PDA

View Full Version : ایک گھوڑا اور اُس کا سایہ ۔ اسماعیل میرٹھی



سخنور
07-05-2009, 10:59 PM
نظم

ایک گھوڑا اور اُس کا سایہ

ایک گھوڑا تھا نہایت عیب دار
اپنے سایہ سے بدکتا بار بار

اُس سے مالک نے خفا ہو کر کہا
سُن تو احمق ! جس سے تو ہے ڈر رہا

جسم کا تیرے ہی تو سایہ ہے وہ
کُچھ درندہ ہے نہ چوپایہ ہے وہ

جسم رکھتا ہے نہ اُس کے جان ہے
تو بڑا ڈرپوک۔ او نادان! ہے

یوں دیا گھوڑے نے مالک کو جواب
سچ کہا یہ آپ نے لیکن جناب !

آدمی سے بڑھ کے میں وہمی نہیں
اَن ہوئی باتوں کا ہے جس کو یقیں

بھُوت کا قصہ کہانی کے سوا
کُچھ نشاں گھر میں نہ جنگل میں پتا

بھوت سے ڈرنا بھی کوئی بات ہے
کیا ہی وہمی آدمی کی ذات ہے

سایہ تو آنکھوں سے آتا ہے نظر
کیا عجب ہے جو ہوا مُجھ پر اثر

اپنے دُکھ کا کیجیئے اوّل علاج
دوسروں کا پوچھیئے پیچھے مزاج

از اسماعیل میرٹھی