PDA

View Full Version : ڈپریشن



Durre Nayab
14-06-2009, 03:30 PM
السلام علیکم،
نوشین جی میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ ڈپریشن کیا ہے اور اس کے علامات کیا کیا ہیں اور یہ کیونکر ہوتا ہے۔ کیا یہ ایک مخصوص عمر کے لوگوں کو ہوتا ہے، اور یہ کیسے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آیا یہ بندہ ڈپریشن سے گزر رہا ہے۔ اس پر قابو پانے کے لئے کیا کیا جائے؟

Nosheen Qureshi
15-06-2009, 09:13 AM
ڈپریشن ایک ذہنی بیماری ہے جس میں مبتلا فرد شدید احساس کمتری، مایوسی اور منفی سوچ کی بدولت اپنی زندگی کو مشکل سے مشکل تر بناتا چلا جاتا ہے۔ مثبت سوچ ختم ہو کر رہ جاتی ہے اور زندگی میں خوشی کا احساس معدوم ہو جاتا ہے۔
یہ ہماری سوچ، خیالات اور وجود پر حاوی ہو کر ہمیں اندر سے ختم کرنے لگتی ہے۔

اس میں مندرجہ ذیل علامات ہوسکتی ہیں۔
بہت زیادہ اداسی، خالی پن کا احساس جو پورے دن طاری رہے۔
دلچسپی کی انتہائی کمی خصوصاُ ان امور میں جو پہلے دلچسپ محسوس ہوتے ہوں۔
وزن کی تبدیلی، انتہائی زیادہ یا انتہائی کم ہوجانا، کھانے پینے میں دلچسپی کم یا ضرورت سے زیادہ ہو جانا۔
نیند کی کمی یا زیادتی
ضرورت سے زیادہ کام کرنا، بے چینی کا احساس یا بالکل کچھ نہ کرنا
تھکن اور توانائی کی شدید کمی ہونا
اپنے بےکار ہونے کا احساس ہونا یا انتہائی شرمندگی محسوس ہونا۔
سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہونا، ارتکاز میں مشکل ہونا، فیصلہ کرنے میں دشواری محسوس ہونا۔
مرنے کے متعلق خیالات آنا، خودکشی کرنے کے متعلق خیال آنا ، اس کی منصوبہ بندی کرنا یا اس کی کوشش کرنا۔

ان تمام علامات میں سے کم از کم پانچ کا اتنی شدت سے دو ہفتے یا اس سے زیادہ مستقلاُ رہنا کہ آپ کی روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے، یہ سب کسی مسکن دوا کی وجہ سے نہ ہوں اور نہ ہی کسی جسمانی بیماری جیسے تھائیرائیڈ وغیرہ کی وجہ سے ہوں، نہ ہی اس کا تعلق کسی اپنے کی موت کے بعد ہونے والے وقتی صدمہ سے ہو تو اسے ڈپریشن کی کیفیت کا نام دیا جاسکتا ہے ، یہ مکمل ڈپریشن تب کہلاتا ہے جب یہ کیفیت کم ازکم دو ماہ تک رہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہ آ رہی ہو اگر یہ علامات ایک دو دن سے ہوں یا ان سے ہماری معمول کی زندگی متاثر نہ ہو رہی ہو تو یہ ڈپریشن نہیں کہلاتا۔

اس کے شروع ہونے کی عمر 15 سے 30 سال کے درمیان ہوتی ہے لیکن اس کے بعد بھی ہو سکتا ہے خصوصا 40 سال کی عمر کے بعد، خواتین میں بچے کی پیدائش کے بعد بھی اس کی علامات شروع ہو سکتی ہیں، ہارمونز کی تبدیلیاں ، ذھنی پریشانیاں، جسمانی بیماریاں، جسم میں ہونے والی کیمیائی تبدیلیاں، خاندان میں اس کی موجودگی سب ہی اس کی وجہ بن سکتے ہیں۔

ڈپریشن کی اقسام
میجر ڈپریشن : اس میں علامات انتہائی شدت سے موجود ہوتی ہیں اور انسان کی زندگی میں جمود کا باعث بنتی ہیں نہ وہ مثبت سوچ پاتے ہیں نہ عمل کر پاتے ہیں دوسروں سے کٹ کر رہ جاتے ہیں، انھیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کا سارا بوجھ انھی کے کندھوں پر ہے۔ اس کا شدید دورہ تو عموماُ زندگی میں ایک ہی دفعہ پڑتا ہے لیکن اس کا اثر پوری زندگی پر حاوی ہوتا ہے۔

اےٹپیکل ڈپریشن: یہ بہت فرق قسم کا ڈپریشن ہے اس کے شکار افراد میں چند ہی علامات پائی جاتی ہیں جیسا کہ تھکن، زیادہ سونا اور زیادہ کھانا، ان کے مطابق ان کے مزاج کی تبدیلی کے ذمہ دار حالات و واقعات ہوتے ہیں۔ یہ لوگ کبھی کبھار ہنستے خوش ہوتے بھی پائے جاتے ہیں۔

ڈائستھیمیا: اس میں علامات کی شدت کم ہوتی ہے لیکن تشخیص کیلئے کم از کم دو سال کا دورانیہ درکار ہوتا ہے۔ یہ زندگی کو جمود کا شکار تو نہیں کرتا لیکن یہ لوگ کبھی زندگی سے راضی خوش نہیں ہو پاتے اور عدم اطمینان کا شکار ہوتے ہیں۔

مینک ڈپریشن: اس میں کبھی ڈپریشن کی علامات حاوی ہو جاتی ہیں تو کبھی مینیا کی، اس کے شکار افراد میں خودکشی کی شرح انتہائی زیادہ ہے۔

سیزنل ڈپریشن: اس کی علامات خزاں کے اختتام اور سردیوں میں شدید ہو جاتی ہیں اور باقی سارا سال انسان نارمل رہتا ہے یا انتہائی ہلکی علامات ہوتی ہیں، کچھ لوگوں میں اس کے الٹ بھی ہوتا ہے اور ان میں بہار کے اختتام اور گرمیوں کے شروع میں اس کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

اس کے بروقت علاج سے ہم اس پر کافی حد تک قابو پاسکتے ہیں، اگر زیادہ شدید ڈپریشن ہو تو اس کیلئے اینٹی ڈیپریسنٹس کا استعمال کیا جاتا ہے، سائیکوتھراپی اس کے علاج کا بنیادی جز ہے جس میں علامات کی بنیاد پر مختلف طرح کی تکنیک استعمال کی جاتی ہیں تاکہ اس شخص کی سوچوں میں مثبت تبدیلی لائی جاسکے، اس کے منفی رحجانات کو بدلا جاسکے، اپنے مسائل کے متعلق کھل کر بات کرنے سے عموما ہم ان کو بہتر انداز میں حل کر پاتے ہیں، غذا میں بھی کچھ چیزیں ایسی ہیں جن سے موڈ پر اچھا اثر ہوتا ہے۔