PDA

View Full Version : نوشین قریشی سے سوال: ADD



فراز
11-03-2009, 12:20 PM
اے ڈی ڈی ، ہوتا کیا ہے ویسے ؟؟
???
نیٹ پر جو تعریف تھی وہ کچھ پلے نہیں پڑی
:confused:

SmyleAgain
11-03-2009, 12:33 PM
اے ڈی ڈی ، ہوتا کیا ہے ویسے ؟؟
???
نیٹ پر جو تعریف تھی وہ کچھ پلے نہیں پڑی
:confused:
Attention Deficit Disorder
بچوں میں یہ ADHD (ATTENTION DEFICIT HYPERACTIVITY DISORDER) کہلاتا ہے۔
اس میں کانسنٹریشن کی کمی، ڈس آرگنائزڈ رویہ، وغیرہ دیکھنے میں آتا ہے۔
صحیح تفصیل سے ٹیکنیکل ٹرمز کے ساتھ تو نوشین کے جواب کا انتظار کرتے ہیں۔

فراز
11-03-2009, 01:18 PM
Attention Deficit Disorder
بچوں میں یہ ADHD (ATTENTION DEFICIT HYPERACTIVITY DISORDER) کہلاتا ہے۔
اس میں کانسنٹریشن کی کمی، ڈس آرگنائزڈ رویہ، وغیرہ دیکھنے میں آتا ہے۔
صحیح تفصیل سے ٹیکنیکل ٹرمز کے ساتھ تو نوشین کے جواب کا انتظار کرتے ہیں۔
ہاں یہ مخفف کا تو مجھے پتہ ہے ، پر تفصیل نہیں معلوم کہ ہوتا کیسے ، کیا کیا علامات ہوتی ہیں۔ موروثی بیماری ہے۔پتہ کیسے چلے کہ ہوگیا ہے ، وغیرہ وغیرہ
???

Minha Malik
12-03-2009, 07:54 PM
السلام علیکم


شکریہ فراز بھائی
میں بھی ابھی کل سوچ رہی تھی پوچھوں اس کی ڈیٹیلز۔
نوشین جی جلدی سے آئیے اور بتائیے۔

Nosheen Qureshi
13-03-2009, 09:12 AM
Attention Deficit Hyperactivity Disorder(AD/HD)
بچوں میں سب سے زیادہ پایا جانے والا مسئلہ ہے، اس کے مریض عموما توجہ نہیں دے پاتے، ان میں عمو می طور پر مندرجہ ذیل مسائل دیکھے جاتے ہیں
انتہائی لاپروائی کا مظاہرہ کرنا، کسی کام کو مکمل توجہ اور دھیان سے انجام نہ دینا، کام اور کھیل دونوں میں ارتکاز توجہ میں مشکل ہونا، جب ان سے بات کی جائے تو ان کے انداز میں بے دھیانی کا عنصر ہونا، عموما کام مکمل نہ کرنا اور ھدایات پر عمل نہ کرنا، چیزوں اور کاموںکو منظم انداز میں کرنے میں مشکل ہونا، ایسے کاموںسے اجتناب برتنا جن میں زھنی مشقت یا کوشش کا عمل دخل ہو، اکثر ضروری چیزیں وقت پڑنے پر گما دینا، توجہ کا آسانی سے کسی بھی دوسرے کام میں منتقل ہو جانا، روزمرہ کے کاموں میں بھلکڑ ہونا،
اپنے ہاتھوںکی انگلیوں سے الجھتے رہنا ہا اچھلتے رہنا، جہاں بیٹھے رہنے کی ضرورت ہو وہاں ہرگز نہ بیٹھنا، ادھر ادھر بھاگنا اور نچلے نہ بیٹھنا جبکہ یہ حالات کے لحاظ سے غیر مناسب ہو، چپ چاپ کام کرنے میں مشکل کا شکار ہونا، ہر وقت بے چین اور ہوا کے گھوڑے پر سوار محسوس ہونا، بے انتہا باتونی ہونا،
سوال مکمل ہونے سے پہلے جواب دینا، اپنی باری کا انتظار کرنے میں دشواری ہونا، دوسروں کے کھیل اور کام میں غیر ضروری مداخلت کرنا

ان علامات میں سے کچھ کا اس شدت سے ہونا کہ روزمرہ زندگی مشکل کا شکار ہو جائے تو ہی ہم اسے نفسیاتی مسئلہ کے طور پر تشخیص کر سکتے ہیں ورنہ کسی حد تک یہ علامات سب میں ہی پائی جاتی ہیں ، لیکن اگر ان کی شدت بہت زیادہ ہو اور یہ 6ماہ سے زیادہ عرصہ رویہ کی تبدیلی اور مشکلات کا باعث بننے لگیں تو معالج سے رجوع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔