PDA

View Full Version : خلائی مخلوق۔۔۔آپ کیا کہتے ہیں؟



Rubab
14-06-2009, 06:20 PM
خلائی مخلوق۔۔۔آپ کیا کہتے ہیں؟

السلام علیکم

ہم میں سے اکثر ساتھیوں نے کبھی نا کبھی کوئی سائنس فکشن کہانی پڑھی یا فلم ضرور دیکھی ہو گی۔ جہاں خلائی مخلوق کا زکر عام ملتا ہے اس لئے میں سمجھتی ہوں کہ یہ لفظ یا خیال ہم میں سے کسی کے لئے نیا نہیں ہوگا۔

لیکن سائنس فکشن اور فلم سے ہٹ کر ہم خلائی مخلوق کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور کیا اس کائنات میں زمین کے علاوہ کسی اور جگہ زندگی پائی جاتی ہے۔ اس بارے میں، گفتگو کرنے اور اپنے خیالات پیش کرنے کی میں آپ سب کو دعوت دیتی ہوں۔

گفتگو شروع کرنے کے لئے کچھ ابتدائی نقاط پیش کرتی ہوں۔

اکثر اخبارات میں اڑن طشتریوں کا ذکر آتا ہے۔ دنیا کے مخلتف علاقوں میں لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے اڑن طشتریوں کو دیکھا ہے۔ اگر وہ واقعی اڑن طشتریاں ہیں تو انہیں کسی نہ کسی نے تو بھیجا ہو گا، لیکن کس نے؟

سائنس کے نزدیک ابھی تک رپورٹ کی گئی اڑن طشتریاں زیادہ تر موسمی غبارے، فضائیہ کے مخلتف جہاز یا کسی تجرباتی جہاز کی پرواز وغیرہ ہوتے ہیں جن کو لوگ غلطی سے اڑن طشتری سمجھ لیتے ہیں۔ ابھی تک کسی بھی اڑن طشتری یا خلائی مخلوق کا وجود ثابت نہیں کیا جا سکا۔ کیا واقعی لوگ غلط سمجھ لیتے ہیں یا حکومتیں ان واقعات کو چھپانے کی کوشش کرتی ہیں۔؟

کچھ لوگوں کے نزدیک زمانہ قدیم کی انجینئرنگ کے شاہکارات اہرام مصر، فراعین مصر نے نہیں بلکہ خلائی مخلوق نے بنائے تھے۔ لیکن کب، کس طرح اور اس سے انہیں کیا فوائد حاصل ہونا تھے؟ اس طرح کے سوالوں کے جواب ان کے پاس نہیں ہیں۔

کیا قرآن پاک، جو کہ نشانیوں کی کتاب (Book of Signs. Dr Zakir Naik ) ہے، میں کسی دوسری مخلوق کے بارے میں کوئی نشانی یا بات موجود ہے۔ کچھ لوگوں کے مطابق سات زمینوں کا زکر ہے، (کوئی ساتھی تصحیح کر دیں یہ بات مجھے کنفرم نہیں ہے) ۔ اگر سات زمینوں کا ذکر کیا گیا ہے تو کیا اس سے یہ مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ وہاں زندگی موجود ہوگی۔ ؟

کیا جنوں کو خلائی مخلوق شمار کیا جا سکتا ہے۔ ؟

سوالات اور بھی بہت سارے ہو سکتے ہیں۔ لیکن میں اس بارے میں آپ سب کی رائے جاننا چاہتی ہوں کہ آپ لوگ ان سارے معاملات کو کس طرح دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔

نیز آخری سوال یہ کہ کیا کبھی آپ میں سے کسی نے کوئی اڑن طشتری دیکھی ہے یا آپ کا کسی خلائی مخلوق سے واسطہ پڑا ہے۔ ؟

شکریہ

M.Ahmad
17-06-2009, 06:06 AM
۔۔ قرآن میں خود اللہ نے۔اپنی صفت تمام جہانوں کا رب کہہ ہمیں بتا دیا ہے کہ انسان اور زمین کے علاوہ بھی یقینا اور جہان ہیں جدھر زندگی پائ جاتی ہے ۔

زمین پر ہی زندگی کو ہم نے مختلف اشکال میں پایا ۔ جانور، پرندے، حشرات ،پودے ،بیکٹریاز، آبی جانور ۔


تو ان لاکھو کھہا سیاروں میں جو ابھی ہماری پہنچ سے دور ہیں وہاں پر زندگی بھی پائ جاسکتی ہے
۔۔

Rubab
20-06-2009, 03:00 AM
کیا بات ہے کیا یہ سوال بہت مشکل ہے یا اسکا جواب بہت مشکل ہے۔;)

کیا آپ لوگوں نے کبھی خلائی مخلوق کے بارے میں کچھ نہیں سوچا۔:confused:

M.Ahmad
20-06-2009, 04:21 AM
اسلام علیکم
دوسرا سوال ۔۔نہیں کیونکہ جن کا کبھی کبھار انسانوں سے رابطہ ہوجاتا ہے تو ۔قرآن کے مطابق وہ غیر زمینی نہیں ہیں ۔وہ غیر انسانی مخلوق تو ہیں مگر خلائ نہیں۔۔
انکی ڈمین شن الگ ہے اسی لیے وہ مخفی ہیں
۔
آپ کے آخری سوال کا جواب

قرآن میں سے ثابت ہے کہ انسان کوشش کرے گا کہ دوسری دنیاوں سے رابطہ ہو مگر اللہ فرماتا ہے کہ

[55:21] بَيۡنَہُمَا بَرۡزَخٌ۬ لَّا يَبۡغِيَانِ
.
۔(سرِدست) اُن کے درمیان ایک روک ہے (جس سے) وہ تجاوز نہیں کرسکتے

یعنی کہ سائنس کامیاب نہ ہوسکے گی ۔ ۔اس مقصد میں کہ کسی غیر زمینی مخلوق سے رابطہ قائم ہو ۔ اسوقت تک جب تک کہ اللہ نہ چاہے۔۔
۔

Rubab
20-06-2009, 04:30 AM
شکریہ میرا بھی یہی خیال ہے کہ انسان شاید ان تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔

قرآن میں اللہ نے فرق بتایا ہے کہ انسان خاکی مخلوق ہے اور فرشتے نوری۔

اور سائنس کے مطابق اگرچہ مادہ اور توانائی آپس میں تبدیل ہو سکتے ہیں لیں مادے سے بنی ہوئی چیز کا روشنی کی رفتار حاصل کرنا بہت مشکل ہے اس کے لئے لامتناہی توانائی کی ضرورت ہوگی جو پتا نہیں کہاں سے آئے گی۔ اور انسان بھی مادی مخلوق ہے لہٰزا فی الوقت تو ایسا لگتا ہے کہ روشنی کی رفتار حاصل کرکے کائنات کے دور دراز علاقوں میں پہنچنا انسان کے لئے ممکن نہیں کیونکہ اس کی بنیاد مادے پر ہے۔

جبکہ فرشتے نوری مخلوق ہیں اور وہ بآسانی روشنی کی رفتار حاصل کرکے کائنات کے کسی بھی گوشے میں جا سکتے ہیں۔ شائد جن بھی۔

نوٹ: یہ صرف میرا خیال ہے اس کی درستگی مشکوک ہو سکتی ہے۔

M.Ahmad
20-06-2009, 04:36 AM
حد سے زیادہ طاقت ور یا ماہر کو اہل عرب محاورۃ جن کہتے ہیں تو خود اللہ نے ماہر تعمیرات کو جن کہا ہے ۔۔شاید اسی لیے یہ بات تسلیم کرلی گئ ہو کہ پرانی عظیم الشان عمارات ۔جنوں نے بنائیں ہیں
۔

وَالشَّيٰطِيْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّغَوَّاصٍۙ‏
[38:38-39 ] اور شیاطین کو بھی (یعنی) ہر فنِ تعمیر کے ماہر اور غوطہ خور کو
http://i44.tinypic.com/2lua0ix.jpg

http://i40.tinypic.com/2mm5wtz.jpg

Wish
20-06-2009, 04:54 AM
سوال تو یہ مشکل ہی ہے سس، اور اتنے سوال اکٹھے۔
میرا تو ویسے ایسا کوئی ماننا نہیں کہ ایسی بھی کوئی مخلوق ہو سکتی ہے۔
بے شک قرآن پاک میں جہانوں مطلب جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے، یہاں تک کہ مشرق اور مغرب کے لیئے بھی ایک دو جگہ پہ جمع (دو) کا صیغہ استعمال ہوا ہے، لیکن اس سے ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ سورج بھی اب دو دو ہوں گے، ایک مشرق کا الگ اور دوسری کا الگ۔
اسی طرح میرا یہ ماننا ہے، کہ اس کائنات کو وسعت تو بہت دی ہے اللہ پاک نے، لیکن ذی روح کو جہاں جہاں بنایا ہے اس کے بارے میں قرآن پاک میں احکمات ہیں۔
اگر کوئی خلائی مخلوق یا کہیں بھی انسانوں، جانوروں اور نباتات کے علاوہ کوئی اور ذی روح موجود ہوتی تو اس کا حوالہ بھی ضرور ہوتا قرآن یا حدیثِ پاک میں۔
اور میرا تو کبھی نہیں پڑا، اور اگر کبھی میرا واسطہ پڑ گیا کسی بھی ایسی مخلوق سے تو میرا اور بھی بڑا کچھ ساتھ ہی پڑھا جائے گا۔ کیونکہ میں اس معاملے میں بہت ڈرپوک ہوں۔

Tashfin
20-06-2009, 04:56 AM
khalai makhloq sirif insanon ki zahni ikhtarah ka nam hay.QURAN E PAK main ALLAH RAB UL IZZAT ne har jagah AY JIN O INNS likha hay agar koi aur makhlooq hoti to uska bhi zikkar milta .khalai makhlooq sirif amerika k gard o niwah main hi nazar aati hay amerika main mukhtalif qissam k hathyyar banay ja rahy eh amrekiun ne hi khalai makhloq ka shosha chora hoa hay kiuk in ki aar main wo apni tecnology aur tajarbat ko aam logon se chupa rahy hain
aj tak aik bhi shital kock pakistan ya arrab mumalik main nazar kiu nahi aai.
۔








]

Rubab
20-06-2009, 04:59 AM
جواب دینے کے لئے شکریہ وش۔ یہ تو ویسے ہی دماغی مشق کے لئے سوالات لکھ دئیے تھے کہ یہاں پر ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں جن کا ٹھیک جواب دینا مشکل ہوتا ہے۔

ویسے سائنس فکشن موویز تو بہت مقبول ہیں انہیں دیکھ کر لوگ سوچتے تو ہونگے کہ اگر یہ سب حقیقت میں ہو تو کیسا ہو۔

ویسے جہاں تک سورج کے دو دو ہونے کی بات ہے تو ماہر فلکیات کے مطابق کائنات میں ایسے شمسی نظام موجود ہیں جہاں ایک سورج کے گرد سیارے گردش پزیر ہیں اور ان کے نزدیک ایسے ہی کسی دوسرے شمسی نظام میں زندگی موجود ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ فی الحال صرف خیالات ہیں ان کی تصدیق کے لئے کوئی ثبوت نہیں ہے۔

Rubab
20-06-2009, 05:04 AM
khalai makhloq sirif insanon ki zahni ikhtarah ka nam hay.QURAN E PAK main ALLAH RAB UL IZZAT ne har jagah AY JIN O INNS likha hay agar koi aur makhlooq hoti to uska bhi zikkar milta .khalai makhlooq sirif amerika k gard o niwah main hi nazar aati hay amerika main mukhtalif qissam k hathyyar banay ja rahy eh amrekiun ne hi khalai makhloq ka shosha chora hoa hay kiuk in ki aar main wo apni tecnology aur tajarbat ko aam logon se chupa rahy hain
aj tak aik bhi shital kock pakistan ya arrab mumalik main nazar kiu nahi aai.
۔








]
تاشفین! آپ نے بڑا اچھا نقطہ اٹھایا ہے۔ یہ واقعی ایک کانسپیریسی تھیوری ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ اکثر واقعات کی وضاحت بھی اسی طرح کی جاتی ہے کہ وہاں پر فضائیہ کا کوئی تجرباتی جہاز اڑ رہا تھا یا کوئی موسمیاتی غبارہ وغیرہ۔
اسی لئے میں نے یہ سوال بھی کیا تھا کہ کیا آپ میں سے کسی کو کبھی کوئی خلائی مخلوق نظر آئی ہے۔

Wish
20-06-2009, 05:08 AM
ویسے جہاں تک سورج کے دو دو ہونے کی بات ہے تو ماہر فلکیات کے مطابق کائنات میں ایسے شمسی نظام موجود ہیں جہاں ایک سورج کے گرد سیارے گردش پزیر ہیں اور ان کے نزدیک ایسے ہی کسی دوسرے شمسی نظام میں زندگی موجود ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ فی الحال صرف خیالات ہیں ان کی تصدیق کے لئے کوئی ثبوت نہیں ہے۔


ویسے اس بارے میں میرا علم تو زیرو ہی ہے، جب تک کوئی اس بارے میں علم والا نہیں آ جاتا تب تک میں تُکے ہی مارتی ہوں۔
دیکھیں سس، اگر ایسا کچھ ہوتا تو کیا اس کا تذکرہ کر نہ دیا جاتا قرآن میں؟ اور قرآن میں دو سورجوں کا نہیں بس مشرقوں کا مغربوں کا ذکر آیا، وہ میرا خیال ہے اس طرح سے ہے کہ سردیوں اور گرمیوں میں سورج کے طلوع اور غروب ہونے کی جگہ میں تھوڑی تبدیلی آ جاتی ہے، کسی اور کے پاس کوئی اور اس کی ڈیٹیل ہو تو ضرور دے۔
فلمیں تو بےشک ایسی بہت اپریشیئٹ کی جاتی ہیں، لیکن بس مجھے نہیں لگتا کہ اگر کوئی اتنی بڑی، خلائی مخلوق جیسی کوئی چیز ہوتی اس دنیا میں تو اس کا حوالہ بھی ضرور ہوتا قرآن میں۔

اور یار ویسے سورج بھی دو کیسے ہو سکتے ہیں؟ سورج کے لیئے آیا ہے نا قرآن میں کے وہ قیامت کے دن سوا نیزے پہ ہو گا۔ تو اگر ایک سے زیادہ ہوتے تو اس کے لیئے جمع کا صیغہ استعمال کر لیتے اللہ تعالیٰ۔ ۔ ۔ ۔
:)
کیا کہتی ہیں آپ اس بارے میں۔ ۔ ۔۔
سائنس کا کیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ اس نے تو انسان بھی بندروں سے بنا دیئے تھے ایک وقت میں۔

Rubab
20-06-2009, 05:18 AM
کوئی بات نہیں وش میں بھی تکے ہی لگا رہی ہوں۔ اور چاہتی ہوں کہ باقی لوگ بھی اس بارے میں تکے لگائیں اسی سے ذہن کھلتے ہیں اور نئی باتیں سمجھ میں آ جاتی ہیں۔

جہاں تک قرآن پاک میں ذکر نہ ہونے کا تعلق ہے تو ڈاکٹر ذاکر نائک کہتے ہیں کہ قرآن نشانیوں کی کتاب ہے یہ سائنس کی کتاب نہیں ہے کہ اس میں ہر فارمولہ اور اصول لکھا ہوا ہے اس میں کچھ نشانیاں دی گئی ہیں جن پر غور کرنا ہمارا کام ہے۔ تو میں یہاں یہی پوچھ رہی تھی کہ کیا قرآن میں ایسی کوئی نشانی موجود ہے جو اس طرف اشارہ کرتی ہو کہ کسی طرح کی خلائی مخلوق کا وجود ممکن ہے۔

آپ کی بات بھی درست ہے کہ قیامت والے دن سورج سوا نیزے پر ہوگا۔ لہٰزا دو سورج نہیں ہوسکتے۔

اور جہاں تک ڈارون کی تھیوری کی بات ہے تو وہ عجیب تو لگتی ہے۔ لیکن ایک نقطہ نظر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جیسے قرآن میں اللہ تعالیٰ کی خوبی بتائی گئی ہے کہ وہ مسبب السباب ہے یعنی وہ معجزے کی قدرت رکھتے ہوئے بھی سبب بناتا ہے۔ اور قرآن میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق 6 دنوں میں ہوئی اور جہاں تک میں سمجھتی ہوں یہ دنوں کا حساب ضروری نہیں زمین کے دنوں کے برابر ہو بلکہ اللہ کا ایک دن زمین کے 50 ہزار سالوں کے برابر بھی ہو سکتا ہے۔ لہٰزا یہ 6 دن ، 6 ادوار بھی ہو سکتے ہیں جس میں اللہ نے زمین پر انسان کی تخلیق کے لئے سبب بنائے ہوں۔

Wish
20-06-2009, 05:27 AM
خلائی مخلوق والی ایسی کوئی نشانی میری نظر یا فہم سے تو نہیں گزری۔
اور ہاں چھ دنوں والی بات تو ٹھیک ہے آپ کی، لیکن معذرت کے ساتھ میں آپ کا پوائنٹ سمجھی نہیں اس بات سے۔ ۔ ۔ ۔
ایسے ہی ایک بات کی ہے یا کسی بات کا ریفرنس دیا ہے؟

Rubab
20-06-2009, 05:29 AM
وہ آپ نے لکھا نا کہ انسان کو بندروں کی اولاد بنا دیا ہے اسی کے حوالے سے بات کی تھی کہ شاید ارتقا کا عمل ہوا ہو۔ وللہ علم۔

Wish
20-06-2009, 05:31 AM
وہ آپ نے لکھا نا کہ انسان کو بندروں کی اولاد بنا دیا ہے اسی کے حوالے سے بات کی تھی کہ شاید ارتقا کا عمل ہوا ہو۔ وللہ علم۔



ارتقاء کے لھاظ سے بھی بات کر لیں
لیکن ٹاپک سے ڈایئورٹ ہو جائیں گے۔
;)

Rubab
20-06-2009, 05:36 AM
ہان فی الحال تو خلائی مخلوق پر بات چل رہی ہے تو سب اسی حوالے سے اپنی رائے دیں۔ :)

Skyla
20-06-2009, 06:01 AM
بہت دلچسپ موضوع ھے میں اس بات پر یقین رکھتی ھوں کہ جسطرح یہ جہاں جس میں ھم رھتے ھیں اسکے متوازی اور بھی بہت سی دنیائیں آباد ھیں -جن سے انسانوں کا رابطہ پراسرا واقعات کی صورت میں کبھی کبھار ھوتا رھتا ھے-
اسی طرح اس دنیا کے علاوہ بھی ممکن ھے کھ جگہیں ھوں جہاں زندگی ھو-
کیونکہ عدم علم سے عدم وجودثابت نہیں ھوتا -
اسلیئے اگر ھم ایسا کچھ اب تک اپنی انکھ سے نہیں دیکھ سکے تو یہ اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ وجود ھی نہیں رکھتا-
سڈنی شیلڈن کا ایک ناول ھے جسکے آخر میں ایسے تمام سائنسدانوں کی ورلڈ وائیڈلسٹ ھے جو پچھلےڈیکیڈز میں پراسرار طور ٌپر ھلاک ھوگئے ان سب میں ایک بات مشترک تھی کہ کسی نا کسیطرح وہ سب مختلف حکومتوں کے ساتھ خلائی مخلوق یا دوسرے سیاروں میں زندگی کے ثبوت پر کام کررھے تھے-
کانسپیریسی تھیوری تو یہی کہتی ھے کہ فرسٹ ورلڈ کے ملکوں کے پاس خلائی مخلوق کی آمد کے ثبوت ھیں جنہیں چھپانے کےلیئے وہ راز سے واقف لوگ مروادیتے ھیں

Rubab
21-06-2009, 01:42 AM
ماہ بانو آپ نے بھی بڑا اچھا جواب دیا ہے۔ اور یہ آرگیومنٹ بھی بہت مضبوط ہے کہ عدم علم سے عدم وجود ثابت نہیں ہوتا۔ اس دنیا میں بہت سارے لوگ یہ ماننے والے ہیں کہ خلائی مخلوق کا ترقی یافتہ ممالک اور خصوصی طور پر امریکہ کی حکومت کے خلائی مخلوق کے ساتھ تعلقات ہیں لیکن وہ کسی مصلحت کی وجہ سے اس بات کو چھپائے ہوئے ہیں شاید اس کے پیچھے یہ وجہ ہو کہ ہم عام لوگ پتا نہیں اس خبر پر کس طرح کا ردعمل ظاہر کریں اور اس سے کسی قسم کی افرا تفری والی صورتحال نہ پیش آ جائے یا پھر شاید وہ مخلوق ہم سے زیادہ عقلمند اور ترقی یافتہ ہے اور امریکہ اس کی ترقی سے خود فائدہ اٹھا کر دنیا پر اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتا ہے۔

اب حقیقت کیا ہے اس بارے میں اللہ کے بعد یا تو امریکی حکومت ہی بتا سکتی ہے یا پھر وہ خلائی مخلوق(اگر ہے تو) جو امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔

اچھا یہ بھی تو بتائیں کہ کیا کبھی آپ نے یا آپ کے کسی جاننے والے نے کوئی اڑن طشتری یا کسی خلائی مخلوق کو دیکھا ہے۔

افلاطون
03-07-2009, 11:29 PM
السلام علیکم
اڑن طشتریوں کے بارے میں آپ دوستوں کے تاثرات پڑھے۔اکثر دوستوں کا خیال ہے کہ یہ سب چیزیں صرف فکشن ہیں جو کہ صرف فلموں میں ہی اچھی لگتی ہیں اور حقیقی زندگی میں ان کا عمل دخل نہیں ہے۔مگر میرے علم کے مطابق اڑن طشتریوں کا وجود ہے۔یہ دراصل دجال کے ہتھیار ہیں۔جنہیں وہ اپنے تاریک دور میں بطور ذریعہ آمدورفت استعمال کرے گا۔ہو سکتا ہے کہ اصل اڑن طشتریاں آن کی طرح نہ ہوں جس طرح کی سائنس فکشن فلموں میں دکھائی جاتی ہیں۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ آج کل پلازم کے ذریعے ایسے تجربات کیے جا رہے ہیں جن میں جہازوں کے آگے کی ہوا کو پلازما میں بدل دیا جائے گا۔اس طرھ کے جہاز صرف سات منٹ میں نیویارک سے اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔ مزید تفصیلات کیلئے دیکھئے ضرب مومن میں مفتی ابولبابہ کا آرٹیکل(دجال) بہر حال یہ ایک لمبی بحث ہے جس کا تذکرہ فی الحال مناسب نہیں ہے۔
رہی بات کسی غیر زمینی ذہیں مخلوق کی تو اس بارے میں انسان اور مشینوں کا علم ابھی تک خاموش ہے۔ابھی تک کوئی ایسی مخلوق دریافت نہیں ہوئی۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسی کسی مخلوق کا وجود نہیں۔ہو سکتا ہے کہ کائنات کے کسی دوردراز گوشے میں کوئی تہذیب پنپ رہی ہو اور ہمیں اس کا علم نہ ہو۔بہر حال سائنس اس معاملے میں اپنی پوری صلاحیتوں اور پوری تندہی کے ساتھ مصروف ہے۔حال ہی میں ناسا نے کپیلر مشن کے نام سے ایک خطیر رقم خرچ کر کے ایک مشن خلا میں روانہ کیا ہے جس کا کام خلا کے دور دراز کے علاقوں میں زمین سے مشبہ سیارے ڈھوندنا ہے۔ یاد رہے کہ ابھی صرف ایسے سیارے ڈھونڈے جا رہے ہیں جو زمین کی طرح گولڈی لاکس زون میں موجود ہوں۔ان سیاروں پر زندگی کا وجود ہونا نہ ہونا بعد کی بات ہے۔اس ضمن میں حالیہ پیش رفت یہ ہے کہسوئٹزر لینڈ مین واقع جنیوا کے ماہر فلکیات مایکل میئر نے دو نئے نئے سیارے دریافت کیے ہیں جو زمین سے بہت زیادہ مشابہ ہیں۔ان کی جسامت بھی زمین جتنی ہے اور ایک سیارہ اپنے ستارے سے نہایت مناسب فاصلے پر موجود ہے جہان مائع پانی ک موجودگی کے امکانات ہو سکتے ہیں۔ان سیاروں کے نام گلیزڈی اور گلیز ای ہیں۔یہ دونوں سیارے برج میزان میں ہیں جس کا زمین سے فاصلہ تقریباُ 20۔5 نوری سال ہے۔

zarbpk.blogspot.com

Gudo
12-07-2009, 08:47 AM
aslam-o-alikum

[42:30] وَ مِنْ اٰيٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ*ؕ وَهُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا يَشَآءُ قَدِيْرٌ‏

[42:30] And among His Signs is the creation of the heavens and the earth, and of whatever living creatures He has spread forth in both. And He has the power to gather them together when He pleases.
[42:30] اور اسکے نشانات میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور جو اس نے ان دونوں میں چلنے پھرنے والے جاندار پھیلا دیئے اور وہ انہیں اکٹھا کرنے پر خوب قادر ہے جب وہ چاہے گا۔


from this verse it can be possible that there r aliens in the universe and at some time may be we will be able to contact them even via talking only

Shami
24-08-2009, 11:46 PM
سمیرہ بہن !


آپ نے میرا پسندیدہ ٹاپک چھیڑ دیا۔ قرآن کے الفاظ ہیں"اس زمین اور آسمان پر جتنی بھی مخلوق ہے ان سب کا پیدا کرنے والا پروردگار ہے" اس سے اشارہ ملتا ہے کہ اس زمین کے علاوہ بھی زندہ مخلوق موجود ہے، یہ الگ بات ہے کہ انسان اپنی بے تحاشہ ترقی کے باوجود ابھی تک اس کا سراغ نہیں لگا پایا۔


اڑن طشتریوں کےقصے محض فلموں اور سائنس فکشن ناولوں تک ہی محدود نہیں ہیں، بلکہ مغرب میں اس موضوع پر بہت سی تحقیقی کتابیں بھی لکھی گئی ہیں جن میں ہزاروں لوگوں کی گواہیاں موجود ہیں کہ ہم نے اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کو دیکھا ہے۔ اس سلسلے میں میں جن چند ایک مشہور کتابوں کا مطالعہ کیا ان کے نام درج ذیل ہیں وقت ملے تو ان کا مطالعہ ضرور کیجے گا، آپ کو بہت کچھ ملے گا۔


The age of flying saucers


Flying saucers have landed


Flying saucers are real


Chariots of Gods?


ان میں آخری کتاب بہت زیادہ دلچسپ ہے اور اس پر ایک دلچسپ ڈاکومنٹری بھی بنائی گئی ہے۔ یہ کتاب صرف اڑن طشتریوں پر ہی بحث نہیں کرتی بلکہ خلائی مخلوق کے زمین کے وزٹ کے آثار کی سیر کراتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ بیرونی خلاء سے کچھ لوگ اس زمین کا وزٹ کر چکے ہیں، جو لوگ خلائی مخلوق کے وجود کے قائل نہیں ان کو اگر یہ کتاب پڑھا دی جائے تو وہ قائل ہو جائیں گے کیونکہ مصنف نے پختہ شواہد اور ناقا بلِ ترید ثبوت پیش کئے ہیں جن کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔


کافی عرصہ پہلے کی بات ہے میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا جس کا نام تھا


Not of this world


اس کتاب میں ایک جگہ لکھا ہے" کچھ سائنسدان شمالی امریکہ میں دنیا کی قدیم ترین چٹانوں کو کھود کر تحقیق کر رہے تھے تاکہ زمین کی عمر کا صحیح ترین تعین کیا جاسکے۔ انہیں کافی گہرائی سے ایک پیچ ملا۔سائنسدان بہت حیران ہوئے کہ یہ چٹانیں تو کروڑوں سال پرانی ہیں اور اتنی گہرائی میں ایک پیچ کیسے پہنچا؟ انہوں نے اس پیچ کا خوردبینی مشاہدہ کیا تو انہیں پتہ چلا کہ یہ پیچ انتہائی جدید مشین کی مدد سے بنایا گیا تھا اور اسکی چوڑی بتا رہی تھی یہ ذہانت اور کسی مشین کی مدد سے بنایا گیا ہے۔ اب پھر سوال اٹھا کہ یہ پیچ کروڑوں سال پہلے کی ان چٹانوں کی گہرائی میں کیسے پہنچا؟ کروڑوں سال پہلے تو شائد انسان کا وجود تک نہیں تھا، اگر تھا بھی تو انسان تو خود پتھر کے اوزار بناکر اپنی خوراک شکار کیا کرتا تھا، پھر اتنا جدید قسم کا پیچ کیسے بنا سکتا تھا؟ ان کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اسکی کیا توضیح پیش کریں۔ بلآخر سائنسدان صرف ایک تھیوری پر متفق ہوئے کہ کروڑوں سال پہلے کسی خلائی مخلوق نے زمین کا دورہ کیا ہوگا او یہ پیچ ان کے خلائی جہاز سے کھل کر علیحدہ ہو گیا ہوگا اور ان چٹانوں پر گر گیا ہوگا۔ پھر کروڑوں سال اس پیچ پر مٹی پڑتی رہی اور یہ گہرائی میں دفن ہوتا گیا" اب آپ ہی اس پیچ کی کوئی توضیح پیش کریں۔


دلی کے مشہور ٹاور قطب کی لاٹھ میں ایسا میٹریل استعمال کیا گیا ہے جو اس زمین پر نہیں پایا جاتا۔ وہ میٹریل کہاں سے آیا؟ یہ ابھی تک ایک راز ہے


۱۹۴۵ء میں امریکہ کے قصبہ جولائی


Roswell


میں ایک اڑن طشتری گری تھی جس کو سینکڑوں لوگوں نے گرتے دیکھا تھا، اور بعض نے تو اسکی باڈی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بھی چھپا لئے تھے۔ اس اڑن طشتری کے گرنے کی مختصر رپورٹ اس طرح ہے۔

On July 2, 1947, an object crash landed on a ranch, approximately 75 miles northwest of Roswell, leaving a large field of debris. The local air base at Roswell investigated after the rancher first reported it to Roswell authorities on July 6. On July 8, the Roswell Army Air Field (RAAF) announced it had recovered a "flying disk". A few hours after the initial "flying disk" press release, U.S. Army Air Force officials stated that it was not a UFO, but a weather balloon. When the question of what crashed was revived in the early 1980s, the "Roswell Incident" became a focus of conspiracy theorists, "abductees," and UFO investigators. It is believed the crashed UFO's were used for 'reverse engineering', explaining the rapid advancement in technology since that time.


اگر آپ پوری رپورٹ پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں


http://www.crystalinks.com/newmexico.html (http://www.crystalinks.com/newmexico.html)


میں نے ایک کتاب پڑھی تھی جس میں ایک صحافی روزویل گیا اور وہاں کے باشندوں سے گزارش کی کہ اگر آپ کے پاس اس اڑن طشتری کا کوئی ٹکڑا موجود ہوتو مجھے دکھایا جائے۔ ایک خاتون نے حامی بھری۔ صحافی لکھتا ہے" میں نے وہ براؤن رنگ کا ٹکڑا ہاتھ میں پکڑا اور اپنے لائیٹر سے اسے آگ دکھائی، لیکن وہ نہ تو جلا اور نہ ہی گرم ہوا"۔


ہماری یہ کائنات بے حدو حساب وسیع و عریض ہے۔ اس میں ایک ارب سے زائد کہکشائیں موجود ہیں۔ہمارہ مقامی کہکشاں (ملکی وے) میں بھی ایک ارب سے زائد ستارے موجود ہیں اور سورج ان میں سے ایک ہے جس کے گرد زندگی سے پر رونق ہماری زمین گردش کر ہی ہے۔ تو یہ بات بعید نہیں کہ اس کائنات کے کسی گوشی میں ہماری زمین جیسی خسوصیات کا حامل سیارہ موجود ہو اور وہاں زندگی بھی اپنا وجود رکھتی ہو۔ سائنسدانوں کو ایسے بہت سے سیارے ملے بھی ہیں لیکن ان پر تحقیق ابھی مکمل نہیں ہوئی اور سائنس حتمی طور کہنے سے معذور ہے کہ آیا وہاں زندگی ہے یا نہیں۔


میری تحقیق کے مطابق اس کائنات میں زندگی کا وجود اگر ہوا بھی تو انسان کبھی بھی اس مخلوق کے مسکن تک نہیں پہن پائے گا۔ اس وجہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو طبعی عمر اتنی کم عطا فرمائی ہے کہ وہ کائنات کے دور دراز مقامات تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔ مثلا، ہماری زمین سے قریب ترین ستارہ بھی چار نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ ایک خلائی جہاز خلا میں زیادہ سے زیادہ 60 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے، اور اس قریب ترین ستارےتک پہنچنے کے لئے بھی انسان کو ایک ارب، بانوے کروڑ بہتر لاکھ سال درکار ہونگے۔ پھر اگر ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک محض الیکٹرونی پیغام ہی بھیجا جائے تو وہ بھی ہزاروں سالوں میں اپنے مقام پر پہن سکے گا اور زمین سے پیغام بھیجنے والے ہزاروں سال پہلے وفات پاچکے ہونگے۔


ٹائپ کرتے انگیاں تھک گئی ہیں، آپ کے تبصرے کے مطابق مزید معلومات بعد میں شیئر کروں گا۔ ان ساری معلومات کی بنیاد قرآن ہے،اسی کی آیات کو پڑھ کر تحقیق کرتا رہتا ہوں کہ اس وقت انسان ترقی کے کونسے درجے پر ہے۔

Rubab
26-08-2009, 03:32 AM
شکریہ شامی بھائی!
آپ نے بہت دلچسپ معلومات فراہم کی ہیں اور اس ٹاپک کو آگے بڑھانے میں مدد کی ہے۔ مخلتف مخلوقات کے بارے میں، ایک پوسٹ میں نے کی تھی، یہاں (http://www.oneurdu.com/forums/showpost.php?p=931246&postcount=19) ملاحظہ کریں۔ لہٰزا آپ کی اس سوچ سے میں بھی متفق ہوں کہ اس کائنات میں مختلف انواع کی مخلوقات موجود ہیں۔ لیکن وہ ابھی تک ہماری نظروں سے اوجھل ہیں شاید ہمیں اتنی صلاحیتیں نہیں دی گئی ہیں کہ ہم ان کا کھوج لگا سکیں۔ بہر حال سائنس ان کی کھوج میں لگی ہوئی ہے دیکھیں اس کو کب کامیابی ہوتی ہے۔

خلائی مخلوقات کے بارے میں کافی ٹی وی ڈاکومنٹریز بھی دستیاب ہیں۔ ان میں سے کچھ میں یہ لوگ اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ ہاں جی خلائی مخلوق کا وجود ہے اور کچھ میں وہ لوگ انکار کر دیتے ہیں۔ اب اصلیت کیا ہے یہ کہنا مشکل ہے۔ اس سلسلے میں آپ کی تحقیق اور مطالعہ کافی مددگار ہو سکتا ہے۔ اس لئے آپ ضرور اس کو شئیر کریں کیونکہ یہ بہترین بات ہوگی کہ اگر ہم اس موضوع کو قرآنی معلومات کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کریں۔

سلمان خان
26-08-2009, 04:03 AM
یہ سب خیالی باتیں ہیں جو کچھ دماغ میں آجائے اس کے بارے میں بحث کر لی جائے اور ایسی بحث جس کا نہ کوئی سر ہو نہ کوئی پیر ۔ ٹی وی پر بننے والی فلموں کی حقیقت ننانوے فیصد جھوٹ ایک فیصد سچ لیکن جس چیز کو دیکھ کر بحث ہو رہی ہے اس کا شمار سچ میں کیا جائے یا جھوٹ میں کون یقین سے کہ سکتا ہے۔ اگر صرف خیالی باتیں ٹائم پاس کرنے کے لیے کی گئی ہیں تو سچ سمجھ لیتے ہیں ورنہ جھوٹ سمجھی جائیں گی انسان اپنے پاس پڑی ہوئی چیز ٹھیک سے دیکھ نہیں پاتا پھر کیا ضروری ہے خلا میں جھانکا جائے میری نظر میں یہ سوال اہم معلومات کا زریعہ شاید ہو سکتا ہے لیکن سوال کرنے والا خود خیالی پلاو پکانا شاید اچھی طرح جانتا ہے۔ انسان کو حقیقی سوچ رکھنی چاہیے نا کے بیکار کے شغل کیے جائیں۔ اگر کسی کو میری بات سے تکلیف پہنچے تو معافی چاہتا ہوں۔۔۔۔

Shami
26-08-2009, 09:32 PM
یہ سب خیالی باتیں ہیں جو کچھ دماغ میں آجائے اس کے بارے میں بحث کر لی جائے اور ایسی بحث جس کا نہ کوئی سر ہو نہ کوئی پیر ۔ ٹی وی پر بننے والی فلموں کی حقیقت ننانوے فیصد جھوٹ ایک فیصد سچ لیکن جس چیز کو دیکھ کر بحث ہو رہی ہے اس کا شمار سچ میں کیا جائے یا جھوٹ میں کون یقین سے کہ سکتا ہے۔ اگر صرف خیالی باتیں ٹائم پاس کرنے کے لیے کی گئی ہیں تو سچ سمجھ لیتے ہیں ورنہ جھوٹ سمجھی جائیں گی انسان اپنے پاس پڑی ہوئی چیز ٹھیک سے دیکھ نہیں پاتا پھر کیا ضروری ہے خلا میں جھانکا جائے میری نظر میں یہ سوال اہم معلومات کا زریعہ شاید ہو سکتا ہے لیکن سوال کرنے والا خود خیالی پلاو پکانا شاید اچھی طرح جانتا ہے۔ انسان کو حقیقی سوچ رکھنی چاہیے نا کے بیکار کے شغل کیے جائیں۔ اگر کسی کو میری بات سے تکلیف پہنچے تو معافی چاہتا ہوں۔۔۔۔

سلمان بھائی،
میں آپ کی بات کو رد نہیں کرسکتا، کیونکہ جس طرح سائنس کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں کہ خلائی مخلوق کے وجود کو ثابت کیا جاسکے، اسی طرح میرے پاس بھی ثبوت تو نہیں ہے، لیکن میرا مشورہ ہے کہ آپ دنیا کی مشہور کتاب
Chariots Of Gods?
کا مطالعہ ضرور کریں، اس سلسلے میں آپ کو بہت سی مفید اور نئی نئی باتیں معلوم ہونگی۔ اگر اس سلسلے میں آپ نے کچھ تحقیق ہی نہیں کی تو میں کیا کہ سکتا ہوں۔ اسی کتاب کے چند اہم پوائنٹ آپ کے جواب کے بعد تحریر کرتا ہوں۔

Gudo
27-08-2009, 08:28 PM
aslam-o-alikum
thank u shami bro for sharing the imp info i am waiting for ur imp points to read

one of Allah attribute is the Creater

and as muslims we believe that all His attributes works all time so in my opinion this single attribute

gives the proof that there r many creatures in the universe and on discovery channel they recently

showed the doc Edge of the universe it was amazing to see that how vast is the universe and how tiny

is our solar system

and the Qurran supports it to and qurran also support the idea that we will some time get the proof of

aliens

if not physical contact at least a radio contact will happen

سلمان خان
29-08-2009, 02:40 AM
سلمان بھائی،
میں آپ کی بات کو رد نہیں کرسکتا، کیونکہ جس طرح سائنس کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں کہ خلائی مخلوق کے وجود کو ثابت کیا جاسکے، اسی طرح میرے پاس بھی ثبوت تو نہیں ہے، لیکن میرا مشورہ ہے کہ آپ دنیا کی مشہور کتاب
Chariots Of Gods?
کا مطالعہ ضرور کریں، اس سلسلے میں آپ کو بہت سی مفید اور نئی نئی باتیں معلوم ہونگی۔ اگر اس سلسلے میں آپ نے کچھ تحقیق ہی نہیں کی تو میں کیا کہ سکتا ہوں۔ اسی کتاب کے چند اہم پوائنٹ آپ کے جواب کے بعد تحریر کرتا ہوں۔

شامی بھائی بات مطالعے کی نہیں ہو رہی خیالات کی ہو رہی ہے ویسے آپ مجھے مطالعے کا مشورہ دے رہے ہیں میں خدا کی خدائی سے کب انکار کر رہا ہوں میرا مقصد تو کچھ لوگوں کی بکھری ہوئی سوچ سمیٹنے سے ہے جنات کو اگر خلائی مخلوق سمجھا جائے تو میں مان لونگا چلیں میں اس ٹاپک کو ایک لمحے کے لیے سچ سمجھ لیتا ہوں لیکن کیا میرے سمجھ لینے سے سب کی سمجھ میں یہ سمجھ سما جائے گی میرے جواب کا مقصد کسی کی نفی کرنا نہیں ہے باقی آپ سمجھدار ہیں۔

Rubab
29-08-2009, 02:53 AM
شامی بھائی بات مطالعے کی نہیں ہو رہی خیالات کی ہو رہی ہے ویسے آپ مجھے مطالعے کا مشورہ دے رہے ہیں میں خدا کی خدائی سے کب انکار کر رہا ہوں میرا مقصد تو کچھ لوگوں کی بکھری ہوئی سوچ سمیٹنے سے ہے جنات کو اگر خلائی مخلوق سمجھا جائے تو میں مان لونگا چلیں میں اس ٹاپک کو ایک لمحے کے لیے سچ سمجھ لیتا ہوں لیکن کیا میرے سمجھ لینے سے سب کی سمجھ میں یہ سمجھ سما جائے گی میرے جواب کا مقصد کسی کی نفی کرنا نہیں ہے باقی آپ سمجھدار ہیں۔
سلمان بھائی! آپ کے خیالات کی میں قدر کرتی ہوں۔ ہوسکتا ہے آپ کے جوابات کی مدد سے مجھے اپنے بکھرے ہوئے خیالات کو سمیٹنے میں مدد مل سکے۔ آپ کے علاوہ بھی یہاں کافی سارے ساتھیوں نے جوابات دے کر میری کافی مدد کی ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ سوال کرنے کے وقت کے بعد سے اب تک میری معلومات میں کافی اضافہ ہوا ہے اور سوچیں بھی کچھ سمٹ گئی ہیں۔ لیکن ظاہر ہے سمجھ ہر شخص کی اپنی اپنی ہوتی ہے لہٰزا جو باتیں آپ کے لئے قابل فہم ہیں وہ شاید میرے لئے مشکل ہوں۔

یہ سوال میں نے یہاں اس لئے اٹھائے کیونکہ اس سیکشن میں ان سوالوں پر بات کی جاتی ہیں جن کا کوئی واضح جواب ابھی تک ڈھونڈا نہ جا سکا ہو۔ اگر میرے ان سوالوں کی وجہ سے آپ کا وقت ضائع ہوا ہے یا کسی بھی طرح آپ کو تکلیف پہنچی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔

سلمان خان
29-08-2009, 03:18 AM
سلمان بھائی! آپ کے خیالات کی میں قدر کرتی ہوں۔ ہوسکتا ہے آپ کے جوابات کی مدد سے مجھے اپنے بکھرے ہوئے خیالات کو سمیٹنے میں مدد مل سکے۔ آپ کے علاوہ بھی یہاں کافی سارے ساتھیوں نے جوابات دے کر میری کافی مدد کی ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ سوال کرنے کے وقت کے بعد سے اب تک میری معلومات میں کافی اضافہ ہوا ہے اور سوچیں بھی کچھ سمٹ گئی ہیں۔ لیکن ظاہر ہے سمجھ ہر شخص کی اپنی اپنی ہوتی ہے لہٰزا جو باتیں آپ کے لئے قابل فہم ہیں وہ شاید میرے لئے مشکل ہوں۔

یہ سوال میں نے یہاں اس لئے اٹھائے کیونکہ اس سیکشن میں ان سوالوں پر بات کی جاتی ہیں جن کا کوئی واضح جواب ابھی تک ڈھونڈا نہ جا سکا ہو۔ اگر میرے ان سوالوں کی وجہ سے آپ کا وقت ضائع ہوا ہے یا کسی بھی طرح آپ کو تکلیف پہنچی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔

سوال جیسا بھی کیا جائے اسے سمجھ کر جواب دینا چاہییے میں نے بھی کچھ ایسا ھی کرنے کی کوشش کی ہے آپ کا سوال کرنا غلط نہیں ہے آپ کسی بھی انہونی بات کو سوال بنا سکتی ہیں اور میرے جواب کو اسطرح نہ لیا جائے کے آپ کو اپنا سوال غلط لگے آپ نے سوال کیا میں نے اپنی سمجھ سے جواب دیا۔ رہی میرے وقت ضائع ہونے کی تو ایسی کوئی بات نہیں ہے ہم یہان وہی وقت سرف کرتے ہیں جو ہمارے پاس بچ جاتا ہے اور آپ یہ بات زہہن سے نکال دیں کے مجھے آپ کی باتوں سے تکلیف پہنچ سکتی ہے ایسا ہرگز نہیں ہے میں انہی ٹاپک کو پڑھتا ہوں جو مجھے آسانی سے سمجھ آجائیں۔

Shami
29-08-2009, 11:01 PM
سوال جیسا بھی کیا جائے اسے سمجھ کر جواب دینا چاہییے میں نے بھی کچھ ایسا ھی کرنے کی کوشش کی ہے آپ کا سوال کرنا غلط نہیں ہے آپ کسی بھی انہونی بات کو سوال بنا سکتی ہیں اور میرے جواب کو اسطرح نہ لیا جائے کے آپ کو اپنا سوال غلط لگے آپ نے سوال کیا میں نے اپنی سمجھ سے جواب دیا۔ رہی میرے وقت ضائع ہونے کی تو ایسی کوئی بات نہیں ہے ہم یہان وہی وقت سرف کرتے ہیں جو ہمارے پاس بچ جاتا ہے اور آپ یہ بات زہہن سے نکال دیں کے مجھے آپ کی باتوں سے تکلیف پہنچ سکتی ہے ایسا ہرگز نہیں ہے میں انہی ٹاپک کو پڑھتا ہوں جو مجھے آسانی سے سمجھ آجائیں۔

سلمان بھائی،
میں آپ سب کے لئے ایک ڈاکومنٹری فلم، جو کہ ایک مشہور کتاب پر مبنی ہے اسکا خلاصہ تحریر کر رہا ہوں، بجلی کی وجہ سے تین بار میرا لکھا ہوا سارا کام ضائع ہو گیا اور آپ کو پوسٹ نہ کر سکا۔ اب ورڈ میں ٹائُپ کر رہا ہوں کہ اس میں ریکوری کی تھوڑہ بہت سہولت موجود ہے۔ یہ مکمل ہو جا ئے تو پھر اس موضوع پر بھرپور بحث کریں گے اور کسی نتیجے پر پہنچیں گے۔
یہ تحریر بھی کچھ لمبی ہے، اس لئے تائم لے رہی ہے۔

سلمان خان
31-08-2009, 05:23 AM
سلمان بھائی،
میں آپ سب کے لئے ایک ڈاکومنٹری فلم، جو کہ ایک مشہور کتاب پر مبنی ہے اسکا خلاصہ تحریر کر رہا ہوں، بجلی کی وجہ سے تین بار میرا لکھا ہوا سارا کام ضائع ہو گیا اور آپ کو پوسٹ نہ کر سکا۔ اب ورڈ میں ٹائُپ کر رہا ہوں کہ اس میں ریکوری کی تھوڑہ بہت سہولت موجود ہے۔ یہ مکمل ہو جا ئے تو پھر اس موضوع پر بھرپور بحث کریں گے اور کسی نتیجے پر پہنچیں گے۔
یہ تحریر بھی کچھ لمبی ہے، اس لئے تائم لے رہی ہے۔

اگر آپ خلائی موضوع کے بارے میں کسی فلم کی اسٹوری کو تحریر کر رہے ہیں تو کوشش کریں کے اردو زبان میں ہی محنت کی جائے تاکے میرے جیسے دوسرے پڑھنے والوں کو سمجھ آسکے زیادہ تفصیل میں نہ جائیں جس سے آپ کی مشکلات میں اضافہ ہو خلاصے کو مختصر کر دیں خاص پوائنٹ میرے خیال سے کسی بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

Shami
01-09-2009, 11:34 PM
اگر آپ خلائی موضوع کے بارے میں کسی فلم کی اسٹوری کو تحریر کر رہے ہیں تو کوشش کریں کے اردو زبان میں ہی محنت کی جائے تاکے میرے جیسے دوسرے پڑھنے والوں کو سمجھ آسکے زیادہ تفصیل میں نہ جائیں جس سے آپ کی مشکلات میں اضافہ ہو خلاصے کو مختصر کر دیں خاص پوائنٹ میرے خیال سے کسی بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

سلمان بھائی،میں سٹوری رائٹر نہیں ہوں،علم کا متلاشی انسان ہوں۔ اگر ایک چیز کو آپکا ذہن قبول نہیں کر رہا تو اسکا یہ مطلب تو ہرگز نہیں ہے کہ اس کا وجود بھی نہیں ہوگا۔ جب کہ یہ بات(جس سے آپ انکاری ہیں)۔ قرآن سے بھی ثابت ہوتی ہے، ہم لوگ تو صرف یہ تحقیق کر رہے ہیں کہ اس سلسلے میں انسانی کاوشیں کہاں تک کامیاب ہوئی ہیں۔
آپ کے صرف ایک جملے نے ثابت کر دیا ہے کہ آپ کا مطالعہ کتنا وسیع ہو گا کہ میں اسے اردو میں تحریر کروں۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ اس سلسلے میں جتنا بھی کام ہوا ہے وہ مغربی محققین نے کیا ہے اور اردو زبان میں اس قسم کی تحقیقی کتاب کا کسی نے ترجمہ تک نہیں کیا۔
اگر آپ علم کے کسی سنجیدہ مسئلہ کی گہرائی تک پہنچنا چاہتے ہیں تو انگریزی کتابوں کا مطالعہ کریں، اردو زبان میں اس سلسلے میں کچھ نہیں ہے۔ میں اصرار نہیں کرتا کہ خلائی مخلوق کا وجود ہے، لیکن قرآن کی آیات جو اس سلسلے میں روشنی ڈالتی ہیں آپ ان کو کس کھاتے میں ڈالیں گے۔ مجھے آپکی بات سے دکھ پہنچا ہے، ہم یہاں ایک دوسرے کے علم میں اضافہ کرنے اکٹھے ہوتے ہیں، نہ کہ دوسرے کا مذاق اڑانے کے لئے۔ میں خود بھی حقیقت پسند انسان ہوں، یقین نہ آئے تو
About me
کی دوسری قسط پڑھ کر دیکھ لیں کہ میں کتنا حقیقت پسند ہوں۔ لیکن میں قرآنی آیات پر پختہ یقین رکھتا ہوں اور یہ بھی میریے حقیقت پسند ہونے کی دلیل ہے۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو جدید سائنس اور قرآنی آیات کا تقابل کر کے دیکھ لیں۔ بات یہ ہے کہ انسانی علم ابھی بہت محدود ہے، اسے قرآنی پیش گوئیوں کی حقیقت پانے میں مزید وقت لگے گا۔
سائٹ لانچ کرنے کی تیاریوں میں مییری سائنس فشکن سٹوری بھی مکمل نہیں ہو پارہی، لیکن بہت جلد آپکی خدمت میں پیش کروں گا۔
میری بات آپ کو بری لگی ہو تو میں معافی چاہتا ہوں۔

Amaan
05-09-2009, 11:42 PM
السلام علیکم

شامی بھائی آپ کے اس آرٹیکل بمع ترجمہ کا انتظار ہے۔

Rubab
05-09-2009, 11:50 PM
بالکل شامی بھائی! میں بھی انتظار کر رہی ہوں۔

Biya
06-09-2009, 05:25 PM
ہم سب انتظار کر رہے ہیں شامی بھائی۔
آپ کو جیسے ہی فراغت ہو ہم سے ضرور شیئر کیجیئے گا ۔

:)

Shami
08-09-2009, 12:56 AM
Chariots Of Gods



پر مبنی ڈاکومنٹری کے اہم نکات



نوٹ: یہ ڈاکومنٹری فلم میں نے تقریبا 15 برس قبل دیکھی تھی،معلومات میں چھوٹی موٹی غلطی کو حافظے کا نقص سمجھا جائے۔ اگر امیج اٹیچ کرنے کی سہولت ہوتی تو متعلقہ تصاویر سے اسے مزید خوبصورت بنایا جاسکتا تھا۔



فلم شروع ہونے پر کیمرہ رات کے تاریکی میں ستاروں بھرے آسمان کی طرف ہے اور پس منظر میں کمنٹیٹر کی آواز ابھرتی ہے۔" رات وقت اگر ہم آسمان کی طر نگاہ دوڑائیں تو ہمیں بہت سے ستارے نظر آتے ہیں۔ ہم رات کے وقت ننگی آنکھ( انگریزی اصطلاح) سے زیادہ سے زیادہ 4500 ستارے دیکھ سکتے ہیں، لیکن اگر ہم معمولی طاقت کی دوربین سے بھی دیکھیں تو ان ستاروں کی 2 لاکھ تک پہنچ جاتی ہے اورا گر ہم اچھی طاقت کی دوربین سے دیکھیں تو ستاروں کی تعداد کروڑوں تک پہنچ جاتی ہے۔ ہماری کہکشاں( ملکی وے) میں 30 ارب سے زیادہ ستارے موجود ہیں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف ہماری کہکشاں میں 18 ہزار ایسے ستارے موجود ہیں جن میں زندگی کا وجود پایا جاسکتا۔۔ ہمارا نظامِ شمسی ہماری اس مقامی کہکشاں کے خوفناک حد تک وسیع خلاء میں ایک ذرہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور ہماری کائنات میں کہکشاؤں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہے۔



ماہرین فلکیات کے مطابق ہزاروں ستاروں میں سے صرف ایک ستارے کے گرد ہمارے نظامِ شمسی کی طرح کا نظام ہوتا ہے ایسے ہزاروں ستاروں میں سے صرف ایک ستارے کے نظام میں ایسے سیارے ہوسکتے ہیں جن پر زمین جیسا ماحول پایا جاتا ہو۔



اگر ہم بائیو کیمسٹ ڈاکٹر ایس۔ ملر کی تھیوری سے اتفاق کریں کہ زمین کی نسبت دوسرے سیاروں پر زندگی کی بنیاد کے لئے ماحول جلدی بننا شروع ہوگیا تھا تو اس حساب سے ان سیاروں پر رہنے والے ہم سے کئی گنا ترقی یافتہ ہونگے۔




کافی لمبی تمہید اور اعداد شمار کے بعد میزبان اس دعویٰ کرتا ہے کہ اس کائنات اور بیرونی خلاء میں ناصرف زندگی کا وجود ہے، بلکہ وہ انتہائی ترقی یافتہ ہیں اور اپنے خلائی جہازوں میں بیٹھ کر ہماری زمین کا وزٹ بھی کر چکے ہیں، یقین نہیں آتا؟ آئیے ہم ثابت کرتے ہیں۔



اسکے بعد بھارت میں واقع ایک عجائب گھر کا منظر سامنے آتا ہے۔ ایک جگہ ایک انسانی قد کے برابر ایک شیشے کا تابوت نما صندوق رکھا ہے جس کے آر پار دیکھا جاسکتا ہے۔ اس صندوق میں ایک کافی بڑے حجم کی کی کتاب رکھی ہے۔ میزبان بتاتا ہے،



"یہ کتاب چھ ہزار سال پرانی ہے اور اسے ہندوں کے ایک مذہبی پیشوا نے لکھا تھا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس میں کیا ہے؟" اسکے بعد وہاں پر موجود ایک آدمی شیشے کے صندوق کا ڈھکن کھول کر کتاب کا ایک صفحہ کھولتا ہے۔ یہ صفحہ تصویری ہے، اس تصویر میں دکھا یا گیا کہ چند آدمی آسمان کی طرف نظر کئے کھڑے ہیں اور آسمان پر بہت کم بلندی سے ایک چھوٹاخلائی جہاز گزر رہا ہے، جس میں موجود خلا باز کا ہیلمٹ بھی نظر آرہا ہے۔



میزبان کہتا ہے" یہ کتاب چھ ہزار سال پرانی ہے، اس وقت اس کتاب کے مصنف یا اس تصویر کے مصور کو یہ خیال کیسے آیا ہوگا کہ اس طرح کی چیز( خلائی جہاز وغیرہ) بھی دنیا میں پایا جاتا ہے۔ خلائی مخلوق کے وجود کا نظریہ زیادہ پرانا نہیں ہے، بلکہ جنگِ عظیم دوئم کے بعد، جب اڑن طشتریاں زیادہ تعداد میں دیکھی جانے لگیں، تب سے یہ تصور



پختہ ہوا کہ اس کائنات میں کوئی دوسری مخلوق بھی پائی جاتی ہے۔ ظاہر ہے اس تصویر کے مصور نے زندگی ایسا منظر دیکھا ہوگا جسے اس نے اس تصویر میں ظاہر کیا ہے، وگرنہ چھ ہزار سال پہلے کیا انسانی دماغ اس قابل تھا کہ اس طرح کی سائنس فکشن تصویر بنانے کا اہل ہو سکتا۔"



اسکے بعد کیمرہ ہمیں اٹلی کے پہاڑوں میں واقع ایک دور افتادہ قصبے میں لے جاتا ہے، چاروں طرف سے ہرے بھرے خوبصورت پہاڑوں کے درمیان ایک چرچ نظر آتا ہے کیمرہ چرچ میں داخل ہوتا ہے اور اسکی دیواروں کا منظر دکھاتا ہے، جہاں بڑی بڑی تصویریں بنی ہوئی ہیں، ان میں ایک تصویر میں ایک خلاء باز خلائی جہاز میں بیٹھا اپنے



ہیلمٹ میں سے باہر جھانک رہا ہے۔ میزبان کہتا ہے" یہ چرچ تقریبا چار سو سال پرانا ہے، یہ وہ وقت تھا جب ابھی ہوائی جہاز کا تصور بھی موجو نہیں تھا، تو پھر اس تصویر کے مصور نے یہ تصویر کیسے بنائی؟ ہم کہتے ہیں کہ اس نے اس طرح کی کوئی چیز خلاء میں گزرتی دیکھی ہوگی اور اس نے اسے ایک یادگار واقع سمجھتے ہوئے اسے محفوظ کر لیا۔ ایسے ہی جیسے ہم کسی اہم منظر کو کیمرے سے محفوظ کرلیتے ہیں۔"



اسکے بعد( اصل ڈاکومنٹری اور میرے بیان میں واقعات کی ترتیب میں فرق ہوسکتا ہے، کیونکہ یہ ڈاکومنٹری کافی عرصہ پہلے دیکھی تھی) کیمرہ ہمیں جاپان کے ایک دور دراز پہاڑ کی چوٹی پر لیجاتا ہے، جہاں شاذو نادر ہی کوئی گیا ہوگا۔ وہاں کسی سفید چیز سے ایک پتھر پر ایک سادہ سی لیکن نسبتا بڑی تصویر بنی ہوئی ہے، جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک خلائی جہاز میں خلاء باز بیٹھا ہوا ہے۔ میزبان کہتا ہے" یہ تصویر پتہ نہیں کتنی پرانی ہے، البتہ ان دور دراز



پہاڑوں پر اور خاص طور پر اس چوٹی پر شائد ہی کبھی کوئی انسان آیا ہو گا۔ یہ تصویر نیچی پرواز کرتے ایک ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے دریافت کی تھی اور بہت حیران ہوا تھا"



اسکے بعد کیمرہ اسرائیل کے پہاڑی ویرانوں میں لے جاتا ہے، جہاں تقریبا 50 فٹ لمبے اور 30 فٹ چوڑے پتھر کے بلاک پڑے ہوئے ہیں، باکل ویسے ہی جیسا برف کا بلاک ہوتا ہے۔ میزبان کہتا ہے، یہ بڑے بڑے بلاک بلا شبہ ہزاروں سال پرانے ہیں اور ان کی ساخت بتاتی ہے کہ انہیں کسی جدید قسم کی مشینری سے تراشا گیا ہے، اب آپ تصور کریں کہ ماضی میں ایک ہولناک زلزلہ آتا ہے اور پہاڑ کی چوٹی سے بڑے بڑے پتھر لڑک کر نیچے آگرتے ہیں، تو کیا انکی شکل ایسی ہو گی جیسے یہ نظر آ رہے ہیں؟ نہیں، انکی باکل ہموار سطح بتاتی ہے کہ یہ کیوبز کسی مشینری سے بنائے گئے ہیں، ہزاروں سال پہلے ایسی کونسی مشینری تھی؟ بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ انسان نے ابھی تک اتنا بڑا کٹر نہیں بنیا ہوگا جو اتنے بڑے بڑے پتھروں کو اس شکل میں کاٹ سکے۔ ہمارا یہ خیال ہے کہ کسی وقت اس زمین پر دوسرے سیارے سے کچھ "لوگ" آئے اور اپنی ایک نشانی زمین والوں کے لئے چھوڑ گئے، ورنہ ایسے بلاک اس وقت کا انسان کیسا بنا سکتا تھا اور کیوں بناتا؟ جبکہ آس پاس کوئی تعمیر بھی موجود نہیں ہے جہاں استعمال کے لئے یہ بڑے بڑے بلاک تراشے گئے؟



اسکے بعد کیمرہ ہمیں ایک جگہ لیجاتا ہے( جگہ کا نام یاد نہیں آرہا) یہ جگہ پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے اور ایک مسطح پتھریلی جگہ پر تقریبا تیس چالیس فٹ قطر کا ایک دائرہ بنا ہوا ہے اور دائرے کے اندر کا سارا حصہ ایسا لگتا ہے جیسے اسے پگھلایا گیا ہو۔ دائرہ بے حد واضح ہے اور پتھر کا پگھلاؤ بھی صاف نظر آتا ہے۔ میزبان کہتا ہے۔



" آپ ذرا تصور کریں کہ ان دور افتادہ پہاڑوں میں یہ دائرہ کیسے بنا ہوگا؟ کیا کسی آتش فشاں پہاڑ نے لاوہ اگلا اور یہ بعد میں اس طرح جم گیا؟ میں کہتا ہوں نہیں، کیوں کہ اگر یہ آتش فشاں کا لاوہ ہوتا تو وہ پہاڑی شکل میں ایک ٹیلہ سا بنا دیتا، جبکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ جگہ بالکل ہموار ہے، اور آس پاس کسی آتش فشاں پہاڑ کا کوئی وجود بھی نہیں ہے، اور ویسے بھی آتش فشاں کا لاوہ صاف پہچانا جاتا ہے، لیکن اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ صرف پتھریلی سطح کا اوپری حصہ پگھل کر پھر سے جم گیا ہے، آپ بتائیں کہ ایسا کیسا ہوا ہوگا؟ چلئے میں آپکو بتاتا ہوں۔



یہاں کسی وقت زمین کے مہمانوں کا خلائی جہاز لینڈ ہوا، اور جب وہ واپش جانے لگے تو راکٹ کے پچھلے حصے سے جو گیسیں اور تیز آگ برآمد ہوتی ہے اس آگ نے اس حصے کو پگھلا دیا ہوگا( آپ نے با رہا ٹی وی پر کسی خلائی شٹل کی زمین سے روانگی کا منظر دیکھا ہوگا، کہ کیسی خوفناک آگ سینکڑوں فٹ تک نکلتی ہے)



اس کے بعد منظر بدلتا ہے اور ہم زمین پر کھڑے ہیں، ہمارے سامنے لمبے لمبے اور چوڑے نالے(خشک) نظر آرہے ہیں۔ ایک آدمی ان نالوں میں گھوم پھر رہا ہے اور کافی دور تک چلا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ انہیں نالوں میں چلتا موڑ کاٹتا نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ اور سمجھ نہیں آتی کہ کیا ہے۔ کیمرہ زمین سے کافی اوپر اٹھتا ہے ، تاحدِ نظر لمبی لمبی موٹی موٹی لکیروں کا جال سا بنا نظر آتا ہے، لیکن پھر بھی ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتے کہ کیا ہے۔ میزبان کہتا ہے، زمین پر چلتے شائد آپ کو اندازہ نہ ہو سکے کہ یہ کیا ہے، آئیے ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟



اس کے بعد میزبان ہمیں ایک ہوائی جہاز پر سوار کرالیتا ہے اور کچھ دیر کہتا ہے" اس وقت ہم تیس ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہے ہیں اور ہم زمین پر موجود کسی بھی چھوٹی چیز کو دیکھنے سے قاصر ہیں، اتنے میں کیمرہ مڑتا ہے اور میزبان کہا ہے" ہم زمین پر جو چیز آپ کو دکھانے کی کوشش کی تھی وہ یہ ہے۔



اور ہم دیکھتے ہیں کہ زمین پر ایک بہت بڑے رقبے پر محیط کچھ تصویریں بنی ہوٰ ہیں، یہ تصویریں زمین پر گہری خراشیں( نالے) ڈال کر بنائی گئی ہیں اور ہر تصویر کا سائز میلوں میں ہے۔ سب سے پہلے مکڑی کی تصویر نظر آتی ہے،جہاز کافی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے ہمیں اس مکڑی کی مکمل اور واضح تصویر دکھاتا ہے، اسکے بعد ایک اور تصویر سامنے آتی ہے، یہ ہمنگ برڈ کی تصویر ہے، اسکے بعد ایک مچھلی کی تصویر ہے اور یہ سب تصویں بلا مبالغہ ایک بہت بڑے ایرے پر بنائی گئی ہیں۔میزبان کہتا ہے، یہ پیرو میں واقع نازکا لائنز ہیں (ان تصویروں کو گوگل کے اس لنک سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔)



http://images.google.com.pk/images?imgsz=l&gbv=2&hl=en&q=nazca%20lines&ndsp=20&imgtbs=z&um=1&ie=UTF-8&sa=N&tab=wi (http://images.google.com.pk/images?imgsz=l&gbv=2&hl=en&q=nazca%20lines&ndsp=20&imgtbs=z&um=1&ie=UTF-8&sa=N&tab=wi)



میزبان کہتا ہے، کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ یہ تصویریں زمین سے بنائی گئی ہونگی۔ میں کہتا ہوں کہ جب یہ تصویریں زمین پر کھڑے ہو کر دیکھی ہی نہیں جاسکتیں تو ان کے بنانے کا سوال بہت دور ہے۔ ہمارا یہ خیال ہے کہ زمین کے اس حصے پر کبھی بیرونی دنیا کے خلاء نوردوں نے قبضہ کیا ہوا تھا اور یہاں اپنا ائیر پورٹ بھی بنا رکھا تھا ( ایر پورٹ اور رن وے کی تصاویر بھی دیکھی جاسکتی ہیں)



آج سے ہزاروں سال قبل جب ہوائی جہازوں کا تصور بھی نہیں تھا، پھر یہ تصویریں کیسے بنائی گئی ہونگی؟ اور ہزاروں سال ہی قبل اس طرح کے لمبے لمبے اور جدید رن وے بنانے کی آخر ضرورت کیوں پیش آئی؟ اسکا مطلب یہ ہے وہ لوگ ادھر اپنے خلائی جہاز اتارتے تھے۔



اگر آپ اس قسم کی مزید تصاویر کی سرچ کرنا چاہیں تو گوگل سرچ انجن میں



nazca lines



ٹائپ کریں اور خود بھی کسی نتیجے پر پہنچیں۔



اسکے بعد کیمرہ ہمیں مصر کے اہراموں میں لے جاتا ہے اور سب سے بڑے اہرام پر کھڑے ہو کہتا ہے، یہ اہرام تین چار ہزار سال پہلے بنائے گئے، ان کا ہر پتھر دس سے ساٹھ ٹن تک وزنی ہے، کیا اسطرح کا احرام انسان بنا سکتاہے؟



(مصنف کے بنیادی نظریے سے اس حوالے سے مجھے اختلاف ہے) انسان بے تحاشہ ترقی کے باوجود آج بھی اس قابل نہیں ہوا کہ اسکی نقل بنا سکتے ، اور چار ہزار پہلے انسان کے پاس ایسی کونسی ٹیکنالوجی تھی، جس سے مدد لے یہ احرام بنائے گئے۔ یقینا یہ بھی ہمارے باہر کے مہمانوں کا کارنامہ۔



یوں یہ فلم اوربھی بہت سی جگہوں کہ سیر کراتی ہے ،لیکن موٹے موٹے پوائینٹ میں میں آپ نے لئے لکھ دئے ہیں۔ اب آپ اس سلسلے میں کھل کر بحث کر سسکتے ہیں، بلکہ میں تو چاہوں گا کہ اس ڈاکونٹری کو کسی طرح کمپریس کر کے ون اردو پر کہیں رکھ دیا جائے، تاکہ اسکی مکمل جانچ پڑتال کی جا سکے۔



اس تحریر میں املا کی غلیاں ہونگی، کیونکہ اسکی کوریکشن کئے بغیر آپ تک پہنچا رہا ہوں غلطیاں بعد میں دور کر لیں گے۔



یہ سارا کچھ یادداشت کے زار قلم بند کیا ہے، اس میں غلطی کے ہلکے پھلکے امکانات ہوسکتے ہیں۔



تاہم بتائیے گا میری یہ محنت رنگ لائی یا نہیں۔ اس سلسلے میں اور بھی بہت کچھ موجود ہےم لیکن مسئلہ ٹائپ کرنے کا۔



ااج بھی بیگم سے کمر کو دبوانا پڑے گا، تھ جاکر سو پاؤں گا۔




آپ کا مخلص شامی

سلمان خان
09-09-2009, 04:19 AM
سلمان بھائی،میں سٹوری رائٹر نہیں ہوں،علم کا متلاشی انسان ہوں۔ اگر ایک چیز کو آپکا ذہن قبول نہیں کر رہا تو اسکا یہ مطلب تو ہرگز نہیں ہے کہ اس کا وجود بھی نہیں ہوگا۔ جب کہ یہ بات(جس سے آپ انکاری ہیں)۔ قرآن سے بھی ثابت ہوتی ہے، ہم لوگ تو صرف یہ تحقیق کر رہے ہیں کہ اس سلسلے میں انسانی کاوشیں کہاں تک کامیاب ہوئی ہیں۔
آپ کے صرف ایک جملے نے ثابت کر دیا ہے کہ آپ کا مطالعہ کتنا وسیع ہو گا کہ میں اسے اردو میں تحریر کروں۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ اس سلسلے میں جتنا بھی کام ہوا ہے وہ مغربی محققین نے کیا ہے اور اردو زبان میں اس قسم کی تحقیقی کتاب کا کسی نے ترجمہ تک نہیں کیا۔
اگر آپ علم کے کسی سنجیدہ مسئلہ کی گہرائی تک پہنچنا چاہتے ہیں تو انگریزی کتابوں کا مطالعہ کریں، اردو زبان میں اس سلسلے میں کچھ نہیں ہے۔ میں اصرار نہیں کرتا کہ خلائی مخلوق کا وجود ہے، لیکن قرآن کی آیات جو اس سلسلے میں روشنی ڈالتی ہیں آپ ان کو کس کھاتے میں ڈالیں گے۔ مجھے آپکی بات سے دکھ پہنچا ہے، ہم یہاں ایک دوسرے کے علم میں اضافہ کرنے اکٹھے ہوتے ہیں، نہ کہ دوسرے کا مذاق اڑانے کے لئے۔ میں خود بھی حقیقت پسند انسان ہوں، یقین نہ آئے تو
About me
کی دوسری قسط پڑھ کر دیکھ لیں کہ میں کتنا حقیقت پسند ہوں۔ لیکن میں قرآنی آیات پر پختہ یقین رکھتا ہوں اور یہ بھی میریے حقیقت پسند ہونے کی دلیل ہے۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو جدید سائنس اور قرآنی آیات کا تقابل کر کے دیکھ لیں۔ بات یہ ہے کہ انسانی علم ابھی بہت محدود ہے، اسے قرآنی پیش گوئیوں کی حقیقت پانے میں مزید وقت لگے گا۔
سائٹ لانچ کرنے کی تیاریوں میں مییری سائنس فشکن سٹوری بھی مکمل نہیں ہو پارہی، لیکن بہت جلد آپکی خدمت میں پیش کروں گا۔
میری بات آپ کو بری لگی ہو تو میں معافی چاہتا ہوں۔

آپ کو میری کس بات سے دکھ پہنچا ہے زرا واضع کردیں تو مہربانی ہوگی میں مانتا ہوں کے آپ رائٹر نہیں ہیں جو آپ نے پڑھا ہے وہی بیان کررہے ہیں دوسری بات میں اپنی باتوں سے پہلے بھی واضع کر چکا ہوں کے مجھے خدا کی خدائی سے کب انکار ہے آپ تحقیق کرنا چاہتے ہیں ضرور کریں کون روک سکتا ہے آپ کو جو آپ میری بات کا برا منا رہے ہیں آپ کا مطالعہ وسیع ہو سکتا ہے لیکن میں ایک بات واضع کر دوں جس تصوراتی تحقیق کو آپ بیان کر ہے ہیں ایک وقت تھا ان لوگوں سے بڑا جاہل کوئی نہیں گزرا پوری دنیا میں ہر شعبے میں مسلمان سب سے آگے تھے چاہے وہ سائنس ہو یا اعلا تعلیم۔ یہی لوگ جو آج کل سپر پاور ممالک کے باشندے کہلاتے ہیں انہوں نے مسلمانوں سے ہی تعلیم حاصل کی ہے ہم پیچھے رہ گئے وجہ کے ہم لوگ یہ سمجھنے لگے تھے کے ہم کائنات کے راز معلوم کر کے کہیں کفر تو نہیں کر رہے
اس بات کو کم عقلی کہ لیں یا اپنے دین سے محبت ہمارے بزرگوں نے پھر ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے وہ آگے آتے نتیجہ تحقیق ہوئی لیکن اس طرح سے نہیں جس تیزی سے ہم ترقی کر ہے تھے سیکھنے والے علم حاصل کر کے آج ہم سے ہی آگے نکل گئے اور حالت یہ ہوگئی کے جو تعلیم حاصل بھی کرنا چاہتا ہے اس کو ہزار دشواریاں ہیں۔
میرا اردو میں تحریر کرنے پر زور دینے کا مقصد صرف اتنا تھا کے ایسے بہت سے لوگ ہیں جو ٹھیک سے انگریزی زبان کو سمجھ نہیں پاتے معلومات چاہتے ہیں لیکن اتنے وسائل نہیں ہوتے کے باقاعدہ دوسری زبانیں سیکھ سکیں۔
یہ جسطرح کا ٹاپک ہے ہمارے بہت کم لوگ ہی ایسے ٹاپک دیکھتے ہیں مقصد معلومات حاصل کرنا بہت کم ہوتا ہے تفریح کرنا زیادہ ہوتا ہے جو لوگ تفریح کی غرض سے ایسے ٹاپک پڑھتے ہیں وہ لمی چوڑی تمھید پڑھنا گوارہ نہیں کرتے دو چار سطریں پڑہ کر دوسرے من پسند ٹاپک کی طرف چلے جاتے ہیں اسی لیے مختصر کرنے کے لیے کہا تھا تحریر مختصر ہو تو شاید کافی لوگ آپ کی تحریر سے فائدہ اٹھا لیں اور آپ ان کی معلومات میں اضافہ کرنے والے بن جائیں اردو زبان میں بے شک کوئی تحقیق بیان نہ کی گئی ہو لیکن اگر آپ کو انگریزی آتی ہے تو کیا آپ اسے ان لوگوں کے لیے اردو میں تحریر نہیں کر سکتے جو انگریزی زبان نہ جانتے ہوں کیا آپ کی اس اردو سے دوسری زبان نہ جاننے والوں کو فائدہ نہیں پہنچے گا
اس کائنات میں کیا کیا ہے کیسی کیسی مخلوقات ہیں انسان آج تک نہیں جان پایا ہم ارضی مخلوق ہیں دیکھا جائے تو خلائی مخلوق کے لیے ہم خلائی مخلوق ہیں اگر ایسی مخلوق کا وجود ہے جو بیان کی جا رہی ہے آپ نے جو کچھ بیان کیا ہے اس میں بھی واضع ہے کے یہ جس کی بھی تحقیق ہے وہ بھی خیالی تصور ہے اونجائی پر جا کر زمین پر جانوروں کے خاکے واضع ہونے کا مطلب یہ بلکل نہیں ہے جیسا آپ کہ رہے ہیں ہوا ایسی زمین پر بہت سی اشکال بنا سکتی ہے بڑے بڑے پہاڑوں کی شکلیں بگاڑ سکتی ہے تو کیا ہم یہ کیوں نہ سمجھ لیں کے شاید ایسا ہوا کے زور پر ممکن ہوا ہو۔ انسان کو غلط فہمی بھی ہو سکتی ہے لیکن جس طرح خیال بیان کیا گیا ہے اسی طرح یہ بھی خیال کرنے میں کیا حرج ہے۔
علم میں اضافہ ضرور کریں لیکن اسطرح کے بنیاد بنی رہے ورنہ سب اوپر سے گزر جائےگا اور آپ کی ساری محنت ضائع چلی جائے گی۔

Rubab
09-09-2009, 09:17 PM
ایک وقت تھا ان لوگوں سے بڑا جاہل کوئی نہیں گزرا پوری دنیا میں ہر شعبے میں مسلمان سب سے آگے تھے چاہے وہ سائنس ہو یا اعلا تعلیم۔ یہی لوگ جو آج کل سپر پاور ممالک کے باشندے کہلاتے ہیں انہوں نے مسلمانوں سے ہی تعلیم حاصل کی ہے ہم پیچھے رہ گئے وجہ کے ہم لوگ یہ سمجھنے لگے تھے کے ہم کائنات کے راز معلوم کر کے کہیں کفر تو نہیں کر رہے
اس بات کو کم عقلی کہ لیں یا اپنے دین سے محبت ہمارے بزرگوں نے پھر ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے وہ آگے آتے نتیجہ تحقیق ہوئی لیکن اس طرح سے نہیں جس تیزی سے ہم ترقی کر ہے تھے سیکھنے والے علم حاصل کر کے آج ہم سے ہی آگے نکل گئے اور حالت یہ ہوگئی کے جو تعلیم حاصل بھی کرنا چاہتا ہے اس کو ہزار دشواریاں ہیں۔


السلام علیکم سلمان بھائی

آپ کی تفصیلاتی پوسٹ میں کافی باتیں ہیں۔ فی الحال صرف ایک بات کے بارے میں بات کر رہی ہوں۔ (اگرچہ یہ موضوع سے کافی ہٹ کر ہے۔)

مسلمانوں کی سائنس کے میدان میں جو تحقیقات ہیں آپ نے ان کا ذکر کیا ،ساتھ ہی دیگر اقوام کی جہالت کا بھی ذکر کیا ہے۔ مسلمانوں کی سائنس اور تحقیق سے دوری کے بارے میں جو بات آپ نے کہی ہے کہ

" ہم کائنات کے راز معلوم کر کے کہیں کفر تو نہیں کر رہے اس بات کو کم عقلی کہ لیں یا اپنے دین سے محبت ہمارے بزرگوں نے پھر ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے وہ آگے آتے "

اس بات کی ذرا وضاحت کریں۔ کیا اس سے یہ مطلب لیا جائے کہ تحقیق اور سائنس دراصل مزہب کے الٹ ہیں اور ان میں نہیں پڑنا چاہیئے۔ نیز جو کام ہمارے بزرگوں نے نہیں کیا وہ ہمیں بھی نہیں کرنا چاہئے۔ :confused:

نوٹ: میرا انداز استفہامیہ ہے اس کو اعتراضیہ نہ سمجھا جائے۔ شکریہ۔

Shami
09-09-2009, 10:59 PM
آپ کو میری کس بات سے دکھ پہنچا ہے زرا واضع کردیں تو مہربانی ہوگی میں مانتا ہوں کے آپ رائٹر نہیں ہیں جو آپ نے پڑھا ہے وہی بیان کررہے ہیں دوسری بات میں اپنی باتوں سے پہلے بھی واضع کر چکا ہوں کے مجھے خدا کی خدائی سے کب انکار ہے آپ تحقیق کرنا چاہتے ہیں ضرور کریں کون روک سکتا ہے آپ کو جو آپ میری بات کا برا منا رہے ہیں آپ کا مطالعہ وسیع ہو سکتا ہے لیکن میں ایک بات واضع کر دوں جس تصوراتی تحقیق کو آپ بیان کر ہے ہیں ایک وقت تھا ان لوگوں سے بڑا جاہل کوئی نہیں گزرا پوری دنیا میں ہر شعبے میں مسلمان سب سے آگے تھے چاہے وہ سائنس ہو یا اعلا تعلیم۔ یہی لوگ جو آج کل سپر پاور ممالک کے باشندے کہلاتے ہیں انہوں نے مسلمانوں سے ہی تعلیم حاصل کی ہے ہم پیچھے رہ گئے وجہ کے ہم لوگ یہ سمجھنے لگے تھے کے ہم کائنات کے راز معلوم کر کے کہیں کفر تو نہیں کر رہے
اس بات کو کم عقلی کہ لیں یا اپنے دین سے محبت ہمارے بزرگوں نے پھر ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے وہ آگے آتے نتیجہ تحقیق ہوئی لیکن اس طرح سے نہیں جس تیزی سے ہم ترقی کر ہے تھے سیکھنے والے علم حاصل کر کے آج ہم سے ہی آگے نکل گئے اور حالت یہ ہوگئی کے جو تعلیم حاصل بھی کرنا چاہتا ہے اس کو ہزار دشواریاں ہیں۔
میرا اردو میں تحریر کرنے پر زور دینے کا مقصد صرف اتنا تھا کے ایسے بہت سے لوگ ہیں جو ٹھیک سے انگریزی زبان کو سمجھ نہیں پاتے معلومات چاہتے ہیں لیکن اتنے وسائل نہیں ہوتے کے باقاعدہ دوسری زبانیں سیکھ سکیں۔
یہ جسطرح کا ٹاپک ہے ہمارے بہت کم لوگ ہی ایسے ٹاپک دیکھتے ہیں مقصد معلومات حاصل کرنا بہت کم ہوتا ہے تفریح کرنا زیادہ ہوتا ہے جو لوگ تفریح کی غرض سے ایسے ٹاپک پڑھتے ہیں وہ لمی چوڑی تمھید پڑھنا گوارہ نہیں کرتے دو چار سطریں پڑہ کر دوسرے من پسند ٹاپک کی طرف چلے جاتے ہیں اسی لیے مختصر کرنے کے لیے کہا تھا تحریر مختصر ہو تو شاید کافی لوگ آپ کی تحریر سے فائدہ اٹھا لیں اور آپ ان کی معلومات میں اضافہ کرنے والے بن جائیں اردو زبان میں بے شک کوئی تحقیق بیان نہ کی گئی ہو لیکن اگر آپ کو انگریزی آتی ہے تو کیا آپ اسے ان لوگوں کے لیے اردو میں تحریر نہیں کر سکتے جو انگریزی زبان نہ جانتے ہوں کیا آپ کی اس اردو سے دوسری زبان نہ جاننے والوں کو فائدہ نہیں پہنچے گا
اس کائنات میں کیا کیا ہے کیسی کیسی مخلوقات ہیں انسان آج تک نہیں جان پایا ہم ارضی مخلوق ہیں دیکھا جائے تو خلائی مخلوق کے لیے ہم خلائی مخلوق ہیں اگر ایسی مخلوق کا وجود ہے جو بیان کی جا رہی ہے آپ نے جو کچھ بیان کیا ہے اس میں بھی واضع ہے کے یہ جس کی بھی تحقیق ہے وہ بھی خیالی تصور ہے اونجائی پر جا کر زمین پر جانوروں کے خاکے واضع ہونے کا مطلب یہ بلکل نہیں ہے جیسا آپ کہ رہے ہیں ہوا ایسی زمین پر بہت سی اشکال بنا سکتی ہے بڑے بڑے پہاڑوں کی شکلیں بگاڑ سکتی ہے تو کیا ہم یہ کیوں نہ سمجھ لیں کے شاید ایسا ہوا کے زور پر ممکن ہوا ہو۔ انسان کو غلط فہمی بھی ہو سکتی ہے لیکن جس طرح خیال بیان کیا گیا ہے اسی طرح یہ بھی خیال کرنے میں کیا حرج ہے۔
علم میں اضافہ ضرور کریں لیکن اسطرح کے بنیاد بنی رہے ورنہ سب اوپر سے گزر جائےگا اور آپ کی ساری محنت ضائع چلی جائے گی۔

سلمان بھائی
آپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ موجودہ ترقی یافتہ قوموں نے سارا علم مسلمانوں سے حاصل کیا اور مسلمانوں نے علم کے جھنڈے کو نیچے رکھ دیا اور غیر مسلم قوموں نے وہ جھنڈا اٹھا لیا۔ آپ ان کی جہالت کی حالت کی بات کر رہے ہیں ،وہ تو ایک ہزار سال پرانی بات ہے۔ اس دوران انسان نے ناقابلِ یقین ترقی کی ہے، کائنات کے کونوں کھدروں میں جھانکا ہے اور فطرت کے بہت سے راز آشکارہ کئیے ہیں۔
جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ میں اس بات پر قطعا بضد نہیں ہوں دنیا میں دوسری مخلوق کا وجود ہے، کیونکہ میرے پاس اسکا ثبوت نہیں ہے۔ ایسے ہی جیسے سائنس کے پس نہیں ہے، لیکن اس ہٹ کر اللہ نے ہمیں عقل دی ہے کہ ہم اس کائنات کی ساخت پر غور کریں۔
قرآن پاک میں اللہ کا فرمان ہے، " ہم نے کوئی بھی چیز بے مقصد پیدا نہین کی"۔
سلمان بھائی
اگرآپ علم فلکیات کا مطالعہ باریک بینی سے کریں تو ثابت ہوگا کہ صرف ہماری کہکشاں میں ہی اربوں ستارے موجود ہیں، جب محض ایک کہکشاں کے ایک ستارے کے گرد زندگی بگھرا نظام موجود ہو سکتا ہے تو اسی کہکشاں کے دوسرے اربوں ستاروں میں سے کسی گرد کیوں نہیں ہوسکتا۔ اگر نہیں ہوسکتا تو پھر سورج کے گرد بھی ایسا نظام نہیں ہونا چائیے تھا۔ اور پھر کائنات میں اربوں کی تعداد کہکشائیں ہیں، کیا ان میں سے کسی کے گرد بھی ایسا نظام نہٰں ہوسکتا؟ ذرا کھلے ذہن سے سوچیں،بھول جائیے کہ سائنس کہاں تک پہنچی ہے۔
اگر آپ کی بات مان لی جائے تو اسکا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اللہ نے ساری کائنات بے مقصد اور فضول بنادی، نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔
اللہ آپ کو بھی لمبی زندگی دے اور مجھے بھی صحت دے، ہو سکتا ہے قرآن کے الفاظ ہماری زندگیوں میں ہی پورے ہو جائیں۔
آپ کی پچھلی تحریر سے میں نے یہ تاثر لیا کہ گویا میں جھوٹ بول رہا ہوں اور اس میں تضحیک کا پہلو نکلتا تھا۔ اس وجہ سے میں نے بلا تکلف اپنی رائے دے دے۔ رہا سوال ادو میں تحریر کرنے کا میری سینکڑوں پوسٹوں میں سے کوئی ایک بھی انگریزی میں نہیں ہے، ون اردو کا تو مطلب ہی میں یہ نکالتا ہوں سب سے پہلے اردو۔
باقی آپ منطقی انداز میں سوچیں، ہم یہاں لڑنے یا دل میں کدورتیں پیدا کرنے نہیں آتے، ایک دوسرے کے خیالات اور علم سے مستفید ہونے آتے ہیں۔
اختلاف رائے رکھنا بھی ضروری ہےم تبھی ہم حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں۔

سلمان خان
10-09-2009, 03:47 AM
[Sumara] (http://oneurdu.com/forums/member.php?u=2219)
لسلام علیکم سلمان بھائی

آپ کی تفصیلاتی پوسٹ میں کافی باتیں ہیں۔ فی الحال صرف ایک بات کے بارے میں بات کر رہی ہوں۔ (اگرچہ یہ موضوع سے کافی ہٹ کر ہے۔)

مسلمانوں کی سائنس کے میدان میں جو تحقیقات ہیں آپ نے ان کا ذکر کیا ،ساتھ ہی دیگر اقوام کی جہالت کا بھی ذکر کیا ہے۔ مسلمانوں کی سائنس اور تحقیق سے دوری کے بارے میں جو بات آپ نے کہی ہے کہ

" ہم کائنات کے راز معلوم کر کے کہیں کفر تو نہیں کر رہے اس بات کو کم عقلی کہ لیں یا اپنے دین سے محبت ہمارے بزرگوں نے پھر ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے وہ آگے آتے "

اس بات کی ذرا وضاحت کریں۔ کیا اس سے یہ مطلب لیا جائے کہ تحقیق اور سائنس دراصل مزہب کے الٹ ہیں اور ان میں نہیں پڑنا چاہیئے۔ نیز جو کام ہمارے بزرگوں نے نہیں کیا وہ ہمیں بھی نہیں کرنا چاہئے۔ :confused:

نوٹ: میرا انداز استفہامیہ ہے اس کو اعتراضیہ نہ سمجھا جائے۔ شکریہ۔



Shami (http://oneurdu.com/forums/member.php?u=1112)
سلمان بھائی
آپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ موجودہ ترقی یافتہ قوموں نے سارا علم مسلمانوں سے حاصل کیا اور مسلمانوں نے علم کے جھنڈے کو نیچے رکھ دیا اور غیر مسلم قوموں نے وہ جھنڈا اٹھا لیا۔ آپ ان کی جہالت کی حالت کی بات کر رہے ہیں ،وہ تو ایک ہزار سال پرانی بات ہے۔ اس دوران انسان نے ناقابلِ یقین ترقی کی ہے، کائنات کے کونوں کھدروں میں جھانکا ہے اور فطرت کے بہت سے راز آشکارہ کئیے ہیں۔
جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ میں اس بات پر قطعا بضد نہیں ہوں دنیا میں دوسری مخلوق کا وجود ہے، کیونکہ میرے پاس اسکا ثبوت نہیں ہے۔ ایسے ہی جیسے سائنس کے پس نہیں ہے، لیکن اس ہٹ کر اللہ نے ہمیں عقل دی ہے کہ ہم اس کائنات کی ساخت پر غور کریں۔
قرآن پاک میں اللہ کا فرمان ہے، " ہم نے کوئی بھی چیز بے مقصد پیدا نہین کی"۔
سلمان بھائی
اگرآپ علم فلکیات کا مطالعہ باریک بینی سے کریں تو ثابت ہوگا کہ صرف ہماری کہکشاں میں ہی اربوں ستارے موجود ہیں، جب محض ایک کہکشاں کے ایک ستارے کے گرد زندگی بگھرا نظام موجود ہو سکتا ہے تو اسی کہکشاں کے دوسرے اربوں ستاروں میں سے کسی گرد کیوں نہیں ہوسکتا۔ اگر نہیں ہوسکتا تو پھر سورج کے گرد بھی ایسا نظام نہیں ہونا چائیے تھا۔ اور پھر کائنات میں اربوں کی تعداد کہکشائیں ہیں، کیا ان میں سے کسی کے گرد بھی ایسا نظام نہٰں ہوسکتا؟ ذرا کھلے ذہن سے سوچیں،بھول جائیے کہ سائنس کہاں تک پہنچی ہے۔
اگر آپ کی بات مان لی جائے تو اسکا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اللہ نے ساری کائنات بے مقصد اور فضول بنادی، نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔
اللہ آپ کو بھی لمبی زندگی دے اور مجھے بھی صحت دے، ہو سکتا ہے قرآن کے الفاظ ہماری زندگیوں میں ہی پورے ہو جائیں۔
آپ کی پچھلی تحریر سے میں نے یہ تاثر لیا کہ گویا میں جھوٹ بول رہا ہوں اور اس میں تضحیک کا پہلو نکلتا تھا۔ اس وجہ سے میں نے بلا تکلف اپنی رائے دے دے۔ رہا سوال ادو میں تحریر کرنے کا میری سینکڑوں پوسٹوں میں سے کوئی ایک بھی انگریزی میں نہیں ہے، ون اردو کا تو مطلب ہی میں یہ نکالتا ہوں سب سے پہلے اردو۔
باقی آپ منطقی انداز میں سوچیں، ہم یہاں لڑنے یا دل میں کدورتیں پیدا کرنے نہیں آتے، ایک دوسرے کے خیالات اور علم سے مستفید ہونے آتے ہیں۔
اختلاف رائے رکھنا بھی ضروری ہےم تبھی ہم حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں۔


ایک عام سی لائن ہے جسے شاید ہر گھر میں دوہرایا گیا ہو۔ اوپر والے کے کاموں میں مداخلت نہیں کرنی چاہیئے یعنی ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو چھپائی گئی کچھ ایسی ہی سوچ ہمارے بزرگوں کی رہی ہے اگر خلائی مخلوق کا وجود ہے اور اس زات پاک کا حکم ہوگا تو یہ راز ضرور ظاہر ہوگا ہم آپ لوگ کچھ بھی کر لیں وقت سے پہلے کچھ بھی بنا اسکے حکم ظا ہر نہیں کر سکتے اوپر والے نے عقل دی اس لیے نہیں کے وہ اپنی حدود پھلانگ جائیں اگر ایسا ہی کرنا ہوتا تو انسان کو ایسی طاقت ضرور دی جاتی کے وہ اس ارضی دنیا سے باہر نکل سکے ابھی تک ہم جہاں تک پہنچے ہیں وہاں پر اتنا ہی دکھائی دیتا ہے جتنا اس پاک زات کا حکم ہے اور وہاں ایسی کوئی بات نہیں جس سے ہم ایسی مخلوق کا تصور کریں یہاں بیان کیا گیا ہے ایسا ہو سکتا ہے اور وہ مخلوق ہم سے بہت آگے ہیں اگر ایسا ہے تو انہیں اب تک زمین پر پہنچ کر ظاہر ہوجانا چاہیئے تھا اور یہ سب جانتے ہیں کے ایسا نہیں ہے
بے شک اوپر والے نے کوئی بھی چیز بے مقصد نہیں بنائی اس کے بنائے ایک ایک زرے میں ہزاروں راز ہیں جن کو آج تک ہم ٹھیک سے سمجھ نہیں پائے اس کائنات میں کیا کیا ہے لیکن ہم پر ظاہر نہیں ہے ایسا ہو سکتا ہے ایسے اثرات پائے جا سکتے ہیں لیکن ان باتوں میں صرف تصور ہے یقین نہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے کے ایسا نہیں ہوسکتا ایسا ہو سکتا ہے تصور میں خیال میں آپ اور میں سائنس کے اسٹوڈنٹ ہیں سائنسداں یا ماہر فلکیات نہیں ہیں ہم وہی باتیں کر رہے ہیں جو ایسے لوگوں نے بیان کی ہیں یا جو ہم نے پڑھا ہے ہم ان پر یقین کر کے اتنی لمبی بحث کر رہے ہیں میں یقین رکھتا ہوں اس پروردگار پر جس نے یہ سب بنایا جو اس نظام کو چلا رہا ہے جس نے سورج کو ہمارے سروں ہر لٹکایا زمین کو ایسی قوت دی جو اس کے گرد گھومے ستاروں کو وہ چمک عطا کی کے اندھیرے میں ہم اسے دیکھ سکیں میں ہوا پر یقین کرتا ہوں کیونکہ وہ اپنے ہونے کا احساس کرواتی ہے جو مجھے چھو کر گزرتی ہے۔

Shami
11-09-2009, 11:01 PM
سلمان بھائی
اگر آپ کی اس بات پر ایمان لایا جائے کہ"میں ہوا پر یقین کرتا ہوں کیونکہ وہ اپنے ہونے کا احساس کرواتی ہے جو مجھے چھو کر گزرتی ہے۔"۔
تو اس دلیل سے تو اللہ تعالیٰ کا وجود بھی جھٹلایا جاسکتا ہے۔

سلمان خان
11-09-2009, 11:39 PM
استغفار پڑھوبھائی لکیر کے فقیر نہیں بنو اگر آپ نے کچھ ثابت کرنا ہے تو ثابت کرو بیکار اور فضول سوچ سے پرہیز کرو تو بہتر ہے مجھے ایسا لگتا ہے آپ نے صرف یہی لائن پڑھی ہے باقی اوپر کی لکھی ہوئی بات شاید نہیں پڑھی آپ میرے بھائی ہو آپ نے جو بات کہی وہ اگر آپ کو صحیح لگتی ہے تو میں بھائی ہونے کی حیثیت سے مان لیتا ہوں فضول میں بات کو کہیں اور لے جانا ٹھیک نہیں میرے خیال سے شاید میں آپ کو ٹھیک سے سمجھا نہیں پایا جو سمجھانا چاہتا تھا اللہ آپ کو اور مجھے ایک دوسرے کو سمجھنے کی سمجھ دے۔۔

Shami
12-09-2009, 12:46 AM
سمیرہ بہن
جب میں نے اس موضوع ہر کافی کتابیں پڑھ لیں تو ذہن میں کچھ سوال اٹھتے تھے۔ میں سمنجھتا ہوں کہ آپ نے بھی اس سلسلے میں کافی کچھ پڑھا ہوگا اور اچھی معلومات رکھتی ہونگی۔ میں آج آپ سے ان سوالوں
کے ممکنہ جوابات جاننا چاہوں گا، شائد اس طرح ہم اور آگے بڑھ سکینَ
یہ بات آپ کے مطالعہ سے ضرور گزری ہو گی کہ انسانی تاریخ کے ہزاروں لاکھوں سالوں میں اڑن طشتریاں یا
UFO
وغیرہ کسی انسان کے مشاہدے میں نہیں آئیں، یکایک کیا ہوا کہ جنگِ عظیم دوئم کے بعد اڑن طشتیاں کثرت سے نظر آنے لگیں اور ان کو دیکھنے کی ایک دو نہیں ہزاروں گواہیاں ریکارڈ پر موجود ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جنگ کے زمانہ میں ترقی یافتہ قومیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے عجیب وغریب ہتھیاروں کے تجربات کر رہی تھیں؟
دوسرا سوال میرے ذہن میں یہ اٹھتا کہ کیا بات ہے اڑن طشتریاں صرف مغربی ممالک میں ہی دیکھی گئیں، مشرقی ممالک خاص طور پر بر صغیر یا مشرقی ایشیا میں یہ اڑن طشتریاں کیوں نہیں دیکھی گئیں، اس سلسلے میں کوئی گواہی میری نظر سے نہیں گزری۔ کیا اسکا مطلب یہ لیا جائے کہ چونکہ جنگ مغربی ممالک کے درمیان ہی چھڑی ہوئی تھی، اور ظاہر ان ممالک نے جنگی ہتھیاروں کے تجربات اپنے علاقوں میں کرنا تھے، اس لئے ایسی چیزیں صرف انہی ممالک میں نظر آئیں؟
تیسرا سوال یہ ابھرتا تھا کہ اڑن طشتریوں کو دیکھنے کی ایک دو نہیں ہزاروں گواہیاں موجود ہیں، بلکہ امریکن ایر فورس کی تاریخ میں بہت سے ایے پائلٹوں کی گواہیاں بھی ہیں، جنہوں نے نہ صرف اڑن طشتریوں کو دیکھا، بلکہ امریکن ایر فورس کی تاریخ میں یہ بھی درج ہے کہ امریکی پائلٹوں نے دورانِ پرواز جب ایسی چیز دیکھی، تو ان کا تواقب کرنے کی کوشش بھی کی اور جوابی حملہ کے نتیجے میں امریکی ایر فورس اپنے چند ہوائی جہازوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی۔ لیکن حیرت انگیز طور حکومتوں نے ایسی چیزوں کے وجود سے انکار کیا، بلکہ فوری دستیاب شواہد کی بھی تردید کی کہ ایسی کسی وجود کا ثبوت نہیں ہے، کسی نے کہا کہ یہ فریبِ نظر تھا، کبھی کہا گیا کہ سورج کی شعاعوں کا انعکاس تھا، کبھی کہا گیا کہ یہ کوئی موسمیاتی غبارہ تھا، غرض ہر گوہی اور شواہد کے خلاف بیابن دے کر اس نعالے کی چھپانے کی کوشش کی گئی۔ آپ اپنا خیال بتائیے کہ ایسا کیوں کیا جاتا رہا؟ کوئی جنگی راز چھپانا مقصود تھا ؟

سوال اور بھی ہیں، لیکن اب میرے سٹور بند کرنے وقت ہو گیا، باقی کل سہی، لیک نن ان سوالوں کا جواب ضرعر دینے کوششکیجئے گا۔

Rubab
12-09-2009, 01:49 AM
شکریہ شامی بھائی!

میں اس بارے میں بہت زیادہ علم رکھنے کا دعویٰ تو نہیں کرتی، ہاں البتہ میری اس موضوع میں دلچسپی ضرور ہے۔

آپ نے جو سوالات پوچھے ہیں ان کے بارے میں مجھے بھی کنفیوژن ہے۔ اسی لئے ان سوالوں کا ٹاپک بنایا ہے۔ اور کیونکہ ان سوالوں کے حتمی جوابات ملنے کی امید کم ہے اسی لئے ان کو ماورائی سوالات کے زمرے میں اٹھایا ہے۔

بہر حال آپ کے سوالوں کا جواب دینے کی اپنی ہر ممکن کوشش کرونگی۔ کچھ وقت دیجئے ان شاء اللہ جلد ہی دوبارہ حاضر ہونگی۔

Shami
13-09-2009, 03:36 AM
استغفار پڑھوبھائی لکیر کے فقیر نہیں بنو اگر آپ نے کچھ ثابت کرنا ہے تو ثابت کرو بیکار اور فضول سوچ سے پرہیز کرو تو بہتر ہے مجھے ایسا لگتا ہے آپ نے صرف یہی لائن پڑھی ہے باقی اوپر کی لکھی ہوئی بات شاید نہیں پڑھی آپ میرے بھائی ہو آپ نے جو بات کہی وہ اگر آپ کو صحیح لگتی ہے تو میں بھائی ہونے کی حیثیت سے مان لیتا ہوں فضول میں بات کو کہیں اور لے جانا ٹھیک نہیں میرے خیال سے شاید میں آپ کو ٹھیک سے سمجھا نہیں پایا جو سمجھانا چاہتا تھا اللہ آپ کو اور مجھے ایک دوسرے کو سمجھنے کی سمجھ دے۔۔

میں آپ سے معافی مانگتا ہوں،بات دلیل کی تھی اس لئے یہ گستاخی کر بیٹھا، میرا مقصد آپ کا دل دکھانا ہر نہیں تھا،میں نے ایک سنجیدہ دلیل دی تھی۔ آپ مجھے معاف کر دیں ۔

Shami
13-09-2009, 03:39 AM
شکریہ شامی بھائی!

میں اس بارے میں بہت زیادہ علم رکھنے کا دعویٰ تو نہیں کرتی، ہاں البتہ میری اس موضوع میں دلچسپی ضرور ہے۔

آپ نے جو سوالات پوچھے ہیں ان کے بارے میں مجھے بھی کنفیوژن ہے۔ اسی لئے ان سوالوں کا ٹاپک بنایا ہے۔ اور کیونکہ ان سوالوں کے حتمی جوابات ملنے کی امید کم ہے اسی لئے ان کو ماورائی سوالات کے زمرے میں اٹھایا ہے۔

بہر حال آپ کے سوالوں کا جواب دینے کی اپنی ہر ممکن کوشش کرونگی۔ کچھ وقت دیجئے ان شاء اللہ جلد ہی دوبارہ حاضر ہونگی۔
سمیرہ بہن میں آپ کے جوابات کا انتظار کروں گا۔ اگر کوئی اور بھائی یا بہن اس سلسلے میں اپنے تاثرات لکھے تو بھی بڑی خوشی ہو گی۔

سلمان خان
13-09-2009, 10:02 PM
آپ کو احساس ہوا میرے لیے اتنا ہی کافی ہے غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے کچھ غلطی مجھ سے بھی ہوئی ہے ممجھے چاہیئے تھا کے میں بھی آپ کی طرح لوگوں کی تحقیق اپنے الفاظ میں بیان کرتا نہ کے ہونے نہ ہونے کے بارے میں بحث کرتا اس وقت مجھے جو صحیح لگا میں نے کہا مجھے افسوس ہے میری کچھ باتوں کی وجہ سے آپ کو اسطرح کی بات کہنی پڑی اس کے لیے میں بھی آپ سب سے معافی کا طلبگار ہوں۔
بس میری ایک درخواست ہے یہ دنیا کچھ نیک لوگوں کی وجہ سے قائم ہے ہم اس قابل نہیں اور نہ ہی ہمارے زہہن اسقدر روشن ہیں کے ہر موضوع پر بحث کر سکیں میرا مطلب ہرگز اس ٹاپک سے نہیں ہے یہ ایک عام سا ٹاپک ہے اسے کچھ بھی شکل دیں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ایسی کوئی بات نہ کی جائے جو کمزور زہن والے لوگ کچھ اور ہی مطلب نکالیں اگر کسی نازک ٹاپک پر بات ہو رہی ہے تو پہلے اچھی طرح تصدیق کر لیں اگر کہیں آپ کو لگے اوپر والی پاک زات کو جھٹلانے والی بات ہو رہی ہے تو تب بھی ایسی بات نہ لکھیں آپ کی بات کے دس ماننے والے ہونگے آپ کی بات کسی ایک کے زہہن کو کمزور کر سکتی ہے کوئی کسی کے اندر نہیں جھانک سکتا سوائے اوپر والی زات کے۔۔ یہ بات میں صرف اس لیے کر رہا ہوں کے ہمارا آج کل کا جو ماحول ہے ہو نیکی کی طرف کم دوسرے کاموں کی طرف زیادہ ہے اس کا آپ کو بھی تھورا بہت اندازہ ہوگا
مجھے جو کہنا تھا کہ دیا اگر آپ کو اس میں کچھ عجیب لگے تو ضرور بتائیں۔۔

Shami
14-09-2009, 04:47 AM
آپ کو احساس ہوا میرے لیے اتنا ہی کافی ہے غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے کچھ غلطی مجھ سے بھی ہوئی ہے ممجھے چاہیئے تھا کے میں بھی آپ کی طرح لوگوں کی تحقیق اپنے الفاظ میں بیان کرتا نہ کے ہونے نہ ہونے کے بارے میں بحث کرتا اس وقت مجھے جو صحیح لگا میں نے کہا مجھے افسوس ہے میری کچھ باتوں کی وجہ سے آپ کو اسطرح کی بات کہنی پڑی اس کے لیے میں بھی آپ سب سے معافی کا طلبگار ہوں۔
بس میری ایک درخواست ہے یہ دنیا کچھ نیک لوگوں کی وجہ سے قائم ہے ہم اس قابل نہیں اور نہ ہی ہمارے زہہن اسقدر روشن ہیں کے ہر موضوع پر بحث کر سکیں میرا مطلب ہرگز اس ٹاپک سے نہیں ہے یہ ایک عام سا ٹاپک ہے اسے کچھ بھی شکل دیں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ایسی کوئی بات نہ کی جائے جو کمزور زہن والے لوگ کچھ اور ہی مطلب نکالیں اگر کسی نازک ٹاپک پر بات ہو رہی ہے تو پہلے اچھی طرح تصدیق کر لیں اگر کہیں آپ کو لگے اوپر والی پاک زات کو جھٹلانے والی بات ہو رہی ہے تو تب بھی ایسی بات نہ لکھیں آپ کی بات کے دس ماننے والے ہونگے آپ کی بات کسی ایک کے زہہن کو کمزور کر سکتی ہے کوئی کسی کے اندر نہیں جھانک سکتا سوائے اوپر والی زات کے۔۔ یہ بات میں صرف اس لیے کر رہا ہوں کے ہمارا آج کل کا جو ماحول ہے ہو نیکی کی طرف کم دوسرے کاموں کی طرف زیادہ ہے اس کا آپ کو بھی تھورا بہت اندازہ ہوگا
مجھے جو کہنا تھا کہ دیا اگر آپ کو اس میں کچھ عجیب لگے تو ضرور بتائیں۔۔

سلمان بھائی
آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے معاف کر دیا۔ آپ نے اعتراض اٹھایا ہے کہ میں دوسروں کی تحقیق کو اپنے الفاظ میں بیان کر رہا ہوں۔ اس سلسلے میں آپ سے گزارش ہے کہ آپ لفط "تحقیق" کا معنی اور مفہوم مجھے سمجھا دیں۔ اگر آپ دوسروں کی تحقیق کو اپنے الفاظ میں بیان کرنا جرم سمجھتے ہیں تو اسا صرف اس لئے ہوا کہ میں اپنے حاصلِ مطالعہ کو آپ سب کی معلومات کے لئے سب سے شئیر کر رہا تھا۔ لیکن اب میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ جیسے اہلِ علم کے ہوتے میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ مزید فضولیات شئیر کروں۔ اب میں آپ کی کسی بات کا جواب نہیں دوں گا اور نہ آپ کی کسی بات سے مجھے اختلاف ہے۔ کیوں کہ اختلاف ان سے کیا جاتا ہے جو زیرِ بحث موضوع پر منطق اور دلائل سے بات کرتے ہیں۔
سلمان بھائی، میں ون اردو کا اس وقت سے ممبر ہوں جب ون اردو ابھی پالنے میں تھا۔ بلکہ شائد آپ کو پتہ نہیں کہ اس تناور درخت کی آبیاری میں میرا خون بھی شامل ہے۔اس فورم کے ہزاروں نہیں تو سینکڑوں ممبران مجھے اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں کیسا انسان ہوں۔
دوسری جماعت سے لے کر اب عمر 42 برس ہونے کو آئی ہے اور یہ سارا عرصہ کتابوں کے مطالعہ میں ہی گزرا ہے۔ اور میرا نہیں خیال کہ دنیا کا کوئی موضوع اس طالب علم کے مطا لعہ ہے بچا ہو۔
آپ نے میری اہک دلیل کے جواب میں مجھے استغفار پڑھنے کا مشورہ دیا تھا۔
سلمان بھائی، تمام انسانوں سے زیادہ میرا خالق، میرا معبود میرے خیالات اور میرے بارے میں بہتر جانتا ہے کہ اسکی ذات پر میرا کتنا پختہ ایمان ہے اور یہ ایمان مجھے ورثے میں نہیں ملا،آپ میرے جس علم کا مذاق اڑاتے ہیں اسی علم اور مطالعہ نے مجھے یہ اعلیٰ و ارفعہ مقام بخشا یقین نہ آئے تو اس لنک پر کلک کر کے میرے بارے میں جاننے کی کوشش کیجئے۔

http://www.oneurdu.com/forums/showthread.php?t=3274

باقی یہ میرا حتمی فیصلہ ہے کہ آپ جیسے روشن دماغ اور اہل علم کے آگے یہ بندہ سر تسلیم خم کرتا ہے اور اس ٹاپک پر مزید کچھ لکھنے کی جسارت ہرگز نہیں کرے گا۔
آپکی معافی کا بہت شکریہ
آپ کا گناہگار
شامی

سلمان خان
14-09-2009, 05:27 AM
بھائی میں روشن خیال کہاں ہوں بلکے بہت ہی کمزور زہہن کا انسان ہوں مجھے بے حد افسوس ہورہا ہے کے آپ میری باتوں سے شاید دلبرداشتہ ہوگئے ہیں نہایت معزرت خواہ ہوں آپ کی باتوں سے کس قدر شرمندگی ہورہی ہے بیان نہیں کر سکتا وہ بھی صرف اس لیے کے آپ میری کسی بات کا جواب دینا نہیں چاہتے آپ کیا ہو میرے لیے انتہائی قابل احترام ہو ۔ میں کسی سے ناراضگی نہیں چاہتا میرے الفاظ کچھ اور صحیح لیکن میں بار بار آپ لوگوں کی بات مانتا آیا ہوں میں نے کہیں بھی کسی کی بات سے اختلاف نہیں کیا اور نہ ہی میں نے مزاق میں ایسی بات کہی یہاں پر سب کو اپنی بات کہنے کا حق ہے جتنی میری سمجھ تھی میں نے اپنی بات کہی لیکن مقصد مزاق اڑانا ہرگز نہیں تھا آپ نے اپنی تعلیمی قابلیت بیان کی اور اپنی عمر بیان کی میں آپ کے سامنے طفل مکتب ہوں آپ کا مطالعہ اور تجربہ مجھ سے کہیں زیادہ ہے۔
سب سے پہلے تو آپ مجھے اپنا چھوٹا بھائی سمجھ کر معاف کردیں اس کے بعد مجھے یہاں جواب دیں اگر آپ جواب نہیں دینگے تو پھر میں بھی آج کے بعد یہاں کسی بھی ٹاپک میں کسی کو جواب نہیں دونگا میں نہیں چاہتا کے کوئی اور مجھ سے اسطرح ناراض ہو۔۔

IbneRushd
18-09-2009, 04:58 AM
سلمان بھائی
آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے معاف کر دیا۔ آپ نے اعتراض اٹھایا ہے کہ میں دوسروں کی تحقیق کو اپنے الفاظ میں بیان کر رہا ہوں۔ اس سلسلے میں آپ سے گزارش ہے کہ آپ لفط "تحقیق" کا معنی اور مفہوم مجھے سمجھا دیں۔ اگر آپ دوسروں کی تحقیق کو اپنے الفاظ میں بیان کرنا جرم سمجھتے ہیں تو اسا صرف اس لئے ہوا کہ میں اپنے حاصلِ مطالعہ کو آپ سب کی معلومات کے لئے سب سے شئیر کر رہا تھا۔ لیکن اب میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ جیسے اہلِ علم کے ہوتے میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ مزید فضولیات شئیر کروں۔ اب میں آپ کی کسی بات کا جواب نہیں دوں گا اور نہ آپ کی کسی بات سے مجھے اختلاف ہے۔ کیوں کہ اختلاف ان سے کیا جاتا ہے جو زیرِ بحث موضوع پر منطق اور دلائل سے بات کرتے ہیں۔
سلمان بھائی، میں ون اردو کا اس وقت سے ممبر ہوں جب ون اردو ابھی پالنے میں تھا۔ بلکہ شائد آپ کو پتہ نہیں کہ اس تناور درخت کی آبیاری میں میرا خون بھی شامل ہے۔اس فورم کے ہزاروں نہیں تو سینکڑوں ممبران مجھے اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں کیسا انسان ہوں۔
دوسری جماعت سے لے کر اب عمر 42 برس ہونے کو آئی ہے اور یہ سارا عرصہ کتابوں کے مطالعہ میں ہی گزرا ہے۔ اور میرا نہیں خیال کہ دنیا کا کوئی موضوع اس طالب علم کے مطا لعہ ہے بچا ہو۔
آپ نے میری اہک دلیل کے جواب میں مجھے استغفار پڑھنے کا مشورہ دیا تھا۔
سلمان بھائی، تمام انسانوں سے زیادہ میرا خالق، میرا معبود میرے خیالات اور میرے بارے میں بہتر جانتا ہے کہ اسکی ذات پر میرا کتنا پختہ ایمان ہے اور یہ ایمان مجھے ورثے میں نہیں ملا،آپ میرے جس علم کا مذاق اڑاتے ہیں اسی علم اور مطالعہ نے مجھے یہ اعلیٰ و ارفعہ مقام بخشا یقین نہ آئے تو اس لنک پر کلک کر کے میرے بارے میں جاننے کی کوشش کیجئے۔

http://www.oneurdu.com/forums/showthread.php?t=3274

باقی یہ میرا حتمی فیصلہ ہے کہ آپ جیسے روشن دماغ اور اہل علم کے آگے یہ بندہ سر تسلیم خم کرتا ہے اور اس ٹاپک پر مزید کچھ لکھنے کی جسارت ہرگز نہیں کرے گا۔
آپکی معافی کا بہت شکریہ
آپ کا گناہگار
شامی

انتہائی افسوس کہ یہ ٹاپک فضول بحث کی نظر ھو گیا ۔ شامی بھائی میں آپ سے گزارش کروں گی کہ آپ پلیز اس ٹاپک پر لکھنا بند مت کیجئے گا۔ آپ کے پاس کافی معلوماتی مواد ھے جس سے ھم سب کی معلومات میں اضافہ ھونا چاہیے

Lalarukh1
18-09-2009, 07:20 AM
السلام علیکم شامی بھائی اور سمارا بہن،
میں نے ٹاپک کو سرسری سا پڑھا تھا لیکن جب شامی بھائی کی تحقیق پڑھی تو دلچسپی بڑھ گئی۔ پھر میں نے اپنے بھی گھوڑے دوڑائے، شامی بھائی نے جولائی 1947 روزویل میں گرنے والی جس اڑن طشتری کا ذکر کیا ہے، میری معلومات کے مطابق اس میں سے کسی خلائی مخلوق کی کئی بوڈیز ملی تھیں اور ان میں سے ایک کے پوسٹ مارٹم کی ویڈیو ملی ہے، آپ سب کیلئے شیئر کر رہی ہوں، دوسری ویڈیو میں اس طشتری کے گرنے کے بعد لاشیں اٹھانے کی ہے۔

YouTube - Alien autopsy from Roswell crash in July 1947 (http://www.youtube.com/watch?v=k1H9tpqazN4)

YouTube - Roswell 1947 Alien Footage! (http://www.youtube.com/watch?v=ZQlpACCcq4Y&feature=related)
جہاں یہ طشتری گری تھی وہاں امریکہ کی ایک جدید ترین لیبارٹری بنائی گئی ہے، جو
Area 51
کے نام سے مشہور ہے
اور آپ ٹاپک کو آگے بڑھائیں یہ بہت معلوماتی اور دلچسپ ٹاپک ہے۔

اس کے علاوہ آپ نے جس ڈوکیومینٹری کا ذکر کیا ہے وہ اس لنک پر ہے آپ سب دیکھ سکتے ہیں۔ میں بھی کل دیکھونگی۔

http://video.google.com/videoplay?docid=-2438806817103904864#

Shami
20-09-2009, 11:17 PM
السلام علیکم شامی بھائی اور سمارا بہن،
میں نے ٹاپک کو سرسری سا پڑھا تھا لیکن جب شامی بھائی کی تحقیق پڑھی تو دلچسپی بڑھ گئی۔ پھر میں نے اپنے بھی گھوڑے دوڑائے، شامی بھائی نے جولائی 1947 روزویل میں گرنے والی جس اڑن طشتری کا ذکر کیا ہے، میری معلومات کے مطابق اس میں سے کسی خلائی مخلوق کی کئی بوڈیز ملی تھیں اور ان میں سے ایک کے پوسٹ مارٹم کی ویڈیو ملی ہے، آپ سب کیلئے شیئر کر رہی ہوں، دوسری ویڈیو میں اس طشتری کے گرنے کے بعد لاشیں اٹھانے کی ہے۔

YouTube - Alien autopsy from Roswell crash in July 1947 (http://www.youtube.com/watch?v=k1H9tpqazN4)

YouTube - Roswell 1947 Alien Footage! (http://www.youtube.com/watch?v=ZQlpACCcq4Y&feature=related)
جہاں یہ طشتری گری تھی وہاں امریکہ کی ایک جدید ترین لیبارٹری بنائی گئی ہے، جو
Area 51
کے نام سے مشہور ہے
اور آپ ٹاپک کو آگے بڑھائیں یہ بہت معلوماتی اور دلچسپ ٹاپک ہے۔

اس کے علاوہ آپ نے جس ڈوکیومینٹری کا ذکر کیا ہے وہ اس لنک پر ہے آپ سب دیکھ سکتے ہیں۔ میں بھی کل دیکھونگی۔

http://video.google.com/videoplay?docid=-2438806817103904864#

لالہ رخ صاحبہ
آپ نے یہ لنک بھیج کر اس ٹاپک میں نئی جان ڈال دی ہے۔ میں اس ٹاپک میں مزید ضرور لکھوں گا۔ کیونکہ یہ میرے پسندیدہ موضوعات میں سے یک ہے۔ بس سلمان بھائی کی چند ایک باتوں پر غصہ آگیا تھا، حالانکہ میں غصہ کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔
اس بار چند دلچسپ واقعات لے کر حاضر ہوں گا۔
www.shamilibrary.com (http://www.shamilibrary.com)
آن لائن ہونے کےباعث مصروفیت بڑھ گئی ہے، لیکن بہت جلد حاضر ہوں گا۔
آپ یہ سلسلہ جاری رکھئے۔

میمونہ
21-09-2009, 12:57 AM
اوہ تھینک یو سو مچ شامی بھائی۔۔
میں انتظار کروں گی۔آپکی مزید معلومات کا۔۔
آپنے معلومات عامہ کے تھریڈ میں کافی عرصے سے کچھ نہیں لکھا۔،
پلیز پلیز لکھیں ۔

Rubab
28-04-2010, 04:15 PM
مشہور برطانوی سائنسدان سٹیفن ہاکنگ نے کہا ہے کہ اجنبی مخلوق کا وجود تقریباً یقینی ہے لیکن انسان کی عافیت اجنبی مخلوق سے دوری میں ہی ہے۔
سٹیفن ہاکنگ نے کہا کہ اجنبی مخلوق سے رابطہ انسان کے لیے اتنا ہی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہےجتنا کہ امریکہ کی دریافت کے بعد وہاں پہلے سے آباد لوگوں کے لیے ہوا۔
پروفیسر ہاکنگ ’موٹر نیورون ڈزیز‘ کے مریض ہیں اور وہ عرصے سے معذوری کی حالت میں ویل چئر تک محدود ہیں۔
ہاکنگ کے خیال میں انسان کی طرف سے اجنبی مخلوق سے رابطے کی کوششیں اس مخلوق کو زمین پر دھاوا بولنے پر مائل کر سکتا ہے۔
پروفیسر ہاکنگ کےخیال میں انسان کو اجنبی مخلوق سے رابطہ کرنے کی کوششں کرنے کی بجائے زمین پر انسانی زندگی کو جاننے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔
انسان نے ماضی میں خلائی تحقیقاتی مشن کے دوران ایسی معلومات اور نقشے روانہ کیےگئے تھے کہ اگر کسی اجنبی مخلوق کا ادھر سےگزر ہو تو اسے زمین پر زندگی کے بارے میں معلومات حاصل ہو جائیں اور وہاں پہنچنے کا راستہ بھی معلوم ہو جائے۔
پروفیسر ہاکنگ نے کہا ہے علم ریاضی کے مطابق اجنبی مخلوق کا ہونا تقریباً یقینی ہے لیکن اجنبی مخلوق کی شکل و صورت کا پتہ چلانا ہی اصل چیلنج ہے۔
اجنبی مخلوق کی مختلف ہیتوں کے بارے میں ڈسکوری چینل پر ایک پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے پروفیسر سٹیفن نے کہا کہ انسان کے لیے یہ پتہ چلانا بہت ضروری ہے کہ اجنبی مخلوق کیسی نظر آتے ہیں۔ کچھ اندازوں کےمطابق اجنبی مخلوق دو ٹانگوں والے سبزی خور ہو سکتے ہیں جبکہ کچھ اندازوں کے مطابق اجنبی مخلوق گرگٹ کی ساخت کی بھی ہو سکتی ہے۔


http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/04/100425_alien_hawking_alien.shtml

Simply Legend
28-04-2010, 04:47 PM
مشہور برطانوی سائنسدان سٹیفن ہاکنگ نے کہا ہے کہ اجنبی مخلوق کا وجود تقریباً یقینی ہے لیکن انسان کی عافیت اجنبی مخلوق سے دوری میں ہی ہے۔
سٹیفن ہاکنگ نے کہا کہ اجنبی مخلوق سے رابطہ انسان کے لیے اتنا ہی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہےجتنا کہ امریکہ کی دریافت کے بعد وہاں پہلے سے آباد لوگوں کے لیے ہوا۔
پروفیسر ہاکنگ ’موٹر نیورون ڈزیز‘ کے مریض ہیں اور وہ عرصے سے معذوری کی حالت میں ویل چئر تک محدود ہیں۔
ہاکنگ کے خیال میں انسان کی طرف سے اجنبی مخلوق سے رابطے کی کوششیں اس مخلوق کو زمین پر دھاوا بولنے پر مائل کر سکتا ہے۔
پروفیسر ہاکنگ کےخیال میں انسان کو اجنبی مخلوق سے رابطہ کرنے کی کوششں کرنے کی بجائے زمین پر انسانی زندگی کو جاننے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔
انسان نے ماضی میں خلائی تحقیقاتی مشن کے دوران ایسی معلومات اور نقشے روانہ کیےگئے تھے کہ اگر کسی اجنبی مخلوق کا ادھر سےگزر ہو تو اسے زمین پر زندگی کے بارے میں معلومات حاصل ہو جائیں اور وہاں پہنچنے کا راستہ بھی معلوم ہو جائے۔
پروفیسر ہاکنگ نے کہا ہے علم ریاضی کے مطابق اجنبی مخلوق کا ہونا تقریباً یقینی ہے لیکن اجنبی مخلوق کی شکل و صورت کا پتہ چلانا ہی اصل چیلنج ہے۔
اجنبی مخلوق کی مختلف ہیتوں کے بارے میں ڈسکوری چینل پر ایک پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے پروفیسر سٹیفن نے کہا کہ انسان کے لیے یہ پتہ چلانا بہت ضروری ہے کہ اجنبی مخلوق کیسی نظر آتے ہیں۔ کچھ اندازوں کےمطابق اجنبی مخلوق دو ٹانگوں والے سبزی خور ہو سکتے ہیں جبکہ کچھ اندازوں کے مطابق اجنبی مخلوق گرگٹ کی ساخت کی بھی ہو سکتی ہے۔


http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/04/100425_alien_hawking_alien.shtml
لیکن اجنبی مخلوق تک رسائ یا اجنبی مخلوق کی ہم تک رسائ ہی اصل گتھی ہے، جسے اب تک سلجھائے جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان امور پر کام کرنے والے ماہرین کی اکثریت اس دلیل کی قائل ہے کہ رسم بین الانواع صرف زمان کے سفر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یعنی مادہ کو توانائ میں تبدیل کر کے روشنی کی حد رفتار

تک یا اس کے قریب قریب سفر کروایا جائے، تب ہی دوسری مخلوقات سے رابطہ ممکن ہے۔

Sehar Azad
28-04-2010, 05:00 PM
خلائی مخلوق ایک اٹل حقیقت ہے۔

Rubab
29-04-2010, 06:31 PM
لیکن اجنبی مخلوق تک رسائ یا اجنبی مخلوق کی ہم تک رسائ ہی اصل گتھی ہے، جسے اب تک سلجھائے جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان امور پر کام کرنے والے ماہرین کی اکثریت اس دلیل کی قائل ہے کہ رسم بین الانواع صرف زمان کے سفر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یعنی مادہ کو توانائ میں تبدیل کر کے روشنی کی حد رفتار

تک یا اس کے قریب قریب سفر کروایا جائے، تب ہی دوسری مخلوقات سے رابطہ ممکن ہے۔
آپ کے جواب سے لگتا ہے کہ اس موضوع پر آپ کا کافی مطالعہ ہے۔ اگر مزید وضاحت سے بات کریں تو ہمیں بھی جاننے کا موقع ملے گا۔

شکریہ۔

Rubab
29-04-2010, 06:31 PM
خلائی مخلوق ایک اٹل حقیقت ہے۔
اتنے پکے یقین کے پیچھے کیا وجہ ہے احسان بھائی۔

SEEBEE
29-04-2010, 07:11 PM
سمارا میں نے اس بات سے ٹوٹلی ایگری کروں گی کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔۔۔۔۔یونیورس میں موجود سیاروں،گیلیکسیز اور ستاروں کی اگر تعداد اور ان میں ایسے سیاروں کی موجودگی جہاں لائف موجود ہے،کی probabilityبہت زیادہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری دنیا کے علاوہ میں اور کئی ایسی دنیائیں ضرور موجود ہیں جہاں زندگی کسی نہ کسی فارم میں موجود ہے۔۔۔۔
کچھ روز قبل ایک ڈاکومنٹری میں میں دیکھ رہی تھی کہ سیٹرن کے قریب ایک ایسا چاند ہے کہ جہاں methaneاس طرح موجود ہے جیسے زمین پر پانی،وہاں میتھین کی بارش ہوتی ہے،سرد علاقوں میں جمی ہوئی میتھین موجود ہے اور میتھین ہی کی جھیلیں ،دریا اور سمندر بھی ہیں۔۔۔۔پھر وہاں پر موجد پتھر ایسے ہی گول گول ہیں جیسے یہاں پر جھیلوں اور دریائوں میں موجد ہوتے ہیں،جو پانی سے رگڑ کھا کر گول ہو جاتے ہیں!!!وہاں زندگی کے بارے میں ابھی معلوم نہیں ہوا مگر کیا معلوم وہاں پر بھی کوئی مخلوق موجود ہو جو ان conditionsمیں زندہ رہ سکتی ہو۔۔۔۔
سٹیفن ہاکنگ کو دنیا کا سب سے ذہین آدمی سمجھا جاتا ہے،اس کی ایڈوائس میں یقینا وزن ہے،کائنات کو تیس بلین سال پرانا مانا جاتا ہے،اس لحاظ سے اگر کہیں پر زندگی ہم سے پہلے موجود تھی،تو اب اس کی کیا حالت ہو گی؟؟ جب کہ ہمارے سولر سسٹم کی لائف صرف تیس سے چالیس ملین سال ہے!!

mqali
29-04-2010, 07:59 PM
میں تو دو مخلوق جس کو آزماءش کے لیے پیدا کیا گیا جانتا ہوں۔
۱۔ انسان
۲۔ جن

الحمدللہ کتاب و سنت کی نصوص جنوں کے وجود پر دلالت کرتی ہیں اور ان کو اس زندگی میں وجود دینے کا مقصد اور غرض و غایت اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت ہے ۔ فرمان باری تعالی ہے:
"اور میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اسی لۓ پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری ہی عبادت کریں" الذاریات: 56
اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
"اے جنوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمھارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آۓ تھے جو تم سے میرے احکام بیان کرتے تھے" الانعام :130
اور جنوں کی مخلوق ایک مستقل اور علیحدہ ہے جس کی اپنی ایک طبیعت ہے جس سےوہ دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں اور ان کی وہ صفات ہیں جو کہ انسانوں پر مخفی ہیں تو ان میں اور انسانوں میں جو قدر مشترک ہے وہ یہ ہے کہ عقل اور قوت مدرکہ اور خیر اور شر کو اختیار کرنے میں ان دونوں کی صفات ایک ہیں اور جن کو جن ا چھپنے کی وجہ سے کہا جاتا ہے یعنی کہ وہ آنکھوں سے چھپے ہوۓ ہیں۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
" بےشک وہ اور اس کا لشکر تمہں وہاں سے دیکھتا ہے جہاں سے تم اسے نھیں دیکھ سکتے " الاعراف 27۔
جنوں کی اصلیت :
اللہ تعالی نے اپنی عزت والی کتاب میں جنوں کی اصلی خلقت کے متعلق بتاتے ہو‏ئے فرماتے ہے- "اور اس سے پہلے ہم نےجنوں کو لو والی آگ سے پیدا کیا " الحجر \ 65
اور ارشاد باری تعالی ہے :
"اور جنات کو آگ کےشعلے سے پیدا کیا " الرحمن 15
اور عائشۃ رضی اللہ عنہا سے صحیح حدیث میں مروی ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں اور جنوں کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آدم ( علیہ السلام ) کی پیدائش کا وصف تمہیں بیان کیا گیا ہے ۔ )
اسے مسلم نے اپنی صحیح میں بیان کیا ہے ۔ ( 5314 )
جنوں کی اقسام :
اللہ تعالی نے جنوں کی مختلف اقسام پیدا فرمائی ہیں جو کہ اپنی شکلیں بدل سکتے ہیں مثلا کتے سانپ۔
- اور کچھ وہ ہیں جو پروں والے ہیں اور ہواؤں میں اڑتے ہیں ۔
- اور کـچھ وہ ہیں جو آباد ہونے والے ہیں اور کوچ کرنے والے ہیں ۔
ابو ثعلبہ خشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :
( جنوں کی تین قسمیں ہیں ایک قسم کے پر ہیں اور ہواؤں میں اڑتے پھرتے ہیں ۔ اور ایک قسم سانپ اور کتے ہیں اور ایک قسم آباد ہونے والے اور کوچ کرنے والے ہیں ۔)
اسے طحاوی نے مشکل الآثار میں ( 4/95) اور طبرانی نے طبرانی کبیر میں ( 22/114 ) روایت کیا ہے اور شیخ البانی رحمہ اللہ علیہ نے مشکاہ (2\1206 نمبر 4148) میں کہا ہے کہ اسے طحاوی اور ابو الشیخ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔
جن اور آدم کی اولاد :
اولاد آدم کے ہر فرد کے ساتھ اس کا جنوں میں سے ایک ہم نشین ہے ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( تم میں سے ہر ایک کے ساتھ جنوں میں سے اس کا ہم نشین (قرین ) ہے ۔ تو صحابہ نے کہا اے اللہ کے رسول اور آپ ؟ تو انہوں نے فرمایا اور میں بھی مگر اللہ نے میری مدد فرمائی ہے اور وہ مسلمان ہو گیا ہے تو وہ مجھے بھلائی کے غلاوہ کسی چیز کا نہی کہتا ۔ )
اسے مسلم نے ( 2814) روایت کیا ہے ۔ اور امام نووی نے شرح مسلم (17\ 175) میں اس کی شرح کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاسلم : یعنی وہ مومن ہو گیا ہے اور یہ ظاہر ہے ۔
قاضی کا کہنا ہے کہ جان لو کہ امت اس پر مجتمع ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شیطان سے جسمانی اور زبانی اور حواس کے اعتبار سے بھی بچائے گئے ہیں تو اس حدیث میں ہم نشین (قرین) کے فتنہ اور وسوسہ اور اسکے اغوا کے متعلق تحذیر ہے یعنی اس سے بچنا چاہئے کیونکہ ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہے تو ہم اس سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کریں ۔1۔ھ
انکی طاقت اور قدرت :
اللہ تعالی نے جنوں کو وہ قدرت دی ہے جو کہ انسان کو نہیں دی۔ اللہ تعالی نے ہمارے لئے ان کی بعض قدرات بیان کی ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں۔
- انتقال اور حرکت کے اعتبار سے سریع ہیں ۔ اللہ تعالی کے نبی سلیمان علیہ السلام سے ایک سخت اور چالاک جن نے یمن کی ملکہ کا تخت بیت المقدس میں اتنی مدت میں لانے کا وعدہ کیا کہ ایک آدمی مجلس سے نہ اٹھا ہو ۔
-
ارشاد باری تعالی ہے ۔

جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں اور میں اس (کے اٹھانے کی) طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں (۳۹) ایک شخص جس کو کتاب الہیٰ کا علم تھا کہنے لگا کہ میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کئے دیتا ہوں۔ جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا (اور) کرم کرنے والا ہے (۴۰)


جنوں کا کھانا اور پینا :
جنات کھاتے پیتے ہیں :
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ( میرے پاس جنوں کا داعی آیا تو میں اس کے ساتھ گیا اور ان پر قرآن پڑھا فرمایا کہ وہ ہمیں لے کر گیا اور اپنے آثار اور اپنی آگ کے آثار دکھائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زاد راہ ( کھانے ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو وہ تمہارے ہاتھ آئے گی تو وہ گوشت ہوگی اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارہ ہے ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دونوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہرے بھائیوں کا کھانا ہے ) اسے مسلم نے ( 450) روایت کیا ہے ۔
اور ایک روایت میں ہے کہ ( بیشک میرے پاس نصیبی جنوں کا ایک وفد آیا اور وہ جن بہت اچھے تھے تو انہوں نے مجھے کھانے کے متعلق پوچھا تو میں نے اللہ تعالی سے ان کے لئے دعا کی کہ وہ کسی ہڈی اور لید کے پاس سے گذریں تو وہ اسے اپنا کھانا پائیں ) اسے بخاری نے ( 3571) روایت کیا ہے ۔
تو جنوں میں سے مومن جنوں کا کھانا ہر وہ ہڈی ہے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے جس پر بسم اللہ نہ پڑھی گئی ہو اسے ان کے لئے مباح قرار نہیں دیا اور وہ جس پر بسم اللہ نہیں پڑھی گئی وہ کافر جنوں کے لئے بے ۔
جنوں کے جانور :
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث میں ہے کہ جنوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارہ ہے
جنوں کی رھائش :
جس زمین پرہم زندگی گزار رہے ہیں اسی پر وہ بھی رہتے ہیں اور انکی رھائش اکثر خراب جگہوں اور گندگی والی جگہ ہے مثلا لیٹرینیں اور قبریں اور گندگی پھینکنے اور پاخانہ کرنے کی جگہ تو اسی لئے نبی صلی للہ علیہ وسلم نے ان جگہوں میں داخل ہوتے وفت اسباب اپنانے کا کہا ہے اور وہ اسباب مشروع اذکار اور دعائیں ہیں ۔
انہی میں سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء جاتے تو یہ کہا کرتے تھے
{ اللهم اٍني اعوذبک من الخبث والخبائث }
اے اللہ میں خبیثوں اور خبیثنیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں ) اسے بخاری نے (142)اور مسلم نے ( 375) روایت کیا ہے ۔
خطابی کا قول ہے کہ الخبث یہ خبیث کی جماعت ہے اور الخبائث یہ خبیثہ کی جمع ہے اور اس سے مراد شیطانوں میں سے مذکور اور مؤنث ہیں جنوں میں مومن بھی اور کافر بھی ہیں :
جنوں کے متعلق اللہ تعالی کا ارشاد ہے ۔ " ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض بے انصاف ہیں پس جو فرمانبردار ہو گئے انہوں نے تو راہ راست کا قصد کیا اور جو ظالم ہیں وہ جہنم کا ایندھن بن گئے '' الجن 14۔ 15
بلکہ ان میں سے مسلمان اطاعت اور اصلاح کے اعتبار سے مختلف ہیں سورہ الجن میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے
" اور یہ کہ بیشک بعض تو ہم میں سے نیکوکار ہیں اور بعض اس کے برعکس بھی ہیں ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوۓ ہیں '' الجن : 11
اور اس امت کے پہلے جنوں کا اسلام لانے کا قصہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں آیا ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ سوق عکاز جانے کے ارادہ سے چلے اور شیطان اور آسمان کی خبروں کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور ان پر شہاب ثاقب مارے جانے لگے تو شیطان اپنی قوم میں واپس آئے تو انہیں پوچھنے لگے کہ تمہیں کیا ہے ؟
تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان کوئی چیز حائل کر دی گئی ہے اور ہمیں شہاب ثاقب مارے جاتے ہیں تو قوم کہنے لگی تمہارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان حا‏ئل ہونے کا کوئی سبب کوئی حادثہ ہے جو کہ ہوا ہے تو زمین کے مشرق و مغرب میں پھیل جا‎ؤ اور دیکھو کہ وہ کون سی چیز ہے جو کہ تمہارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان ہوئی ہے ۔
تووہ جن تہامہ کی طرف گئے تھے وہ سوق عکاز ( عکاز بازار ) جانے کی غرض سے نخلہ نامی جگہ پر اپنے صحابہ کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے تو جب جنوں نے قرآن سنا تو اس پر کان لگا لئے اور اسے غور سے سننے لگے تو کہنے لگے اللہ کی قسم یہی ہے جو تمہارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان حائل ہوا ہے تو وہیں سے اپنی قوم کی طرف واپس پلٹے اور انہیں کہنے لگے اے ہماری قوم ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے ہم ایمان لا چکے ( اب ) ہم ہر گز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں بنائیں گے تو اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی :
" کہہ دو میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (قرآن) سنا ) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جنوں کا قول ہی وحی کیا گیا ۔
اسے بخاری نے ( 731) روایت کیا ہے ۔
قیامت کے دن ان کا حساب و کتاب :
قیامت کے دن جنوں کا حساب و کتاب بھی ہوگا ۔ مجاھد رحمہ اللہ علیہ نے اللہ تعالی کے اس فرمان کے متعلق کہا ہے کہ '' اور یقینا جنوں کو یہ معلوم ہے کہ وہ پیش کئے جائیں گے ''
جنوں کی اذیت سے بچاؤ :
جبکہ جن ہمیں دیکھتے ہیں اور ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے تو اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان کی اذیت سے بچنے کے لئے بہت سے طریقے سکھائے ہیں مثلا شیطان مردود سے اللہ تعالی کی پناہ میں آنا اور سورہ الفلق اور الناس پڑھنا ۔
اور قرآن میں شیطان سے پناہ کے متعلق آیا ہے۔
'' اور دعا کریں اے میرے رب میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اے رب میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ وہ میرے پاس آجائیں'' المؤمنون 97- 98
اور اسی طرح گھر میں داخل ہونے سے اور کھانا کھانے سے اور پانی پینے سے اور جماع سے پہلے بسم اللہ پڑھنا شیطانوں کو گھر میں رات گزارنے اور کھانے پینے اور جماع میں شرکت سے روک دیتا ہے اور اسی طرح بیت الخلا میں داخل ہونے سے پہلے اور لباس اتارنے سے قبل جن کو انسان کی شرمگاہ اور اسے تکلیف دینے سے منع کردیتا ۔
جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔(جب انسان بیت الخلا جاتاہے تو بسم اللہ کہے یہ اس کی شرمگاہ اور جن کی آنکھوں کے درمیان پردہ ہو گا ) اسے ترمذی نے (551) روایت کیا ہے اور یہ صحیح الجامع میں (3611) ہے ۔
اور قوت ایمان اور قوت دین بھی شیطان کی اذیت سے رکاوٹ ہیں بلکہ اگر وہ معرکہ کریں تو صاحب ایمان کامیاب ہو گا جیسا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا جاتا ہے کہ :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سےایک آدمی جن سے ملا اور اس سے مقابلہ کیا تو انسان نے جن کو بچھاڑ دیا تو انسان کہنے لگا کیا بات ہے میں تجھے دبلا پتلا اور کمزور دیکھ رہا ہوں اور یہ تیرے دونوں بازو ایسے ہیں جیسے کتے کے ہوں کیا سب جن اسی طرح کے ہوتے ہیں یا ان میں سے تو ہی ایسا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ نہیں اللہ کی قسم میں تو ان میں سے کچھ اچھی پسلی والا ہوں لیکن میرے ساتھ دوبارہ مقابلہ کر اگر تو تو نے مجھے بچھاڑ دیا تو میں تجھے ایک نفع مند چیز سکھاؤں گا تو کہنے لگا ٹھیک ہے کہ تو آیۃ الکرسی {اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم ۔۔۔۔۔۔۔۔} پڑھا کر تو جس گھر میں بھی پڑھے گا وہاں سے شیطان اس طرح نکلے گا کہ گدھے کی طرح اس کی ہوا خارج ہو گی تو پھر وہ صبح تک اس گھر میں نہیں آئے گا ۔
ابو محمد کہتے ہیں کہ الضئیل نحیف کو اور الشحیت کمزور اور الضلیع جس کی پسلی ٹھیک ہو اور الخجج ہوا کو کہتے ہیں ۔
تو جنوں اور انکی خلقت اور طبیعت کے متعلق مختصر سا بیان تھا اور اللہ ہی بہتر حفاظت کرنے والا اور وہ ارحم الراحمین ہے ۔
مزید تفصیل کے لئے دیکھیں کتاب ( الجن والشیاطین ) تالیف : عمر
واللہ اعلم .


شیخ محمد صالح المنجد

Rubab
29-04-2010, 08:04 PM
جزاک اللہ علی بھائی۔

بہت معلوماتی پوسٹ ہے۔

mqali
29-04-2010, 08:34 PM
سمارا میں نے اس بات سے ٹوٹلی ایگری کروں گی کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔۔۔۔۔یونیورس میں موجود سیاروں،گیلیکسیز اور ستاروں کی اگر تعداد اور ان میں ایسے سیاروں کی موجودگی جہاں لائف موجود ہے،کی probabilityبہت زیادہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری دنیا کے علاوہ میں اور کئی ایسی دنیائیں ضرور موجود ہیں جہاں زندگی کسی نہ کسی فارم میں موجود ہے۔۔۔۔
کچھ روز قبل ایک ڈاکومنٹری میں میں دیکھ رہی تھی کہ سیٹرن کے قریب ایک ایسا چاند ہے کہ جہاں methaneاس طرح موجود ہے جیسے زمین پر پانی،وہاں میتھین کی بارش ہوتی ہے،سرد علاقوں میں جمی ہوئی میتھین موجود ہے اور میتھین ہی کی جھیلیں ،دریا اور سمندر بھی ہیں۔۔۔۔پھر وہاں پر موجد پتھر ایسے ہی گول گول ہیں جیسے یہاں پر جھیلوں اور دریائوں میں موجد ہوتے ہیں،جو پانی سے رگڑ کھا کر گول ہو جاتے ہیں!!!وہاں زندگی کے بارے میں ابھی معلوم نہیں ہوا مگر کیا معلوم وہاں پر بھی کوئی مخلوق موجود ہو جو ان conditionsمیں زندہ رہ سکتی ہو۔۔۔۔
سٹیفن ہاکنگ کو دنیا کا سب سے ذہین آدمی سمجھا جاتا ہے،اس کی ایڈوائس میں یقینا وزن ہے،کائنات کو تیس بلین سال پرانا مانا جاتا ہے،اس لحاظ سے اگر کہیں پر زندگی ہم سے پہلے موجود تھی،تو اب اس کی کیا حالت ہو گی؟؟ جب کہ ہمارے سولر سسٹم کی لائف صرف تیس سے چالیس ملین سال ہے!!



سُوۡرَةُ الکهف


قُل لَّوۡ كَانَ ٱلۡبَحۡرُ مِدَادً۬ا لِّكَلِمَـٰتِ رَبِّى لَنَفِدَ ٱلۡبَحۡرُ قَبۡلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَـٰتُ رَبِّى وَلَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِهِۦ مَدَدً۬ا (١٠٩) قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۟ بَشَرٌ۬ مِّثۡلُكُمۡ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَـٰهُكُمۡ إِلَـٰهٌ۬ وَٲحِدٌ۬*ۖ فَمَن كَانَ يَرۡجُواْ لِقَآءَ رَبِّهِۦ فَلۡيَعۡمَلۡ عَمَلاً۬ صَـٰلِحً۬ا وَلَا يُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهِۦۤ أَحَدَۢا (١١٠)


کہہ دو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے (لکھنے کے) لئے سیاہی ہو تو قبل اس کے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہوجائے اگرچہ ہم ویسا ہی اور (سمندر) اس کی مدد کو لائیں (۱۰۹) کہہ دو کہ میں تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں۔ (البتہ) میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود (وہی) ایک معبود ہے۔ تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھے چاہیئے کہ عمل نیک کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے (۱۱۰)

Simply Legend
01-05-2010, 01:57 AM
؟؟؟؟؟؟

Simply Legend
01-05-2010, 01:15 PM
اور بھی مزید مفروضات پائے جاتے ہیں جس میں مادہ کو "ایف ٹی ایل" یا "فاسٹر دین لایَٹ" یعنی روشنی کی حد رفتار سے بھی تجاوز رفتارسے تسریع دی جاتی ہے۔ اس کے لئے "وارم ہول" کا نظریہ ہے۔ وارم ہول دراصل بلیک ہول ہی ہوتا ہے لیکن دو طرفہ۔ ایک طرف بلیک ہول اور دوسری سمت متضاد بلیک ہول ہوتا ہے۔ یعنی جتنی کشش سے ایک سمت سے کسی بھی شے کو غمر کرے گی، اتنی ہی رفتار سے مخالف سمت سے باہر کی طرف دھکیل دے گی۔اب بلیک ہول کی کشش کے باعث اس کی رفتار روشنی کی رفتار سے تجاوز کر جائے گی

Sehar Azad
01-05-2010, 01:20 PM
اتنے پکے یقین کے پیچھے کیا وجہ ہے احسان بھائی۔
اللہ تعالیٰ نے بے شمار مخلوقات پیدا کی ہیں۔

جیسے۔ چرند، پرند، آبی حیات، انسان، جن اور ان سب کو رزق بھی دیا ہے۔ اور کچھ ایسی مخلوقات بھی ہیں جب کے بارے میں قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں زکر کیا گیا ہے جیسے یاجوج ماجوج وغیرہ۔ اس لیے یہ بات تو یقینی ہے کہ اس عالم میں ہم اکیلے نہیں ہیں۔

اور پھر آپ صل اللہ علیہ واسلام جہانوں کے لیے رحمت ہیں۔ صرف ایک جہان یا ایک عالم کہ لیے نہیں۔ اور بہت سے سکالرز نے کافی جہان گنوائے بھی ہیں۔ جیسے عالم انسان، عالم حیوانات، عالم جنات، عالم ارواح، وغیرہ وغیروہ اس لیے یہ تو ڈن ہے کہ کچھ اور مخلوقات بھی اسی جہاں میں موجود ہیں۔

Simply Legend
01-05-2010, 03:57 PM
!السلام علیکم

سب سے پہلے تو "سمرا" بہن کا شکریہ ادا کرونگا، کیونکہ انکی وجہ سے میں یہ پوسٹ کر رہا ہوں۔ اب ان کی وجہ سے ہی کیوں؟ وہ اس لئے کہ سب سے بڑی وجہ تو وقت کی عدم دستیابی ہے۔ لیکن انہوں نے وضاحت طلب کی تو ان کی خواہش کے احترام کے پیش نظر، پوسٹ کر رہا ہوں۔ اور ماشاء اللہ سے ہمارے
! ملک میں،فی الفور، ذرا پتھر کا دور چل رہا ہے ؛ یعنی بجلی کا خود ساختہ بحران

اور تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ موضوع نسبتاُ، کافی وضح طلب ہے۔


لیکن میں یہاں مختصراُ اس موضوع کو بیان کر نے کی کوشش کرونگا۔


جی تو سب سے پہلے ان خارج الأرض اور فوق الطبیعه مخلوقات کی موجودگی پر استدلال کیا جائے۔

سب سے پہلے فوق الطبیعہ، یعنی جنات کے وجود کی دلالت کے لئے شیخ محمد صالح المنجد کا بیان جو قمر بھائ نے پوسٹ کیا تھا، وہ پڑھیں۔

جنات بھی ہماری ہی طرح کے ہوتے ہیں۔ یعنی ان میں کچھ مشابہت پائ جاتی ہے۔ مثلاُ ان میں بھی اللہ تعالی نے فرق بین الجيدة والسيئة کا مادہ رکھا ہے۔ اور ان میں بھی شادیاں، کھانا پینا،نظامِ تعلیم وغیرہ ہوتی ہے۔ حتی کہ میرے مشاہدہ ہے کہ جنات میں طبیب جنات بھی ہوتے ہیں۔ المختصر، وہ ہماری طرح بصورت
مستعمرات زندگی گزارتے ہیں۔ تو جنات کی حقیقت سے انکار نا ممکن ہے۔

(چونکہ یہ تھریڈ خلائ مخلوق سے متعلق ہے، تو میں اسی پر ہی روشنی ڈالنے کی کوشش کرونگا )

اب بات آتی ہے خارج الارض یا خلائ مخلوق کی موجودگی کی۔ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اکثر مقامات پر فرمایا ہے، افلا یتدبرون، افلا یعقلون، افلا تبصرون الخ۔
یعنی اللہ تعالی نے بعض اجناس کے وقوع و تکرار کی جانب راغب کیا ہے۔ کیوں؟ بنیادی وجہ اللہ تعالی کی بندگی اور ایمان کی تازگی ہے۔ اور رب ذوالجلال نےانسان میں تحقیق کا مادہ اور علم کی پیاس اور تڑپ اس دن ہی رکھ دی تھی جس دن یہ فرما دیا تھا، "و علم آدم الاسمآء کلھا"
اللہ تعالی نے فرمایا کہ جاوّ، ڈھونڈو جو بھی موجود ہے اس کائنات میں اور پھر تم میرے سوا کسی کو رب نہ پاوّ گے۔
اب اللہ تعالی نے فرمایا کہ ڈھونڈو تو لازماّ کوئ ایسی شے اللہ تعالی نے ہمارے لئے رکھی ہوگی جس کو ہمیں دریافت کرنا ہے۔


آخر ایسا کیا ہے اس کائنات میں جس کے بارے میں بار بار تدبر کرنے کو کہا جا رہا ہے؟ کیا وہ خلاء ہے؟ کیا وہ بے جان پتھروں کے مجموعے ہیں؟
نہیں ، وہ کوِئ پیچیدہ وجود ہے۔ وہ اللہ تعالی کی اور دوسری مخلوق ہے جسے ہمیں دریافت کرنا ہے اور اللہ تعالی کے خالق ہونے کی شہادت دینی ہے۔


تو اب بات آتی ہے ان کا وجود کیسا ہے؟ ان سے رابطہ کیسے ممکن ہے؟ ان کی ہئیت کیا ہے؟
اس سے متعلق کافی تخیلات پائے جاتے ہیں۔
بعض نظریات عجیب و غریب شکل کی حامل، پتلی پتلی ٹانگوں اور بڑے سر کے ساتھ انکا وجود ہوگا۔ اور مزے کی بات ہے کہ ایک یہ بھی نظریہ ہے کہ وہ مخلوق کوئ اور نہیں، پچھلی اقوام کی بنائ ہوئ مصنوعی ذہانت پر مشتمل پانچویں یا پیش کمپیوٹر نسل ہو۔ اور کائنات کے کسی اندھیرے کونے میں پڑے ہوں۔ چونکہ پانچویں نسل کے کمپیوٹرز میں خودکارتحدیث کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، اسی لئے یہ نسل ذہانت میں بہتر سے بہترین ہو تی جاتی ہے۔

اب بات آتی ہے ان تک رسائ کی۔ تو یہ کائنات بھت وسیع ہے، اندازہ ہے کہ ترانوے بلین نوری سال پر یہ کائنات محیط ہے۔
اب ایک نوری سال کو تو ایک گاڑی میں بیٹھ کر خراماں خراماں چلاتے ہوئے تو طے نہیں کیا جاسکتا نا۔ تو اس کے لیئے آپ کو روشنی کی حدِ رفتار سے زمان کا سفر کرنا پڑے گا۔
اس میں ایک مساوات ہے،"ای از ایکول ٹو ایم سی سکوئر" جس میں مادہ کو توانائ میں تبدیل کر کے روشنی کی رفتار یا اس کے تقریباُ برابر کی رفتار حاصل کی جا سکتی ہے۔(اصل تعریف کچھ اور ہے لیکن ہہاں موضوع کی مناسبت سے وہی بےان کر رہا ہوں جو اس سے متعلق ہے)

اور نظریہ اضافیت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ نظریہ اضافیت کے تحت اگر کسی مادہ کو روشنی کی رفتار تک سفر کروایا جائے تو اس کے لئے آپ کو اس چیز کی کمیت کو بہت کم کرنا پڑے گا یا اس کو اتنی توانائ مہیا کرنی پڑے گی کہ اسکا اسراع روشنی کی حد رفتار تک جا پہنچے، اور جتنی زیادہ کمیت ہوگی، اس لحاظ سے اتنی ہی زیادہ توانائ مہیا کرنی پڑے گی۔ جو کہ فی الحال نا ممکن ہے۔ اس کام پر ہارڈن کولایڈر کے نام سے ایک تجربہ گاہ بنائ گئ ہے۔ جہاں پروٹان کو، جس کی کمیت دیگر اجسام کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے، انتہائ زیادہ توانائ مہیا کرکے اس کو اتنی زیادہ تسریع دینے کی کوشش کی گئ کہ اس کی رفتار روشنی کی حد رفتار تک پہنچ جائے لیکن اس کوشش میں آلات نے اتنی زیادہ توانائ مہیا کرنے سے انکار کردیا۔ یاد رہے کہ پروٹان کی کمیت نہ ہونے کے برابر ہے۔

فی الحال اتنا ہی، اففففف۔۔۔۔۔
یہ کتابت کتنی مشکل ہے۔۔۔۔ خیر، جو بھی سوال ذہن میں آئے، تو حضرت گوگل سے رجوع کریں۔ یا پھر میں اپنی پوری کوشش کرونگا کہ اپنی ناقص سی عقل کے غیر توسیع یافتہ تجزیئے کے رو سے آپ کو مطمئن کر سکوں۔



[SIZE="4"]پچھلی پوسٹ میں ترمیم کے دوران کوئ مسئلہ ہو گیا تھا۔ :P/SIZE]

Rubab
05-05-2010, 05:46 PM
اتنے تفصیلی جواب کے لئے بہت شکریہ لیجنڈ بھائی۔

Rubab
05-05-2010, 05:47 PM
اللہ تعالیٰ نے بے شمار مخلوقات پیدا کی ہیں۔

جیسے۔ چرند، پرند، آبی حیات، انسان، جن اور ان سب کو رزق بھی دیا ہے۔ اور کچھ ایسی مخلوقات بھی ہیں جب کے بارے میں قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں زکر کیا گیا ہے جیسے یاجوج ماجوج وغیرہ۔ اس لیے یہ بات تو یقینی ہے کہ اس عالم میں ہم اکیلے نہیں ہیں۔

اور پھر آپ صل اللہ علیہ واسلام جہانوں کے لیے رحمت ہیں۔ صرف ایک جہان یا ایک عالم کہ لیے نہیں۔ اور بہت سے سکالرز نے کافی جہان گنوائے بھی ہیں۔ جیسے عالم انسان، عالم حیوانات، عالم جنات، عالم ارواح، وغیرہ وغیروہ اس لیے یہ تو ڈن ہے کہ کچھ اور مخلوقات بھی اسی جہاں میں موجود ہیں۔
احسان بھائی کیا آپ یاجوج ماجوج کو خلائی مخلوق میں شمار کرتے ہیں۔ ؟

imran23
05-11-2010, 10:44 PM
http://i1231.photobucket.com/albums/ee505/imran212/Alien/ALIEN.gif
http://i1231.photobucket.com/albums/ee505/imran212/Alien/ALIENgif002.gif
http://i1231.photobucket.com/albums/ee505/imran212/Alien/ALIENgif003.gif
http://i1231.photobucket.com/albums/ee505/imran212/Alien/ALIENgif004.gif
http://i1231.photobucket.com/albums/ee505/imran212/Alien/ALIENgif005.gif

imran23
05-11-2010, 10:45 PM
http://i1231.photobucket.com/albums/ee505/imran212/Alien/ALIENgif006.gif
http://i1231.photobucket.com/albums/ee505/imran212/Alien/ALIENgif007.gif

imported_Dilpasand
14-01-2011, 09:37 AM
میری ذاتی رائے تو یہ ہے کہ خلائی مخلوق کا کوئی وجود نہیں ہے ۔اس کےلیے میں یہ بات کہوں گا کہ حضور اکر صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک پیش آنے یا ظاہر ہونے والے تمام بڑے اور چھوٹے مگر اہم واقعات بارے بتایا ہے جن میں یاجوج مجوج کی مخلوق کا ظاہر ہونا بھی ہے ۔ مگر کسی خلائی مخلوق کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر نہیں کیا ۔تو اس سے ثابت ہوا کہ خلائی مخلوق کا کوئی وجود نہیں ہے ۔ کیونکہ ابھی تک ان کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا بس مفروضے ہیں جبکہ فرشتے اور جن ٹھوس ثبوت رکھتے ہیں ۔

اور جو لوگ قرآن پاک کی اس آیات بارے بات کرتے ہیں جس میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ وہ تمام جہانوں اور تمام مخلوقات کا رب ہے ۔ تو اس سے کس طرح کسی خلائی مخلوق کا ثبوت ملتا ہے ۔ جہاں تو واقعی بہت ہیں جیسے ۔ ایک جہاں یہ زمین ہوگئی ۔ ایک جہاں قبرستان کا ہوگیا ۔ایک جہاں عالم برزخ ہوگیا جہاں روحین قیامت تک رہیں گی ۔ ایک جہاں وہ ہوگیا جہاں فرشتے رہتے ہیں ۔اور ایک جہاں وہ ہے جہاں قیامت کے بعد ہمیشہ کےلیے رہنا ہے یعنی جنت اور دوزخ ۔اور اسی طرح اللہ کی مخلوقات بھی بہت ہیں صرف اسی زمین پر کئی ہزاروں اقسام کی مخلوقات پائی جاتی ہیں ۔

خلائی مخلوق بارے یہ میری ذاتی رائے ہے ہوسکتا ہے کہ میں غلط ہوں

سمر
14-01-2011, 11:20 AM
میں نے آخری بار خلائی مخلوق ابھی چند مہینوں پہلے دیکھی تھی
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.





ہالی ووڈ کی کامیاب فلم اویٹار میں

جگنو
28-11-2011, 06:56 PM
خلائی مخلوق ہے یا نہیں لیکن مجھے خلائی مخلوق پر بنائی گئی سنسنی خیز موویز اچھی لگتی ہیں ۔آپ کی خاطر