PDA

View Full Version : ذود رنج اور لا پرواہ



بارہواں کھلا ڑی
20-04-2009, 06:39 PM
میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ ایک لاپرواہ انسان، ایک ذود رنج سے کیسے نباہ سکتا ہے، جبکہ یہ آپس میں جیون ساتھی بھی ہوں۔

Nosheen Qureshi
06-05-2009, 04:02 PM
معذرت چاہتی ہوں کہ آپ کے سوال کا جواب بہت زیادہ دیر سے دے رہی ہوں پہلے اس کی وجہ ہماری پیاری بجلی تھی جو کہ بار بار میرا کام خراب کر رہی تھی اور پوری کوشش کے باوجود میں جمعہ کو جواب مکمل نہ کرسکی اور 10دن کی چھٹی پر چلی گئی۔ اب آپ کا جواب لے کر حاضر ہوں۔

شادی ایک ایسا تعلق ہے جس میں دو لوگ ایک دوسرے کو خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کرتے ہیں اور نباہ کی کوشش کرتے ہیں اس کوشش میں عموماً خواتین کا ہاتھ زیادہ ہوتا ہے، یہ دو لوگ مختلف قسم کی شخصیت رکھتے ہیں سالوں سے ایک مخصوص مزاج کے حامل ہوتے ہیں جسے یقیناً دنوں میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
آپ نے وضاحت نہیں کی کہ زودرنج میاں ہے یا بیوی، عام طور پر تو بیویاں ہی زودرنج ہوتی ہیں، میاں سے ڈھیروں امیدیں اور توقعات وابستہ کر لیتی ہیں اور وہ بےچارہ کوئی ایک بھی پوری نہ کرسکے تو ظالم، بے حس کا خطاب پاتا ہے، لیکن امیدیں ختم نہیں کی جاتیں وہ امربیل کی طرح بڑھتی ہی جاتی ہیں اور زندگی مشکل ہوتی چلی جاتی ہے۔
لاپروائی اگر مزاج اور شخصیت کا حصہ ہو تو اسے کم تو کیا جاسکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جاسکتا، اس شخص کو یہ احساس ہونا ضروری ہے کہ اس کی یہ عادت دوسروں کیلئے تکلیف دہ ہے، اس عادت کو کم کرنے کا تبھی سوچا جاسکتا ہے جب دوسرے بندے سے ہمیں انتہائی لگائو ہو اور ہم اس کی خاطر کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہوں ۔زندگی میں ہمیں ہر چیز نہیں ملتی عموما کسی نہ کسی چیز کی کمی رہتی ہی ہے، مطابقت کی صلاحیت ہو تو دونوں ہی ایک دوسرے سے اچھا گزارا کر سکیں گے۔
سب سے زیادہ ضروری چیز ہے ایک دوسرے پر اعتماد اور آپس میں محبت، اگر یہ دونوں ہوں تو ہر طرح کے حالات میں گزارہ کیا جاسکتا ہے۔ ایک دوسرے پر یقین کیا جائے تو ہم خومخواہ کی الجھن نہیں پالتے اور ہمارے لئے زندگی آسان ہو جاتی ہے۔
صرف اپنے نقطہ نظر کو ہی ذھن میں نہ رکھیں ہر معاملہ میں دوسرے بندے کے نقطہ نظر کو بھی مدنظر رکھیں، بہت زیادہ حساسیت کا مظاہرہ تعلقات میں دوری کا باعث بنتا ہے، اگر ایک لاپرواہ شخص کو ہر بات پر ٹوکا جائے اسے بار بار اس کی لاپروائیوں کا احساس دلایا جائے تو شروع میں تو ہو سکتا ہے کہ اسے شرمندگی ہو اور وہ وقتی طور پر خود میں تبدیلی لانے کی کوشش بھی کرے لیکن اگر یہ چیز مستقل ہو جائے تو وہ اس شخص کی قربت کو پسند نہیں کرے گا اور باہمی تعلقات میں بھی لاپروائی کا مظاہرہ کرے گا، زیادہ ذودرنجی ہمیں کبھی بھی خوش اور مطمئن نہیں رہنے دیتی نہ ہم خود خوش رہتے ہیں نہ ہی دوسروں کو خوش رہنے دیتے ہیں اور زندگی تنگ ہو جاتی ہے۔
رویوں میں اعتدال ہی رشتوں میں مضبوطی لاتا ہے، دونوں ہی کسی حد تک دوسرے کیلئے خود میں تبدیلی لائیں اور اس تبدیلی پر مثبت ردعمل کا مظاہرہ کریں، کسی بھی خامی کو سب کے سامنے نہ جتائیں بلکہ اکیلے میں مل بیٹھ کر اس پر بات کریں، دوسروں کی ہمدردیاں سمیٹنا بہت آسان ہے لیکن اس سے ہماری عزت نفس متاثر ہوتی ہے، اس لئے کوشش کریں کہ اپنی ذاتی رنجشوں کو سب کے درمیان بیان نہ کریں۔

بارہواں کھلا ڑی
27-05-2009, 09:33 PM
بہت شکریہ نوشین صاحبہ آپ یقین کریں ،میرے زھن کی بہت سی گرہیں اس جواب سے کھل گئیں۔بہت بہت بہت شکریہ۔

SadafG
18-03-2010, 03:34 PM
sabar shukar k sath or ahsaas dila karrr shaidddddddddddd

SadafG
18-03-2010, 03:35 PM
Nosheen bohat acha samjhaty hain thanxxxxxxxxxxxxxxxxxxx

Nosheen Qureshi
11-04-2010, 05:41 PM
شکریہ جی