PDA

View Full Version : بچوں کی نفسیات



Ahmed Lone
06-07-2009, 12:42 PM
اسلام علیکم
نوشین قریشی بہن
میں شارجہ امارات میں کمپیوٹر شاپس چلاتا ہوں
ایک شاپ کے ہمسائیے کراچی کے ہیں ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے
میرے بلاگ میں ان کی تصاویر موجود ہیں
بڑی والی کی عمر بارہ سال ہے
چھوٹی والی کی عمر چھ سال ہے
چھوٹی والی بہت شرارتی ہے اس کو اگر مار بھی پڑ جائے تو اتنا محسوس نہیں کرتی تھوڑی دیر بعد پھر ویسے ہی ہو جاتی ہے
اس کی سالگرہ تھی دو جولائی کو
سالگرہ ہوئی چھوٹی کو گفٹ دیے وغیرہ
اگلے دن بچوں کے والد نے مجھے بتایا کہ وہ دونوں میاں بیوی بڑی بیٹی کے رویے سے بہت پریشان ہیں
بڑی والی نے اس بات کو بہت محسوس کیا کہ چھوٹی بہن کو اتنے گفٹ ملے
وہ لوگ پہلے اس طرح کی بات کو اگنور کرتے رہے ہیں
اب بڑی والی نے میرا نام لیکر کہا کہ میں نے اسے چھوٹی بہن کی سالگرہ پر اگنور کیا ہے
اور اس سے زیادہ چھوٹی بہن کو اہمیت دی ہے
اپنے ماں باپ کے ساتھ ساتھ میرے ساتھ بھی زبردست قسم کی ناراض ہے
???
فون پر مجھے کہا کہ ہاو کین آئی اگنور ہر؟
کہتی ہے کہ وہ بڑی ہے تو اس کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے
اس کے ماں باپ تو پریشان ہیں ہی میں خود بھی پریشان ہوں کہ کیا کہوں؟
جمعرات کو وہ دوبارہ آئے گی
اس دن سے پہلے پہلے اگر آپ کچھ میری مدد کریں کہ میں اس کو سمجھا سکوں
اس کے ماں باپ نے اس بات کی ذمہ داری مجھ پر ہی ڈال دی ہے کہ کسی طرح اس کو بتاوں کہ اس کو اگنور نہیں کیا گیا بلکہ سالگرہ چھوٹی کی تھی تو اس لیے اسے زیادہ ٹائم دیا گیا

ویسے اتنی چھوٹی سے بچی ہے اور اپنی بہن کو بھی برداشت نہیں کر رہی ::)
آپ کے جواب کا شدت سے منتظر
محمد احمد

Nosheen Qureshi
07-07-2009, 02:35 PM
اتنے پریشان نہ ہوں یہ بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے، کچھ بڑے بچے بہت زیادہ پوزیسو ہوتے ہیں اور پیار اور توجہ کا بٹنا بھی ان کیلئے ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے، وہ خود کو بہت اہم سمجھتے ہیں، اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو اپنا رقیب خیال کرتے ہیں اور ہر معاملہ میں ان کے ساتھ اپنا موازنہ کرنے لگتے ہیں، دونوں بچیوں کے درمیان چھ سال کا فرق ہے ظاہری سی بات ہے کہ چھ سال تک وہ بچی اس توجہ اور محبت کا واحد مرکز رہی تھی جو اس کی بہن کے آنے سے کم ہو گئی،اسے یہ احساس شدت سے ہو گا کہ اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت کم ہو گئ ہے اسے نظرانداز کیا جارہا ہے، وہ عجیب قسم کے خوف کا شکار ہو گی، اس عمر میں جب بچہ بچپن اور لڑکپن کی سرحد پر ہو وہ کچھ زیادہ ہی حساس ہو جاتا ہے، بےشک اس سے جتنا بھی پیار کیا جارہا ہو وہ اس اہمیت کو قبول نہیں کر پائے گی جو اس کے علاوہ اس کے پیارے کسی کو دیں۔

اس کی ناراضگی صرف اس کے غصہ کا ہی اظہار نہیں کر رہی بلکہ توجہ کے حصول کا بھی ایک ذریعہ ہے کیونکہ اس طرح جب تک وہ ناراض ہے ہر کسی کی توجہ کا مرکز وہی رہے گی۔ اگر اس کی اس ناراضگی کا ہمیشہ اثر لیا جاتا رہے گا تو اس سے وہ ہمیشہ اسی طرح کا رویہ اپنا کر فائدہ اٹھانا سیکھ لے گی۔

اب جب وہ آپ کے پاس آئے تو فی الوقت تو آپ اس کو اس طرح بھی منا سکتے ہیں کہ اسے اس کے پسندیدہ پارک میں لے جائیں یا اس کی کوئی پسندیدہ چیز لے دیں لیکن یہ اس مسئلہ کا مستقل حل نہیں ہو گا اور یہ رویہ پختہ ہوتا رہے گا، ایسے بچے اپنے متعلق بہت حساس ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ کوئی زیادتی برداشت نہیں کر پاتے، اسے منا کر آہستہ آہستہ احساس دلائیں کہ اس کی جگہ کبھی بھی کوئی نہیں لے سکتا کیونکہ گھر کے ہر فرد کی اپنی ایک اہمیت ہوتی ہے، اگر اس بچی کو سالگرہ منانے کے پروگرام کا حصہ بنایا جاتا تو شاید اسے اتنا برا نہ لگتا کیونکہ اس طرح تیاریوں کے سلسلہ میں ہی سہی لیکن اس کی اہمیت تو ہوتی، اس طرح آپس میں بھی مثبت رویہ کو فروغ ملتا ہے، وہ تھوڑی بڑی ہے اس عمر میں اپنی اہمیت جتانے کا دل چاہتا ہے کوشش کریں کہ اس سے مختلف معاملات جو گھر سے متعلق ہوں کے بارے میں بات چیت ہوتی رہے جہاں اس کو اہمیت دی جاسکتی ہے وہاں اس کی رائے دریافت کی جائے، اسے احساس دلایا جائے کہ والدین اس سے بڑے ہونے کے ناتے کس قسم کے رویہ کی امید رکھتے ہیں۔

کوشش کریں کہ بچوں کا آپس میں کسی بات پر موازنہ نہ کیا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے ان کے درمیان رقابت فروغ پاتی ہے مثلاً وہ دیکھو تم سے چھوٹی ہے لیکن کتنی سمجھدار ہے اس سے سمجھداری بڑھے یا نہیں جلن اور حسد ضرور بڑھے گا۔
ہر بچہ منفرد ہے اس لئے ہر بچہ کو ایک ہی انداز میں ڈیل نہیں کرنا چاہیے، اسے اس کی شخصیت کے مطابق ہینڈل کریں، کسی بچہ میں توجہ کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے کسی میں کم۔
بچوں کی مخفی صلاحیتوں کو ابھارنے کی کوشش کریں اور انھیں ان کی پسند کے تخلیقی کاموں میں لگائیں اس سے ان کی توانائی بےکار کی باتوں میں صرف ہونے کی بجائے بہتر انداز میں استعمال ہو سکے گی اور اپنی اس خوبی کا اثر ان کی شخصیت پر بھی نظر آئے گا۔
انھیں ایک دوسرے کی عزت کرنا سکھائیں، کچھ حدود قائم کریں۔
انھیں کچھ وقت دیں جو صرف ان کیلئے ہو۔
اگر بچہ غلط بات پر ناراض ہو تو اس وقت اسے توجہ نہ دیں، کیونکہ اس وقت دی گئی توجہ اس میں بگاڑ کو فروغ دے گی۔
اگر وہ آپس میں مثبت رویہ اختیار کریں تو ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں۔

Ahmed Lone
07-07-2009, 02:46 PM
بہت شکریہ نوشین بہن
آپ کی باتوں کی روشنی میں انشاءاللہ میں معاملے کو سلجھا لوں گا
واقعی وہ کچھ ایسی ہی ہے
اب جب آئے گی تو اس کو اسی طرح ہینڈل کرنے کی کوشش کروں گا