PDA

View Full Version : زندہ اشیاء کا سانچہ کدھر ھے؟



1UM-SiteAdmins
04-03-2009, 03:37 PM
اتنا دلچسپ سیکشن دریافت ھوا ھے کہ دل کرتا ھے کئی سوالات جو بڑے عرصے سے ذھن میں گھوم رھے تھے ان کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔ فورم پر بعض بڑی پہنچی ھوئی ھستیاں موجود ھیں۔ اس لیے امید ھے میرے جیسے افراد کی علمی پیاس بجھ پائے گی۔


بے جان اشیاء کی شکل تبدیل کرنے کے لیے ھم سانچے کا استعمال کرتے ھیں۔ اسے انگلش میں ڈائی کہتے ہیں۔ اس میں ظاھر ھے کوئی حیرانی کی بات نہیں۔8)


ھمیں پلاسٹ کی کوئی چیز بنانی ھو تو پلاسٹک کو پگھلا کر کسی ڈائی کے اندر ڈالتے ھیں اور وہ چیز تیار ھو جاتی ھے۔ لوھے اور دیگر دھاتوں کی اشیاء بھی اسی طرح بنائی جاتی ھیں۔ پتھر ، لکڑی وغیرہ کی شکل تبدیل کرنی ھو تو ھم ڈائی کی بجائے انہیں چھیل اور کاٹ کے ایسا کر لیتے ھیں۔ اس میں بھی کوئی حیرانی کی بات نہیں۔8)


اب سوال یہ ھے کہ جاندار اشیاء کو بنانے کے لیے سانچہ یا ڈائی کدھر ھے؟ یعنی جان کو ایک طرف رکھ دیں۔ اگر ھمیں پلاسٹک کا انسان بنانا ھوتا تو ھم ایک سانچہ بناتے اس میں پلاسٹک ڈالتے انسان بن جاتا۔ اب کس طرح کسی سانچے کے بغیر پروٹوپلازم خود بخود جا کر اسی جگہ لگتا ھے جہاں لگنا ھوتا ھے۔ کیا انسان کے اردگرد کوئی غیر مرئی سانچہ موجود ھے جیسے کوئی توانائی کا میدان جس کے زیر ِ اثر پروٹوپلازم اپنی مقررہ جگہ پر جا کر لگتا رھتا ھے ۔ یہ بات میرے لیے بہت حیرانی کا باعث ھے۔???


میرے خیال سے اس میں یہ بات نہیں کہی جا سکتی کہ خدا کی مرضی۔ خدا کے جن اعمال کو انسان سمجھ پایا ھے ان سے پتہ چلتا ھے کہ خدا کے کچھ قوانین ھیں جنہیں سنت الٰہی کہا جاتا ھے کائنات کا نظام اسی کے مطابق چلتا ھے۔ جب ھم اس کے کسی حصے کو سمجھنے میں کامیاب ھو جاتے ھیں تو ھم کئی بیماریوں کا علاج دریافت کر لیتے ھیں۔ ستاروں کا حال جان لیتے ھیں اور چاند کا سفر کر لیتے ھیں۔


اگر تمام جاندار اشیاء کے گرد موجود ڈائی کا پتہ چل جائے یا پھر یہ راز ھی آشکار ھو جائے کہ ڈائی کے بغیر بھی چیزوں کی شکل بدلی جا سکتی ھے تو دنیا میں ایک نیا اقتصادی انقلاب پیدا ھو جائے۔ اب دیکھیں ناں ایک موٹر کار میں تھوڑا سا لوھا ، پلاسٹک ، ربڑ ، شیشہ استعمال ھوتا ھے جس کی کوئی خاص قیمت نہیں لیکن اس کو ایک معیار کے مطابق مطلوبہ شکل دینے اور مناسب مقام پر فٹ کرنے میں اصل خرچہ آتا ھے۔ اگر یہ ڈائی کا سلسلہ سمجھ آ جائے تو کتنی بچت ھو سکتی ھے۔

Gudo
04-03-2009, 10:24 PM
aoa

for humans the die is DNA

its a wonder in it self and scientist had already mapped out all the genetic patteren and figured out what gene is for what

recently in canada they had made a safe way of making stem cells which can help people with spinal cord injuries or parkisins dieases etc

if they use it for cure it will be beneficial but if they try to use it to make colons or humans or try to find cure for death then this will result indestriction if human race

only humans and living thing have dna or cell based system

non living things can not be made like that

there r restriction of chemical and physical laws so not in the near future it is possible

and rest why u want so many workers to be unemployed if everything is made automatically

Ahsan_Yaz
04-03-2009, 10:43 PM
جی بالکل۔ ابھی تک کے انسانی علم کے مطابق ڈی این اے ہی وہ بنیادی ڈھانچہ ہے جس کی بنیاد پہ ہر زندہ چیز بنتی ہے، بڑھتی ہے اور اس کی ہر خاصیت اسی کے مطابق طے ہوتی ہے۔
یہ بات بھی سچ ہے کہ انسان پہلے ہی اس میدان میں بھی تسخیر کی کچھ منازل طے کر چکا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم سے بھی پہلے جرمن سائنسدانوں نے جینیٹک انجینئرنگ کے تجربات شروع کر دیئے تھے۔
ہر کروموسوم میں اس جسم یا زندہ چیز کی خصوصیات والے حصے موجود ہوتے ہیں۔ سائنس دان اس چیز کی کوشش میں تھے اور ہیں کہ اس میں بہتر خصوصیات والے حصے کو شناخت کر کے اس کو کم تر خصوصیات والے حصے کی جگہ لگایا جا سکے۔ اگر اس میں کامیابی ہو گئی تو پھر بلند قامت، بہتر شکل و صورت اور بیماریوں کے خلاف بہتر مدافعت والے انسان یا باقی مخلوقات بھی بنائی جا سکیں گی۔
بہر حال انسان کچھ بھی کوشش کر لے۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی طاقت کے آگے انسان کچھ بھی نہیں ہے۔

1UM-SiteAdmins
04-03-2009, 11:03 PM
جی آپ دونوں بھائیوں کی یہ بات تو سمجھ آتی ھے کہ بنیادی کوڈ ڈی این اے میں ھے۔ میں عرض کر رھا ھوں کہ سپورٹ سسٹم کیسے ھے۔


جیسے خون کی گردش کے نظام کو لے لیں۔ یہ ایک سنبتا آسانی سے سمجھ آنے والا سسٹم ھے جیسے ھمارے دیگر دیسی سسٹم ھوتے ھیں۔ ایک پمپ ھے۔ کچھ والوز ھیں۔ کچھ نالیاں ھیں ان میں خون گردش کرتا ھے کسی جگہ رکاوٹ ھو تو مسئلہ آ جاتا ھے۔


اب کوئی پوچھے کہ خون ، گلوکوز جسم تک کیسے پہنچتا ھے تو اس کا آسان جواب ھے ان نالیوں کے ذریعے۔ جہاں نالی باریک ھو گی وھاں کم خون جائے گا جہاں موٹی ھو گی وھاں زیادہ جائے گا۔ لیکن پروٹوپلازم کیسے مقررہ مقدار میں مقررہ جگہ جا کر مقررہ شکل میں لگ جاتا ھے اس کو آسان زبان میں سمجھنا چاھتا ھوں۔

Ahsan_Yaz
04-03-2009, 11:16 PM
ہممممم
نیٹ ورکنگ اور کمیونیکیشن میں ایک چیز ہوتی ہے پیکٹ سوئچنگ۔ یہ پرانے سرکٹ سوئچنگ سسٹم کو تیزی سے ری پلیس کر رہا ہے۔ پیکٹ سوئچنگ میں ڈیٹا کے پیکٹس کو خود ہی پتا ہوتا ہے کہ انہوں نے کہاں جانا ہے، سرکٹ سوئچنگ کی طرح ان کو راستہ بنا کر نہیں دیا جاتا۔
ڈی این اے بھی قدرت کا ایک ایسا معجزہ ہے جو کہ اسی طرح کی تیکنیک پہ کام کرتا ہے۔ ہر نئے بننے والے سیل کے اندر نیوکلیئس ہوتا ہے۔ نیوکلیئس میں کروموسومز، کروموسومز میں جینز، جینز میں ڈی این اے اور ڈی این اے میں ایڈینین، گوامین، سائٹوسین اور تھائی مین کی بنی ہوئی چینز ہوتی ہیں۔ انہی چینز میں سب راز پوشیدہ ہے کہ اس سیل کو کس جگہ جانا ہے۔ کیا اس کو کھال کا حصہ بننا ہے یا ناخن کا۔ اب اگر ان چینز کو ڈیکوڈ کیا جا سکے تو پتا نہیں کیا کچھ ہو سکے لیکن ہنوز ایسا ہو نہیں سکا۔

SmyleAgain
05-03-2009, 10:02 AM
ہمارے جسم میں بہت طرح کے سیلز ہوتے ہیں، جو مختلف قسم کے فنکشنز سر انجام دیتے ہیں۔۔۔ان سب سیلز کا بیسک سٹرکچر تو ایک ہی ہوتا ہے لیکن جو کام انہوں نے کرنا ہوتا ہے اس کے حساب سے ان کا سٹرکچر اور ان میں پائے جانے والے میٹیریلز مختلف ہوتے ہیں ایک دوسرے سے۔۔۔جب اک جسم تشکیل پا رہا ہوتا ہے تو شروع میں سب سٹیم سیلز ہوتے ہیں، یعنی کہ بیسک سیلز۔۔۔اس کے بعد یہ سپیشیلائز ہو جاتے ہیں مختلف سیلز میں۔۔۔اور جس سیل کا جو فنکشن ہوتا ہے، اس کے حساب سے اس کی جو ضروریات ہوتی ہیں، وہ والی جینز آن ہو جاتی ہیں، اور ایکسٹرا والی آف۔۔۔یعنی کہ جو پروٹوپلازم ہوتا ہے، وہ سیل کے اندر ہی بنتا ہے، اس والے سیل کی جینز کی انسٹرکشنز کے حساب سے۔۔۔
اب کوئ مجھے بتائے کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے does that make any sense?
مطلب جو سوال پوچھا تھا، اس کا کچھ جواب ملا اس سے؟

1UM-SiteAdmins
05-03-2009, 12:33 PM
یہ معلومات بھی بہت مفید ھیں لیکن میرا سوال صرف پروٹوپلازم کی ایک خاص ترتیب سے ٹرانسپورٹ سے متعلق تھا۔

مثلا ایک مکان کی مثال لیں جس میں پتھر، شیشہ، اینٹیں ایک ترتیب سے لگی ھوئی ھیں۔
اب یا تو :
یہ اینٹیں خود زھین تھیں اور آ کے اپنے اپنے مناسب مقام پر لگ گئییں
یا پھر کسی بیرونی سسٹم (جیسے مزدور وغیرہ) نے انہیں اس جگہ لگایا۔

اس مثال کو اگر جسم پر فٹ کریں تو آپ کا جواب کیا بنتا ھے؟
خلیے خود زھین ھیں اور چلتے چلتے مناسب جگہ پر پہنچ جاتے ھیں
یا
کوئی مقناطیسی میدان ٹائپ فیلڈ انہیں اپنی اپنی جگہ پر بٹھاتا ھے۔

eemaaan
05-03-2009, 12:35 PM
yazgil bhai n smyleagain sis dono he thaik ha 1 ne cell ki formation k baary me bataya ha n2 ny cell ki differentiation k baary me.thanx

Lubna Ali
05-03-2009, 12:36 PM
یہ معلومات بھی بہت مفید ھیں لیکن میرا سوال صرف پروٹوپلازم کی ایک خاص ترتیب سے ٹرانسپورٹ سے متعلق تھا۔

مثلا ایک مکان کی مثال لیں جس میں پتھر، شیشہ، اینٹیں ایک ترتیب سے لگی ھوئی ھیں۔
اب یا تو :
یہ اینٹیں خود زھین تھیں اور آ کے اپنے اپنے مناسب مقام پر لگ گئییں
یا پھر کسی بیرونی سسٹم (جیسے مزدور وغیرہ) نے انہیں اس جگہ لگایا۔

اس مثال کو اگر جسم پر فٹ کریں تو آپ کا جواب کیا بنتا ھے؟
خلیے خود زھین ھیں اور چلتے چلتے مناسب جگہ پر پہنچ جاتے ھیں
یا
کوئی مقناطیسی میدان ٹائپ فیلڈ انہیں اپنی اپنی جگہ پر بٹھاتا ھے۔
آپکے سوال کا ایک جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم جب کوئی دوائی کھاتے ہیں تو وہ دوائی اسی مقام میں جاکر اثر تو کرتی ہے نا جہاں اسکو کرنا ہوتا ہے
تو شاید ہمارے سیلز کا سسٹم بھی کچھ ایسا ہی ہو

SmyleAgain
05-03-2009, 12:44 PM
یہ معلومات بھی بہت مفید ھیں لیکن میرا سوال صرف پروٹوپلازم کی ایک خاص ترتیب سے ٹرانسپورٹ سے متعلق تھا۔

مثلا ایک مکان کی مثال لیں جس میں پتھر، شیشہ، اینٹیں ایک ترتیب سے لگی ھوئی ھیں۔
اب یا تو :
یہ اینٹیں خود زھین تھیں اور آ کے اپنے اپنے مناسب مقام پر لگ گئییں
یا پھر کسی بیرونی سسٹم (جیسے مزدور وغیرہ) نے انہیں اس جگہ لگایا۔

اس مثال کو اگر جسم پر فٹ کریں تو آپ کا جواب کیا بنتا ھے؟
خلیے خود زھین ھیں اور چلتے چلتے مناسب جگہ پر پہنچ جاتے ھیں
یا
کوئی مقناطیسی میدان ٹائپ فیلڈ انہیں اپنی اپنی جگہ پر بٹھاتا ھے۔
ممم۔۔۔۔میں نے اسی پوائنٹ سے بتانے کی کوشش کی تھی کہ ہر سیل کو اس کی جینز ڈائریکٹ کرتی ہیں کہ اس نے کیا بننا ہے۔۔۔جب ایمبریو بنتا ہے تو جیسے جیسے سیل ڈیویژن ہوتی جاتی ہے، ساتھ ساتھ differentation بھی ہوتی جاتی ہے سیلز کی کہ اس نے کہاں جا کر کونسا فنکشن کرنا ہے۔۔۔
اصل میں یہ سوال ذرا کامپلیکس ہے اور مجھے ٹھیک سے بتانا نہیں آرہا۔

M.Ahmad
05-03-2009, 12:45 PM
میرے خیال سے رحم مادر ہی سانچہ ہے جہاں سے زندگی کا آغاز ہوتا ہے ۔۔اور وہاں ہی سے سٹکچر بنتا ہے۔۔۔

باقی جواب تو خود ہی دے دیا ہے آپ نے ۔۔۔۔مقناطیس قوت ۔۔۔ جب زمیں خود ہی ایک مقناطیس ہے تو اس پر پلنے والے ،وجود میں آنے والے تمام نظام اس کے زیر اثر ہی ہوں گے نہ ۔۔کشش ثقل،وزن اور قد وغیرہ ایک مخصوص سمت میں ہی ہوں گے تو دوسرے چھوٹے بڑے نظام بھی اسی کی وجہ سے سمت بنائیں گے ۔چاہے وہ مائع ہوں یا ٹھوس اب ہر ایٹم مین منفی یا مثبت چارج تو ہے ہی ۔۔۔جس کی وجہ سے رفتار عمل میں آتی ہے ۔۔اپنے اپنے وزن کے مطابق پارٹیکلز ٹہرتے اور آگے بڑھتے ہیں ۔اس طرح ایک شکل بنتی ہے اور یہ سب اللہ کے قائم کردہ اصولوں ہی ہیں

اب ایک مثال

دو گیندوں کو پھینکنے سے وزنی جلد روک جائے گا اور ہلکا دور تک جائے گا ۔۔ان کی

پوزیشن اپنے وزن،کے مطابق ہوگی۔۔۔جبکہ ہواکا دباو ، درجہ حرارت ،اور زمین کی ناہمواریت اور مقناطیسی قوت انھیں روکنے میں مدد دیں گی


اور تو نہیں چاہیِئے فزکس کی کلاس ۔۔ ہا ہا ہا

Durre Nayab
05-03-2009, 06:58 PM
ہمارے جسم میں بہت طرح کے سیلز ہوتے ہیں، جو مختلف قسم کے فنکشنز سر انجام دیتے ہیں۔۔۔ان سب سیلز کا بیسک سٹرکچر تو ایک ہی ہوتا ہے لیکن جو کام انہوں نے کرنا ہوتا ہے اس کے حساب سے ان کا سٹرکچر اور ان میں پائے جانے والے میٹیریلز مختلف ہوتے ہیں ایک دوسرے سے۔۔۔جب اک جسم تشکیل پا رہا ہوتا ہے تو شروع میں سب سٹیم سیلز ہوتے ہیں، یعنی کہ بیسک سیلز۔۔۔اس کے بعد یہ سپیشیلائز ہو جاتے ہیں مختلف سیلز میں۔۔۔اور جس سیل کا جو فنکشن ہوتا ہے، اس کے حساب سے اس کی جو ضروریات ہوتی ہیں، وہ والی جینز آن ہو جاتی ہیں، اور ایکسٹرا والی آف۔۔۔یعنی کہ جو پروٹوپلازم ہوتا ہے، وہ سیل کے اندر ہی بنتا ہے، اس والے سیل کی جینز کی انسٹرکشنز کے حساب سے۔۔۔
اب کوئ مجھے بتائے کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے does that make any sense?
مطلب جو سوال پوچھا تھا، اس کا کچھ جواب ملا اس سے؟

کیسے؟ میرے خیال میں یہی بھاءی جی پوچھنا چاہ رہے ہیں۔یعنی ان سیلز کو کیسے پتا کہ ہمیں یہی کام کرنا ہے۔

بھاءی جی یہ ماورائی سوال ہے یا سائنسی؟

Gudo
05-03-2009, 11:42 PM
aoa

i think everyone tried to give the answer and all answers r correct i can try another eg

like computer programming like what u type the programme do the same thing what u expected but some time u type it but the result come different it can be due to some system failure i don't know much computer so the related people can know better

just like that dna is the programme written by Allah who than place everything into its place and if there comes any disturbance than the outcome some time came as disable kids with some sort of physical or mental disability

so the basic programme is same to make humans through dna but humans r different from animals and they r individuals even identical twins etc but animals r mass production and r meant to be used by humans for survival

1UM-SiteAdmins
06-03-2009, 12:05 PM
کیسے؟ میرے خیال میں یہی بھاءی جی پوچھنا چاہ رہے ہیں۔یعنی ان سیلز کو کیسے پتا کہ ہمیں یہی کام کرنا ہے۔

بھاءی جی یہ ماورائی سوال ہے یا سائنسی؟
تمام سائنسی سوالات پہلے ماورائی تھے اور تمام ماورائی سوالات کبھی نہ کبھی سائنسی ھو جائیں گے۔

SmyleAgain
06-03-2009, 12:13 PM
کیسے؟ میرے خیال میں یہی بھاءی جی پوچھنا چاہ رہے ہیں۔یعنی ان سیلز کو کیسے پتا کہ ہمیں یہی کام کرنا ہے۔

بھاءی جی یہ ماورائی سوال ہے یا سائنسی؟
یہ سب جین ایکسپریشن میں ہوتا ہے نا۔۔۔
جو ہماری جینوم (genome) ہوتی ہے اس میں ہمارا ساراڈیٹا موجود ہوتا ہے، لیکن اب ظاہر ہے کہ ہر ٹشو دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور ہر سیل کی ضروریات بھی اس کی لوکیشن اور فنکشن کے حساب سے ہوتی ہیں، تو پھر ضروری جینز آن ہو جاتی ہیں اور باقی آف، جیسے کہ اگر ہماری کھال کو ہی لیا جائے تو ہتھیلیوں اور تلووں کی کھال ذرا مختلف ہوتی ہے، زیادہ موٹی، تو یہاں والے سیلز میں کچھ ایکسٹرا جینز ایکسپریس ہو رہی ہوتی ہیں جو باقی جسم کی سکن میں نہیں ہوتیں۔۔۔
ایک انسانی جسم میں بیس سے تیس ہزار جینز ہوتی ہیں جن کے ایکسپریشنز سے مختلف طرح کے سیلز وجود میں آتے ہیں۔۔۔سو یہی وہ فورس ہے جو ہمارے جسم کے اپنے سیلز اور اس کے پروٹوپلازم، اور باہر سے آنے والی اشیا جیسے ڈرگز وغیرہ کو ڈائریکٹ کرتی ہیں صحیح جگہ پر۔

فراز
12-03-2009, 01:01 AM
ویسے تو آپ لوگ اس پر بات کرہی چکے ہیں کہ ڈی این اے میں انسانی جسم کا مکمل بلیوپرنٹ موجود ہوتا ہے ، اور اس کی بنیاد پر پورا انسان تیار ہوجاتا ،۔ایک خلیہ سے اس حیات کا آغاز ہوتا ہے ، پھر وہ ایک سے دو ، دو سے چار ہوتے جاتے ہیں۔ اور ان کا کوڈ ان کو مخصوص جگہ پہنچ کر مخصوص کام کرنے کے سگنل دیتا ہے۔
اگر اس عمل میں خرابی ہوجائے تو اور خلیوں کی گروتھ قابو سے باہر ہوجائے تو ٹیومر ہوجاتا ہے ۔ یہ ٹیومر بھی انسانی خلیے ہی ہوتے ہیں جو غلط جگہ نشوونما پاجاتے ہیں اور ناسور بن جاتے ہیں۔