PDA

View Full Version : ایک سوال



حسن نظامی
30-06-2009, 02:47 PM
السلام علیکم!۔

نوشین قریشی صاحبہ یہاں بہت خوبصورت انداز میں مسائل حل کر رہی ہیں ۔

کچھ سوالات میرے بھی ۔

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں ۔ جو یہ تصور کرتے ہیں کہ وہ دنیا میں کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے ۔اور چند لوگوں کو بہت زیادہ بلند تصور کرتے ہوئے ان کی غلطیوں کو بھی درست سمجھتے ہیں ۔

وہ ایسے لوگوں کے ہمیشہ معتقد ہی رہتے ہیں ۔

وہ ایسے لوگوں سے کبھی بھی کھل کر بات نہیں کرتے ۔ بلکہ ہمیشہ یہی کوشش کرتے ہیں کہ اپنی خامیوں کو چھپاتے رہیں یا ان کے سامنے کھل کر اظہار نہ کریں ۔ اپنی بہت سی باتیں بھی ان سے چھپاتے ہیں ۔

ایسے لوگوں سے دوستی بھی نہیں کرتے ۔

ان لوگوں کو برابری کی سطح پر لانے کا کیا طریقہ کار ہو سکتا ہے۔ ہم ان کو کیسے ڈیل کریں کہ ان کے اندر سے وہ احساس ختم ہو جائے جس کے تحت وہ دوسروں کو اعلٰی گردانتے ہیں ۔ اور ان سے کھل کر بات نہیں کرتے ۔

Qartaas
02-07-2009, 11:47 PM
:o

حسن نظامی
03-07-2009, 03:24 PM
حیرانی کیوں

سخنور
03-07-2009, 05:07 PM
حسن بھائی آپ ان لوگوں کی بات کر رہے ہیں جو عام زندگی میں آپ کو ملتے ہیں۔ ایسے لوگ یا تو بہت اچھے ہوتے ہیں یا کسی کمپلیکس کا شکار۔ اس کے لئے آپ انہیں باور کروائیں کہ وہ لوگ بھی ان کی طرح انسان ہی تھے ۔ جن سے یہ متاثر تھے۔ وہ بھی بیمار ہوتے ہیں۔ بھوک پیاس انہیں بھی لگتی ہے۔ یعنی جو جبلی تقاضے ہر انسان کے ہیں ان کے بھی ہیں وہ اور جنہیں وہ اعلیٰ تصور کرتے ہیں تکنیکی لحاظ سے بالکل آپ جیسے ہی ہیں۔ صرف کچھ مخصوص ماحول اور تعلیم و تربیت کی وجہ سے آپ کو مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں یہ باور کروائیں کہ جو تعلیم و تربیت انہیں ملی اگر ان کی بھی ملتی تو شاید وہ بھی اسی طرح کے اعلیٰ انسان ہوتے۔

سمر
03-07-2009, 05:13 PM
متفق علیہ
حسن بھائی آپ ان لوگوں کی بات کر رہے ہیں جو عام زندگی میں آپ کو ملتے ہیں۔ ایسے لوگ یا تو بہت اچھے ہوتے ہیں یا کسی کمپلیکس کا شکار۔ اس کے لئے آپ انہیں باور کروائیں کہ وہ لوگ بھی ان کی طرح انسان ہی تھے ۔ جن سے یہ متاثر تھے۔ وہ بھی بیمار ہوتے ہیں۔ بھوک پیاس انہیں بھی لگتی ہے۔ یعنی جو جبلی تقاضے ہر انسان کے ہیں ان کے بھی ہیں وہ اور جنہیں وہ اعلیٰ تصور کرتے ہیں تکنیکی لحاظ سے بالکل آپ جیسے ہی ہیں۔ صرف کچھ مخصوص ماحول اور تعلیم و تربیت کی وجہ سے آپ کو مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں یہ باور کروائیں کہ جو تعلیم و تربیت انہیں ملی اگر ان کی بھی ملتی تو شاید وہ بھی اسی طرح کے اعلیٰ انسان ہوتے۔

حسن نظامی
05-07-2009, 01:41 PM
جی مگر میں ڈاکٹر صاحبہ کا انتظار کر رہا ہوں کہ وہ کیا کہتی ہیں ۔
اور ہاں سخنور بھائی ۔ میں نے کچھ کہا تھا آپ سے م س ن پر شاید

سخنور
05-07-2009, 01:54 PM
جی مگر میں ڈاکٹر صاحبہ کا انتظار کر رہا ہوں کہ وہ کیا کہتی ہیں ۔
اور ہاں سخنور بھائی ۔ میں نے کچھ کہا تھا آپ سے م س ن پر شاید

جی بالکل ڈاکٹر صاحبہ کے جواب کا تو میں خود انتظار کر رہا ہوں۔ آپ نے یاہو کا جو اپنا آئی ڈی دیا تھا اسے میں نے شامل کر لیا تھا لیکن ہنوز آپ آن لائن نہیں آئے۔ اور م س ن پر تو کوئی پیغام نہیں ملا مجھے۔

حسن نظامی
05-07-2009, 10:51 PM
آپ مجھے یاہو پر ملیں ۔۔
آئی ڈی یہ ہے
[email protected]
میں آن لائن ہوں لیکن خفیہ

Nosheen Qureshi
06-07-2009, 09:12 AM
السلام علیکم!۔

نوشین قریشی صاحبہ یہاں بہت خوبصورت انداز میں مسائل حل کر رہی ہیں ۔

کچھ سوالات میرے بھی ۔

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں ۔ جو یہ تصور کرتے ہیں کہ وہ دنیا میں کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے ۔اور چند لوگوں کو بہت زیادہ بلند تصور کرتے ہوئے ان کی غلطیوں کو بھی درست سمجھتے ہیں ۔

وہ ایسے لوگوں کے ہمیشہ معتقد ہی رہتے ہیں ۔

وہ ایسے لوگوں سے کبھی بھی کھل کر بات نہیں کرتے ۔ بلکہ ہمیشہ یہی کوشش کرتے ہیں کہ اپنی خامیوں کو چھپاتے رہیں یا ان کے سامنے کھل کر اظہار نہ کریں ۔ اپنی بہت سی باتیں بھی ان سے چھپاتے ہیں ۔

ایسے لوگوں سے دوستی بھی نہیں کرتے ۔

ان لوگوں کو برابری کی سطح پر لانے کا کیا طریقہ کار ہو سکتا ہے۔ ہم ان کو کیسے ڈیل کریں کہ ان کے اندر سے وہ احساس ختم ہو جائے جس کے تحت وہ دوسروں کو اعلٰی گردانتے ہیں ۔ اور ان سے کھل کر بات نہیں کرتے ۔

ایسے لوگوں میں خود شناسی کی کمی ہوتی ہے، وہ اپنے تشخص سے ناآشنا ہوتے ہیں، ان میں سے کچھ لوگ پیدائشی طور پر غلامانہ ذھنیت رکھتے ہیں اور کچھ حالات و واقعات اور ان کے اثرات کے باعث خود کو دوسروں سے کمتر سمجھنے لگتے ہیں، (جہاں ماحول اس چیز کو باعث بن رہا ہو وہاں ماحول تبدیل کئے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جاسکتے)، وہ اپنی کوئی رائے نہیں رکھتے، ان کا احساس کمتری انھیں دوسروں کے سامنے ہمیشہ جھکائے رکھتا ہے،وہ خود کو اہمیت نہیں دیتے، انھیں اپنی خوبیوں کا ادراک نہیں ہوتا، انھیں دوسرے اپنے مقابلہ میں ہمیشہ عظیم ہی نظر آتے ہیں، اپنی خامیاں بہت نمایاں نظر آتی ہیں جبکہ جن کے وہ معتقد ہوتے ہیں ان کی کسی خامی پر ان کی نظر جاتی ہی نہیں۔ وہ زندگی کا اصل لطف نہیں اٹھا پاتے،

ان کے رویہ میں تبدیلی لانے کیلئے سب سے ضروری چیز ان کو یہ احساس دلانا ہے کہ ان کی اپنی ایک الگ شخصیت ہے، جو خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہے،
انھیں ٹوک کر ہم انھیں بہتر نہیں بنا سکتے، ان کا اعتماد بحال کرنا انتہائی ضروری ہے، ان کی خوبیوں سے انھیں آگاہی دلائیں، معاملات کے متعلق ان کی رائے دریافت کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں، انھیں احساس دلائیں کہ ان کی رائے کس قدر اہم ہے، کام تھوڑا مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں شروع میں ہو سکتا ہے کہ ان کی طرف سے بہت زیادہ مزاحمت ہو اور وہ اس چیز کو بالکل قبول نہ کریں لیکن لگن اور کوشش سے ان کی شخصیت میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے، ان کے اس پیہم یقین کو توڑنا انتہائی ضروری ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے اور ان کے اردگرد کے لوگ انتہائی بہترین صلاحیتوں کے مالک ہیں۔
خیالات کے اظہار کے معاملہ میں ان کی حوصلہ افزائی کریں، تاکہ ان کے اندر تک آپ کی رسائی ہو سکے ان کی سوچ کی خامی کو پکڑا جاسکے اور اسے درست سمت میں لگایا جاسکے، انھیں عموما اپنے متعلق دیئے گئے مثبت اور تعریفی جملے یاد نہیں رہتے کیونکہ وہ انھیں خود سے متعلقہ نہیں لگتے، ان کی چھوٹی سے چھوٹی خوبی کو بھی ان کے سامنے تعریفی انداز میں بیان کریں کہ وہ اپنی ذات کی گہرائیوں سے آگاہ ہو سکیں، انھیں موقع دیں کہ وہ وہی بیان کریں جو ان کے دل میں ہے بجائے اس کے جو دوسروں کو اچھا لگتا ہے۔

حسن نظامی
06-07-2009, 11:19 AM
بہت شکریہ ڈاکٹر صاحبہ ۔۔۔

اب میں کچھ نہ کچھ کر تو سکوں گا ۔