PDA

View Full Version : Psychosis



Almas Saifi
18-03-2009, 06:38 AM
اسلام علیکم!۔
Psychosis
کیا ھوتا ھے اور کیسے شروع ھوتا ھے؟
کیا یہ آہستہ آہستہ ڈیویلیپ ھوتا ھے یا اچانک بھی ھو سکتا ھے؟
عموماً کس عمر کے افراد اسکا ٹارگٹ بنتے ھیں؟
پاکستانیوں میں یہ کس حد تک پایا جاتا ھے؟
کس قسم کے حالات، رویے یا واقعات ذمہ دار ھوتے ھیں؟
کیا یہ مکمل طور پر ختم ھو جاتا ھے؟ دوا کے ساتھ یا دوا کے بغیر بھی؟
کس قسم کا ماحول مریض کے لیے مناسب ھوتا ھے؟
اگر وہ دوا کھانا بالکل بند کر دے تو کیا صرف بہتر ماحول پر ھی اکتفا کیا جاسکتا ھے؟
اگر وہ اپنے معالج، دوا اور کاؤنسلنگ / علاج سے ھی بدظن ھو جائے تو کیا کیا جاسکتا ھے؟
کیا یہ کبھی لوٹ کر آتا ھے اور مستقبل پر کیسے اثر انداز ھوتا ھے؟

Nosheen Qureshi
22-03-2009, 05:50 PM
یہ ایک ایسی ذھنی بیماری ہے جس میں حقیقت اور تخیل کا فرق ختم ہو جاتا ہے، اس کی وجہ سے متاثرہ شخص کی زندگی میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس کی علامات میں مختلف طرح کے اخباط، واہمے، حقیقت سے دوری یا حقیقت سے رابطہ مکمل طور پر ختم ہو جانا، اپنی صلاحیتوں کا غلط ادراک وغیرہ شامل ہیں۔ اپنے جذبات کا غلط انداز میں اظہار کرتے ہیں، خوامخواہ شک یا خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ بہت سے ذھنی عوارض کی وجہ سے ہو سکتا ہے جس میں شیزوفرینیا، خبط کا عارضہ، موڈ کے عارضے وغیرہ شامل ہیں، مختلف قسم کی نشہ آور ادویات کا غلط استعمال یا طویل عرصے کے استعمال کے بعد اچانک استعمال روک دینا بھی اس کی وجہ بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی شدید ذھنی صدمہ یا دماغی چوٹ بھی اس کی وجہ بن سکتا ہے۔
انھیں اپنی اس کیفیت کا ادراک نہیں ہوتا۔
ان کا علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ اپنے اور دوسروں کے لئے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں
علاج میں مختلف ادویات کے ساتھ ساتھ سائیکوتھراپی بھی کی جاتی ہے، اگر مریض اس کے لئے راضی نہ ہو تو بھی اسے مختلف طریقوں سے علاج میں شامل کیا جاتا ہے، اس کا ماہرین پر اعتماد بے حد ضروری ہے اسی صورت میں وہ علاج پر آمادہ ہوگا، ادویات سے رویہ کی شدت کو کنٹرول کرتے ہیں اور سیشن سے اسے حقیقت کے ادراک میں مدد دی جاتی ہے۔
اس کے شروع ہونے کی کوئی خاص عمر نہیں ہوتی,اگر مرض کی شدت کم ہو اور صحیح وقت پر علاج شروع کر دیا جائے تو بہتری کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔،

mqali
22-03-2009, 06:50 PM
السلام علیکم
بھت بھت شکریہ
جزاک اللہ

Almas Saifi
23-03-2009, 06:47 AM
اسلام علیکم! آپ کے مفصل جواب کا بہت شکریہ۔
یہ مسئلہ ایک 18 سالہ لڑکے کو حال ہی میں ڈیئیگنوز ہوا ھے۔ شاید اس کو یہ ذہنی صدمے کہ وجہ سے ہوا۔ تقریباً سات آٹھ ماہ تک بگڑتے بگڑتے نوبت ایک ماہ کے لیے ھاسپٹلائیز ھونے تک پہنچ گئی۔ لیکن جو دوا اسے دی گئی تھی وہ اس نے صرف ایک ماہ لی، اس سے اسے نیند بہت آتی اور اس کی حالت نشئیوں جیسی ھو گئی تھی (اپنے جسم پر کنٹرول کم ہو گیا، ھاتھ بھی کانپتے تھے) اور روزمرہ کے کاموں اور باتوں میں اسکا ری ایکشن بھی بہت سست تھا۔ یہ دیکھ کر اسکے بڑے بھائی نے، (جس کا اس پر پہلے بھی تھوڑا بہت رعب تھا) اس کی دوا بند کرا دی۔ اب چھٹی والے دن وہ دونوں سارا دن اکھٹے اور اچھا گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سے یہ ہوا کہ بڑے بھائی کو اس نے اپنا گرُو مان لیا ہے۔ زیادہ تر کاموں / باتوں میں اسکا ساتھ دیتا ہے، کبھی اسے، یعنی بڑے بھائی کو منفی بات سوچنے پر ٹوک بھی دیتا ہے۔ جب وہ تھیریپی یا ڈاکٹرز کے خلاف اپنی رائے دیتا ھے تو اسکی امی اسکی ھاں میں ھاں ملاتی ہیں اور اسے یقین دلاتی ھیں کہ وہ بالکل ٹھیک ھے اور اسے کسی علاج کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایک طرح سے ماماز بوآئے بن گیا ھے۔ وہ زیادہ تر صرف انھی دو افراد کی بات سنتا اور مانتا ھے۔ اور یہی دو افراد اسکے علاج کی ضرورت نہیں محسوس کرتے۔ سب اسے خوش رکھنے کی کوشش کرتے ھیں۔ ویسے تو وہ اب پہلے سے بہت بہتر انٹرایکٹ کرتا ھے لیکن پھر بھی اس میں وہ پہلے والی بات اور چستی نہیں رھی۔
اب سوال یہ ھیں کہ: اسکے موجودہ حالات میں جبکہ اسکو بہت پیار اور کئیر مل رہا ھے، وہ پہلے سے بہت بہتر بی ہیو بھی کر رہا ھے، (لیکن دوا اور تھیریپی نہیں ہیں)، اور اسکے اپنے مستقبل کے لیے بہت بلند عزائم بھی ہیں،
کیا یہ سب عناصر مل کر اسے دوبارہ پہلے جیسا بنا سکتے ہیں؟
کیا وہ اس فیز سے دوبارہ گزرنے سے بچ سکتا ہے؟
اگر خدانخواستہ دوبارہ ایسی حالت ہوئی تو کیا وہ اس کو ہینڈل کر پائے گا؟
اور کیا وہ زیادہ سخت نوعیت کی ھو گی؟
کیا یہ کبھی مکمل طور پر ختم ھو سکتی ھے؟
کونسے عناصر/حالات اسکے لیے خطرناک ھیں؟

Nosheen Qureshi
24-03-2009, 03:42 PM
علاج سے بہتری کا بہت حد تک انحصار اس بات پر ہے کہ اس میں کس قسم کی علامات تھیں اور ان کی یقینی وجہ کیا تھی، زیادہ تر افراد میں یہ دوبارہ نہیں ہوتا، کچھ افراد میں زندگی میں پھر کسی وقت کوئی چھوٹی موٹی علامت ظاہر ہو جاتی ہے لیکن کچھ افراد میں یہ طویل عرصے تک رہتا ہے پھر اسے شیزوفرینیا یا بائی پولر تشخیص کیا جائے گا۔
جو ادویات استعمال کی جاتی ہیں ان کے مضر اثرات میں بے انتہا سستی محسوس ہونا، نیند کی کمی / زیادتی، وزن بڑھنا، ھاتھ پائوں کانپنا، جنسی مسائل وغیرہ شامل ہیں، ان اثرات کے ازالے کیلئے بھی ادویات ہوتی ہیں جو مریض کی علامات کے مطابق دی جاتی ہیں۔
اگر یہ صرف ایک
episode
تھی تو وہ یقینا ٹھیک ہو سکتا ہے، گھر والوں کی توجہ اس کیلئے ضروری ہے لیکن توجہ کی حد کا تعین کرنے کی ضرورت ہے، عام طور پر جب کسی میں کسی ذھنی مسئلے کی تشخیص ہوتی ہے تو معاشرے اور رشتہ داروں کا رویہ کافی تکلیف دہ ہو جاتا ہے ، ہمارے گھر والے ہمیں اس سے بچانا چاہتے ہیں اور ہمیں لوگوں کا سامنا کرنا سکھانے کی بجائے ایک خول میں بند کر دیتے ہیں، مریض بھی عموما اس سب صورتحال میں گھر والوں کے ساتھ زیادہ بہتر محسوس کرتا ہے کیونکہ ہو سکتا ہے اسے یہ سب کچھ پہلے نہ مل رہا ہو یا وہ باہر اچھا نہ محسوس کرتا ہو، عموما گھر والوں کی بھی کائونسلنگ کی جاتی ہے کہ کسی مخصوص مرض کے ساتھ مریض کیلئے کس قسم کا رویہ فائدہ مند ہو گا۔
دوبارہ آنے کیلئے تو وجہ دیکھنا ضروری ہے اگر جو حالات پہلے اس کا باعث بنے تھے دوبارہ ہوں اور مریض کے اعصاب ان کا مقابلہ کرنے کے اہل نہ ہوں تو مشکل ہو سکتی ہے، کوئی بھی مرض اگر ایک دفعہ علاج کے بعد واپس آئے تو وہ زیادہ شدید نوعیت کا ہوتا ہے۔ عموما اتنے کم عرصے کے علاج سے بیماری مکمل ختم نہیں ہوتی۔