PDA

View Full Version : Please Help Me



kaf_ali
02-04-2009, 02:17 AM
mera name Mohammad Kashif Munir hai aur mean 24 saal ka hun mean Saudi Arabia Riyadh mean job kerta hun

mughe Ghose hone ka mesla hai keh mean bohet jaldi ghosa kerne legta hun per ghusa hamesha galet bat per hi aata hai per aata bohet zeyada hai. mean ne kai bat esy control kerny ke bhi koshish ke hai per kamyab nahi ho pata. ghusa ker leny ke bad mean sherminda bhi hota hun dil mean keh ye asy bat bhi na the keh is per itna ghusa aata. ab to choty bhai aur bahen age se jawab bhi de dety hain. jo pehly mari awaz son ker sahem jate the.

please help me mean kia kerun is ghosy se jan churane ke liy......

Almas Saifi
03-04-2009, 10:45 PM
اسلام علیکم!۔
کوشش کریں کہ غصے میں بولیں نہیں، پانی پیئیں اور فوراً غصے والی جگہ سے ہٹ جائیں۔ بعد میں اس معاملے پر غور کریں اور سوچیں کہ اگر مجھ سے ایسی کوئی غلطی ہوتی تو میں کیسا ری ایکشن چاہتا۔ آپ جیسا سلوک اپنے لیے چاہتے ہیں ویسا دوسروں کے لیے اختیار کریں۔ ہر وقت اپنے آپ کو بہتر اور خاص نہیں سمجھنا چاہیے۔ عاجزی اور انکساری ہمارے رسول پاک ﷺ کا وصف، اور ہمارے لیے سبق ہے۔ آپ انھی کے دیس میں بیٹھے غصہ کرتے ہیں؟ غصہ صحیح بات پر کسی کو نہیں آتا۔ اس لیے آپکی یہ تاویل ناقابلِ قبول ہے۔ غصہ اور عقل ایک ہی وقت میں ایک دماغ میں نہیں سما سکتے۔ معاف کرنا اور رحم کرنا سیکھیں گے تو حشر کے روز معافی اور رحم کی امید رکھ سکیں گے نا۔ یاد رکھیں آپ اپنے چھوٹے بہن بھائی کو بھی غصہ کرنا سکھا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ پہلا قدم تو اٹھا ہی چکے ہیں یعنی واپس جواب دینے کا۔ وہ بھی آپ کی دیکھا دیکھی غصہ کرنے کی معقول وجہ بیان کرکے اپنے آپ کو تسلی دے لیا کریں گے۔ پھر آپ کس طرح ان کو سمجھائیں گے کہ جیسا میں کرتا ہوں ویسا تم نہ کرو، کیوں؟ غصہ عمر، مرتبہ اور رشتہ نہیں دیکھتا، یہ تو شیطان کا ہتھیار ہے، جہاں، جب، جیسے چل گیا سو چل گیا۔ اور شیطان اپنے لیے ایک تماشہ لگا کر محظوظ ہوتا ہے، اور غصہ کرنے والا اس کے لیے پرفارم کرتا ہے۔ جب احساس ہو کہ آپ سے زیادتی ہوئی ہے تو اسے دل میں نہ رکھیں، بلکہ دوسرے سے فوراً معافی مانگ لیں، اس دنیا میں معافی مانگنا آسان ہے اور حشر والے دن آپ کو معافی خریدنی پڑے گی اپنے نیک اعمال کے بدلے۔ یہ تو کافی مہنگا اور غالباً گھاٹے کا سودا نہیں؟ پھر جیسا سلوک آپ اللہ کے بندوں کے ساتھ کریں گے، ذرا سوچیں اللہ آپ کے ساتھ بھی ویسا ہی نہیں کرے گا؟ بے شک اللہ بہت غفورالرحیم ہے لیکن ان کے لیے جنہیں اسکے بندوں کا احساس ہو۔ پھر یہ بھی تو سوچیں کہ چھوٹے ہونے کی وجہ سے آپ کے بہن بھائی کے گناہ آپ سے کم ہوں گے، یعنی وہ آپ سے زیادہ معصوم ہیں، تو کیا یہ اچھی بات ہو گی کہ آپ ان معصوموں کے لیے اچھے رول ماڈل نہیں ثابت ہو رہے۔ میں نے تو آپ کو ایک جنرل سا جواب دیا ہے، اب ہم نوشین جی کے جواب کا انتظار کریں گے، وہ ہمیں ذہنی اور نفسیاتی ڈوز دیں گی۔

Nosheen Qureshi
04-04-2009, 09:23 AM
غصہ ایک قدرتی ردعمل ہے جو ہر نارمل انسان کو آتا ہے، ہاں جب یہ ایک حد سے بڑھ جائے جہاں آپ اس کے ساتھ گزارا نہ کر پا رہے ہوں تو اس پر قابو پانے کے متعلق ضرور سوچنا چاہئے۔
شدید غصہ میں انسان کو عموما سمجھ نہیں آتی کہ کیا کرے اور کیسے کرے لیکن یہ دل ضرور چاہتا ہے کہ اگلے بندے کو تہس نہس کر دیا جائے اسے کوئی ایسا جواب دیا جائے کہ ہم اپنا بدلہ پورا کر لیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم اچھے انسان ہوں تو بدلہ لینے کے بعد ہمیں خود پر غصہ آنے لگتا ہے کہ یہ میں نے کیا کیا میں تو ایسا نہیں ہوں، اپنے فعل پر ندامت شدت سے محسوس ہوتی ہے اور بے کلی محسوس ہوتی ہے۔
آپ اپنے غصہ کو دبانے کی بجائے اگر اس کا مثبت انداز میں اظہار کریں گے تو نہ تو کسی کو تکلیف پہنچے گی نہ برا لگے گا اور آپ بھی مطمئن رہیں گے۔ ہم حالات و واقعات کو نہیں بدل سکتے لیکن ہم اپنی سوچ کو بدل سکتے ہیں۔
دراصل آپ میں تحمل اور قوت برداشت کم ہے اسلئے آپ جلد غصے میں آ جاتے ہیں، ایسے لوگوں میں مشکل حالات سے مقابلہ کی صلاحیت بھی نسبتا کم ہوتی ہے، ہر کوئی جو زیادہ غصہ کرتا ہے اسے یہی لگتا ہے کہ مجھے ہمیشہ غلط بات پر غصہ آتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ آپ چھوٹی سی ناانصافی بھی برداشت نہیں کر پاتے جسے عام طور پر لوگ ناانصافی سمجھتے بھی نہیں لیکن اسے قبول کرنا آپ کےلئے ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔
آپ کے ساتھ یہ مسئلہ بچپن سے ہوگا جو اب پختہ ہو گیا ہے، سوچنے اور غور کرنے کی عادت ڈالیں کہ اس مسئلہ میں اس قدر جذباتی ہونے والی کیا بات ہے، جب ہم ہر معاملہ پر ایک ہی طرح پیش آتے ہیں تو لوگ آہستہ آہستہ ہمیں اہمیت دینا کم کر دیتے ہیں ، اگر ہم اچھے ہوں تو ہماری اچھائی ہمیں گھر والوں سے قریب کر دیتی ہے صرف منوانے کی عادت اچھی نہیں ماننے کی بھی عادت ڈالیں، گھر والوں سے قریب ہونے کی کوشش کریں ، یہ ضروری نہیں کہ چھوٹے بہن بھائی ہم سے ڈریں لیکن یہ ضروری ہے کہ وہ ہماری عزت کریں ، جہاں ڈر ہوتا ہے وہاں عموماً عزت نہیں ہوتی ، دوسروں کی سنیں گے تو وہ آپ کو اہمیت بھی دیں گے اور آپ کی مانیں گے بھی لیکن اگر صرف اپنی کہنے کی عادت پختہ ہو جائے تو لوگ ہم سے دور ہو جاتے ہیں، ہماری قدر ان کی نگاہ میں کم ہو جاتی ہے اور ہماری بات کی اہمیت اس درجہ گر جاتی ہے کہ ہم سے برداشت نہیں ہوتا اور شدید غصہ ایک ابال کی صورت میں آنے لگتا ہے۔
سب سے پہلے تو اپنی سوچ کے انداز کو بدلیں ، ہر چیز کو دل پر لینا چھوڑ دیں، دوسروں کے متعلق رائے قائم کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیں، منفی سوچوں اور خیالات کو ذھن میں جگہ نہ دیں، اپنی خوشی کے کام زیادہ کریں، ایسے کام کریں جس سے آپ کو تسکین کا احساس ہو لیکن کسی دوسرے کو کوئی تکلیف نہ پہنچے، جو چیز اپنے لئے اچھی نہیں لگتی اس کا دوسرے کیلئے انتخاب کرنے سے گریز کریں، یہ ذھن میں لائیں کہ غصہ آپ کے مسئلہ کا حل نہیں ہے اور غصہ میں آپ کسی طرح بھی اچھا سوچ نہیں پائیں گے، حقیقت پسندی سے مسئلہ کا جائزہ لیں، ایسے الفاظ سے گریز کریں جو ختمی ہوں جیسا کہ "آپ ہمیشہ میرے ساتھ ہی ایسا کرتے ہیں""ہمیشہ مجھے ہی جھکنا پڑتا ہے" "مجھے کبھی بھی اہمیت نہیں دی جاتی" "میری گھر میں کبھی کوئی عزت نہیں رہی"۔ یہ سوچیں اور الفاظ آپ کے ذھن کو آلودہ کرتے ہیں اور منفی سوچوں کو پروان چڑھاتے ہیں۔
خود کو دلیل سے قائل کریں، روزانہ صبح واک کی عادت ڈالیں، تقریبا 35 منٹ روزانہ واک سے ہمارا مزاج خوشگوار رہتا ہے، خود کو یہ پیغام دیتے رہا کریں کہ مجھے چھوٹی باتوں اور مسائل پر دبائو کا شکار نہیں ہونا اور حقیقت پسندی سے حالات کا جائزہ لینا ہے۔ فوری نتیجہ اخذ نہ کریں ٹھنڈے دماغ سے سوچیں، دوسروں کا نقطہ نظر بھی ضرور سنیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایسی کوئی بھی بات جو آپ کے مزاج کے موافق نہ ہوئی آپ کو تلخ کر دے گی تو ایسے ماحول میں خود کو مکمل پرسکون کر کے جائیں، غصہ عقل کو کھا جاتا ہے اسے ایسا موقع نہ دیں، زندگی میں مزاح کو بھی جگہ دیں ، مشکلات کے حل سوچیں اور ان پر الجھنے کی بجائے دوسروں پر اعتماد کی عادت ڈالیں اور مشورہ لیں۔ خود کو ہمیشہ درست اور دوسروں کو ہمیشہ غلط تصور نہ کریں۔