمانی مسئلہ نہ ہو تو پھر اس کے مطابق ہی مزید کام ہو سکے گا۔

gul1
21-07-2009, 01:05 AM
bohot shukria sister
wo birth ka bad sa abi 6 mnths pahla ta apni mother n nani ka gar ma raha ha asa ha ka mother us ki pakistan ma teacher aur father germany ma the bacha shadi ka 10 saal bad pada huwa aur mother roz school jati aur gar 3 4 baja ati sara time bacha nani aur mamun ka pass rahta aur bohot hi laad ma ka itna saal bad pada huwa ha aur ha b aklota father ko wo bohot miss karta tha abi wo yahan sift ho gain ha par father us ka week ka 4 din gar pa hota ha sham ka 4 baja ka bad sa aur 4 din wo job ki waja sa gar sa bahar rahta hain tu ab yahan pa sirf wo mother ko hi ass pass dakhta ha aur maan ka bagar kaheen nai nikalta wo hamasha kahta ha ka ap muja chor ka kahan ja rahi hain aik aur bat ka bacha pani sa aur stuff toys sa darta ha hearing problem nai ha usa koi b

Nosheen Qureshi
27-07-2009, 08:35 AM
یہ بچہ عدم تخفظ اور وابستگی کے مسائل کا شکار ہے۔ بچہ کو اپنی عمر کے ابتدائی دور سے ہی ماں اور باپ دونوں کی توجہ اور محبت درکار ہوتی ہے ان کی مناسب انداز میں فراہمی اس کی شخصیت کو مثبت انداز میں پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر کوئی بچہ اپنی عمر کے ابتدائی دور میں ہی والدین کی عدم توجہ کا شکار ہو جائے تو اس میں بہت سی نفسیاتی گرہیں لگ جاتی ہیں۔ بچہ کی صرف مادی ہی نہیں نفسیاتی اور جذباتی ضروریات بھی ہوتی ہیں۔ کسی بھی محبت کی کمی اس کے اندر ایک خلا پیدا کر سکتی ہے، دوسرے چاہے کتنا ہی پیار کرنے والے ہوں اگر والدین ہی بچے کو مناسب توجہ اور محبت نہ دیں تو بچہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے، بچہ کی پرورش کے معاملہ میں ماں باپ کی حساسیت بہت معنی رکھتی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اس کی ہر طرح کی ضروریات کو سمجھ سکیں اور ان کے جذبات کا احترام کریں۔
اس کی عمر کا یہ دور بہت اہم ہے، اس دور میں ملنے والی مثبت توجہ اسکی شخصیت کے منفی پہلوئوں میں خاطر خواہ کمی کر سکتی ہے، اگر اب بھی اسے مکمل توجہ نہ ملی تو وہ خود پر اور دوسروں پر اعتماد کرنا نہیں سیکھ پائے گا، منفی رحجانات کا حامل ہوگا اور خود کو ہر معاملہ میں تنہا خیال کرے گا، اپنی غلطی کو بھی درست سمجھے گا، پڑھائی میں مشکلات کا شکار ہو گا، اس میں بےصبرا پن بھی نمایاں ہو گا اور ایک عجیب سی جذباتی بے حسی ہو گی دوسروں کے ساتھ اس کا رویہ منفی اور تکلیف دہ ہوگا۔
اپنے والدین کیلئے یقینا وہ بہت قیمتی ہے کہ وہ شادی کے اتنے سالوں بعد پیدا ہوا لیکن اس قیمت کا احساس اس کے والدین نے بھی کبھی اسے دلایا ہے، ننھیال والے بچوں سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ ان کی ہر الٹی سیدھی فرمائش بھی پوری کر دیتے ہیں ایسے میں اگر بچہ کو ماں کا بھرپور ساتھ بھی نہیں ملا تھا تو اس کا بگڑنا تو یقینی تھا اس میں بچہ کا تو کوئی قصور نہیں ہے، یہاں آ کر اسے ماں کا پیار تو مل گیا ہے لیکن خلا تو موجود ہے باپ کی محبت اور شفقت بھی تو چاہیے، اس کے ماں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پہلے اسے یہ توجہ اس درجہ تک نہیں ملی ہوئی تھی اب ملی ہے تو وہ اسے کھونا نہیں چاہتا، جو رشتے اور محبتیں اس نے عمر کے ابتدائی دور سے دیکھی تھیں وہ بھی اس سے دور ہو گئی ہیں وہ یہاں صرف ایک ہی شخصیت کو جانتا ہے اور وہ ہے اس کی ماں، اس کا رویہ باپ کی توجہ کے حصول کی کوشش بھی ہو سکتا ہے اور ان کی عدم توجہ کے نتیجہ میں لیا جانے والا بدلہ بھی۔

اس کو نارمل بچہ بنانے میں اس کے ماں باپ کو بہت محنت کرنی پڑے گی لیکن آج کی یہ محنت کل ان کے کام بھی آئے گی، اگر والد اسے اپنی نوکری کی وجہ سے زیادہ وقت نہیں دے سکتے تو کیا ہوا وہ اسے معیاری وقت تو دے سکتے ہیں، اس کے ساتھ اپنے فارغ وقت کا ایک بڑا حصہ گزار سکتے ہیں تاکہ اسے اس عدم تخفظ کے احساس سے نکالا جاسکے۔ اس کے ساتھ اس قسم کے کھیلوں میں حصہ لیں جن میں جذبات کا اظہار کیا جاسکتا ہے، اسے اپنے جذبات کے اظہار کا بھرپور موقع دیں۔ بچہ اگر اکلوتا ہو تو وہ اکیلے پن کا شکار ہو جاتا ہے ایسے میں والدین کو ہو اس کے بہن بھائیوں کی کمی پوری کرنا ہوتی ہے، انھیں چاہئےکہ اس کا اعتماد حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کریں، آپس کی چپقلش کو اس کے سامنے نہ لائیں، اسے ایک بھرپور ماحول دینے کی کوشش کریں، اس کے اندر تخفظ کا احساس پیدا کریں، اپنے ہونے اور اپنے ساتھ کا یقین دیں تاکہ وہ اعتماد کرنا سیکھے، اس سے جھوٹے وعدے کبھی نہ کریں، اس کی جذباتی ضروریات کو سمجھیں اور اگر ان کی تکمیل ممکن ہو تو اسے بروقت کریں، سکول میں پیش آنے والی مشکلات کے متعلق اس سے بات چیت کریں اور اس کے رویہ میں بہتری لانے میں اس کی مدد کریں، اپنی شخصی خامیوں پر بھی قابو پائیں، کبھی کبھار اس کی پسند کے مطابق اپنا پورا دن گزاریں، اسے بات نبھانا سکھائیں، اس کے اندر یہ یقین پیدا کریں کہ وہ اب ہمیشہ اکٹھے ہی رہیں گے(اگر وہ ہمیشہ اکٹھے رہنے والے ہیں) اس سے وہ بےیقینی کی کیفیت سے نکل آئے گا، مثبت رویہ کی حوصلہ افزائی ضرور کریں اور مثبت توجہ کا مظاہرہ کریں۔
یہ کام دنوں میں نہیں ہوگا ہو سکتا ہے کہ پہلے بچہ اس طرح کے ردعمل کا مظاہرہ نہ کریں جیسا ہم چاہ رہے ہیں لیکن مستقل توجہ سے اس تبدیلی کی بھرپور امید کی جاسکتی ہے۔

gul1
04-08-2009, 09:17 PM
bohot bohot shukria sister itna acha answer karna pa inshallah ma ya us ki mother ko b read karwaun ge ka wo is pa amal kar sakayn 10points 4 u