PDA

View Full Version : خود اذیتی



Minha Malik
11-04-2009, 07:28 PM
السلام علیکم

مسئلہ نہیں ایک ٹاپک لے کر حاضر ہوئی ہوں جس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا مقصود ہے۔
خود اذیتی۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میرے خیال میں یہ ذہنی بیماری ہے ۔۔ ۔
کیا میرا خیال ٹھیک ہے؟

اس لفظ کو ہم اکثر سنتے ہیں اس کی کئی کیٹگریز ہیں۔ ۔ ۔ایک تو جسمانی خود اذیتی۔ ۔ ۔دوسری ذہنی خود اذیتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اور باقی آپ لوگ مجھے بتائیے۔

اور نوشین صاحبہ میں آپ سے اس بیماری کی وجوہات جاننا چاہتی ہوں۔
مریض میں بچپن ہی سے اس کا رحجان پایا جاتا ہے یا عمر کے مختلف ادوار میں مسئلہ پیدا ہوتا ہے؟
اس کا کیا علاج ہے؟
اور اس طرح کے مریض کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے؟

Nosheen Qureshi
15-04-2009, 09:06 AM
خوداذیتی شدید ذہنی اذیت کو نکالنے کا ایک راستہ ہے۔ یہ بذات خود ایک نفسیاتی بیماری نہیں ہے لیکن یہ ذہنی بیماریوں کو دعوت دے سکتی ہے۔ زیادہ تر لوگوں کو اس کا ادراک نہیں ہوتا کہ وہ خود کو تکلیف کیوں پہنچاتے ہیں، یہ اپنے اندر کی پراگندہ سوچوں اور خیالات سے نمٹنے کیلئے ایک راستہ کے طور پر استعمال کی جاتی ہے جس کے بعد وقتی طور پر ایک تسکین کا احساس ہوتا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ طبیعت کی قنوطیت کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا جاتا ہے دراصل جو لوگ بھی اپنے آپ کواذیت پہنچاتے ہیں وہ سخت پریشانی، اذیت، افسردگی، رنجیدگی اور ناقابل برداشت اندرونی ہیجان کے زیر اثر ایسا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے باقاعدہ منصوبہ بندی سے کرتے ہیں جبکہ زیادہ تر لوگ اسے بغیر کسی پسشگی منصوبہ بندی کے کر ڈالتے ہیں، ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ پوری زندگی میں 1، 2 دفعہ ہو لیکن کچھ لوگوں کو اس میں لذت محسوس ہونے لگتی ہے اور وہ اسے بار بار دہراتے ہیں۔
خود اذیتی کے بہت سارے زرائع ہو سکتے ہیں
زیادہ مقدار میں ادویات کے استعمال سے
اپنے آپ کو کاٹنے سے
اپنے آپ کو جلانے سے
سر کو پٹخنے سے
اپنے جسم کو سخت چیز سے ٹکرانے سے
اپنے آپ کو مارنے سے
کسی سخت چیز کو جسم میں گھونپنے سے
غلط چیز نگلنے سے

کون لوگ خود اذیتی میں مبتلا ہوتے ہیں?
زیادہ تر ایسے لوگوں میں خود اذیتی کا رحجان پایا جاتا ہے جنھیں بچپن یا جوانی میں مشکل اور انتہائی تکلیف دہ حالات کا سامنا کرنا پڑا ہوتا ہے، ان کی زندگی میں ایسے وقت میں کوئی ایسا شخص نہیں ہوتا جس پر وہ اعتبار کر سکیں انھیں اپنا دکھ اکیلے ہی برداشت کرنا ہوتا ہے کسی سے کسی قسم کی جذباتی مدد نہیں مل پاتی کہ وہ ان حالات سے نمٹ سکیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ شدت پسندی کا شکار ہوئے ہوں یا جذباتی یا جنسی تشدد کا شکار ہوئے ہوں، انھیں نظر انداز کیا گیا ہو، کسی پیارے سے الگ کر دیا گیا ہو، ہراساں کیا گیا ہو، تنہا کر دیا گیا ہو، شدید دبائو میں مبتلا کیا گیا ہو، بے گھر کر دیا گیا ہو۔
شدید شرم کا احساس بھی خود اذیتی کو دعوت دیتا ہے مثلا" اگر ایک انتہائی قریبی اور قابل اعتماد شخص کسی بچہ کے ساتھ زیادتی کرے تو بچہ خود کو غلط تصور کرنے لگتا ہے، وہ اپنے غصہ اور ہیجان کا رخ اپنی طرف موڑ لیتا ہے اور خود کو نقصان پہنچا کر اپنی سوختہ کیفیت کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔
نوجوان لڑکیاں اس کا شکار زیادہ ہوتی ہیں ویسے تو اب لڑکوں میں بھی خود اذیتی کا رحجان پہلے سے بڑھ گیا ہے لیکن پھر بھی لڑکیاں اس میدان میں ان سے آگے ہیں، اقلیتوں میں بھی خود اذیتی زیادہ دیکھی گئی ہے، ذہنی امراض میں مبتلا افراد بھی اس کا شکار ہوتے ہیں ، بے بسی و بے کسی کا احساس اس کو شروع کرنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

زیادہ تر لوگ جو خود اذیتی میں مبتلا ہوں کامیاب خودکشی نہیں کر سکتے، وہ زیادہ تر ایک بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا رہتے ہیں، اپنی اصل خواہشات کو دباتے ہیں اور اپنے دہکائے ہوئے الائو میں سلگتے رہتے ہیں، بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ رویہ توجہ کے حصول کے لئے اختیار کیا گیا ہے، حالانکہ عموما ایسا نہیں ہوتا۔

اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والوں میں بہت سے لوگ مدد طلب نہیں کرتے۔ گو انکو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑے مسئلے سے دوچار ہیں مگر وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ کسی کو اس مسئلے کے بارے میں نہیں بتا سکتے ، اس لیے وہ اپنے دوستوں ، رشتہ داروں یا اس شعبے کے ماہرین سے رجوع نہیں کرتے۔ کچھ لوگ اس کو اہم مسئلہ تصور نہیں کرتے، وہ اس کو مسائل سے نپٹنے کا ایک زریعہ سمجھتے ہیں لیکن مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔

اگر مسئلہ شدید نوعیت کا ہو تو بہتر ہے کہ ماہر نفسیات کی مدد لی جائے ورنہ اپنی
مدد آپ کے تحت بھی اس مسئلہ سے نمٹا جاسکتا ہے، اپنے مسئلہ اور رویہ سے متعلق مکمل معلومات اکٹھی کریں، وہ کیا حالات و واقعات یا خیالات تھے جنھوں نے ہمیں خود اذیتی میں مبتلا کیا۔
کسی قابل اعتماد اور مددگار شخص سے اپنی کیفیات کا اظہار کریں، اگرچہ انہیں لگتا ہے کہ وہ اکیلے ہیں ان کا کوئی نہیں پھر بھی اپنے اردگرد ایسا شخص تلاش کر
نے کی کوشش کریں جو آپ کا حوصلہ بڑھا سکتا ہو، زیادہ بہتر تو یہ ہے کہ اپنے جیسے مسائل میں مبتلا افراد کا گروہ بنایا جائے اور مشترکہ مسائل پر مل بیٹھ کر غوروفکر کیا جائے۔
اپنی ذات کی خوبیوں کو پہچانیں اور ان کو نکھارنے کی کوشش کریں، خوداذیتی ایک منفی ذریعہ اظہار ہے۔
زندگی میں جتنی آسانیاں لا سکتے ہیں لائیں۔ کچھ نیا پن پیدا کریں۔
اپنی توجہ کسی اور کام میں لگانے کی کوشش کریں خاص طور پر ایسے کام جو آپ کو پرسکون کرتے ہیں۔

کسی ایسے شخص کے قریب رہنا جو اپنے آپ کو اذیت پہنچاتا ہو بہت پریشان کن ہوتا ہے لیکن کچھ چیزیں پھر بھی کی جا سکتی ہیں۔سب سے اہم بات ہےان کو بغیر کسی تنقید کے سننا ۔ اگر آپ خود اس شخص کے اس رویے سے ناراض یا دلبرداشتہ ہیں تو پھر اس کے لیے کچھ کرنا آپ کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ اپنی جذباتی حالت سے زیادہ مریض کی حالت پہ توجہ دیں۔
جب وہ خود کو اذیت پہنچانا چاہیں تو ان سے بات کریں۔ ان کے احساسات کو
سمجھنے کی کوشش کریں اور پھر آہستہ آ ہستہ گفتگو کا موضوع بدل دیں۔خود کو اذیت پہنچانے کے عمل کو پراسرار بنانے کے بجائے اس عمل کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے میں انکی مدد کریں۔
آپ ان کی مدد اس طرح سے بھی کر سکتے ہیں کہ ان کو یہ سوچنے میں مدد دیں
کہ وہ اپنے آپ کو اذیت پہنچانے کے عمل کو ایک شرمناک راز نہ سمجھیں بلکہ ایک مسئلہ سمجھیں جس کا حل تلاش کیا جانا ضروری ہے۔
ان سے راتوں رات اس عمل کو چھوڑنے کی امید نہ رکھیں۔ ا ن کا اپنے رویے کو
بدلناایک مشکل کام ہے اور اس میں وقت لگتا ہے۔
ان سے تلخی، غصے یا ناراضگی سے پیش نہ آّئیں۔ اس سے ان کی حالت مزید
خراب ہو سکتی ہے۔ آپ ان پر ایمانداری سے یہ واضح کردیں کہ ان کے رویے سے آپ پہ کیا اثر ہوتا ہے، لیکن اس کا اظہار آپ نرمی سے کریں اور اس انداز سے کریں جس سے ان کو پتہ چلے کہ آپ کو ان کی کتنی فکر ہے۔
اگر وہ خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں تو ان کو روکنے کے لیے ان سے
جسمانی زور آزمائی نہ کریں۔ بہتر ہو گا کہ آپ وہاں سے ہٹ جائیں اور ان سے کہیں کہ وہ خود کو نقصان پہنچانے کے بجائے آ کے آپ سے بات کریں۔
ان سے آئندہ خود کو اذیت نہ پہنچانے کا وعدہ نہ لیں اوراپنے ان کی مدد کرنے کے عمل کو ان کے خود کو اذیت نہ پہنچانے سے مشروط نہ کریں۔
آپ خود کو ان کے کسی عمل کا ذمہ دار نہ ٹھہرائیں اور یہ بھی نہ سمجھیں کہ ان کو تبدیل کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ بہتر ہو گا کہ آپ اپنی معمول کی زندگی جاری رکھیں ۔ اپنے کسی قریبی شخص سے اس معاملے پہ بات کرتے رہیں تا کہ آپ کو سہارا ملتا رہے۔

jasmin22
24-10-2009, 05:54 PM
Bahut khub bahut accha aur tafseeli jawab diya laikin agar hamry ird gird aisy loog hoon jo aisa karty hoon aur hum un k iss takleef ko kam karna chahain tu hum kia kar sakty hain .......


kiyoon kai aisy loog na sirf khud ko aziyat daity hain balkai dosroon ko takleef dai kar un kai lia rukawatain khari kar kai bhi khush hoty hain tu iss sai kaisy bachain :)

Fragrance of Life
03-01-2010, 03:51 PM
زیادہ تر لوگوں کو اس کا ادراک نہیں ہوتا کہ وہ خود کو تکلیف کیوں پہنچاتے ہیں، یہ اپنے اندر کی پراگندہ سوچوں اور خیالات سے نمٹنے کیلئے ایک راستہ کے طور پر استعمال کی جاتی ہے جس کے بعد وقتی طور پر ایک تسکین کا احساس ہوتا ہے۔
کچھ لوگوں کو اس میں لذت محسوس ہونے لگتی ہے اور وہ اسے بار بار دہراتے ہیں۔ان کی زندگی میں ایسے وقت میں کوئی ایسا شخص نہیں ہوتا جس پر وہ اعتبار کر سکیں انھیں اپنا دکھ اکیلے ہی برداشت کرنا ہوتا ہے کسی سے کسی قسم کی جذباتی مدد نہیں مل پاتی کہ وہ ان حالات سے نمٹ سکیں۔




سو فیصد صحیح لکھا آپ نے۔

rja_eman
10-01-2010, 12:29 AM
khud azziyati mai mubtala log kisi ko nuqsan pohncha ker khushi mehsoos nahi kertay balkay ager unsay kisi ko koi takleef pohanch jaey to khud bhi oos takleef ko oosi shiddat se mehsoos kertay hain jitni k dosray ko ponchi, ye log boht sensitive hotay hain aur sensitive insan by birth hota hay, is mai kisi ka koi qasoor nahi hota, mager is kefiyat ko control mai kia ja sakta hay ager koi inhain samajhnay wala inhe samajh ker mohabbat k sath inhain tawajjoh de aur in k masaayel mai dilchaspi lay.