PDA

View Full Version : شاشے پارک کا بھوت اور چھودھویں بلڈنگ (دوسری قسط)۔



Shami
17-08-2013, 12:11 AM
چونکہ کرن کا واقعہ ساری یونیورسٹی میں مشہور ہوگیا تھا، اس لئے انٹر نیشنل ڈیپارٹمنٹ نے تحقیقات شروع کر دیں کہ اس واقعے کی تہہ میں جایا جائے کہ اصل میں کیا ہوا ہے۔ ہمیں پہلے ہی پتہ چل گیا تھا کہ یونیورسٹی کس رخ پر سوچ رہی ہے اور اسکا انجام کیا ہوسکتا ہے۔



اگلے دن کرن جب سکائپ پر آئی تو کافی بہتر نظر آرہی تھی۔ اسے بہتر حالت میں دیکھ کر دل کو کافی تسلی ملی۔ کرن نے مجھے بتایا کہ پاپا مجھے جو اطلاعات مل رہی ہیں اس کے مطابق وہ تحقیقات شروع کر رہے ہیں اور ان کے پاس موجود اطلاعات کے مطابق میں نے بھوت کو دیکھا ہے اور وہ مجھے شائد ڈی پورٹ کر دیں،۔ کیونکہ ان کے مذہب اور تہذیب میں بھوتوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اور بھوت دیکھنے کا دعویٰ کرنے والے کو پاگل قرار دے دیا جاتا ہے۔



میں نے اسے سمجھایا کہ ان کی اطلاعات کو گولی مارو۔ تحقیقات میں جب وہ تم سے سوال جواب کریں تو تم نے ایک بار بھی نہیں کہنا کہ تم نے کوئی بھوت یا ایسی ہی چیز دیکھی ہے۔ کیونکہ ہم ان کو کبھی قائل نہیں کر سکیں گے کہ جنات کے وجود پر یقین رکھنا ہمارے مذہب کا حصہ ہے اور انکا وجود ہے۔ تم کہنا کہ شدید گرمی کے باعث میری طبیعت خراب ہوگئی تھی اور مجھے شدید چکر آرہے تھے۔ چکروں کے باعث میرا دماغ کام نہیں کر رہا تھا اور مجھے نہیں یاد اس جسمانی اور ذہنی حالت میں میں نے کیا کہا۔ ساتھ ہی میں نے اسے یہ بھی بھی سمجھایا کہ مکمل سادگی اختیار کرو، یہ لپ سٹک، نیل پالشوغیرہ لگانا بالکل چھوڑدو اور اب کبھی بھی شاشے پارک نہیں جانا۔



کرن نےیہ سب کرنے کا وعدہ کیا۔ اورشام کو ہی اسے انٹر نیشنل ڈیپارٹمنٹ میں طلب کرلیا گیا۔ اس دوران یونیورسٹی اپنے خاص نمائندے کو بھیج کر ان سب لوگوں سے ان کی سٹیٹمنٹ لے چکی تھی جو اس سارے میں کرن کے ساتھ تھے۔ کسی نےکچھ لکھا تو کسی نے کچھ۔ لیکن ایک سٹیٹمنٹ نے ہمارے لئے براہِ راست خطرہ پیدا کر دیا۔ وہ سٹیٹمنٹ اس کی روم میٹ نے لکھی تھی۔ اس نے اپنے قلم سے یونیورسٹی کو لکھ کر دیا۔۔۔۔



’’ کرن جب اس عجیب حالت میں تھی اس دوران میں نے اسکی ماما سے بات کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ کرن کو بھوت ووت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، ایسا اسکے ساتھ یہاں پاکستان میں بھی ہو جاتا تھا‘‘ یہ ایک بالکل فضول اور بے سرو پا تھی۔ میں اس بات کو ابھی تک نہیں سمجھ سکا کہ اس سٹیٹمنٹ کے پیچھے کیا تھا۔ کیونکہ یہ ایک بالکل ہی غلط اور جھوٹ بات تھی۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ یہ ٹوٹلی



Misunderstanding



تھی۔ کیونکہ میری چشم تخیل تو یہ ماننے کو کسی طور تیار نہیں کہ کوئی اتنا بھی گر سکتا ہے کہ ایک جھوٹی گواہی سے کسی کا مستقبل تباہ کر دے۔ اس سٹیٹمنٹ نے کرن کے خلاف یونیورسٹی کے کیس میں جان ڈالدی۔ اور یونیورسٹی نے مجھے یہ ای میل کی۔


Dear,


Yesterday afternoon we received phone calls from Miss Kiran Shahzad’s friends that she was ill. They told us Kiran came to Zhongshan Park of Jingzhou City with one of her friends and sat on a bench. Suddenly she felt strong headache and behaved strangely and unconsciously. Then her class adviser Miss Vivian from our office came with her to the hospital to help her have a check-up of her head.
Miss Vivian told us she was playing with her hair strangely in the hospital. Some of her friends called her family and her mother said that she had the same problem at home before. All the check-up reports are normal. After that she was a little better, and Vivian took her back to the park as she strongly requested. She fainted again at the same place of the park. After some time she recovered and went back to the university.
The office staffs have spent a lot of energy and tried to help her on this issue yesterday and today. We talked with her and her friends this morning in the office, she looks normal at that time. We also consulted the doctors this afternoon, the doctors told us this mental problem may happen again in the near future.
For the safety concern of her and other students, it is highly suggested that she should go back to Pakistan and take a full check-up and treatment until she is mentally healthy enough to study in Yangtze University.
Attached is the written statement of one of her friends Miss.) (Name Removed) please check.
Waiting for your reply.



------------------
Sincerely,
Office of International Exchange & Cooperation
Yangtze University
Add: 1 Nanhuan Road Jingzhou Hubei 434023


اورمیں نے اسی دن ان کو یہ جواب لکھا۔۔



Dear Sir,
Thanks to inform us. about Kiran shahzad’s situation.. We were continuously in contact with kiran , during her illness.
You attached a statement of a student named Saba, that kiran’s mother said on call Kiran had same problem in past at home. I want to say that it is completely misunderstanding about her illness.
First of all kiran had no any mental problem in her past and her mother never said that she has this kind of history in her life. I assure you that she is absolutely normal ,because she is my daughter and I am with her from her birth.
Dear Sir, I want to give an example
Suppose, you have a child, he / she has some mentally problem and you knew very well about him/ her. Can you send him/her abroad and can you invest or waste millions on a mentally abnormal person?
Of course no, so were we mad? We sent her thousands of miles away to get education.
If you don’t believe, I suggest you 2 points to find reality and truth.
1: You get recording of voice calls from network Co. those I called to kirans cell no. Dated 23rd of June. My mobile no is +92-322……..( Edited) (Caller) and kiran’s cell no is +861…… (Edited).(Receiver)
You can get all recording from mobile Network Co. Arrange a translator who knows Urdu and Chinese languages. Listen every call carefully, translate it to English or Chinese to understand and investigate the truth of attached statement.
2: You take all kind of medical tests of Kiran’s brain, if you find some thing wrong according to medical sciences; you can do whatever you want with Kiran shahzad .


Dear Sir, you belong to a most educated community I am confident that you will do justice with your student. If there is nothing wrong with her than how you can punish her without any solid reason. Her previous condition can be caused by very hot weather, extremely headache, home sickness etc.


Dear sir, I assure you again that she has no any mental problem. She is most polite, cooperative, intelligent, creative and brave girl. She wants to become a doctor from her childhood. Please don’t break her dream due to a statement witch is totally wrong or a master piece of misunderstanding.
I request you, let her continue her education to fulfill her dream as a doctor.


Best Regards.
M. Shahzad Shami ( Kiran’s Father)




میرے ٹھوس دلائل نے یونیورسٹی کو پسپا ہونے پر مجبورکر دیا اور کرن کو تعلیم جاری رکھنے کی اجازت مل گئی۔



اس دوران تین دن گزر چکے تھے اور کرن بالکل نارمل ہوچکی تھی۔ لیکن اگلے دن پوری یونیورسٹی پھر ہل کر رہ گئی۔ اس بار کرن کی کلوز دوست ایک اور لڑکی ( جس کا اصل نام میں لکھنا نہیں چاہوں گا، میں اسے فوزیہ کا نام دے رہا ہوں) کو بھی وہی مسئلہ ہو گیا جو کرن کو ہوا تھا۔



فوزیہ بھی اپنے بالوں کو نوچتی تھی لیکن یہاں ایک فرق تھا کہ کرن شاشے پارک جانے کا کہتی تھی، لیکن فوزیہ چودھویں بلڈنگ کے چھٹے فلور پر جانے کا کہتی تھی۔ اسکی حالت خاصی خراب تھی۔اسکی آنکھیں عجیب اور سرخ انگارہ ہو گئی تھیں۔ وہ بار بار اپنے روم سے بھاگ کر باہر آجاتی اور چودھویں بلڈنگ کی طرف دوڑ لگا دیتی۔



اب کی بار انٹر نیشنل ڈیپاڑٹمنٹ کا ڈائریکٹر بھی خود موقع پر موجود تھا۔ فوزیہ کی خوفناک حالت دیکھ کر وہ خود بھی خوفزدہ لگ رہا تھا۔ فوزیہ بار بارچھودھویں بلڈنگ کی طرف بھاگنے کی کوشش کرتی لیکن موقع پر ڈائریکٹر، اور تمام ٹیچرز حضرات بھی موجود تھے وہ اسکو دبوچ کر قابو کئے ہوئے تھے۔ فوزیہ ان کو دانتوں سے کاٹتی اور زبردستی خود کو چھڑا کر بھاگنے کی کوشش کرتی لیکن اسکا بس نہیں چل رہا تھا۔



کرن کے اور اسکے ٹیچرز میں سے ایک `ٹیچر جو کہ پاکستانی ہیں اور پشاور سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک موقع پر فوزیہ نے چودھویں بلڈنگ کی طرف بھاگنے کی کوشش کی تو اسنے اسکو پکڑنا چاہا۔ فوزیہ میں اتنی طاقت جانے کہاں سے آگئی کہ اس نے اس کا بازو پکڑا اور ایسے مروڑا کہ ان کا بازو ہی ٹوٹ گیا۔ وہ چیخ مار الگ ہو گئے۔ ڈائریکٹر نے حکم دیا کہ اس لڑکی کی مووی بنائی جائے۔ ڈیپارٹمنٹ سے فورامتعلقہ سٹاف اپنے کیمروں کے ساتھ پہنچا اور فوزیہ کی اس عجیب و غریب حالت کی فلم بنائی گئی۔ ( میں کوشش کروں گا وہ فلم میں کرن سےلے آپ کو دکھا سکوں) اب ڈائریکٹر نے حکم دیا کہ اس لڑکی کو فورا ہسپتال پہنچایا جائے۔ ایک کارمیں فوزیہ کو زبردستی ڈالا گیا اور ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ ڈائریکٹر بھی خود ہسپتال پہنچ گیا اور ڈاکٹر کے کمرے تک پہنچ گیا۔ اسا لگتا تھا وہ ہر چیز کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا یا مانیٹر کرنا چاہتا ہے۔ یہ ہسپتال ایک کثیرالمنزلہ عمارت پر مشتمل ہے۔ اس وقت سب لوگوں کی چیخیں نکل گئیں جب فوزیہ نے ڈاکٹر کے کمرے کی کھڑکی سے نیچے چھلانگ لگانے کی کوشش کی۔



ڈائریکٹر اور ڈاکٹر نے پھرتی سے بھاگ کر اسے کودنے سے بچایا۔



اب ڈائریکٹر شدید خوف زدہ ہوگیا تھا۔ اس نے فورا فیصلہ کیااور احکامات جاری کئے کہ فورا اس لڑکی کو پہلی فلائٹ سے پاکستان اسکے گھر بھیج دیا جائے۔ ہم اسکی زندگی کی ذمہ داری نہیں لے سکتے۔ اور ہاں ایک اور پاکستانی لڑکی سائیکی تھی، وہ اب کیسی ہے؟ اس نے کرن کے بارے میں پوچھا۔



’’ وہ اب نارمل ہے سر‘‘ اسے جواب ملا۔



اور فوزیہ کو واپس اسکے روم میں لے آیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر اس نے بھی اس وقت کرن کی طرح کالی نیل پالش لگائی ہوئی تھی۔ روم میں اسکے ارد گرد بہت سے لڑکیاں جمع تھیں۔



’’ فوزیہ ! کیا وہ اس وقت کمرے میں موجود ہے؟‘‘



’’ ہاں‘‘ فوزیہ نے جواب دیا۔



’’ اس سے کہو تمہاری وجہ سے مجھے پاکستان بھیجا جارہا ہے‘‘



تھوڑی دیر بعد فوزیہ نے جواب دیا ’’ وہ کہتا ہے، جاؤ، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘‘۔



اور پھر فوزیہ کو یہ کہہ کر پاکستان بھجوادیا گیا کہ وہ وہاں ریسٹ کرے اور اپنا علاج کرائے اور پھر سے آکراپنی تعلیم شروع کر دے۔ لیکن افسوس انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ فوزیہ کو پاکستان بھیجنے کے ایک ہفتہ بعد ہی اس کو اطلاع کر دی گئی کہ اسکا ویزہ کینسل کر دیا گیا ہے اور اس طرح ایک بھوت کی وجہ سے ایک لڑکی کا ڈاکٹر بننے کا خواب چکنا چور ہو گیا۔



فوزیہ کے واقعے کے فورا بعد اسکی ایک سہیلی نے کرن کو کہا ’’ کرن تمہیں یاد ہے، شاشے پارک جانے سے ایک دن پہلے تم بھی چودھویں بلڈنگ گئی تھیں؟‘‘ اور کرن کو یاد آگیا۔



اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چودھویں بلڈنگ کیا ہے اور اسکے چھٹے فلور پرکیا ہے؟



میڈیکل کی تعلیم کے حوالے سے چودھویں بلڈنگ یونیورستی کی مین بلڈنگ ہے۔ انکی تمام کلاسیں بھی وہیں ہوتی ہیں اور امتحانات بھی۔ اسکی مختلف منزلوں پر مختلف شعبے بنے ہوئے ہیں۔ اور چھٹی منزل پر انکی بائیو لیب ہے۔ جہاں کثیر تعداد میں مردے رکھے ہوئے ہیں۔ یہ وہ ڈیڈ باڈیز ہیں جو قتل کر دئیے گئے یا جن لوگوں نے خود کشی کر لی۔ یہاں ان مردوں کو چیر پھاڑ کر میڈیکل کے طالب علموں کو انسانی جسم کے بارے میں تعلیم دی جاتی ہے۔



کرن کے کہنے کے مطابق وہاں کا سٹاف اور ہمارے استاد بتاتے ہیں کہ ایسی جگہوں پر ایسے بھوت پریت عموما پائے جاتے ہیں اور یہ کوئی انوکھی نات نہیں ہے۔



اگر یہ تحریر کوئی ڈاکٹر یا کسی ہسپتال کا ورکر پڑھ رہا ہے تو وہ اس بات جی تصدیق کرے کہ کرن کا کہنا صحیح ہے؟۔



میرے خیال میں اب ہوا یہ ہوگا کہ کرن شاشے پارک جانے سے ایک دن پہلے چھٹے فلور پر گئی اور وہیں سے وہ بد روح اسکے پیچھے لگ گئی اور پارک میں اس نے اس پر مکمل قبضہ کر لیا۔ وہ تو بہت سے بزرگوں کی دعائیں اسکے ساتھ تھیں کہ کرن کی جان جلدی چھوٹ گئی ورنہ اسکا حشر بھی فوزیہ جیسا ہی ہوتا۔ اور میرا یہ ایمان بھی ہے کہ خدا پر غیر متزلل ایمان رکھا جائے تےو ہ مدد ضرور کرتا ہے اور دوسرے یہ کہ حلال کی کمائی کو اللہ کی ذات کبھی ضائع نہیں ہونے دیتی۔



فوزیہ بھی ایک دن پہلے اسی فلور پر گئی تھی اور دوسرے دن اسکی حالت غیر ہوگئی اور وہ چودھویں بلڈنگ کے چھٹے فلور پر جانے کا کیوں اصرار کر رہی تھی جہاں مردوں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس بھوت کا اصل ٹھکانہ چودھویں بلڈنگ کے چھٹے فلور ہے۔ اس بات کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے کہ ایک دن کرن اور اسکی ایک سہیلی ریسٹورنٹ سے کھانا کھا کر ہوسٹل لوٹ رہی تھیں۔ رات کا وقت تھا۔ جب وہ چودھویں بلڈنگ کے سامنے پہنچیں تو ایک چینی ان کے سامنے آگیا اور نہایت صاف انگریزی میں بولا۔



’’ اگر تم نے کھانا کھا لیا ہے تو مجھے چھٹی منزل پر چھوڑ آؤ‘‘ اسکی یہ بات سن کر دونوں نے ڈر کر دوڑ لگا دی۔ چند قدم جاکر انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ اس بھوت سے کرن کی یہ آخری ملاقات تھی۔



امید ہے کہ اب بیٹی کرن کو اس طرح کا مسئلہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس بھوت نے یہ وعدہ کیا تھا کہ تم نے پارک آکر اپنا وعدہ پورا کر دیا اب میں وعدہ کرتا ہوں کہ اب تمہیں کچھ نہیں کہوں گا اور تمہیں چھوڑ رہا ہوں۔



بزرگوں سے سنا ہے کہ اس طرح کی چیزیں جب اس قسم کا وعدہ کرتیں ہیں تو اسے پورا بھی کرتی ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟



ساتھ ہی دعا بھی کیجئے گا کہ اللہ آئیندہ بیٹی کرن کو اس قسم کی بلاؤں سے دور رکھے اور اسے اس کے مقصد میں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین



باقی آپ کرن سے براہ راست کچھ پوچھنا چاہیں تو آپ آزاد ہیں۔ اب وہ بھی اس فورم کی ممبر ہے۔

Sadia M.
17-08-2013, 12:39 AM
اس طرح کا واقعہ کیا اب تک کسی چینی اسٹوڈنٹ کیساتھ بھی پیش آیا یا نہیں؟

Shami
17-08-2013, 12:56 AM
اس طرح کا واقعہ کیا اب تک کسی چینی اسٹوڈنٹ کیساتھ بھی پیش آیا یا نہیں؟


یہی سوال میں نے بھی کرن سے کیا تھا۔ اس نے جواب دیا تھا
پاپا ہمارے یونیورسٹی جوائین کرنے سے ڈیڑھ دو ماہ پہلے ایک چینی سٹوڈنٹ چودھویں بلڈنگ کے چھٹے فلور پر رات کے وقت پڑھ رہی تھی۔
اسکی حالت بھی ایسی ہی ہوگئی تھی جیسی ہم لوگوں کی ہوئی۔ انہوں نے اس چینی سٹوڈنٹ کو پاگل خانے بھیج دیا۔ اور سنا ہے وہ ابھی تک پاگل خانے میں ہی ہے۔

Aleesha
17-08-2013, 01:07 AM
Shami Bhai iss problem ka koi tou Hal Hona chahiay

Aamir Jahan
17-08-2013, 02:03 AM
شکریہ شامی بھائی

ویسے میں نے آپ کی وہ تحریر بھی پڑھی آج جس میں آپ نے ایک کمرے میں مووی والا قصہ بیان کیا تھا۔ اس وقت آپ نے آیتیں وغیرہ نہیں پڑھی تھیں کیا؟ خاص طور پر اس وقت جب کمبل اٹھانے ??? کے بعد وہ عجیب و غریب مخلوق کا سامنا کرنا پڑا تھا

ویسے ایک چھوٹا موٹا واقعہ بچپن میں میرے ساتھ بھی پیش آیا تھا۔ سکول میں۔ مگر کوئی بھی یقین نہیں کرتا اس پر :( >:(

کوثر بیگ
17-08-2013, 03:37 AM
اللہ پاک کرن بیٹی کی حفاظت فرمائے ۔صبح ،شام آیتہ الکرسی ، چاروں قل پڑنے کہا کریں اس سے حفاظت ہوتی ہے ۔آپ خود بھی فجر پر خیال میں بچی کو پڑھکر اللہ کی حفاظت میں دیا کریں ۔میں خود بھی خود سے دور رہنے والے بچوں کے لئے ایسا ہی کیا کرتی ہوں ۔ آج کل لوگ تعویز کے قائل نہیں ، نہیں تو کبھی کبھی ایسے اثرات ہوں تو تعویز بھی فائدہ مند ہوتی ہے خیر خود بھی پڑھے تو مفید زیادہ ہوتا ہے ۔

بہت شکریہ حسبِ وعدہ لکھنے کے لئے ۔اللہ آپ کو اپنے مقصد میں ہمیشہ کامیاب رکھے ۔

Sayien
17-08-2013, 04:14 AM
ALLAH pak kiran sister ko apni hifz-o-aman mein rakhe aor shami bhai ko hamesha un ke bare mein acha sun,ne ko mile
ameen

Shami
17-08-2013, 01:47 PM
Shami Bhai iss problem ka koi tou Hal
Hona chahiay

جو لوگ اس طرح کی چیزوں کے وجود کو ہی نہیں مانتے انہوں نے اسکا کیا حل نکالنا ہے۔ ہاں پے در پے ان دو واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ نے اتنا کیا ہے کہ اب رات دس بجے کے بعد اس بلڈنگ کو بند کر دیا جاتا ہے اور کسی کو اس میں جانے اجازت نہیں۔ پہلے یہ عمارت چوبیس گھنٹے کھلی رہتی تھی۔

KishTaj
17-08-2013, 01:59 PM
جو لوگ اس طرح کی چیزوں کے وجود کو ہی نہیں مانتے انہوں نے اسکا کیا حل نکالنا ہے۔ ہاں پے در پے ان دو واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ نے اتنا کیا ہے کہ اب رات دس بجے کے بعد اس بلڈنگ کو بند کر دیا جاتا ہے اور کسی کو اس میں جانے اجازت نہیں۔ پہلے یہ عمارت چوبیس گھنٹے کھلی رہتی تھی۔
یعنی ان کو بھی کچھ کچھ احساس ہوا ہے کہ بندے ایویں پاگل نہیں ہو رہے بلکہ کچھ گڑ بڑ اس بلڈنگ میں بھی ہے۔۔~۔۔

Aamir Jahan
17-08-2013, 02:18 PM
یعنی ان کو بھی کچھ کچھ احساس ہوا ہے کہ بندے ایویں پاگل نہیں ہو رہے بلکہ کچھ گڑ بڑ اس بلڈنگ میں بھی ہے۔۔~۔۔


وہ تو ہونا چاہیے۔ ایک ساتھ تین واقعات ہوئے ہیں:)

Shami
17-08-2013, 02:39 PM
یعنی ان کو بھی کچھ کچھ احساس ہوا ہے کہ بندے ایویں پاگل نہیں ہو رہے بلکہ کچھ گڑ بڑ اس بلڈنگ میں بھی ہے۔۔~۔۔

جی آپ کا کہنا درست ہے ورنہ وہ اس طرح کا ایکشن نہ لیتے۔ بس یہ اللہ کے راز ہیں اور اسی کی پیدا کردہ مخلوق ہے جس کا انسان براہ راست لیبارٹریوں میں مشاہدہ نہیں کر سکتا۔ پڑھا لکھا انسان اسی لئے اس کا وجود ماننے میں تعمل کرتا ہے۔ میں خود ایک حقیقت پسند انسان ہوں لیکن جب انسان کے اپنے دامن کو آگ لگتی ہے تو تب اسے احساس ہوتا ہے کہ آگ کی جلن کتنی شدید ہوتی ہے۔