PDA

View Full Version : جنات کے پیدائشی دوست (ایک تھریڈ میں)



Majzobi
15-05-2012, 03:15 PM
ایک ایسے شخص کی آپ بیتی جو پیدائش سے اب تک اولیاء جنات کی سر پرستی میں ہے،اس کے دن رات جنات کے ساتھ گزر رہے ہیں،قارئین کے اصرار پر سچے حیرت انگیز اور دلچسپ انکشفات قسط وار شائع ہو رہے ہیں لیکن اس پر اسرار دنیا کو سمجھنے کے لیے بڑا حوصلہ اور حلم چاہیے۔


سخت سردی کے دنوں میں رمضان المبارک کی 13 تاریخ‘ سحری کے وقت میری پیدائش ہوئی۔یہ ہمارے آبائی قدیمی گھر کا وہ کمرہ تھا جس کے بارے میں واضح یقین تھا کہ یہاں نیک صالح جنات کا وجود ہے جو کہ ہر وقت ذکر اعمال اوروظائف کرتے رہتے ہیں۔ شعور سے قبل بس اتنا یاد ہے کہ کچھ باپردہ خواتین اورصالح شکل بزرگ مجھے بہلاتے‘ مجھ سے کھیلتے ‘مجھے میٹھی اور لذیز چیزیں کھلاتے ۔بعض اوقات والدہ مرحومہ خود حیران ہو جاتیں کہ یہ دودھ نہیں پیتا کیونکہ پیٹ پہلے سے بھرا ہوا ہوتاتھا۔
بقول والدہ مرحومہ کے کئی بار ایساہوا کہ وہ مجھے جھولے میں سلا کر گئیں واپس آئیں تو جھولا خالی تھا۔ بہت پریشان ہوئیں‘ کئی گھنٹوں پریشان اور رو رو کر بدحال ہو گئیں پھر دیکھا کہ میں جھولے میں سو رہا تھا اور خوشبو سے رچا بسا۔ پہلے والا لباس نہیں تھا بہت خوبصورت بیل بوٹے والا لباس زیب تن تھا منہ میںکوئی میٹھی چیز لگی ہوئی تھی جیسے کوئی میٹھی چیز کھلائی گئی ہو۔
یہ معمہ کتنے دن حل نہ ہوا۔ طرح طرح کے انوکھے واقعات ہوتے رہے۔ کبھی میں نے بستر پرپیشاب اور اجابت نہ کی۔ جب حاجت ہوتی تو خوب روتا یا پھر دوست جنات میری حاجت صاف کر دیتے تھے۔ اماں حیران ہوتی کہ بچے کو کس نے غسل دیا کس نے نہایت چمک دار سرمہ لگایا، کس نے خوشبو لگائی، آخر یہ خدمت کس نے کی۔ بعض اوقات میں سورہا ہوتااوروالدہ مرحومہ کام کررہی ہوتی تھیں۔ بھوکا ہونے کی وجہ سے جب میں روتا اورکام میں مصروف والدہ جب تھوڑی دیر بعد پہنچتیں تو میرے ہونٹوں پر دودھ لگا ہوتااور میں پھرسے پُرسکون نیند سورہا ہوتا تھا۔ یہ تمام واقعات مختلف اوقات میں شعور میں آنے کے بعد والدہ مجھے سناتی تھیں۔ اگر کوئی بچہ مجھے مارتا تو وہ ضرور بیمار ہوتا یا پھر کوئی غیبی سزا یاکم ازکم تھپڑ ضرور مارا جاتا جس کاواضح نشان اس کے جسم پر ہوتا۔ اگر مجھے کوئی جھڑکتا حتیٰ کہ محبت میں بھی تو اس کا کوئی نقصان ہوتا ۔ پھرخواب میں اسے کہا جاتا کہ تم نے ہمارے دوست کومارا تھا اس لیے تمہارا یہ نقصان ہوا یا سزا ملی۔ والدہ بتاتی ہیں کہ ایک بار ایک قریبی رشتہ دار مجھے اپنے گھر محبت سے اٹھا کر لے گئے۔ پہلے تو میں خوشی خوشی چلا گیا پھر رونا شروع کر دیا ۔ظاہر ہے بچے کو ماں نظر نہ آئے تو وہ ضرور روتا ہے ۔جب زیادہ رویا تو تھوڑی دیر میں بچہ غائب تھا اور ان لوگوں کو نظر نہ آیا۔ اب وہ پریشان کہ ہم بچے کی ماں کو کیا جواب دیں گے؟ ڈھونڈتے ڈھونڈتے پریشان ہو گئے لیکن بچہ نہ ملا۔ پریشان حال میرے گھر پہنچے تو میں خوش و خرم کھیل رہا تھا وہ حیران کہ تین گلی دور یہ چند سالوں کا بچہ کیسے چل کر آگیا۔چونکہ والدہ کو کئی بار خواب میں اور ظاہر طور پر وہ صالح جن جنہیں میں حاجی صاحب کہتا تھا ‘بچے سے محبت اور خدمت کا بتا چکے تھے والدہ فوراً سمجھ گئیں اور بات گول کر گئیں۔ مزید بچپن کے واقعات تحریر کے دوران بتاتا رہوں گا جو کہ میں نے والدہ مرحومہ سے سنے اور بعد میں خود مجھے نظر آئے اور اب تک آرہے ہیں۔
میں ابھی آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا کہ ایک رات حاجی صاحب نے آکر مجھے پیار سے جگایا اور فرمایا چلو میرے ساتھ ۔پھر حاجی صاحب کی نورانی شکل یکایک بدل گئی اور وہ ایک ایسے خوبصورت پرندے کی شکل میں تبدیل ہو گئے جس کے پر اتنے لمبے شاید کسی بڑے جہاز کے پروں سے بھی بڑے۔ میں ان کی گردن پرپروں سے پکڑ کر بیٹھ گیا۔ فرمایا ڈرنا نہیں تمہیں ہزاروں خوفناک مناظر نظر آئیںگے۔ اب حاجی صاحب نے ا ڑنا شروع کر دیااتنا اونچے اڑے کہ اوپر اندھیرا ہی اندھیرا تھا بہت دیر تک نہایت تیزرفتاری سے اڑتے رہے ۔پھر ایک جگہ بہت سے لوگوں کا اجتماع تھا ‘ مجھے وہاں چھوڑا۔ حاجی صاحب کی وہاں بہت عزت ہوئی۔ ایسے محسوس ہوا جیسے وہ وہاں کے سردار یا بڑے ہیں۔ مجھے بہت عزت اور محبت دی گئی۔ ایک جگہ کچھ لوگ ایک مخصوص قرآنی آیت کا ورد کررہے تھے۔حاجی صاحب مجھے وہاںبٹھا کر چلے گئے ان لوگوںکا حلیہ کیسا تھا ‘میں بعد میں تحریر کروں گا جسے سن اور پڑھ کر آپ حیران اور پریشان ہو جائیں گے۔ میں بہت دیر تک اس آیت کو اس سارے مجمع کے ساتھ پڑھتا رہا ۔پھر لذیذ کھانے کھلائے ۔آخر میں ایک بہت بڑے بزرگ کی زیارت کیلئے لے جایا گیا جنہیں صحابی بابا کہہ رہے تھے بعدمیں پتہ چلا کہ وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی رضی اللہ عنہ ہیں اور اب تک بھی ان کی شفقت محبت اور فیضان مجھ پر ہے۔ انہوں نے سرپرہاتھ پھیرا اور دعا دی۔ پھرفرمایا یہ قرآنی آیت کی تاثیر تمہیں ہدیہ کرتا ہوں ۔جب بھی مجھے بلانا ہے سانس روک کر اسے پڑھناشروع کر دو اورتصور ہی میں اس کا ثواب مجھے بخشو ۔میں اسی وقت حاضر ہوں گا۔ پھر وہاں اور کئی حیرت انگیز واقعات ہوئے جو آئندہ اقساط میں بتاﺅںگا۔ انشاءاللہ ۔اس آیت کا پہلا تجربہ اس ملاقات کے چند دنوں بعد میں نے یوں کیا کہ آٹھویں جماعت کا رزلٹ آیا بورڈ کے دفتر سے گزٹ چند لوگ لائے اور رقم لے کر رزلٹ دیتے۔ رقم بھی میرے لیے کوئی مسئلہ نہیںتھا کہ میں ایک مالدار باپ کا بیٹا تھا لیکن اتنا بڑا ہجوم کہ میں صبح 9بجے کا گیا ہوا تھا اور 3بجے تک مجھے موقع نہ ملا۔ بھوک، پیاس اور انتظار نے مجھے نڈھال کر دیا۔ اچانک صحابی بابا کی آیت یاد آئی۔ میں نے اس ہجوم میں کھڑے ہو کر وہی آیت سانس روک کرپڑھی اور اس کا ثواب صحابی بابا کو ہدیہ کر دیا۔ بس کیا ہوا کہ میں نے دیکھا کہ سامنے صحابی بابا کھڑے ہیں ان کے ہاتھ میں موٹی سی ایک کتاب ‘وہی گزٹ ہے اور میرا رول نمبر نکال کرمجھے دکھایا ۔تسلی دی ‘ماتھے پر بوسہ دیا اور 5روپے کا نوٹ جس کی اس وقت بہت اہمیت سمجھی جاتی تھی دے کرکہا کوئی چیز کھا لینا اور غائب ہوگئے۔یہ پہلا واقعہ تھا صحابی بابا سے ملاقات کا۔ پھر اس وقت سے لے کر آج اس وقت تک نامعلوم کتنی بار صحابی بابا سے محبت، راز ونیاز اور ان کی شفقت سے فائدہ اٹھایا۔
جس دن میری والدہ فوت ہوئیں اس دن جنازے میں صحابی بابا تھے اور ان کے ساتھ 14لاکھ سے زیادہ جنات تھے۔ جنہیں میں نے ایک بے پناہ ہجوم کی شکل میں جنازے میں دیکھا۔ ان کی تعداد مجھے صحابی بابا نے بتائی۔ مزید بتایا کہ ہر جن نیک و صالح ہے جن کی اکثریت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے آئی ہے اور ہر ایک نے 70 ہزارکلمہ پڑھ کر آپ کی والدہ اور والد کو بخشا ہے۔انہوں نے جنازے کو کندھا دیا اور قبرستان تک پہنچایا۔ تین دن جنات کی اکثریت حاجی صاحب اور صحابی بابا سمیت گھر میں رہے۔ جب بھی والدین کی قبر پر جاتا ہوں تو یہ حضرات ساتھ ہوتے ہیں۔ ایک بار میں ایک قبرستان میں تھا یہ اسی سال سردیوں کی بات ہے۔ میں گھر سے کمبل لانا بھول گیا۔ قبرستان میں کھلی جگہ احساس ہوا کہ مجھے سخت سردی لگ رہی ہے ۔اتنی دور سے کمبل کیسے لے آﺅں؟آخرسوچ سوچ کر کیونکہ سخت مجبور ی میں صحابی بابا کو تکلیف دیتاہوں ‘وہ آیت پڑھی توحسب معمول صحابی بابا کمبل لیکر تشریف لائے اور میں نے اوڑھ لیا۔

Majzobi
15-05-2012, 03:16 PM
حا جی صاحب جو کہ جنات کے 14 بڑے قبائل ( واضح رہے کہ ہر قبیلہ لاکھوں کروڑوں جنات کی تعداد سے بھی زیادہ ہوتا ہے) کے سردار ہیں‘ ان کی عمر سینکڑوں سال ہے۔ بہت زیادہ متقی اور پرہیز گار ہیں۔ خاص طور پر حلال حرام کے بارے میں خصوصی خیال رکھتے ہیں۔ اپنے ہر اس جن کو سزا دیتے ہیں جو کسی کے گھر سے مالک کی اجازت کے بغیر کھا پی کے آجائے یا کسی کے گھر سے زیور یا رقم چوری کر لے حتیٰ کہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میں حاجی صاحب کے ساتھ ان کے پوتے کے نکاح کے سلسلے میں قراقرم کی سنگلاخ ہزاروں فٹ اونچی پہاڑیوں میں تھا ۔ میں نے بیٹے کا نکاح پڑھانا تھا‘ کروڑوں جنات اکٹھے تھے۔ جن میں مرد ‘ عورتیں‘ بوڑھے ‘ بچے ‘ جوان سب تھے۔ سنت کے مطابق نکاح تھا۔ نکاح کے وقت لڑکے کی عمر ایک سو پچاسی سال تھی۔ ابھی جوان ہی ہوا تھا کہ انہوںنے اس کی شادی کی فکر شروع کر دی تھی۔ نکاح کیلئے اکٹھے ہوئے تو لوگوں نے حاجی صاحب اور ان کے بیٹے عبدالسلام جن کو بے شمار ہدیے دیئے۔ صحابی بابا بھی ہمارے دائیں تشریف فرما تھے۔ ایک خوبصورت زیور کا سیٹ ایک پکی عمر کے جن نے لا کر دیا۔ چونکہ حاجی صاحب ہر ہدیے پر نظر رکھے ہوئے تھے اس سونے کے بھاری سیٹ کو دیکھ کر چونک پڑے۔ ان صاحب کو بلایا اور پوچھا یہ کہاں سے لیا؟ وہ خاموش ہو گئے پھر پوچھا کہ کہاں سے لیا؟ اب ظاہر ہے وہ اپنے آقا اور سردار کے سامنے جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔ کہنے لگا کہ میسور انڈیا کے فلاں شہر کے فلاں ہندو سیٹھ کی تجوری سے چرا کر لایا ہوں۔ چونکہ آپ کے بیٹے کی شادی تھی اور آخری بیٹا تھا اور میں خالی ہاتھ آنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے یہ غلطی کر بیٹھا۔ حاجی صاحب نے ایک نظر میری طرف دیکھا کہ جیسے پوچھ رہے ہوں کہ کیا حکم ہے؟۔ پھر صحابی بابا کی طرف دیکھا ‘ صحابی بابا خاموش رہے۔ یہ ان کی اکثر عادت ہے جب میں موجود ہوں تو وہ خاموش رہتے ہیں ‘ اس لئے نہیں کہ میں ان سے بڑا ہوں اس لئے کہ وہ مجھ پر نہایت شفقت فرماتے ہیں۔ جو عرض کر دوں اس کو حکم بنوا کر منواتے ہیں اور جو نہ مانے اس کو سخت ترین سزا دیتے ہیں۔ میں نے حاجی صاحب سے عرض کیا کہ ساری زندگی آپ کی حلال پر گزری ہے۔ آپ نے کبھی حرام نہ خود کھایا نہ کبھی کسی کو کھانے دیا۔ حتیٰ کہ مجھے عبدالسلام کا واقعہ یاد ہے جو کہ اس کی والدہ نے سنایا کہ جب یہ ایک سو پندرہ سال کا تھا چونکہ ابھی چھوٹا تھا کہ کسی کے گھر سے تلے ہوئے دو پراٹھے لایا تھا اور کچھ لقمے کھا لئے اور باقی کھا رہا تھا تو حاجی صاحب نے دیکھ لیا‘ پراٹھے ہاتھ سے چھین لئے اور لوہے کی موٹی زنجیروں سے مار مار کر لہو لہان کر دیا۔ پھر پانی میں نمک ملوا کر بہت زیادہ پلوایا اور حلق میں انگلی مروا کر قے کروا دی تھی۔
جب یہ واقعہ میں نے بیان کیا تو حاجی صاحب نے گردن ہلائی کہ واقعی ایسا ہوا تھا اور عبدالسلام کا سر جھک گیا۔ میں نے مزید تفصیل بیان کی کہ ہندو ہو یا مسلمان جس کا بھی حق ہے اس تک واپس جانا چاہیے۔ یہ پکی عمر کے مسلمان جن ہیںانہیں سزا نہ دیں بلکہ معاف کر دیں۔ دو محافظ جن جو میرے سینکڑوں محافظوں میں سے ہیں ان کو ساتھ کر دیتے ہیں کہ جہاں سے چرائے تھے واپس وہیں رکھ کر آئیں۔ یہ محافظ ان کی نگرانی کریں کہ آیا واپس وہیں رکھے ہیں یا نہیں۔ ابھی میں نے بات ختم کی تھی تو میرے نظر حاجی صاحب کے چہرے پر پڑی کہ ان کے نورانی چہرے پر زبردست جلال تھا۔میرا سالہا سال کا تجربہ ہے کہ جب ان کے چہرے پر جلال ہوتا ہے تو بہت پسینہ آتا ہے۔ اب تو اتنا پسینہ آیا کہ ڈاڑھی سے بہہ کر نیچے گر رہا تھا۔ غصے سے کانپتی آواز میں بولے کہ یہ ابھی چھوٹا ہی تھا کہ میں نے اس کی تربیت کی آج اس کی عمر سولہ سو سال سے زیادہ ہو گئی ہے لیکن اس نے یہ حرکت کیوں کی ہے؟۔ آپ چونکہ میرے مرشد کے خلیفہ ہیں اور وصال کے وقت مرشد ہم سب قبائل کو آپ کے سپرد کر گئے تھے لہٰذا اجازت دیں کہ اس کو سزا ملنی چاہیے اور اس کی قید کا حکم ملنا چاہیے۔ میں نے جب یہ صورت دیکھی کہ اب حاجی صاحب سخت جلال میں ہیں۔ میں اگر قید کا حکم نہ مانوں حاجی صاحب مان تو جائیں گے لیکن ایک کی قید سب کروڑوں جنات کے لئے نصیحت بن جائے گی تو میں نے عرض کیا کہ حاجی صاحب جیسے آپ کا مشورہ ہو، میں آپ کے ساتھ ہوں۔ بندہ نے اسی وقت اپنے محافظ جنات کو حکم دیا ‘ انہوں نے اس شخص کو اسی وقت زنجیروں میں جکڑ کر ٹھٹھہ (حید ر آباد سندھ) میں مکلی قبرستان کی بڑی جیل میں پہنچا دیا۔
اس واقعے کے بعد عبدالسلام جن کے نکاح کی تقریب میں اچھی خاصی افسردگی ہوئی لیکن صحابی با با نے احادیث اور تفسیر سنا کر محفل کو پھر گرما دیا کہ اگر ہم نے انصاف کے تقاضے چھوڑ دیئے تو انصاف کہاں سے لائیں گے۔ میں نے نکاح کا خطبہ پڑھا‘ ایجاب و قبول ہوا اور ہر طرف مبارکباد کی آوازیں لگنے لگیں۔ پھولوں کے ہار دولہا کے گلے میں لٹکائے ‘ ستر سو من چھوہارے جن کا انتظام پہلے سے تھا وہ سب لوگوں میں تقسیم کئے گئے۔رات زیادہ ہو گئی تھی اور وہاں سردی بہت سخت تھی۔ ان لوگوں کو سردی تو نہیں لگ رہی تھی لیکن باوجود اچھے کپڑے اور گرم لباس کے مجھے بہت سردی لگ رہی تھی۔ تھوڑی دیر میں میرے لئے ایک سوپ لایا گیا ‘ حاجی صاحب کہنے لگے حضرت یہ میری اہلیہ نے آپ کیلئے خصوصی تیار کیا ہے ۔ یہاں قراقرم کی چوٹیوں میں ایک چڑیا کی مانند پرندہ ہے جو کہ حلال ہے اور اتنا تیز رفتار ہوتا ہے کہ شاہین اس کا شکار اپنی ساری زندگی میں صرف ایک دن وہ بھی قدرتی طور پرکر سکتا ہے۔

Majzobi
15-05-2012, 03:17 PM
کیونکہ جب سورج گرہن ہوتا ہے تو اس وقت اس کی آنکھیں کچھ دیر کیلئے بند ہو جاتی ہیں اور یہ اڑ نہیں سکتا پھر یہ چھپ کر بیٹھ جاتا ہے۔ اگر موت لکھی ہو تو پھر شاہین کی اگر نظر پڑ جائے تو اس کا شکار ممکن ہو سکتا ہے۔ اس کی خوراک سونے اور جواہرات کے ذرات ہیں اور یہ اسی پرندے کا سوپ ہے۔ یہ ایک گھونٹ آپ کی سردی کو فوراً ختم کر دے گا اور اگر دوسرا گھونٹ پی لیں گے تو آپ کو کبھی سردی نہیں لگے گی حتیٰ کہ آپ کے علاقے کی سخت سردی میں بھی آپ کو گرمی لگے گی اور سخت سردی میں آپ صحن میں یا چھت پر بستر بچھا کر سوئیں گے اور گرمی میں پھر آپ کا کیا حال ہو گا میں نے صرف ایک گھونٹ پیا واقعی دوسرے گھونٹ کی نوبت ہی نہیں آئی۔ گرم ترین لباس میں مجھے پہلے سردی لگ رہی تھی اب گرمی لگنے لگ گئی۔ پھر جنات کے ایک بڑے بوڑھے باورچی سے صحابی بابا نے میری ملاقات کرائی۔ نہایت بوڑھے بزرگ تھے۔ صدیوں ان کی عمر تھی۔ آنکھوں کی بھنویں ڈھلک کرآگے آ گئی تھیں اور انہوں نے آنکھوں کو بند کر دیا تھا۔ اب وہ خود پکاتے نہیں بلکہ نگرانی کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں حاجی صاحب نے بتایا کہ یہ وہ بزرگ ہیں جنہوں نے بڑے بڑے اولیاءکرام کے دستر خوانوں کی خدمت کی ہے۔ ان میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ۔ شیخ ابوالحسن خرقانی رحمتہ اللہ علیہ‘ شیخ فاتحہ شیبانی رحمتہ اللہ علیہ‘ حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ لاہور والے‘ حضرت معین الدین چشتی اجمیری ‘ عبداللہ شاہ غازی کراچی والے‘ اس طرح بے شمار نام پکارے کہ مجھے یاد نہیں۔ ان کے جسم پر بڑے بڑے بال تھے‘ موٹے کپڑے کا پرانا ہلکے پیلے رنگ کا کرتا پہنا ہوا تھا۔میں نے اس بوڑھے باورچی جن سے سوال کیا کہ تمام اولیاءکی مرغوب غذا کیا چیزیں تھیں۔ فرمانے لگے ہر درویش کا اپنا ذوق تھا جیسے حضرت علی ہجویری ہریسہ اور تازہ انگور‘ دیسی گھی میں بنی چوری اور بعض دفعہ سوکھی روٹی کے ٹکڑے بھی مزے لے لے کر کھاتے۔ حضرت بابا فرید شکر گنج کا واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ مجھے سورة رحمن کی آیت ” فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ“ کا ورد بتایا( واقعةً میں نے بھی کیا۔ جس طرح باورچی جن کو فائدہ ہوا مجھے بھی ہوا اور کئی بار ہوا۔ انہوں نے مجھے یہ عمل بخش دیا) کہ جب کبھی بے موسم کی چیز کھانے کو دل چاہے یا لمبا سفر مختصر کرنے کو دل چاہے‘ یا تم چاہو کہ میں اپنے بستر پر لیٹے لیٹے دنیا کے کسی ملک یا کسی شہر کی سیر کر لوں یا تم چاہو کہ کسی با کمال درویش جو اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہو اس کی ملاقات ہو جائے یا اس سے باقاعدہ علم حاصل کروں تو بس یہ اس مخصوص طریقے سے پڑھو اسی وقت نظارے دیکھو ۔ باورچی جن کہنے لگے یہ انہوں نے مجھے سالہا سال خدمت پر دیا تھا۔ انہیں ماش کی دال کالی مرچ اور بکری کے گوشت میں پکی بہت پسند تھی۔ میں نے باورچی جن سے پوچھا اپنی زندگی کا کوئی ناقابل فراموش واقعہ سنائیں۔ کہنے لگے بے شمار واقعات ہیں لیکن ان میں چند واقعات سنا تا ہوں۔
کہنے لگے کہ ہمارے جنات کا اصول ہے یعنی نیک صالح اور متقی جنات کا کہ جس گھر میں قیام ہوتا ہے اگر وہ گھر والے نیکی ‘ قرآن‘ نماز ‘ ذکر ‘ صدقات‘ خیرات اور گھر میں نیک صالح لوگوں کو بلانا وغیرہ کی ترتیب پر قائم رہتے ہیں تو ہم ان کی معاونت کرتے ہیں ۔ ہاتھ بٹاتے ہیں۔ ہر کام میں مدد کرتے ہیں ‘ ان کے دشمن کے وار کو خودروکتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر جادو ہو جائے تو اس کو ختم کرتے ہیں۔ گھر والوں کو اطلاع کرتے ہیں۔ بعض اوقات خود ہماری نسل جنات سے ایسے شریر جنات کسی بچے کو دھکا دیتے ہیں ۔جسے عام طور پر گھر والے گرنا اور چوٹ لگنا کہتے ہیں۔ ہم ا ن کی حفاظت کرتے ہیں۔ باورچی جن نے اپنے ہاتھوں سے اپنی لٹکی بھنوﺅں کو پکڑا ہوا تھا۔ انہیں چھوڑ کر ‘پتھر کا سہارا لے کر تسلی سے بیٹھے اور پھربولے کہ چونکہ میر اکثر وقت شہروں اور درویشوں کی خانقاہوں اور آستانوں پر گزرتا ہے موجودہ صدلی کے ایک مشہور درویش (میں ان کا نام دانستہ نہیں لکھ رہا) کے گھریلو مزاج میں تقویٰ اور استغناءتھا ‘کسی قسم کا لالچ نہیں تھا۔ ہم اس درویش کی ہرطرح مدد کرتے حتیٰ کہ ایک بار کچھ شریر لوگ ان کی بہت نیک لیکن نہایت حسین بیٹی کیساتھ شرارت کا پروگرام بنا چکے تھے انہیں اس چیز کی خبر نہیں تھی ‘ ہم نے ان شریر لوگوں کے پروگرام کو ختم کرایا اور ان کے منصوبوں کو انہی پر پلٹ دیا اور صرف اس بزرگ کو خبر کی۔ اس طرح کے بیشمارمعاملات میں ان کی مدد کرتے رہتے تھے۔لیکن ان کے وصال کے بعد ان کی اولاد پیر تو بن گئی لیکن وہ نیکی والی زندگی چھوڑ کر خالص دنیا داری میں پڑ گئے۔ پھر ہم نے خواب کے ذریعے انہیں اس بزرگ کی نسبت سے سمجھانے کی کوشش کی ‘ کئی بار سائل یا درویش کے روپ میں انہیں نصیحت کر آیا لیکن مریدین کی کثرت اور مال کی آمد نے انہیں آخرت سے غافل کر دیا۔ پھر ان کی عورتوں کے سر سے دوپٹے اتر گئے‘ پھر انہیں سزا یہ دی کہ ان کے گھر میں بے چینی‘ بیماری‘ پریشانی‘ ایک مشکل سے نکلیں دوسری میں پڑ جائیں‘ دوسری سے نکلیں تیسری میں پڑ جائیں‘ نفسیاتی الجھنیں‘ حالانکہ وہ نفسیاتی الجھنیں نہیں تھیں وہ سزا تھی۔

Majzobi
15-05-2012, 03:18 PM
دورے‘ سر میں چکر‘ آپس میں نفرت ‘ کدورتیں یہ سب کچھ بڑھتا چلا گیا۔ لیکن انہوں نے ڈاکٹروں کی طرف رخ کیا ‘ رب کی طرف رخ نہ کیا۔ ویسے بھی جس طرح انسانوں میں نیک وبد ہوتے ہیں۔ ہمارے جنات میں تو معاملہ اس کے برعکس ہے۔ وہاں بد زیادہ اور نیک کم ہیں کیونکہ جنات کی آبادی انسانوں سے کھربوں زیادہ ہے۔ اس لئے نیک بھی اربوں سے کم نہیں تو ہمارے شریر جنات حسین اور خوبصورت لڑکیوں کی طرف اور وہ خوبصورت لڑکیاں جو خودننگے بدن اور ننگے سر رہتی ہوں‘ ننگے بدن سے مراد یہ موجودہ فیشنی لباس‘ باورچی جن کی آواز میں ارتعاش شروع ہو گیا۔ جیسے وہ تھک گئے ہوں‘ میں نے انہیں عرض کیا کہ کچھ پانی پیش کر دوں‘ فرمانے لگے نہیں پانی نہیں چاہیے کیونکہ مجھے پیاس نہیں‘ مجھے توانسانوں پر غصہ آ رہا ہے کہ وہ ہماری شرارت کے دروازے کیوں کھولتے ہیں‘ بند کیوں نہیں رکھتے اور آسمان کی طرف گھورتے ہوئے بولے اس پیر صاحب اور بزرگ کے گھر کو ہم نے جی بھر کے ستایا ‘ شاید ان کی دین اسلام کی طرف واپسی ہو جائے لیکن انہوں نے تدبیر اختیار کی کہ کسی طرح ان سے آفات ٹل جائیں وہ کیسے ٹل سکتی ہیں‘ ان آفات کی تو ہم دن رات خود نگرانی کر رہے ہیں۔ ایک بار ہم نے ان کا بچہ اٹھا کر دیوار سے مار دیا۔ اس کا سر پھٹ گیا‘ اس کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی۔ ایک عامل نے کہا کہ تمہارے اوپر جادو ہے اور تمہارے گھر میں جنات ہیں۔ انہوں نے گھر میں حسب ترتیب سورة بقرہ پڑھنا شروع کردی اور آیت الکرسی کا ورد اپنے مریدین کے ذریعے کرانا شروع کر دیا۔ خود پھر بھی نہ کیا۔ یہ کلام شریروں کیلئے ہے‘ ہم کوئی بدمعاش ‘ شریر یا شیطان تھے جو ہم پر اثر کرے‘ ہمیں غصہ آیا کہ یہ خود اعمال اور رب کی طرف کیوں نہیں آتے لیکن محسوس ہوتا تھا کہ ان کے دل پر زنگ کچھ زیادہ لگ گیا تھا۔ ان کے اندر کے پردے اور دروازے بند ہو گئے تھے۔ ان کے کان صرف موسیقی سنتے تھے۔ باقی آوازوں کیلئے بند ہو گئے تھے۔ باورچی جن نے پہلو بدلہ اب غصے سے ان کے منہ سے شعلے نکل رہے تھے اور آواز میں تلوار کی سی تیزی بڑھ گئی تھی۔ ادھر حاجی صاحب کے بیٹے عبدالسلام جن کی دلہن کی رخصتی کی تیاری ہو رہی تھی۔ میں یہ سب منظر بھی دیکھ رہا تھا اور باورچی جن کی حیرت انگیز باتیں اور تجربات سن رہا تھا۔ اسی دوران ایک خوفناک دھماکہ ہوا اور ہر طرف سفید رنگ کا دھواں اور شور چھا گیا‘ میں چونک پڑا مجھے باورچی جن نے اپنے سینے سے لگا لیا اور تسلی دی کہ کچھ نہیں یہ در اصل دولہا اور دلہن کیلئے لاہوتی سواری آئی ہے۔ یہ اس کی آمد کی آواز ہے کہ اس کی رفتار بجلی سے زیادہ تیز اور کڑک سے زیادہ بھاری ہوتی ہے۔ یہ سواری صرف جنات کے سردار استعمال کرتے ہیں یہ سواری جنات کے علاوہ ایک اور عالم ہے اسکی بھی مخلوق ہے چونکہ سرداروں کے اس عالم سے رابطے ہوتے ہیں انہوںنے حاجی صاحب کے اعزا ز میں یہ سواری بھیجی ہے یہ سواری اڑتی ہے۔ پھر حاجی صاحب مجھے لے گئے میں حیران ہو گیا اس کا منظر مجھے یاد آیا کہ جیسے کوئی بہت میلوں میں پھیلا ہوا کئی منزلہ ایک محل جس کی شکل تقریباً بحری جہاز سے ملتی جلتی تھی۔ ہر طرف اس کی روشنیاں اور قمقمے اور فانوس تھے۔ خوب چہل پہل تھی ‘ وہ محل ہلکا ہلکا ایسے ہل رہا تھا جیسے بڑی کشی پانی میں تیرتے ہوئے ہلتی ہے۔ حاجی صاحب مجھے کہنے لگے کہ اب ہم واپس بارا ت لے کر اسی لاہوتی محل میں جائینگے۔ اس سے قبل ہم جن سواریوںپر آئے تو وہ سواریاں شروع سے اب تک دیکھ رہا ہوں اور تقریباً تمام بڑے جنات وہی سواریاں استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کچھ حلیہ آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔ گدھ نما بڑے جانور جو کسی بڑے ہوائی جہاز سے بھی بڑے ہوتے ہیں۔ جن کے بڑے بڑے سینکڑوں پر ہوتے ہیں۔ ہر پر میں ایک گھر نما کمرہ ہوتا ہے اور ایک کمرے سے دوسرے کمرے کے درمیان راستہ ہوتا ہے۔ یہ گدھ چھوٹے بھی ہوتے ہیں اور بڑے بھی ‘ رفتار کا اندازہ آپ یوں لگا سکتے ہیں کہ آپ پاکستان کے کسی شہر یا میرے شہر سے مدینہ منورہ صرف 17 منٹ میں پہنچ جاتے ہیں۔ میرا حاجی صاحب اور صحابی بابا کے ساتھ سینکڑوں سفر‘ کئی شہروں اور مکہ مدینہ ‘ بیت المقدس کے ہوئے ہیں یہ سب سفر لاہوتی ہوتے ہیں۔
ابھی چند ماہ پہلے کی بات ہے میں رات کو دیر سے سویا کہ میرا بچہ کان کے درد سے روتا رہا‘ سنت کے درجے میں دوائی ڈالی‘ دم کیا اسے سکون ہو‘ ابھی لیٹا ہی تھا کہ مجھے چیل کی آواز آئی یہ دراصل اطلاع ہوتی ہے کہ حاجی صاحب تشریف لاتے ہیں ‘ میں اٹھا اور حیران ہوا اور پوچھا خیریت تو ہے کہ اچانک اتنی رات تشریف لائے تو فرمانے لگے کہ کملی والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مدینہ آپ کو ‘ مجھے اور صحابی بابا کو حکم ہوا ہے ‘ میں اٹھا وضو کیا‘ کپڑے بدلے‘ خوشبو لگائی اور میرے پاس ایک جوتا ہے جو خالص حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کی طرز کا بنا ہوا ہے پہنا اور ان حضرات کے ساتھ چل پڑا۔ میرے سرہانے چھوٹا کلاک پڑا ہوتا ہے وہ بھول کر جلدی میں کسی طرح جیب میں دوسرے سامان کے ساتھ آ گیا۔ جب رات کے وقت میں حرمین شریفین کی طرف سلام پڑھنے کیلئے گیا تو 18 منٹ گھر سے نکلے ہو گئے تھے تو وہاں میں نے کچھ دیر مراقبہ کیا ‘ لازوال مناظر دیکھے‘ صلوٰة وسلام پڑھا پھر قبرستان جنت البقیع کے قبرستان گئے‘ تقریباً پونے دو گھنٹے وہاں رہے‘ پھر ہم واپس آئے۔ گھر آ کر دو نفل پڑھ کر میں لیٹ گیا۔

Majzobi
15-05-2012, 03:19 PM
ایک بار صحابی بابا نے فرمایا کہ میں مدینہ منورہ میں اس وقت جب عباسی حکومت کا دور تھا‘ زیارت روضہ رسول کرنے گیا جب وہاں پہنچا اس وقت مسجد نبوی شریف کے امام شیخ و اسع شریف اللہ رحمتہ اللہ علیہ تھے اور مسجد مٹی کی اینٹوں سے بنی تھی اور اس پر چھت تھی ‘ اچھی اور خوبصورت بنائی گئی تھی۔ میں انسانی شکل میں شیخ واسع شریف اللہ رحمتہ اللہ علیہ سے ہمیشہ ملاقات کرتا تھا ۔ شیخ واسع رحمتہ اللہ علیہ لمبی عمر کے بڑے اور وقت کے امام الحدیث و القران تھے۔ ان کی قرات بہت خوبصورت تھی۔ ان کی آواز اتنی اونچی تھی کہ جمعہ کے دن مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم شریف میں گورنر مدینہ اور سارے عوام یعنی دیہاتوں کے بدو بھی جمعہ پڑھنے آتے لیکن شیخ واسع رحمتہ اللہ علیہ کو کبھی بھی مکبر کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ان کی صالحیت کا یہ عالم تھا کہ وہ دن رات میں یہ درود شریف اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا تُحِبُّ وَ تَرضٰی لَہ 70 ہزار پڑھ لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہروقت میں برکت عطا کی تھی۔ صحابی بابا مزید فرمانے لگے کہ میں نے آنکھوں سے ان کی بے شمار کرامات دیکھی ہیں۔ ایک بار ایک شخص مسجد نبوی شریف میں نماز پڑھنے آیا‘ بارش ہوئی چونکہ کمرے کے علاوہ باقی صحن اور ہر جگہ مٹی کا فرش تھا کیچڑ کی وجہ سے وہ پھسلا اور اس کی ران کے ساتھ کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی‘ ہڈی ٹوٹنے کی آواز کئی لوگوں نے سنی‘ پھر کیا تھا کہ اس کی پکار ‘ چیخیں اور فریادیں تھیں۔ ہر شخص اس کو زمین سے اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اس کا توازن برقرار نہ رہ سکا۔ وہ کوشش کرتا لیکن پھر گر جاتا‘ شیخ واسع رحمتہ اللہ علیہ کو اطلاع دی گئی ‘ وہ عصا ٹیکتے اپنے حجرے سے باہر آئے اور میں نے ان کے ہونٹوں کو حرکت میں دیکھا‘ آتے ہی پھونکا‘ ہاتھ بڑھایا اور فرمانے لگے اللہ کے حکم سے اٹھ ‘ چلاتا ہوا شخص پل بھر میں تندرست ہو گیا اور شیخ کا ہاتھ پکڑ کر سیدھا کھڑا ہو گیا‘ چونکہ ہڈی ٹوٹ کر گوشت کو چیرتی ہوئی باہر نکل آئی تھی اور بہت سارا خون پھیل چکا تھا‘ صحابی بابا نے لمبا سانس لیا اور ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ فرمانے لگے کہ میں نے دیکھا کہ زخم مل گیا اور ہڈی جڑ گئی اور وہ شخص بالکل تندرست چلنے لگا۔ صرف اس کے کپڑوں اور زمین پر خون لگا جسے بعد میں دھو دیا گیا ۔ چونکہ شیخ واسع رحمتہ اللہ علیہ مجھ سے محبت کرتے تھے میں نے پوچھا کہ شیخ یہ آپ نے کیا پڑھ کر پھونکا فرمانے لگے درود شریف بیٹھا پڑھ رہا تھا‘ چلانے اور چیخنے کی آواز آئی‘ بس وہی درود پڑھ کر پھونک دیا‘ اسکے پھونکتے ہی اس کی ہڈی اور گوشت جڑ گیا ‘ زخم کا نشان تک نہ رہا۔ میں نے اس درود شریف کو جس کیلئے اور جس مقصد کیلئے پڑھ کر دم یا دعا کی ہے وہی مقصد پورا ہو گیا۔ شیخ واسع رحمتہ اللہ علیہ نے مزید فرمایا کہ گورنر مدینہ عمار بن وھب کی بیوی قریب المرگ تھی معا لجین نے اسے موت کا کہہ دیا تھا کہ اس کا جگر اور دل بالکل ختم ہو گیا ۔ایک رات جب میں حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر پر بیٹھا ہوا تھا اور صلوٰة و السلام پڑھ رہا تھا تو گورنر میرے قدموں میں گر گیا کہ کوئی عمل یا دعا فرمائیں کہ میری بیوی صحت یاب ہو جائے۔ میں نے مکبرات درود شریف پڑھ کر یہ دعا کی اور گورنر کی بیوی 3 دن میں صحت یاب ہو گئی۔ ایک بار تمام مدینہ منورہ شہر کے کنویں پانی سے خشک ہو گئے‘ سخت قحط سالی کہ بارش بھی نہیں ہو رہی تھی‘ ہر طرف موت ‘ ویرانی اور خشک سالی تھی ‘ افراتفری یہاں تک پہنچی کہ جانور اور انسان مرنے لگے۔ لوگ میرے پاس آئے کہ دعا فرمائیں ‘ میں روضہ اطہر پر گیا اور جا کر دعا کی ‘ جب واپس آیا تو ہر کنواں پانی سے لبریز اور خوب بارش ہوئی۔ سب کچھ اس درود شریف کی برکت سے ہوا۔
صحابی بابا فرمانے لگے وہ قحط اور خشک سالی مجھے یاد ہے اور واقعی میں خود موجود تھا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے شیخ واسع رحمتہ اللہ علیہ سے دعا کی درخواست کی ۔ انہوں نے روضہ اطہر پر یہ درود شریف پڑھا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ صحابی بابا نے فرمایا کہ اس درود شریف کے خود میرے بے شمار تجربات ہیں۔ ایک واقعہ سنایا کہ جب محمود غزنوی نے ہندوستان پر حملہ کیا اس وقت میںاس شخص کے ساتھ تھا کیونکہ وہ بادشاہ کم درویش زیادہ تھا وہ ہر وقت اپنے مرشد شیخ ابوالحسن خرقانی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ درود شریف پڑھتا رہتا تھا‘ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں اس کا یہ درود شریف پڑھا جاتا تھا۔ ایک بار ایک کافر نے نقب لگا کر اور غزنوی کے نگہبانوں سے پوشیدہ ہو کر اس کو قتل کرنا چاہا لیکن اس کے کمرے سے دور ہی وہ 3 آدمی قتل ہو گئے۔ جب ان کی لاشیں دیکھیں تو ان کے ساتھ ایک پرچہ پڑا ہوا تھا جس میں لکھا ہوا تھا کہ ہم اس درود شریف کے خادم اور غلام ہیں۔ جو اس درود شریف سے محبت کرےگا ہم اس کی حفاظت کرینگے اور اس کے دشمن سے خود مقابلہ کرینگے۔ محمود غزنوی نے اس درود شریف کی برکت سے ہر جگہ فتح پائی۔
ہم بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ حاجی صاحب اور ان کا بیٹا عبدالسلام اور باورچی بوڑھا جن اچانک آ گئے ‘ ملاقات ہونے پر خوش ہو گئے‘ حاجی صاحب اپنے ساتھ غزنی کے جنگلات کے خشک میوے بھی لائے۔ کہنے لگے ہم حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ المعروف داتا صاحب لاہور والے کے پیدائشی گھر گئے تو ہمیں وہاںکے جنات جنہوں نے بچپن میں حضرت علی ہجویری کے ساتھ وقت گزارا‘ انہوں نے میوے دیئے ہم سوچا ہم بھی آپ کی محفل میں شریک ہو جائیں۔ ہم سب نے اکٹھے وہ میوے کھائے۔ صحابی بابا کی محبت پر حیرانی ہوئی کہ وہ چن چن کر میوے مجھے دیئے جا رہے تھے اور زیادہ کھانے پر اصرار کر رہے تھے۔ اسی دوران حاجی صاحب فرمانے لگے کیوں نہ ہم خود حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کی روح کو بلالیں۔ یہ کہنا تھا کہ حضرت علی ہجویری کی روح حاضر ہو گئی ایک سفید ہلکی پیلی روشنی پھیل گئی اور خاص قسم کی خوشبو (یہ روشنی اور خوشبو اس وقت آتی ہے جب حضرت ہجویری رحمتہ اللہ علیہ تشریف لاتے ہیں اور میں عرصہ دراز سے اس خوشبو اور نورانی روشنی سے واقف ہوں) ہر سو بکھر گئی‘ گفتگو پھر درود شریف کی برکات پر شروع ہو گئی۔ میوہ جات جو شاید میں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی نہیں دیکھے اور کھائے اور نہ سنے جو کہ واقعی لذیذ اور نہایت ہی خوشبودار ‘ خوش ذائقہ تھے۔

Majzobi
15-05-2012, 03:20 PM
ہم یہ میوہ جات بھی کھا رہے تھے اور درود شریف کے واقعات بھی بیان کر رہے تھے۔ باورچی جن نے اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کی بھنویں اٹھائیں اور بولے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب میں جوان تھا تو مجھے ایک درویش جن نے جو کہ بہت بوڑھے تھے مجھے اس درود شریف ‘بالکل انہیں الفاظ سے شناسائی دی تھی اور میں نے زیادہ نہیں پڑھا تھوڑا پڑھا لیکن اس کے پڑھتے ہی اس کی جو برکات مجھ پر کھلیں میں خود حیران ہو گیا۔ ایک بار میرے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں تھا کوئی روزگار بھی نہ لگا۔ میرے دل میں خیال پیدا ہوا میں کسی انسان کی کوئی چیز چرا لوں یا کسی انسان کی جیب سے رقم یا کوئی قیمتی چیز لے لوں لیکن پھر خیال ہوا کہ کیوں نہ یہ درود شریف یعنی اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا تُحِبُّ وَ تَرضٰی لَہ پڑھوں۔ میں نے بکثرت یہ درود شریف پڑھنا شروع کر دیا۔ اتنی طاقت ‘ توجہ ‘ دھیان کہ مجھے پسند آ گیا اور جن ہونے کی وجہ سے میرے بدن سے شعلے نکلنا شروع ہو گئے۔ بس جب شعلے نکلے تو اللہ تعالیٰ کی ایسی نقد مدد آئی کہ خود میری عقل حیران تھی کہ مجھے پہلی دفعہ اپنی جوانی میں اس کا احساس ہوا کہ درود شریف میں ایسا کمال ‘ ایسی برکات اور ایسے ثمرات ہیں آج تک میں نے اس درود شریف کو نہیں چھوڑا ۔ باورچی جن نے ایک واقعہ اور سنایا کہ نیشاپور میں ایک صالح مسلمان کو پریشان حال دیکھا۔ عیال دار بچے بہت زیادہ تھے‘ روزگار کی کمی پھر ایک شریر اور شیطان جن نے اس کے گھر کے حالات اور بگاڑے ہوئے تھے ۔ میں ایک سائل بن کر اس کے دروازے پر گیا۔ صدا لگائی‘ اس نے مجھے جو گھر میں چند کھجوریں اور آدھا درہم پڑا تھا وہ دیا میں نے اسے نصیحت کی کہ دن رات یہ درود شریف اور انہیں الفاظ کے ساتھ بیٹھ کر پڑھو بلکہ سارا گھر پڑھے ۔ تجھے اللہ تعالیٰ بہت رزق ‘ عزت اور کمال عطا فرمائے گا۔ وہ رو پڑے کہ اتنا بھی نہیں کہ گھر میں کچھ کھا سکیں‘ ہمارے بڑے بزرگ اور درویش تھے لیکن یہ حالات ہم پر آ پڑے ہیں‘ کسی سے اظہار خیال نہیں کر سکتے ۔ میں نے وہ آدھا درہم اور کھجور واپس کر دئیے اورکہا کہ میں تو آپ خدمت کےلئے آیا ہوں۔ کچھ عرصہ کے بعد میں نے ان کے گھر کے اندر رزق اور نعمتوں کی وہ وسعت دیکھی جو کمال سے باہر ہے۔ پھر باورچی جن سانس لینے کےلئے رکے تو عبدالسلام نے بتایا کہ مجھےعبداللطیف جن (اور اس کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے والد حاجی صاحب کی طرف دیکھا) انہوں نے فرمایا ہاں میں اسے جانتا ہوں تو عبدالسلام نے بتایا کہ اگر کسی صالح درویش کی قبر پر جائیں اس کے سرہانے سورہ بقرہ کا پہلا رکوع اور اس کی پائنتی سورہ بقرہ کا آخری رکوع ‘ پھر اس قبر کے دائیں بیٹھ کر یہ درود شریف نہایت کثرت سے پڑھیں تو وہاں سے انسان بہت کچھ نورانیت‘ کمالات بلکہ بہت کچھ لے کر (حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی عطا کرنے والا ہے) اٹھتا ہے۔ بندہ لاہوتی بتاتا چلے کہ میں نے بھی یہ عمل یعنی باورچی جن والا کئی دفعہ آزمایا ‘ ایک بار ایک قبرستان میں جا رہا تھا وہ قبرستان لاہور کا میانی صاحب ہے۔ وہاں ایک قدیم قبر پر یہ عمل کیا تو صاحب قبر نے کشف میںبتایا کہ اگر میاں بیوی کی نفرت ہو یا گھر میں جھگڑے ہوں یا آپس میں نفرت ہو تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ بجھانے والا عمل قُلنَا یَا نَارُکُونِی بَردًا وَّسَلَامًا عَلٰی اِبرَاہِیمَ عشاءکی دو سنتیں پڑھ کر یہ آیت 41 بار پڑھیں۔ پھر وتر پڑھیں۔ اول آخر درود شریف 7 بار پڑھیں۔ 40دن ایسا کریں ناغہ نہ کریں۔ (قارئین اس عمل اور درود شریف کی اجازت علامہ لاہوتی پراسراری سے ضرور لیں تب فائدہ اور باکمال نفع ہوگا)پھر اس کا کمال دیکھئے ‘ ناغہ کرنے والے کو فائدہ نہ ہوگا یا پھر کم ہو گا۔ میں نے یہ عمل پھر کئی لوگوں کوبتایا ‘ کئی جنات کو بتایا بلکہ کئی جنات نے تو یہاں تک بتایا کہ اس عمل سے ہمارے شریر جنات کا جادو اور حملہ نہیں چلتا۔ کئی گھرانے جو اجڑنے کے قریب ہو گئے تھے یا کئی لوگ جن کو غصہ زیادہ آتا تھا یا جن کا بلڈ پریشر ہائی ہوتا تھا۔ انہوں نے 40 دن‘ 90 دن یا 120 دن آزمایا اور اس کا فائدہ ہوا۔ اسلام آباد کا ایک سابقہ وفاقی وزیر کہنے لگا کہ علامہ صاحب مجھے یاد نہیں کہ میں نے کبھی کوئی اس طرح کا عمل کیا ہو لیکن یہ کیا اور اس کا واضح کمال کہ میں سب ادویات چھوڑ چکا ہوں اور آج بالکل تندرست ہوں‘ یہ باتیں میری ہیں‘ اب پھر میں آپ کو جنات کی محفل میں لے چلتا ہوں‘ جہاں ہم سب میوے کھا رہے تھے اور درود شریف کی برکات بیان کر رہے تھے۔ حاجی صاحب نے اپنا تجربہ درود شریف کا بیان کیا کہ ایک بار میں دوران سفرجبکہ ان دنوں میں کپڑے کا کام کرتا تھا ایک بار ایسا ہوا میرے 530 تھان کپڑے کے پڑے تھے۔ ان کو دیمک لگ گئی‘ میں پریشان ہوا کہ لاکھوں کا نقصان ہو گیا‘ یکا یک میرے دل میں ایک خیال آیا کہ کیوں نہ درود شریف پڑھا جائے۔ الحمد للہ میں روزانہ 70 ہزار درود شریف پڑھ لیتا ہوں۔ میں نے اور میرے گھر والوں نے بھی درود شریف پڑھنا شروع کر دیا۔ صرف چند ہی دنوں میں ایک گاہک آیا میں نے اس کے ساتھ کپڑے کا سودا کیا لیکن پہلے بتا دیا کہ اس کو دیمک لگ گئی ہے اس نے مال دیکھنا چاہا جب مال دیکھا تو وہ تو بالکل درست اور پہلے سے زیادہ خوبصورت اور شاندار تھا میں حیران ہوا اور درود شریف کے کمالات پر اش اش کر اٹھا۔

Majzobi
15-05-2012, 03:21 PM
اکثر راتو ں کو مجھے محسو س ہوتا ہے کہ کوئی میرے چہرے اور جسم پر پھول پھیر رہا ہے پھرمیری آنکھ کھل جا تی ہے یہ سالہا سال سے آزمائی ہوئی اس با ت کی علا مت ہے کہ اب صحابی بابا اور حاجی صاحب کی آمد ہے واضح کر تا جا ﺅ ں ان کی حاضری کے کئی اندا ز ہیں لیکن یہ انداز بھی کبھی ہو جا تاہے ایک اندا زیہ بھی ہے کہ مجھے چیل کی آواز آتی ہے یا کبھی غرارنے کی آواز جیسے کوئی چیتا یا شیر غرار رہا ہو ۔
ایک با رمیرے جنا ت دوست میرے پا س بیٹھے مجھے غیا ث الدین بلبن مغل با دشاہ کے چشم دید واقعات سنا رہے تھے کہ وہ رعایا کے ساتھ کیسا تھا اور اس کے دن رات کیسے تھے کہنے لگے انکے دور میں ایک بزرگ تھے جن کا نام بھی غیاث الدین افرا دی تھا بہت صاحب کمال پہنچے ہوئے بزرگ تھے با د شاہ ان کے پا س بھی جا کر رات گزارتا ۔ کبھی دن میں چھپ چھپا کر جا تا جب بھی جا تا اسے بڑی ہستیو ں کا دیدار ضرور ہوتا ایک بار با دشاہ نے پوچھا کہ مجھے دیدار کیو ں ہو تاہے یہ چیز محل میں نہیں ہو تی تو بادشاہ کو افرا دی بزرگ نے بتایا دراصل ہم رزق حلا ل دیتے ہیں اور سا را دن سورئہ اخلا ص کا ورد کرتے ہیں فرمایا جو سورئہ اخلاص کا بے شما ر ورد روزانہ ہزارو ں کی تعداد میں کر تا ہے تو دو سال کے بعد اس کے پا س شاہ جنات نیک صالح جنات کی ڈیوٹی لگا دیتے ہیں ۔
جو ا سکے ساتھ بیٹھ کر ذکر کرتے ہیں اور اس کے ہر کام میں اس کی خدمت کر تے ہیں حتی کہ دن رات اس کی غلامی کرتے ہیں ۔ خو د میرے ساتھ ایسا ہواکہ میرے مر شدنے میری ڈیوٹی لگائی کہ میں ٹھٹھہ کے قبرستان مکلی میں سورئہ اخلاص مع تسمیہ طویل دنو ں کے لیے بہت بڑی مقدار اور بہت قلیل خوراک کے ساتھ دن را ت پڑھوں چونکہ ان کی اجازت تھی پھر دعا اور توجہ تھی تو یہ عمل میں نے کیا اور خو ب محنت و دھیان اور یکسوئی سے کیا دوران عمل مجھے حیر ت انگیز واقعات کا سامنا کر نا پڑا ۔
ایک بار عمل کر رہا تھا کہ میں نے محسوس کیا کہ کمبل جو کہ میں نے سخت سر دی کی وجہ سے اوڑھی ہوئی تھی اسمیں کچھ سرسراہٹ اور حرکت محسوس کی ۔ میں نے کمبل کا کونہ اٹھا یا تو ایک سانپ بہت بڑا کنڈلی ما ر کر بیٹھا ہو اتھا میں نے اٹھ کر اسے جھا ڑا وہ بھا گ گیا میں پھر بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد پھر اس طر ح دوسرے کو نے میں سانپ کی حرکت محسو س ہوئی اب میں اٹھا نہیں بلکہ اپنے عمل کی توجہ کو سلطان الاذکا ر کی شکل میں لا کر اس کی طرف توجہ کی واقعی محسو س ہوا کہ اثر شرو ع ہو گیا ہے ۔ چندمنٹ ایسا کیا ہی تھا کہ پھر دیکھا کہ ایک جلی ہوئی رسی اور اسکی را کھ پڑی ہوئی تھی ۔ میں نے وہ راکھ جھا ڑ دی پھر ایک بار عمل کر رہا تھا کہ چھوٹا سا کتے کا بچہ سر دی سے ٹھٹھراتا ہوا اور کو ں کو ں کر تا ہو ا میری موٹی کمبل میں گھس گیا میں نے اس کو کمبل میں جگہ دے دی تھوڑی دیر تو وہ کوں کو ں کر تا رہا پھر وہ پُرسکون ہو گیا ۔ جیسے محسو س ہو رہا تھا کہ اس کی سر دی ختم ہوگئی ہو پھر میں نے اسے سوتے ہوئے پا یا اور پُرسکون پایا اب روزانہ اس کا معمول ہو گیا حتیٰ کہ چند دنو ں کے بعد میں ا سکا منتظر رہنے لگا چونکہ میرے عمل میں بقیہ 23 دن رہتے تھے اور آخری دن تک وہ کتے کا بچہ میرے پا س آتا رہا۔
میں عشا ءکی نماز کے بعد بیٹھتا اور تہجد پڑھ کر عمل ختم کر تا اب اس ویران میلوںمیں پھیلے قبرستان میں جہا ں ہر طر ف ہُو کا عالم تھا بالکل سناٹا ویرانی خامو شی خوف وہراس اور ہر طر ف جنات کا را ج لیکن اب وہ کتے کا بچہ میرا ساتھی بن گیا آخری دن جس دن وہ عمل ختم ہو ناتھا وہ آیا اور حسبِ معمول میری کمبل میں گھس گیا میں اپنا عمل کر تا اور پڑھتا رہا لیکن تھوڑی دیر کے بعد وہ با ہر نکلا اور میرے سامنے آکربیٹھ گیا اور رفتہ رفتہ وہ بڑا ہونا شروع ہو گیا اتنا بڑا کہ اونٹ کے برا بر نظر آنا شروع ہو گیا ادھر میرا عمل ختم ہوا۔ ادھر وہ بڑا کتا بو لا کہ میرے اوپر بیٹھو میں چپکے سے اس کے اوپر بیٹھ گیا وہ مجھے لے کر چلتا گیا حتیٰ کہ سارے قبر ستان کی سیر کرائی جگہ جگہ جنات کے لشکر دیکھے کئی جیلیں دیکھیں جن میں سر کش اور ڈاکو ، چو ر، لٹیرے اور بد کا ر جنا ت کو سزائیں دی جا رہی تھیں۔ جنا ت کے بچے کھیل رہے تھے کوئی کھا نا پکا کر بانٹ رہا تھا تو کوئی کسی اور مشغلہ میں مصروف تھا۔ اس نے ایک خاص قسم کا چھوٹا بھنا ہوا گوشت تھا مجھے بھی دیا اور کہا کہ یہ حلا ل ہے۔ میں نے کھا یا وا قعی لذیذ اور بہت ذائقہ دار تھا ایک جگہ ہم گزرے تو جنا ت میا ں بیوی کا جھگڑا ہو ر ہا تھا میرے مر شد رحمتہ اللہ علیہ نے مجھے بتایا تھا کہ جب بھی کسی کا جھگڑا ہوتے ہوئے دیکھو تو پڑھو ” وَاللّٰہُ اَشَدُّ بَاسًا وَاَشَدُّ تَنکِیلاً ‘ میں نے وہ پڑھا اور سانس روک کر پڑھا اور جب سانس ٹوٹنے لگا تو وہ پھو نک مار ی بس ایک دم ان کا جھگڑا ختم ہو گیا کیونکہ اس جھگڑے کو کئی لو گ ختم کرانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن ختم نہیں کر اسکے تھے اس لیے ایک شخص درمیا نی عمر کا میری طرف متوجہ ہوا (لوگو ں سے مراد جنا ت پڑو سی )اور کہا کہ تو نے کیا پڑھا ہے میں نے کہا کہ یہ آیت کہا کہ مجھے بھی اجازت دے دیں میں نے کہا کہ نامعلوم تو اس کو غلط استعمال کر لے یا درست کیونکہ اس آیت کے اور بے شمار فوائد ہیں کہنے لگا میں بالکل درست استعمال کروں گا بلکہ اس کے بدلے میں آپ کو ایک اور عمل دوں گا جس کا آپ کو انو کھا فائدہ ہو گا کہ جس کی لڑکیاں پیدا ہو تی ہو ں یا بے اولاد ہو وہ یہ عمل کرئے انشاءاللہ لڑکا پیدا ہو گا اور بے اولاد کبھی محروم نہیں رہے گا اور اگر کسی کی شادی نہ ہو رہی ہو وہ یہ عمل کرے تو اس کی شا دی ہو جائے گی اور بھی اسکے فوائد بتائے مسلمان تھے کہنے لگے میں نے بڑے بڑے علما ء، صلحا ءاور بزرگان کی خدمت کی ہے ۔ ہرا ت افغانستا ن کے جید علمائ‘ بغداد کے بزرگان‘ اوچ شریف کے بزرگان‘ سندھ کے بزرگان‘ دہلی کے فقرا ئ‘ مدینہ کے محدث بزرگو ں کی بھر پو ر خدمت کی ہے اور ان سے لا زوال مو تی لیے ہیں ۔ اس عمل کے بدلے وہ مو تی آپ کو دو ں گا کیونکہ بہت عرصے سے ان کا جھگڑا ہو رہا تھا اور وہ کہنے لگا ہما رے ہا ں جھگڑا جب ہو تاہے تو ا سکی آگ ہر جگہ پھیل جا تی ہے ۔

Majzobi
15-05-2012, 03:22 PM
میں چونکہ ان کا پڑو سی ہو ں اور خود میری عبادت اور مراقبے میں خلل ہو تاہے میں نے اپنے عمل اور طریقے کئی آزمائے لیکن میں ناکام رہا آپ کے طریقے نے ان کا جھگڑا ختم کر دیا ہے اور نفر ت کی آگ محبت میں بدل گئی ہے لہٰذا یہ عمل لینے کے لیے آپ کو سارے عمل جو میں نے صدیوں کی محنت سے حاصل کیے ہیں وہ دینے کو تیار ہو ں اتنی دیر میں وہ اونٹ نما کتا جس پر میں سوار تھا بو لا ہا ں ضرور دیں میں نے پو چھا تم کون ہو کہنے لگا میں لا ہو ت کے عالم کی ایک مخلو ق ہو ں نہ انسان نہ جن ہو ں سورئہ اخلاص کا عامل ہو ں اب تک تمہاری دنیاکے حساب کے مطابق میں نے 673 ارب سورئہ اخلاص پڑھ لی ہے۔ پھر وہ سورئہ اخلاص کے جو فوا ئد اور فضائل بتانے لگے میں خود حیران ہو گیا پھر کہا کہ میں اب سدا تمہارا خادم ہوں ساری زندگی تمہا ری خدمت کر وں گا ۔ واقعی وہ ابھی تک میرا دوست ہے۔
آخر کا ر میں نے اسے جھگڑا ختم کرنے والی آیت کی اجازت دےدی وہ بہت خو ش ہوئے میر اما تھا چو م لیا پھر وہ جو اہر اور انمول ہیرے جو ان کے پا س تھے مجھے دینا شروع کیے۔ یقین جا نیے جن چیزو ں کو آج تک میں نے معمولی سمجھا تھا وہی میرے لیے قابل قدر بن گئیں میں سنتا جا رہا تھا اور حیران ہو رہا تھا بہت دیر تک وہ مجھ سے با تیں کر تے رہے پھر انہو ں نے مجھ سے دوستی کا عہد کیا اور ایک لفظ دیا کہ جب بھی آپ یہ لفظ سانس روک کر پڑھیں گے میں فوراً حاضر ہوجاﺅں گا۔ آج تک جب بھی ان کی ضرورت پڑی ہے میں نے وہی لفظ سانس رو ک کر صرف چند با ر کہا تو وہ عامل جن میرے پا س حاضر ہو تے ہیں ۔
سندھی آدمی کی شکل و صورت اور سندھی آدمی کے لباس اور لہجے میں آتے ہیں وہ کام جو ناممکن ہو کلام الٰہی سے منٹوں میں سلجھا دیتے ہیں میں عامل جن کو بار بار تکلیف نہیں دیتا لیکن اس باکمال شخصیت کو یاد ضرور کرتا ہوں۔ میرے پاس ایک سابقہ حکمران آئے کہ میرا فلاں کام کرا دیں میں نے اس عامل جن کو بلایا اور ان کا کام کرا دیا اب وہ حکمران فوت ہوگئے ہیں۔
اب سنیے اس جھگڑے والے خاندان کی کہانی! جب میں عامل جن سے اجازت لے کر رخصت ہونے لگا تو انہوں نے مجھے ایک پتھر دیا جو چکنا، چھوٹا سا پتھر تھا بظاہر عام سا لیکن اس کے فوائد مجھے بتائے کہ آپ جب بھی اس کو زبان لگائیں گے تو یہ پھل، کھانے یا ڈش کا ذائقہ دے گا اور اسی پھل یا ڈش سے پیٹ بھرے گا اور اس کے ذائقے کا ڈکار آئے گا میں نے سینکڑوں بار اس پتھر کو آزمایا واقعی مفید پایا آج تک وہ پتھر میرے پاس ہے۔ ایک بار ایک غریب آدمی حج پر جارہا تھا اسے میں نے غائب ہونے والی آیت بتائی کہ وہ بغیر رقم کے چلا گیا اور پتھر دیا 82 دن وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہا اور یہی پتھر اس کی خوراک کی ساری ضروریات پوری کرتا رہا۔
میں یہ پتھر لے کر رخصت ہوا تو تھوڑے فاصلے پر وہ جھگڑے والا خاندان میرے تعاقب میں آیا کہنے لگا مجھے اس عامل جن نے بتایا کہ آپ نے ہمارا جھگڑا ختم کرایا اب ہم میاں بیوی بے شمار بچوں سمیت آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ہم غریب ہیں اور تو خدمت کر نہیں سکتے آپ جب بھی ٹھٹھہ کے مکلی کے قبرستان آئیں ہمارے گھر سے کھانا کھایا کریں۔ میں نے ان سے کئی بار کھانا کھایا حلال اور طبیب کھانا ہوتا ہے اور خوب لذیذ ہوتا ہے۔ جب بھی جاتا ہوں ضرور کھاتا ہوں سالہا سال سے وہ خوش و خرم زندگی بسر کررہے ہیں۔
وہ کتا نما اونٹ جب سارے قبرستان کی سیر کرا چکا اور قدرت کے عجائبات دیکھا چکا تو اب اس نے اڑنا شروع کر دیا، اڑتے اڑتے ایک بہت بڑی غار میں گیا اب اس کی شکل ابابیل کی طرح ہو گئی اور اندھیرے غار میں اڑتے اڑتے بہت دیر کے بعد ایک نیا جہاں اور نیا عالم آگیا وہ ایسا عالم تھا کہ میں اس عالم کو الفاظ کے نقشے میں بیان نہیں کر سکتا وہ انسان نہیں تھے وہاں جنات نہیں تھے بس کوئی اور مخلوق تھی جسے میں کبھی نہیں جانتا تھا۔
اس عالم کی ہر شے انوکھی، ہر چیز نرالی اور میں اپنے الفاظ میں اسے سائنسی کہوں گا کہ یہاں جدید سے جدید سائنس بھی اس کے آگے ناکام اور بے حیثیت تھی۔ ہر چیز خود کار، ہر چیز لاجواب، نفرت جھگڑے اور ناچاقی نام کی چیز اس معاشرے میں نہیں تھی، کیسا معاشرہ، عالم اور دنیا تھی بس میرے پاس الفاظ نہیں میں بہت دیر وہاں رہا اور اس قدرت کے انوکھے نظام کو دیکھتا رہا وہاں ان کے خاندان کے بے شمار اور لوگ ملے۔ میں لوگ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میں انہیں انسان تو کہہ نہیں سکتا کہ وہ اس عالم کے لوگ نہیں۔ ان میں سے ایک شخص کہنے لگا آپ نے کبھی اڑن طشتریوں کا نام سنا ہے میں نے کہا ہاں اخبارات اور کتابوں میں ضرور پڑھا، کہنے لگا وہ ہمارا جہان ہے اور اس جہان سے بعض اوقات ہم تمہارے جہان میں کبھی کبھی آتے ہیں اور بغیر نظر آئے تو ہم سارے تمہارے جہان میں آتے ہیں چونکہ مکلی میں ہمارا آنا جانا بہت زیادہ ہے تو میں نے آپ کو بہت خلوص اور نور سے سورة اخلاص مع تسمیہ پڑھتے دیکھا تو مجھے اچھا لگا ہم نے کتے کے بچے کی شکل میں اپنا خاص آدمی بھیجا تم نے اس سے محبت کی اسے پیار دیا اسے سکون دیا، اس کا احترام کیا اگر تم اسے دھتکار دیتے تو آج اس عالم میں کبھی نہ ہوتے پھر ہم راضی ہو گئے اور آج آپ یہاں ہیں کہنے لگے اس سے قبل ہم آپ کی دنیا کے بے شمار لوگوں کو یہاں لائے ہیں پھر ان کے نام گنوائے جب وہ علامہ محی الدین ابن عربی کے نام پر آئے تو میں نے تصدیق کی واقعی میں نے ان کے یہ حالات کچھ پڑھے ہیں۔
کہا انسانوں کے عالم کا جو شخص بھی سورة اخلاص مع تسمیہ لاکھوں کروڑوں اور اربوں کی تعداد میں پڑھتا ہے ایک نہ ایک دن ہم اسے اپنے عالم کی سیر ضرور کراتے ہیں ہاں اس کی پشت پر کوئی باکمال ضرور ہو۔ (جاری ہے)
نوٹ: قارئین کوعلامہ لاہوتی پراسراری کی طرف سے جنات کے پیدائشی دوست کی قسط نمبر 6 میں چھپنے والے درود شریف کی اجازتِ عام ہے۔باقی وظائف کی بھی اجازت ہے۔

Majzobi
15-05-2012, 03:22 PM
میں عالم حیرت میں یہ باتیں سن رہا تھا اور حیران ہو رہا تھا کہ یاالٰہی آپ نے سورة فاتحہ میں اَلحَمدُ لِلّٰہِ رَبِّ العَالَمِینَ فرمایا، عالم نہیں فرمایا۔ واقعی ہمارے عالم سے ہٹ کر دوسرے عالم بھی ہیں جن کا ہمیں علم بھی نہیں۔ ان میں ایک نو جوان کہنے لگا آپ کی سائنس کی اگر ارب سال مزیدترقی کرجائے تو بھی ہماری ترقی سے آگے نہیں نکل سکتی پھر انہوں نے اپنی ترقی کے وہ کرشمات دکھائے جو میری آنکھ نے نا کبھی دیکھے، نہ کانوں نے کبھی سنے، نا کبھی ذہن نے سوچا۔ بس وہ عالم حیرت ہی تھا جو الفاظ کیا احساسات سے بھی بالاتر تھا۔قارئین پچھلی اقساط میںباورچی جن بابا کا تذکرہ آپ نے پڑھا، جنہوں نے عبدالسلام جن کی شادی میں تمام باراتیوں کو لذیز کھانے کھلائے یہ اسی نومبر کا واقعہ ہے جمعہ کا دن تھا میں فاتحہ کیلئے اتباع سنت میں قبرستان گیا، جب میںوہاں پہنچا تو دیکھا کہ ایک سفید ریش بوڑھا شخص حضرت احمد علی لاہوری کی قبر پر بیٹھا رو رہا ہے چونکہ میں اکثر فاتحہ کیلئے جاتا رہتا ہوں میں بھی ساتھ جا کر بیٹھ گیا میں نے مراقبہ کیا تو محسوس ہوا کہ حضرت لاہوری اپنی قبر میں موجود نہیں اور وہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ تشریف لے گئے ہیں بس تھوڑی ہی دیر میں حضرت لاہوری تشریف لے آئے میں نے سلام عرض کیا راز و نیاز کی باتیں ہوئیں بہت روحانی فیوض و برکات عطاءہوئے ،دل کی بہت سی باتیں ایسی تھیں جو میں نے ان کی خدمت عرض کرنی تھیں وہ عرض کیں۔ حضرت لاہوری نے ایک بات جو خاص طور پر زور دے کر فرمائی وہ یہ کہ سارے عالم میں حوادث، واقعات، مشکلات اور پریشانیاں روز بروز بڑھتی چلی جائیں گی۔ بے سکونی حد سے زیادہ بڑھے گی، بے چینی گماں سے بھی زیادہ لمبی ہوجائے گی، مال نہیں ملے گا، چیزیں نہیں ملیں گی پھر مال ہوگا تو چیزیں نہیں ہوں گی، گھر گھر لڑائی جھگڑے اور مایوسی اتنی بڑھ جائے گی کہ زندگی سے موت کو ترجیح دی جائے گی، میں نے حضرت لاہوری سے عرض کیا آخر اس کا کوئی حل بھی ہوگا۔ ٹھنڈی سانس لیکر فرمانے لگے صرف 3 چیزیں 1۔ فجر کی سخت پابندی اور اہتمام کے ساتھ ساتھ بقیہ نمازوں کی بھی پابندی 2۔ آیت کریمہ اور استغفار کاکثرت سے پڑھنا، 3۔ آنکھوں کی احتیاط یعنی گناہوں سے بچنا ،میں بیٹھاحضرت لاہوری کی باتیں سن رہا تھا۔میرے ساتھ بیٹھے بابا جی مسلسل رو رہے تھے تو اسی دوران میں نے حضرت لاہوری سے پوچھا کہ یہ میرے ساتھ بیٹھے بابا جی کون ہیںجو مسلسل رو رہے ہیں۔ حضرت لاہوری فرمانے لگے خود ہی تعارف کراتے ہو اور خود ہی لاتعلق ہوجاتے ہو، میں حیران ہوا تو فرمانے لگے۔ عبدالسلام کی شادی یاد ہے اور عبدالسلام کی شادی میں جو بوڑھے باورچی جن تھے وہ یہی تھے۔ یہ اس وقت انسانی شکل میں میرے پاس ملاقات کیلئے آئے بیٹھے ہیں، جب میں عالم دنیا میں تھا تو اس وقت یہ اور ان کی نسلیں میرے پاس بہت زیزدہ آیا کرتی تھیں، اچھے اور مخلص انسان ہیں میں نے حضرت سے پوچھا کہ حضرت میرے پاس جنات بہت زیادہ آتے ہیں کروڑوں سے زیادہ جنات میرے ہم نشین اور میرے ساتھی ہیں کونسی ایسی چیز میں اختیار کروں جس سے یہ خوش ہوں اور ان کی محبت اور زیادہ بڑھ جائے تو فرمانے لگے بس ایک چیز جس کو یہ بہت زیادہ پسند کرتے ہیں وہ خوشبو کچا گوشت، چاولوں کو ابالتے ہوئے جو خوشبو اٹھتی ہے یا پھر جانور کو ذبح کرتے ہوئے جو پہلا خون نکلتا ہے یہ چیزیں ان کو بہت پسند ہیں۔ میں نے مزید سوال کیا کہ کوئی اور چیز فرمائیں تو فرمانے لگے ان میں سے ہر جن اگر وہ نیک اور صالح ہے تو وہ ان چیزوں کو ضرور پسند کرے گا اور اگر وہ شیریر جنات ہیں تو پھر ان کوگوہر، کوئلہ جلی ہوئی لکڑی، نیم سوختہ بچوں کی چیخ و پکار، عورتوں کے آپس میں جھگڑے، میاں اور بیوی کے جھگڑے، مردار جانور کا خون، خنزیر اور کتے ابہت زیادہ پسندیدہ ہیں۔
میں نے حضرت لاہوری سے ایک اور سوال کیا کہ حضرت میرے پاس روحیں مختلف شکلوں میں بہت زیادہ تشریف لاتی ہیں یا میں ان کے پاس حاضر ہوتا ہوں ایک انوکھی چیز جو میں نے اکثر دیکھی ہے کہ جب وہ تشریف لاتے ہیں تو ان کے ساتھ صالح جنات کے لشکر ضرورت ہوتے ہیں ابھی پچھلے دنوں میری ملاقات حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ سے ہوئی ان کی ملاقات سے مجھے بہت زیادہ روحانی اور نورانی استفادہ ہوا یہ ہماری ملاقات کئی گھنٹے تک محیط رہی۔ تو حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی لاکھوں جنات موجود تھے۔ ان میں سے ایک جن نے ازراہ محبت مجھے خوشبو دی۔ یہ وہ خوشبو ہے جس میں ایک قطرہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ اطہر کا ملا ہوا ہے اور اس خوشبو کے جو کمالات ہیں وہ میں بیان میں نہیں لاسکتا۔ اس کو میں نے سنبھال کررکھا ہوا ہے جب بھی میں وہ خوشبو میں لگاتا ہوں خوبصورت زیارتیں شروع ہوجاتی ہیں حضرت لاہوری فرمانے لگے دراصل جنات ان کے خدام ہوتے ہیں اور یہ خدام اپنے مخدوم کے ساتھ ہی چلتے ہیں مراقبے سے فارغ ہونے کے بعد میں نے باورچی جن کو اپنا تعارف کرایا اور عبدالسلام کی شادی کا ان کو حوالہ دیا میری بات سن کرباورچی جن بہت خوش ہوئے۔ بڑے اتفاق سے ملے ۔کہنے لگے بڑھاپا ہے ،نظر کمزور ہے، یادداشت پر اثر ہے، اس لیے پہچان نہ سکا۔ میں نے اصرار کیا میری دعوت قبول فرمائیں، گھر چلیں، انہوں نے ازراہ شفقت میری دعوت قبول فرمائی اس شرط پر جو گھر میں موجود ہوگا وہ ہی کھاوں گا تکلیف نہیں کریں گے جب میں گھر پہنچا تو جی میں آیا کہ عبدالسلام صحابی بابا، حاجی صاحب اور ان کی فیملی کو بھی بلالوں۔ میں نے ان کے دئیے ہوئے مخصوص کوڈ سے ان کو عرض کیا فرمانے لگے اس وقت ہم عمرہ کرنے کے بعد خیبر کے اس قلعہ میں بیٹھے ہیں جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فتح کیا تھا ہم تھوڑی دیر میں پہنچ جاتے ہیں، ان کی محبت اور شفقت تھوڑی ہی دیر میں وہ 382 افراد یعنی پورا خاندان میرے گھر پہنچ گیا۔ خوب پرتکلف ان کے مزاج کی دعوت کی۔

Majzobi
15-05-2012, 03:22 PM
جب ہم کھانے سے فارغ ہوئے تو سب ساتھیوں یعنی بوڑھے باورچی جن عبدالسلام اور دوسرے جنات کے بڑے سردار دیو اور پریوں نے صحابی بابا سے اصرار کیا کہ آپ ہمیں ایسا واقعہ سنائیں جو واقعی انوکھا ہو پہلے تو انہوں نے انکار کیا پھر جب میں نے عرض کیا اور ان کی خدمت میں درخواست کی تو انہوں نے ایک واقعہ سنایا جو قارئین کی نذر ہے۔
کہنے لگے یہ واقعہ خلیفہ مامون الرشید کے دور کا ہے اس کی خلافت تمام براعظم ایشیاءاور عرب تک پھیلی ہوئی تھی اس کی ایک لونڈی تھی جو واقعی حسن و جمال کا ایک پیکر اور کمال تھی۔ وہ دراصل نیشاپور کے قریب ایک گاوں جس کا نام مارض تھا وہاں کے ایک کسان کی بیٹی تھی۔ بچپن سے رنگ روپ دیکھ کر اس کی ماں اسے چھپاتی تھی اور ابھی وہ چھوٹی ہی تھی کہ اسے گھر سے زیادہ باہر نکلنے پر پابندی لگادی گئی تھی۔ یوں جوانی کے دن رات طے ہوتے گئے۔ گاوں کے نو جوان بلکہ ہر نوجوان کی خواہش تھی کہ اس سے شادی کرے لیکن اسکے ماں اور باپ کی خواہش تھی کہ بیٹی ایسے شخصسے بیاہی جائے جو صالح ہو چاہے غریب ہی کیوں نہ ہو۔ یہ بات خلیفہ کے ایک وزیر واثق عطا جودری کے ذریعے خلیفہ تک پہنچی اب جب خلیفہ نے اس کسان کے گھرمامون رشید کی اطلاع پہنچائی تو وہ حیران ہوئے کہ ہماری اتنی کیا اوقات ہے‘ خلیفہ تو ہم سے مقام اور مرتبے میں بڑا ہے‘ آخر کار انہوں نے وہ لڑکی خلیفہ کو دے دی۔ خلیفہ نے اسے اپنے حرم کا حصہ بنالیا اور سب لونڈیوں سے اونچا مقام دیا۔
وہ لڑکی خوش شکل تو تھی ہی‘ خوش اخلاق بھی تھی اس نے آتے ہی خلیفہ کی زندگی میں سب سے پہلی جو تبدیلی پیدا کی وہ یہ کہ خلیفہ کی زندگی غرباءمساکین اور پسے ہوئے طبقے کے لیے وقف ہوکر رہ گئی بلکہ اس سے زیادہ خلیفہ کی زندگی میں اور تبدیلی جو آئی وہ یہ تھی کہ خلیفہ نیک اعمالکیطرف متوجہ ہوا یونہی دن رات گزرتے گئے آپس کی محبت بڑھتی گئی لیکن ایک دن عجیب واقعہ ہوا کہ خلیفہ نے محسوس کیا کہ آہستہ آہستہ اسکے دل سے اپنی لونڈی کی محبت کم ہورہی ہے خود اس لونڈی نے محسوس کیا کہ محبت کی جو شدت پہلے تھی وہ شدت واقعتا کم ہورہی ہے اب خلیفہ مامون بھی پریشان بلکہ ایک بار توخلیفہ اس لونڈی کوکہہ بیٹھا کہ اب تیرے حرم میں میرا دل آنے کو نہیں چاہتا بعض اوقات کھچے اور دکھی دل کے ساتھ آتا ہوں۔ کیا کروں مجبور ہوکر آتا ہوں ورنہ جو پہلے دل اور محبت کی موجوں کے ساتھ آتا تھا اب معاملہ اسطرح نہیں کئی ہفتے گزر گئے۔ خلیفہ کے دربار میں ایک درویش شیخ سعید بن ثابت المروزی رہتے تھے جو کہ خود بہت بڑے عامل تھے ان سے تذکرہ ہوا توانہوں نے تین دن کی مہلت مانگی‘3 دن کے بعد انہوں نے انکشاف کیا کہ اس لونڈی کے حسن وجمال کی وجہ سے ایک طاقت ورعامل جن اس لونڈی کے پیچھے پڑگیا ہے جو اسے ہر صورت میں پانا چاہتا ہے اور اس نے کالے جادو کے ذریعے لونڈی کو آہستہ آہستہ خلیفہ سے دور اور خلیفہ کو لونڈی سے دور کرنا شروع کردیا ہے اور عنقریب ان دونوں میں نفرت ہوجائے گی اور لونڈی کو خلیفہ اپنے حرم سے نکال دے گا۔ یوں یہ اپنے گھر واپس کسان کے پاس چلی جائے گی اور اس کالے جن کا مقصد پورا ہوجائے گا۔ اس درویش نے ایک اور بات یہ بھی کہی کہ گھریلو جھگڑوں میں سارا ہاتھ جنات کا ہوتا ہے اورجھگڑوں میں انکے کئی مقاصد ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں انکا مقصد عورت کو پانا ہو‘ انکے اور بھی کئی مقاصد ہوتے ہیں‘ اگر ان گھریلو جھگڑوں کا علاج کرنا ہے تو ان جنات کے دفع کرنے کاانتظام کرنا بہت ضروری ہے اسکی طرف اکثر لوگ توجہ نہیں دیتے جسکی وجہ سے کام اکثر طلاقوں‘ جھگڑوں‘ گھریلو بے سکونی کیطرف چلاجاتا ہے۔
بالکل یہی حال خلیفہ کا ہوا اب جب خلیفہ کو یہ پتہ چلا تو وہ پریشان ہوگیا ‘ لونڈی نے تو رو رو کر اپنا برا حال کرلیا۔ خلیفہ نے درویش کو حکم دیا کہ اب اس کیس کو حل کر اور اس کالے جن کا جادو ختم کر‘ درویش نے کہا کہ اس کالے جادو میں یہ جن اکیلا نہیں بلکہ اسکے ساتھ معاونت میںجنات کی ایک بڑی جماعت ہے‘ اس کے مستقل حل کیلئے مجھے بھی جنات کی مدد لینی پڑے گی جب تک جنات کی مدد نہ ہوگی ہرگز ہرگز مسئلہ حل نہ ہوسکے گا اب بادشاہ اور پریشان کہ اس کا کیا حل کیا جائے اس دور میں ایک درویش بصرہ میں رہتے تھے جن کا نام مالک بن عبید تھا بڑے اللہ والے تھے۔ دن رات سائلین کا ہجوم ان کے پاس رہتا تھا ہر شخص ان کے پاس سے اپنی مراد پاکر جاتا تھا‘ بہت متبع سنت اور صاحب شریعت تھے میں اس وقت ان کی محفل اور مجلس میں جایا کرتا تھا۔ خلیفہ کے درویش شیخ سعید بن ثابت ان سے ملنے آئے کہ یہ مسئلہ ہے آپ کے پاس لاتعداد جنات آتے ہیں کسی بڑے طاقت ور جن کے ذریعے یہ مسئلہ حل کرادیں چونکہ میں اس وقت موجود تھا اس لیے انہوں نے مجھے فرمایا کہ آپ یہ کام کردیں میں نے تعمیل حکم میں جی کہہ دیا اور کچھ دنوں کا وقت مانگا۔
اب میری کہانی سنیں کہ میں نے کس طرح اس کالے جن کا پیچھا کیا اور کس طرح اس جادو کو ختم کیا۔ سب سے پہلے میں نے درویش کو چند اعمال کی تراکیب بتائیں اور پھر اس درویش نے خلیفہ کو یہ تراکیب بتائیں یہ اعمال اور تراکیب اب تک میں نے بے شمار لوگوں کو بتائے اور کیے جس جس کو بتایا اسی کو فائدہ ہوا۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ اس عورت کے پرانے کپڑے لے کر چاہے ایک کپڑا ہو لیکن ہو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا ہوا۔ اس کپڑے پر روزانہ سورہ فلق مع تسمیہ 200 بار صبح اور سورہ الناس 200 بار شام گھر کا کوئی فرد پڑھے لیکن توجہ خلوص اور دھیان کیساتھ اگر مریض خود پڑھے تو نفع زیادہ ہوگا ورنہ گھر کا کوئی فرد ہو باہر کا کوئی فرد یعنی رقم دے کر اگر پڑھایا تو ہرگز نفع نہ ہوگا۔ یہ عمل 90 دن کیا جائے 90 دن کے بعد اس کپڑے کو جلا کر اس کی راکھ صاف پانی میں بہادی جائے۔

Majzobi
15-05-2012, 03:23 PM
دوسرا سارے گھر والے یا گھر کے چند افراد یا خود مجبور افراد دن رات یَاحَکِیمُ یَاعَزِیزُ یَالَطِیفُ یَاوَدُودُ بکثرت یعنی روزانہ وضو‘ بے وضو ‘پاک‘ ناپاک ‘ہزاروں کی تعداد میں پڑھیں۔ ہزاروں کی تعداد سے کم نہ ہو۔یہ عمل 90 دن کریں۔تیسرا صدقہ جتنا زیادہ تعداد میں اور قیمتی ہوگا اتنا زیادہ نفع ہوگا۔ ورنہ جتنا ہوسکے، گائے، بکری، بکرا اور نقدی رقم میں ایسے غریب جو نمازی اور ذکر کرنے والے ہوں روزانہ 90 دن تک تلاش کرکے دیا جائے۔
بس یہ عمل میں نے انہیں کرائے کیونکہ جو شخص یہ تینوں عمل کرتا ہے ہاں اگر تینوں میں سے ایک عمل بھی کم ہوا یا کمزور ہوا تو سورئہ فلق اور سورئہ ناس کے موکلات ہرگز مدد نہیں کریں گے اور جناتی سفلی چیزیںکالا جادو اور جنات ہرگز نہیں ٹوٹیں گے کیونکہ ذکر اور صدقہ دراصل ان موکلات کی خوراک اور مدد ہے جب تک آپ سورئہ فلق اورناس کے موکلات کو انکی خوراک نہیں دیں گے اس وقت تک وہ ان کالے ازلی اور گندے جنات سے نہیں لڑینگے اور انہیں ختم نہیں کرسکیں گے۔
خلیفہ کی لونڈی نے یہ سارے عمل خود کیے اور صدقات کی خلیفہ نے حد کردی پھر خود خلیفہ نے بھی یہ ذکر کثرت سے کیا۔ اسکی وجہ سے محبت بڑھنے لگی اور دل کی جدائیوں میں مرہم بھرنے لگا۔ شکستہ دل اوردور ہوئے جسم دوبارہ قریب آنے لگے۔ 90 دن کے بعد بھی انہوں نے یہ ذکر نہ چھوڑادن بدن ذکر میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ انہوں نے کپڑا جلاکر راکھ پانی میں بہا دی۔
ادھر وہ جنات جنہوں نے اس کالے جن کی مدد کی ان کا بہت نقصان ہوا ان کے گھر جل گئے۔ انکے بچے مرگئے۔ بہت حادثات رونما ہوئے۔ سورتوں کے طاقت ور ترین موکلات نے انکا اتنا حشر کیا کہ انہیں عبرت کا نشان بنادیا۔صحابی بابا کہنے لگے اس دور میں مجھے درویش کے ذریعے خلیفہ مامون الرشید نے اشرفیوں کا بھرا ہوا ایک مشکیزہ دیا تھا۔کہنے لگے کچھ اشرفیاں اب بھی میرے پاس ہیں۔ یہ اشرفیاں تحریر کرنے والے علامہ لاہوتی نے بھی دیکھی ہیں۔
صحابی بابا نے اس سارے عمل کے فوائد اور مزید کمالات اتنے بتائے کہ میں خود حیران ہوا۔ چند فوائد لکھتا ہوں۔ اگر کسی کی اولاد نافرمان ہو وہ یہ عمل مستقل کرے‘ گھریلو جھگڑے‘ میاں بیوی کے درمیان یا اولاد کے مسائل یا آج کل عام طور پر رشتوں کی تلاش یا روزی کی بندش، قرضے اوراس جیسے مسائل کی وجہ سے اگرآپ پریشان ہوں تو پورے خلوص اعتماد توجہ اور دھیان سے یہ عمل کریں آپ کو منزل ملے گی‘ کمال ملے گا۔ میں نے صحابی بابا سے عرض کی کہ اگر آپ مہربانی کریں تو مجھے اس عمل کی اجازت دے دیںتا کہ یہ عمل میں جس کو بتاﺅںاسکو سو فیصد نفع ہو۔ صحابی بابا نے خوشی سے اس عمل کی اجازت دے دی اور میری طرف سے اس عمل کی ہرایک کو اجازت ہے۔
ابھی پرسوں کی بات ہے‘ میں رات کے آخری پہر قبرستان پہنچا کیا خوب سناٹا‘ ہر طرف تنہائی‘ ہُو کا عجیب عالم تھا۔ جنات اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ جنات کے بچے مجھے چھیڑنے کیلئے دوڑے کیونکہ بچے تو بچے ہی ہوتے ہیں چاہے وہ انسان کے ہوں جانور کے یا جن کے‘ ان کے مزاج میں شرارت ہوتی ہی ہے۔ ایک بچہ دوسرے سے کہنے لگا آو اسکی ٹانگ کھینچتے ہیں اور اس کو گرا تے ہیں‘ دوسرا کہنے لگا نہیں اسکے سر میں مکا مارتے ہیں ہر بچے کو کوئی نہ کوئی شرارت سوجھ رہی تھی۔ وہ ہنستے کھیلتے اچھلتے‘ کودتے‘ میری طرف بڑھ رہے تھے۔ دور ہی سے ایک بوڑھی جننی نے بچوں کو ڈانٹا اور کہا خیال کرو۔ یہ حزب البحر کا عامل ہے۔ اس سے بچ کر رہنا۔ بچے ایسے بھاگے جیسے کوا پتھر سے بھاگتا ہے۔
حزب البحر کی بات چلی‘ تو میں نے حزب البحر کا چلہ کیا چونکہ حاجی صاحب اور صحابی بابا کی سرپرستی توجہ اور شفقت میرے ساتھ تھی۔ انہوں نے نوچندی جمعرات سے اس عمل کوشروع کرنے کا فرمایا میں نے نوچندی جمعرات کو دو کفن کی چادریں‘ ایک سفید ٹوپی بہت سی خوشبو‘ بڑا سا لوہے کا برتن جس میں مکمل 18 کلو سرسوں کا تیل آجائے اور اسمیں گلاب‘ چنبیلی اور رات کی رانی کی تیز خوشبو ڈالی اور ساتھ ایک بڑی سی بتی ڈالی جسکی لمبائی پانچ میٹر تھی۔ پانچ فٹ گہرا پانچ فٹ چوڑا مٹی کا ایک گڑھا کھود کر اس تیل کے برتن اور بتی کا چراغ جلایا اور حالت کفن میں بیٹھ کر روزانہ حزب البحر 5555 بار پڑھنا شروع کردیا۔ تین بہت بڑے اور موٹے سانپ میرے اردگرد ہر وقت رہتے وہ بظاہر تو سانپ تھے لیکن دراصل وہ جنات تھے جو کہ حفاظت کیلئے مقرر تھے چونکہ یہ عمل جلالی ہے پڑھتے ہوئے ساتھ بارش کا پانی مجھے چسکی چسکی اسلئے پینا تھا کہ منہ میں لعاب خشک ہوکر عمل کی حدت اور حرارت کی وجہ سے آگ پیدا ہوجاتی تھی اس آگ کو یا تو زمزم کا پانی یا پھر بارش کا پانی ختم کرسکتا ہے۔ ہاں اتنی اجازت ضرور تھی کہ اس گھڑے کی دیوار سے ٹیک لگاسکتے ہیں۔ حزب البحر میرے خیال میں اسکا عمل صرف جنات ہی کراسکتے ہیں اگر کوئی مخلصین جنات میسر ہوں کیونکہ جن کسی عمل وغیرہ سے قابو میں نہیں آتا بلکہ جن موقع کی تلاش میں ہوتا ہے موقع ملتے ہی وہ نقصان پہنچا دیتا ہے ہاں اگر بڑوں کی برکت سے جنات سے دوستی ہوجائے یا میری طرح جسے بچپن سے جن محبوب رکھتے ہوں بلکہ مجھ پر تو جن عاشق ہیں تو ایسے شخص کیلئے عمل کرنا کبھی مشکل نہیں ہوتا کیونکہ دوران عمل چڑیلوں‘ دیو‘ جنات‘ پریوں اور لاہوتی‘ ناسوتی‘ ملکوتی‘ جبروتی‘ مخلوقات کے طرح طرح کے شدید حملے شروع ہوجاتے ہیں اسلئے جو لوگ حزب البحر کے عامل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ پڑھ ضرور لیتے ہیں لیکن عامل ہونا بہت دور کی بات ہے مجھے اپنی مطلوبہ تعداد اس گڑھے میں حالت کفن میں پوری کرنا تھی۔ میں نے اپنی زندگی میں حزب البحر کے بیشمار عمل کرنے والوں کو یا زندگی سے یا شعور سے یا پھر رزق یا اولاد سے ہاتھ دھوتے دیکھا۔عمل کے ٹھیک ساتویں دن ایک ایسا ہولناک منظر میرے سامنے آیا اگر میرے اردگرد جنات سانپ کا پہرہ اور میری پشت پر بڑے طاقتور جنات کا ہاتھ نہ ہوتا

Majzobi
15-05-2012, 03:24 PM
واقعہ کچھ یوں ہوا پڑھتے پڑھتے مجھے محسوس ہوا ایک جنگل ہے۔ دو میاں بیوی ہیں‘ ان کے بہت سارے بچے ہیں‘ بچے کھیل رہے تھے‘ تھوڑی ہی دیر میں میاں بیوی میں جھگڑا شروع ہوگیا۔ بیوی نے میاں کو کوسنا شروع کردیا تو کماتا نہیں‘ ہڈحرام ہے‘ سارا دن گھر پڑا رہتا ہے‘ بچے بھوکے مررہے ہیں‘ پہننے کو کپڑے نہیں‘ لباس نہیں‘ گھر کی چھت نہیں‘ نیچے کا فرش نہیں‘ اس طرح کی سخت تلخ باتیں بیوی مسلسل کہے جارہی تھی۔ میاں پہلے تو تھوڑی دیر سنتا رہا پھر اسے بھی غصہ آگیا پھر اس نے بھی بولنا شروع کیا اور غلیظ اور گندی زبان استعمال کرنا شروع کردی اور پھر تھوڑی دیر میں میاں نے قریبی درخت سے شاخ توڑی اور اس سے بیوی کو مارنا شروع کردیا‘ اتنا مارا کہ اس کو لہولہان کردیا پھر بچوں کو بھی مارنا شروع کردیا بیوی بے ہوش ہوکر گر گئی۔ میاں بچوں کو بھی مار رہا تھا بچے لہولہان ہوکر مسلسل گرتے جارہے تھے وہ مسلسل گالیاں دے رہا تھا۔ پھر اس نے جنگل سے خشک لکڑیاں اکٹھی کرنا شروع کردیں۔ لکڑیاں اکٹھی کیں نامعلوم کیا بلا تھی لکڑیوںکو آگ لگائی اور پھر اس نے اپنے بچوں کو ایک ایک کر کے آگ میں ڈالنا شروع کردیا۔ ایک کہرام‘ چیخ و پکار جلنے کی سخت بدبو‘ ہیبت ناک منظر‘ جو گمان اور الفاظ سے بالاتر۔ انسانی عقل‘ شعور احساس و ادراک اس کو بیان نہیںکرسکتا۔ جب سارے بچے ختم ہوگئے تو پھر اس نے بیوی کوبھی اٹھا کر آگ میں پھینک دیا۔
اب وہ ظالم میاں اپنے بیوی بچوں کو خوشی سے جلتا ہوا دیکھ رہا تھا حتیٰ کہ اس نے ان کی راکھ بنانے کیلئے جنگل کی سوکھی پتلی شاخیں اس آگ کے الاو کیلئے ڈالنا شروع کر دیں‘ اب اس نے الاو کے گرد چکر لگاتے ہوئے جھومنا شروع کردیا اور وہ کسی نامعلوم آواز میں باتیں بھی کررہا تھا اور قہقہے بھی لگارہا تھا یہ منظر بہت طویل دیر تک جاری رہا میں منظر بھی دیکھ رہا تھا اور مسلسل حزب البحر پڑھ رہا تھا۔ مجھے میرے مخلص جنات دوستوں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ آپ کو ڈرانے بھگانے اور پریشان کرنے کیلئے بہت زیادہ محنت کی جائے گی اور حیرت انگیز مناظر دکھائے جائیں گے بس اپنے آپ کواعصاب اور خیال کے اعتبار سے مضبوط رکھنا۔ اگر تھوڑا سا بھی جھٹکا لگا اور ڈر گئے تو بہت بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔ اب میں یہ سب منظر دیکھ بھی رہا تھا اور مجھے جنات دوستوں کی ہدایات یاد آرہی تھیں اور پھر اس وحشی کے قہقہے آگ کے الاو کے اردگرد اسکا جھومنا‘ آگ کے اندر مسلسل بیوی بچوں کے جلنے‘ گلنے سڑنے اور کھوپڑیوں کے ترخنے کی آوازیں‘ یکایک وہ وحشی رک گیا اور متلاشی نظروں سے ادھر ادھر دیکھنے لگا اور اونچی آواز میں کہنے لگا سب جل گئے ابھی ایک شخص باقی ہے وہ کہاں ہے‘ وہ علامہ پراسراری نام لیکر مجھے تلاش کرنے لگا کبھی جنگل کے اس کونے‘ کبھی دوسرے کونے‘ پھر آگ کی طرف آتا اور لکڑیاں اکٹھی کرتا۔ میرا نام لیتا‘ آگ بھڑک رہی تھی‘ شعلے تیز ہورہے تھے‘ آگ کی گرمی کی شدت اور حدت میں گڑھے میں محسوس کررہا تھا۔
کفن کی چادریں‘ میرا جسم پسینہ پسینہ ہوگیا مٹی بھیگ گئی‘ پسینے کے قطرے ایسے ٹپک رہے تھے جیسے بارش کا پانی‘ بہت دیر وہ مجھے تلاش کرتا رہا۔ آخر کار مجھ پر اس کی نظر پڑی اس نے وحشیانہ انداز سے قہقہہ لگایا اور مجھے دور سے پکڑنے کیلئے دوڑا اب وہ جس تیزی سے میرے قریب آرہا تھا اس کی آنکھوں سے وحشت اس کے قہقہوں سے وحشت‘ اس کی چال‘ ڈھال‘ انداز سب قاتلانہ‘ مجھے احساس تک نہیں تھا کہ اتنا بڑا خوف آسکتا ہے۔ لیکن ایک پل میں حاجی صاحب کی آواز میرے کانوں میں گونجی گھبرانا نہیں‘ ڈرنا نہیں‘ یہ عمل سے ہٹانا چاہتا ہے تم تک ہرگز نہیں پہنچ سکے گا اگر تھوڑا سا بھی چوک گئے تو یہ کامیاب ہوجائے گا اور تم زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔ یقین جانیے یہ لفظ میرے کانوں میں پڑتے ہی میں اپنے مکمل ہوش و حواس اور جوش کی مکمل طاقت کے ساتھ حزب البحر پڑھنے میں مشغول ہوگیا جب وہ میرے قریب آیا اور اس نے مجھے پکڑنا چاہا ‘ میں مطمئن بیٹھا رہا اس کے ہاتھ میری طرف بڑھے مجھے شعوری طور پر اس کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا چونکہ نہ میں چونکا اور نہ ڈرا بلکہ سوفیصدمطمئن سامنے پڑے چراغ کی لو پر نظریں جمائے اپنا عمل جاری کیے ہوئے تھا کیونکہ سارا منظر میں اس چراغ کی لو میں دیکھ رہا تھا وہ وحشی پیچھے ہٹ گیا اور شکست اور ناکامی سے نیچے گرپڑا کہنے لگا ہمارا پہلا وار تجھ سے خطا گیا ٹھیک ہے تجھ سے نمٹ لیں گے۔
میں روزانہ حزب البحر کے مطلوبہ عمل کو کررہا تھا ایسے انوکھے‘ انجانے‘ خوفزدہ کرنے والے طرح طرح کے مناظر دیکھ رہا تھا چالیس دن میں نے اس گڑھے میں گزارے ہر روز نیا تماشا‘ نئی کہانی‘ نئی داستان ہوتی تھی اگر میں آپ کو روز کی کہانیاں بتانا شروع کردوں میرے صرف ایک چلہ پر پوری کتاب بن سکتی ہے اور باتیں بھی ایسی انوکھی ہوں گی عام قارئین تو دور کی بات بڑے بڑے وہ عامل جو شاید کبھی کوئی عمل کرکے کسی مقصد تک پہنچے ہوں یا انہیں کبھی کوئی منظر اس طرح نظر آرہا ہو کبھی بھی میری بات کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔ ویسے بھی جب سے میں نے اپنی زندگی کے انوکھے لاہوتی پراسرار واقعات لکھنا شروع کیے ہیں بے شمار لوگ ایسے ہیں کہ انہیں یقین ہی نہیں آتا کہ ایسا ممکن بھی ہوسکتا ہے لیکن یہ میرا اور میرے رب کا معاملہ ہے جو میں آپ کے سامنے بیان کررہا ہوں یہ سوفیصد حقیقت بلکہ حقیقتوں میں سے بھی بڑی حقیقتیں ہیں۔ مجھے ایک بات کی خوشی ضرور ہے کہ میرے زندگی کے آزمودہ بتائے ہوئے وظائف اور تجربات سے عبقری کے لاکھوں قارئین کو بہت نفع ہورہا ہے۔
میں نے 40 دن حزب البحر کا عمل کیا اس دوران بہت سے واقعات رونما ہوئے چند واقعات آپ کو سنائے دیتا ہوں۔
ایک دفعہ یوں ہوا ایک چیونٹی میرے اوپر چڑھنے کی کوشش کرتی میں انگلی سے اسے دور کرتا پھر چڑھتی پھر دور کرتا پھر چڑھتی‘ میں اپنی توجہ وظیفہ کی طرف کرنا چاہتا تھا باوجود توجہ کے بار بار میری توجہ ہٹ رہی تھی۔

Majzobi
15-05-2012, 03:24 PM
پھر توجہ اس طرف کرتا پھر ہٹ جاتی‘ کوئی طاقت ایسی تھی جو مجھے عاجز کرنے کی کوشش کررہی تھی لیکن میں عاجز نہیں ہورہا تھا‘تھوڑی ہی دیر میں اس کا جسم بڑھنا شروع ہوگیا لیکن اب وہ مجھ سے دور ہوگئی۔ وہ میری طرف بڑھنا چاہتی تھی لیکن درمیان میں کوئی نورانی دیوار اسے میرے قریب نہیں آنے دے رہی تھی‘اب اس کا جسم اور بڑھتے بڑھتے ایک بڑی چڑیا کے برابر ہو گیا۔ جسم کا بڑھنا اور اس کا میری طرف بڑھنا یہ دونوں کیفیتیں جاری رہیں۔ جسم بڑھتے بڑھتے بلی کے برابر ہوگیا اس کے غرانے کی آوازیں آنے لگیں‘ جسم بڑھتے بڑھتے کتے کے برابر ہوگیا حتیٰ کہ جسم ایک شیر اور ببر شیر کے برابر ایسا خطرناک اور اس کے جسم سے ایسی سخت بدبو کہ ایسے محسوس ہو کہ جیسے مجھے ابھی قے آجائے گی‘ طبیعت میں سخت بے زاری ‘بے چینی بڑھانے کی مسلسل کوشش کی جارہی تھی۔ لمحہ بہ لمحہ بے چینی بڑھ رہی تھی اور چیونٹی سے شیر کی طرف بڑھنے والا مسلسل جسم بڑھ رہا تھا اور میری طرف لپک رہا تھا‘ درمیان میں نورانی دیوار اس کو روک رہی تھی‘ اب میں وظیفہ بھی پڑھ رہا تھا اور دیوار کے بارے میں بھی سوچ رہا تھا‘ یہ کونسی دیوار ہے کہ اتنی خوفناک چیز اس کی وجہ سے میری طرف بڑھنے سے رک رہی ہے‘تو میرے کانوں میں صحابی باباکی مانوس آواز آئی‘ تمہیں یاد ہے۔ اس40 دن کے عمل سے پہلے تم نے مسلسل 40 دن بہت بڑی مقدار میں مال صدقہ کیا تھا‘ یاد رکھو صدقہ جتنا زیادہ ہوگا‘ جتنا زیادہ مستحقین کو تلاش کرکے دیا جائیگا‘ وہی صدقہ اسی طرح کی نورانی دیوار بن کر صدقہ دینے والے کے اردگرد ہر وقت رہتا ہے اور اسی طرح کے ہر حملہ آور سے صدقہ کرنے والے کی حفاظت کرتا ہے
بس یہ لفظ سننے تھے‘ مجھے سمجھ آگیا وہ جو میں نے40 دن مسلسل غریب مستحقین اور ایسے لوگوں کو جو سوال نہیں کرتے تلاش کرکے روزانہ 4300روپے صدقہ کیاتھا آج وہی صدقہ اس خونخوارسے میری حفاظت کا ذریعہ بن رہا ہے۔خیر وہ جسم اور بڑھ گیا حتیٰ کہ گائے تک پہنچ گیا اب اس کی آوازیں اور تیز ہوگئیں اس کے منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہوگئی پھر اس کی زمین پر گرنے والی ہرجھاگ کا قطرہ شعلہ بن کر آگ کی طرح بھڑک رہا تھا۔ پھر تھوڑی ہی دیر میں اس کے منہ سے شعلے نکلنا شروع ہوئے‘ اس کی حرارت میں محسوس کررہا تھا لیکن ان شعلوں کا نقصان مجھے نہیں ہورہا تھا کیونکہ اس صدقہ کی نورانی دیوار میری حفاظت کررہی تھی۔ کچھ دیر کے بعد اس کا جسم ہاتھی بلکہ اونٹ سے بھی اونچا ہوگیا‘ میرامحتاط اندازا ہے کہ اس کا جسم تقریبا500فٹ تک پھیلا ہوا اور 30۔40فٹ لمبا ہو گا۔ اس کی آوازیں بہت بھیانک‘ خوفناک اور تیز تھیں۔ مجبوراً مجھے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسنا پڑیں۔
آخر اس نے کہنا شروع کردیا مجھ سے بچنا ہے تو حزب البحر پڑھنا چھوڑ دو‘ میں نے پڑھنا نہ چھوڑا‘ میںتوجہ‘ دھیان سے حزب البحر پڑھ رہا تھا‘ ادھر میں توجہ دھیان بڑھاتا‘ ادھر اس کا چنگھاڑنا‘ ڈرانا اورآوازیں اور زیادہ بڑھ جاتیں۔ بہت دیر یہ سلسلہ چلتا رہا‘ یکایک منظر بدل گیا‘ میں نے دیکھا کہ دور سے میری مرحومہ والدہ محترمہ رحمتہ اللہ علیہ بہت خوبصورت لباس میں تشریف لارہی ہیں اور ان کے ہاتھ میں بجلی نما چھڑی ہے‘ وہ جس چیز کو مارتی ہیں وہ چیز خاکستر ہوجاتی ہے‘ ان کی نورانی شکل اوران کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر مجھے ان کی محبت میں بیتے وہ لمحے ایسے یاد آئے کہ میں پل میں ان کی محبت میں ایسا کھو گیا کہ بس انتظار ہی کررہا تھا کہ میں اٹھ جاوں اور جاکر ان کے قدموں میں لپٹ جاوں یا وہ میرے قریب آجائیں۔ انہوں نے اس خونخوار بلا کو دور سے ہی چھڑی ماری ‘وہ خونخوار بلا وہیں راکھ ہوگئی‘ میری بے تابی اور بڑھ گئی اور اندر اندر ہی دل میں خیال جاں گزیں ہونے لگا کہ ماں کی ذات کتنی محبت کرنے والی ہے ان حالات میں بھی وہ میری محبت اور مجھے نہیں بھولیں۔
اسی اثناءمیں والدہ محترمہ میرے قریب آئیں‘میرے جی میں تھا کہ اٹھ کر ان کے قدموں سے لپٹ جاوں لیکن دوبارہ پھر وہی آواز میرے کانوں میں گونجی خیال کرنا یہ فریب کا نیا رنگ ہے‘ حرکت نہیں کرنی‘ توجہ نہیں کرنی‘ بس یہی فقرے میرے کانوں میں گونجے اور میں اس فریب کی تہہ تک پہنچ گیا‘ میرے آنسو نکل آئے‘ اے کاش!یہ حقیقت ہوتی‘ کہانی نہ ہوتی‘ میں اپنی والدہ مرحومہ رحمتہ اللہ علیہ کے قدموں سے لپٹ جاتا۔ میں توجہ سے عمل کررہا تھا۔ والدہ مرحومہ کے روپ میں وہ بلا بہت دیر تک مسکراتی مجھے دیکھتی رہی‘ 100 فیصد والدہ مرحومہ کی آواز میںوہ خونخواربلامجھے بلاتی اور پکارتی رہی‘ جب میں نے بالکل توجہ نہ کی تو ایک دم دھماکہ ہوا‘ زمین پھٹی اور وہ چیز اس کے اندر گم ہوگئی‘ دور ایک آواز جسے صدائے بازگشت کہتے ہیں‘ مجھے سنائی دی کہ تم ہمارے وار سے بچ گئے‘ ورنہ آج ہم تمہیں وہ سبق سکھاتے کہ تم یاد رکھتے۔ چراغ میرے سامنے مسلسل جل رہا تھا‘اس کی رسی جل جاتی تو میں اونچی کردیتا‘ تیل جل رہا تھا‘ میں مسلسل عمل پڑھ رہا تھا۔عمل سے روکنے کیلئے انوکھی کہانیاں اور ڈراونے خوفناک مناظرمسلسل سامنے لائے جارہے تھے۔40 ویں دن اچانک میں نے محسوس کیا کہ مجھے چراغ کا شعلہ نظر نہیں آرہا بلکہ صرف بتی‘ تیل اور برتن نظر آرہے ہیں۔ میں سمجھا کہ چراغ بجھ گیا ہے۔ میں بہت پریشان ہوا حصار سے ہٹ نہیں سکتا تھا۔ آخر کیا کرتا کہ اسی اثناءمیں صحابی بابا‘ حاجی صاحب اور ان کا بیٹا عبدالسلام اور دوسرے بڑے بڑے طاقتور جنات اور لاکھوں کروڑوں ان کے غلام‘ خدام پھولوں کے ہار لیے ہوئے میرے پاس تشریف لائے‘ چونکہ موسم سرماتھا‘ دن ڈوبنے کے قریب تھا‘ مجھے صحابی بابا نے گلے سے لگایا‘ مبارکباد دی۔ خوش ہوئے کہ عمل مکمل ہوگیا‘ اس عمل کے 313 موکلات میرے تابع ہوگئے ہر موکل کے تابع 3 کروڑ تین سو 13 لاکھ جنات ہیں۔ فرمایا! اس عمل کی تاثیرزندگی بھر باقی رکھنے کیلئے تمہارے لیے گناہ کبیرہ‘ رزق حرام‘ جھوٹ سے پرہیز‘ نگاہوں کو پاک اور تنہائیوں کو پاک رکھنا ضروری ہے۔

Majzobi
15-05-2012, 03:25 PM
پھر انہوں نے حزب البحر سے استفادہ کرنے اور اس کے کمالات کہ جن کا میں 100 فیصد عامل بن چکا تھا‘ اس کے عملیات و وظائف مجھے بتائے۔ اگر کسی شخص کی پھانسی کا فیصلہ ہوگیا ہو اور وہ فیصلہ ناحق ہو تو وہ شخص خود حزب البحر یا اس کی طرف سے کوئی دوسرا شخص ہر نماز کے بعد 41 دفعہ پڑھ لے چند ہی دنوں میں وہ رہائی پالے گا۔
اسی طرح اگر کسی کی شادی میں رکاوٹ ہو اور رکاوٹ کامسئلہ ناممکن حدتک پہنچ چکا ہو۔ وہ ہرنماز کے بعدانتہائی یقین اور توجہ کیساتھ41 یا 91 دن تک حزب البحرپڑھیں۔شادی کا ناممکن مسئلہ چند دنوں میں ممکن ہوجائےگا۔
ایک شخص میرے پاس آیااتنا رویا کہ اس کی ہچکی بند گئی۔وہ شخص پہلے بہت مالدار تھا۔ دن بدلے‘ سب کچھ لٹ گیا‘ ہر چیز برباد ہوگئی۔ کچھ باقی نہ بچا۔ میں نے انہیں تسلی دیتے ہوئے یہی عمل ہر نماز کے بعد پڑھنے کیلئے بتایا‘چند دنوں میں ان کا مسئلہ حل ہوگیا۔
ایک شخص کا نسل در نسل بہت بڑا دفینہ تھا۔انہیں علامات محسوس ہورہی تھیں کہ ان کا خزانہ ہے انہیں اپنی علامات کی مزید تائید ایک بہت بڑے صاحب کشف سے بھی ہوئی۔صاحب کشف بزرگ نے انہیں صدیوں سے دفن اس خزانہ کی مقدار بتائی چونکہ ہر خزانے پر جنات سانپ کی شکل میں قابض ہوتے ہیں اور کہاوت مشہور ہے وہ ایسے ہے جیسے خزانے پر سانپ بیٹھا ہوا ہے۔
وہ صاحب میرے پاس آئے۔ میں نے انہیں یہی عمل دیا اور ساتھ کچھ جنات کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ان جنات سے ان کا حق دلا دے ورنہ خزانہ بھی اکثر بربادی اور پریشانی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے یہ عمل 123 دن کیا اور انہیں خزانہ مل گیا۔ آپ زندگی کی کسی مشکل میں مبتلا ہیں ایسی مشکل جس کے بارے میں آپ نے یا لوگوں نے سوچ لیا کہ اس کا حل صرف موت ہی ہے۔ مایوس نہ ہوں حزب البحر اسی ترتیب سے پڑھنا شروع کردیں آپ خود محسوس کریں گے کہ مشکلات آپ سے ایسے دور ہوں گی جیسے آٹے میں سے بال، میری طرف سے سب کو حزب البحر کی عام اجازت ہے۔ مجھے تو اس کے تجربات میں یہاں تک کمالات دیکھنے کو ملے ہیں حج کو ترسنے والے سینکڑوں ایسے خواتین وحضرات جن کیلئے حج تو کیا حج کاخواب بھی ایک خواب تھا کو بار بار حج نصیب ہوا اور اولاد چاہنے والے لاتعداد مایوس ازدواجی جوڑوں کو اولاد نرینہ کی دولت نصیب ہوئی، مفلس، تنگ دست، نادار امیر بن گئے۔ حالات کے پسے ہوئے خوشحال ہوگئے۔ ذلت میں ڈوبے ہوئے مکرم و معظم بن گئے۔ امتحان میں کامیابی والے اعلیٰ اعلیٰ پوزیشنیں لے گئے۔ مقدمات میں ہارنے والے جیتنے والے بن گئے۔ بیماریوں میں مبتلا مایوس مریض صحت مند اور صحت یاب ہوگئے ۔بے حیثیت باحیثیت ہوگئے۔ صاحب ذلت صاحب عزت بن گئے۔ بے مراد بامراد بن گئے۔ میاں یا بیوی روٹھی ہوئی ہو‘ جلے ہوئے گھر‘ خوشگوار ازدواجی زندگی سے مزین وآراستہ ہوگئے۔ نافرمان اولاد فرمانبردار بن گئی۔ عادات بد میں مبتلاافراد نیک بن گئے۔ نیکی لینے والا، تسبیح چاہنے والا کبھی اس نے حزب البحر اس ترتیب سے پڑھی ہو اور نفع نہ ہوا ہو‘ الغرض ! مجھے اپنے روحانی سفرمیںکوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا کہ جس نے مکمل توجہ اور دھیان اور 100 فیصد یقین سے یہ عمل کیا ہو اور اس کواس کے حیران کر دینے والے مشاہدات اور لاجواب فائدے حاصل نہ ہوئے ہوں ۔ قارئین! آپ بھی کرسکتے ہیں اور پاسکتے ہیں۔
قارئین!میں نے ایڈیٹر عبقری سے وعدہ لیا ہوا ہے کہ میری کسی سے ملاقات نہ کروائی جائے اور نہ ہی کسی کو میرا ایڈریس دیا جائے۔ بہت سے لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ شاید میں امیر لوگوں سے ملاقات کرتا ہوں اور غریبوں کو نظرانداز کردیتا ہوں۔ ایسا ہرگز نہیں‘ ہر شخص میرے لیے قابل احترام اور ہر دکھی میرے سر کا تاج ہے۔ کوشش کرتا ہوں اپنے زندگی کے تجربات میں سے ایسی چیزیں عبقری کے قارئین کو بتاوں جو امیر‘ غریب‘ بادشاہ اور فقیر سب کیلئے یکساں مفید ہوں اور ایڈیٹر عبقری کے ذریعے لاکھوں لوگوں کے شکرئیے مجھ تک پہنچے ہیں کہ جس جس نے بھی محنت کرکے عمل کیا اسے منزل ملی ہے۔ پریشانی دور ہوئی‘ مسائل اور مشکلات حل ہوئے ہیں۔
پچھلے دنوں میں جمعہ کی نماز پڑھنے مسجد گیا‘ ایک صاحب نے مجھے پہچان لیا‘ بہت اصرار کیا‘ آخر وہ صاحب مجھے اپنے گھر لے آئے‘ کہنے لگے!مجھے جنات قابو کرنے کا بہت شوق ہے اس کیلئے میں بے شمار عمل کرچکا ہوں‘ میرا کوئی عمل بھی کامیاب نہیں ہوا‘ میں نے انہیں اپنے نانا کا ایک واقعہ سنایا کہ جن کے ذریعے میں نے روحانیت‘ عملیات‘ لاہوت‘ ملکوت‘ جبروت‘ ناسوت اور پراسرار علم اور پراسرار قوتوں تک رسائی پانے میں بہت مدد اور رہبری ملی۔ ہاں! مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ صحابی بابا‘ حاجی صاحب اور دیگر جنات جو بچپن سے میری ہر قدم پر رہبری اور رہنمائی کررہے ہیں اور اب میں جو کچھ بھی ہوں محض اللہ جل شانہ کے فضل اور اولیاءجنات کے طفیل ہوں وہاں میں اپنے نانا مرحوم کی بے لوث خدمات کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔ میرے نانا فرمانے لگے۔ 1929ءکی سرد رات تھی۔ مجھے ایک عامل نے جنات تابع کرنے کا ایک مضبوط عمل دیا۔ اسے مسجد میں بیٹھ کر نماز عشاءکے بعد جب سب نمازی چلے جائیں اور مسجد خالی ہوجائے‘ کوئی دیکھنے والا نہ ہو اور نہ ہی کوئی جاننے والا اس وقت کرنا تھا۔ میں نے سفید کپڑے پہن کر خوشبو لگا کر وہ عمل پڑھنا شروع کردیا۔ عمل اتنا جلالی تھا کہ کچھ دیر پہلے مجھے سخت سردی محسوس ہونا شروع ہورہی تھی لیکن چند لمحوں کے بعد میں پسینے میں شرابور ہوگیا اور مجھے گرمی لگنا شروع ہوگئی میں عمل پڑھتا رہا۔ تھوڑی دیر میں مسجد کی صف لپٹنا شروع ہوئی اور کسی غیبی طاقت نے مجھے بھی مسجد کی صف میں لپیٹ کر مسجد کے کونے میں کھڑا کردیا۔ لپیٹا اتنا سخت تھا کہ میں نکلنا چاہتا بھی تو نہیں نکل سکتا تھا۔ آخر بہت دیر کی سخت کوشش کے بعد میں صف سے نکلا۔ میں صف بچھا کر پھر پڑھنے بیٹھ گیا کیونکہ اس وقت مجھ پر عمل کا جنون سوار تھا ۔

Majzobi
15-05-2012, 03:26 PM
مجھے اس وقت ہلکی سی خوف کی لہر محسوس ہوئی لیکن میں خوفزدہ نہ ہوا اور پھر پہلے سے بھی زیادہ طاقت اور یقین کی قوت سے پڑھنے بیٹھ گیا۔
دری پھر لپٹی‘ پھر کسی طاقت نے مجھے پہلے سے بھی زیادہ سخت انداز میں لپیٹ کر کمرے کے کونے میںکھڑا کردیا‘ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کسی نے مجھے رسے کے ساتھ لپیٹ کر باندھ دیا ہو۔
بہت گھنٹوں کی کوشش کے بعد صف سے نکلنے میں خلاصی پائی۔ چونکہ عشق پاگل ہوتا ہے لہٰذا پھر پڑھنے بیٹھ گیا۔ پھر تیسری بار ایسے ہوا۔ اسی کشمکش میں سردیوں کی لمبی رات گزر گئی۔ فجر کی آذانیں ہونے لگیں فوراً مسجد کی صف کو سیدھا کیا موذن آیا اسے احساس تک نہ ہونے دیا۔ دوسری رات پھر مسجد میں پہنچ گیا۔ اب صورتحال یہ ہوئی جب میں پڑھنے کیلئے بیٹھا تو سخت آندھی چلی مسجد کے دروازے کھڑکیاں بند تھیں دھماکے سے سب کھل گئے اور مسجد کی چٹائیاں اور دریاں سب میرے اوپر ڈھیر ہوگئیں اور میں ان کے نیچے دب گیا اتنا دبا کہ میرا سانس گھٹنے لگا۔ بہت کوشش اور محنت کے بعد چونکہ جوانی کی طاقت بھی تھی ان دریوں کو ہٹایا کھڑیاں دروازے بند کیے اور پھر پڑھنے بیٹھ گیا تھوڑی دیر کے بعد یکایک سخت آندھیوں کا بگولہ آیا پھر وہی ہوا جو پہلے ہوا تھا اس دفعہ تو مسجد کا منبر بھی اور قرآن پاک پڑھنے کیلئے رکھی چوکیاں بھی سب کچھ میرے اوپر ڈھیر ہوگیا اب میرے ساتھ یہ ہوا کہ میں نکلنا چاہتا تھا لیکن نکل نہیں پا رہا تھا۔
محسوس ہوا کوئی طاقت مجھے جکڑے ہوئے ہے جو میری مزاحمت کا توڑ کررہی ہے حتیٰ کہ میری طاقت جواب دے گئی تھک ہار کر مایوس ہوکر بیٹھ گیا اب کیا کرسکتا ہوں اچانک خیال آیا آیت الکرسی پڑھوں بہت دیر تک آیت الکرسی پڑھتا رہا پھر وہ سامان ہٹایا تو آہستہ آہستہ ہٹتا گیا یوں ساری رات پھر گزر گئی مسجد کی دریاں چٹائیاں جائے نماز منبر ہر چیز کو سلیقہ دیا۔ مسجد کی صفائی کی نمازیوں کے آنے سے پہلے اسے ترتیب دیا۔ تیسری رات پھر اسی عمل میں بیٹھ گیا۔ اب ایسا ہوا کہ کالے سیاہ مکوڑے میرے اردگرد جمع ہونا شروع ہوگئے وہ میرے سر سے پاوں تک چل پھر رہے تھے کاٹتے تو نہ تھے لیکن میں کوئی مکوڑا سر سے ہٹاتا تو بازو پر چڑھ جاتا بازو سے ہٹاتا تو کان پر ایک جگہ چھوڑتا تودوسرے وہاں پہنچ جاتے سینکڑوں ہزاروں کے قریب یہ مخلوق مسلسل میرا پیچھا کررہی تھی۔کوئی پل میں چین سے نہیں بیٹھ سکتا تھا۔
ان مکوڑوں سے نجات ملتی تو یہ پڑھائی کرتا۔ کوئی سات آٹھ جگہیں تبدیل کیں چند لمحوں کیلئے پڑھنے بیٹھتا مکوڑے وہیں پہنچ جاتے یہ تیسری رات بھی یونہی اسی کشمکش اور پریشانی میں گزر گئی۔ دوسری مساجدسے فجر کی اذانوں کی آوازیں آنا شروع ہوئیں تو فوراً سب مکوڑے یکایک غائب ہوگئے ایک پیوند لگے دراز قد سرسفید‘ ڈاڑھی سفید‘ لباس سفید‘ سر پر سفید پگڑی پہنے بزرگ نمودار ہوئے کہنے لگے بیٹا تو نے تین راتوں سے ہمیں پریشان کیا ہے۔ بیٹا ہمیں قابو نہ کر یہی وقت اپنے نفس کو قابو کرنے میں لگا‘ اللہ کی اطاعت کر‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اختیار کر۔ اللہ کو راضی کرلے ہم تیرے بے دام غلام بن جائیں گے ورنہ اگر ہم کسی عمل کے ذریعے تابع ہوں گے تو یاد رکھ قیدی قیدی ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت آزاد ہونے کے سو جتن کرتا ہے تو جب بھی موقع ملتا ہے وہ اپنے آقا کا نقصان کرکے ہی آزاد ہوتا ہے اور پھر اس کی نسلوں سے انتقام لیتا ہے۔ بیٹا میری عمر 1950 سال ہے میں زندگی بھر یہی سبق سب کو دیتاآیا ہوں اورتمہیں بھی دے رہا ہوں اور وہ بابا جی غائب ہوگئے۔ میرے نانا مرحوم فرمانے لگے اس دن کے بعد میں نے کسی بھی عمل سے گریز کیا۔
قارئین! میں علامہ لاہوتی پراسراری آپ سے یہی درخواست کروں گا کہ آپ بھی ان خیالات کو چھوڑ دیں کیونکہ میرے پاس بے شمار پیغامات محترم حکیم صاحب کے ذریعے جنات کو قابو کرنے کے ملتے ہیں۔ میری بات اور ہے میں تو پیدائشی طور پر جنات کا منظور نظر تھا اوراب بھی ان کی محبتیں میرے اوپر بیکراں ہے بلکہ میری اوقات سے بڑھ کر۔
کچھ دن پہلے بارش کی رات میرے ساتھ ایک انوکھا واقعہ پیش آیا ہوا یہ کہ میں اپنے معمولات پورے کرکے سورہا تھا اور میرے معمولات میں درودشریف 1100 بار‘ استغفار 1100 بار‘ تیسرا کلمہ 1100 بار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اس تعداد کو آسان بنادیا ہے اور بہت سہولت سے یہ تعداد پوری ہوجاتی ہے۔ میں یہ عمل کررہا تھا جب میں تیسرے کلمے کی تعداد پر پہنچا تو میں نے محسوس کیا کہ آج کچھ مہمان میرے پاس ضرور آئیں گے بس ایسے ہی دل میں خیال پیدا ہوا جب میں وظائف اور مراقبہ سے فارغ ہوا تو اچانک حاجی صاحب‘ صحابی بابا‘ حاجی صاحب کے پانچ بیٹے‘ باورچی جن اور چند درویش جن مکلی ٹھٹھہ کے بھی ساتھ تھے یہ وہ جنات تھے جو واقعی طاقتور جنات ہیں کیونکہ میری نگرانی مکلی میں جنات کی بڑی جیل پر ہے اور وہ میرے ماتحت کام کرتے ہیں۔ میں نے شکوہ کیا کہ کئی راتوں کا تھکا ہوا ہوں مجھے سونا تھا۔ آپ اچانک کیسے آگئے۔
کہنے لگے بس ایک مشکل آپ کی طرف لائی ہے دراصل ایک سرکش جن جیل سے بھاگ گیا ہے کہیں خبر نہیں کہ آخر وہ کہاں ہے کس جگہ ہے‘ سراغ لگانے کی بہت کوشش کی ہے لیکن جن قابو میں نہیں آیا۔ کئی دن سے دن رات ایک کردیا ہے یہ ساری بات حاجی صاحب نے فرمائی۔ پھر فرمانے لگے یہ جیل کے نگران ندامت اور پریشانی کے عالم میں میرے پاس آئے کہہ رہے ہیں کہ ہم علامہ صاحب کو کیا منہ دکھائیں کیونکہ انہوں نے تو یہ سب کچھ ہمارے ذمے لگایا تھا انہوں نے اپنے طور پر کوشش میں کمی تو نہیں کی۔
لیکن پھر بھی ہماری کمی ہے کہ وہ جن ہم سے بھاگ گیا ہے میں نے جب یہ بات سنی ساری تکان نیند کاخمار اور آرام کی طلب کا جذبہ یکایک ختم ہوگیا۔
بہت پریشانی ہوئی اب اس کا کیا کیا جائے میں مراقب ہوا اور حضرت سلیمان ؑ کا مراقبہ کیا جو وہ اکثر کرتے تھے اور جس کی وجہ سے جنات ان کے احاطہ نظر سے باہر نہیں ہوسکتے تھے۔

Majzobi
15-05-2012, 03:27 PM
بہت دیر مراقبے کے بعد اللہ کے دئیے ہوئے علم میں سے روحانی علم نے مجھے بتایا کہ وہ سرکش جن مکلی کی جیل سے نکل کرسیدھا سمندرکی طرف گیا اور سمندر کی اندھیری اور گہری تہوں میں بیٹھا ہوا ہے اب اس کو تلاش کیسے کیا جائے اس کیلئے میں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کا وہ ورد جو انہوں نے ایک دفعہ مجھے حالت مراقبے میں بتایا تھا اور ویسے بھی اگر کوئی چیز گم ہوگئی ہو اس کو تلاش کرنے میں تیربہدف ہے میں نے وہ اسم جو قرآن کریم میں بھی ہے یعنی فِی سَمِّ الخِیَاط پڑھا لیکن لاہوتی دنیا میں جاکر پڑھا ویسے عام شخص وہ اسی عالم میں پڑھے تو بھی نفع ہوگا سب کو اجازت ہے۔ بس اسی کو بکثرت کھلا پڑھنا ہے۔
خیر میں نے وہ اسم لاہوتی دنیا میں بکثرت پڑھا اور خوب پڑھا کہ میرا جسم پسینہ پسینہ ہوگیا کیونکہ مجھے وہ جن مطلوب تھا اس کا جرم یہ تھا کہ وہ لوگوں کے گھروں سے چوریاں کرتا‘ رقم‘ زیور سونا چاندی ہیرے جواہرات اٹھاتا تھا وہ عورتوں کے ساتھ زنا کرتا تھا حالانکہ اس کا والد میرا بہت عرصے کا جاننے والا ہے جوکہ نہایت شریف آدمی ہے۔ کپڑے کاکام کرتا ہے۔ ویسے آخری عمر میں میں نے اس کے دادا کو بھی دیکھا جو کہ ساڑھے 11سوسال کی عمر میں فوت ہوئے تھے پہلے بھی کئی بار اس نے چوری کی لیکن طرفین کے درگزر سے ہمیشہ اس کو چھوڑ دیا اور معاف کردیا گیا اب اس نے پھر ایک بہت بڑا گناہ اور چوری کی پھر ہمارے نگران طاقت ور جنات کے ہاتھوں پکڑا گیا اس کو بہت سخت جیل میں ڈالا۔ سب حیران ہیں کہ آخر یہ چھوٹ کیسے گیا؟ بہرحال جب میں نے فِی سَمِّ الخِیَاط کو لاہوتی عالم میں وجدان سے پڑھا اور خوب پڑھا تو یکایک اس آیت کے شمی موکلات سامنے آئے نہایت خطرناک اور بہت ڈراونے چہرے تھے ہر موکل کا قد ڈیڑھ سو فٹ سے کم نہ تھا جسم 50 فٹ کے پھیلاو سے زیادہ تھا۔ ایک ہاتھ کی انگلی ایک میٹر سے زیادہ تھی جسم سے سخت قسم کی خاص بو نکل رہی تھی ان کے جسم سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے ان کی آگ اتنی سخت تھی کہ قریب کی ہرچیز جل رہی تھی چونکہ میں ہر وقت حصار سلیمانی میں رہتا ہوں اس لیے مجھ پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔
وہ سب یک زبان بولے کہ ہمارے لائق کیا خدمت ہے ہم حاضر ہیں آپ نے ہمیں لاہوت سے طلب کیا ہم آپ کے غلام ہیں ہمیں آپ کی خدمت کیلئے بھیجا گیا ہے میں نے انہیں کہا کہ کڑکیل موتھن نام کا جن جیل سے نکل گیا ہے ہمارے لاہوتی پراسراری علم کے مطابق وہ سمندر کی تاریک تہہ میں چھپا ہواہے اسے وہاں سے کوئی پکڑ نہیں سکتا اس لیے ہمیں آپ کو تکلیف دینی پڑی۔ لہٰذا اسے آپ گرفتار کرکے اور سلیمانی زنجیر میں باندھ کر لے آئیں۔ ہمارے بول پورے ہوتے ہی وہ یکایک غائب ہوگئے اب میں نے صحابی جن سے عرض کیا کہ آپ بتائیں وہ اس طرح غائب کیوں ہوگیا اور نکل کیسے گیا اس جیل کی تاریخ میں آج تک ایسا واقعہ ہرگز نہیں ہوا‘ آخر یہ واقعہ کیسے ہوگیا۔
صحابی بابا جن فرمانے لگے میرے علم کے مطابق اسے کسی نے کوئی ورد بتایا ہے وہ اس ورد کی وجہ سے اس جیل سے نکل پایا ہے ورنہ آج تک یہاں سے کسی کے نکلنے کی جرأت نہیں ہوئی میں نے صحابی بابا سے عرض کیا کہ آپ اپنے علم کی طاقت سے معلوم کریں کہ اس نے کونسا ورد کیا ہے جبکہ وہ غیرمسلم ہے کوئی قرآنی اور روحانی ورد کیسے کرسکتا ہے؟ صحابی بابا مراقبے میں چلے گئے میں نے سب دوسرے جنات کے چہرے دیکھے بہت پریشان‘ غمزدہ‘ ندامت سے اٹے ہوئے تھے میں نے نگران جنات سے سختی کی کہ آخر آپ کے نگران جیل کے محافظ اور لاکھوں کا عملہ کہاں گیا تھا کیا سب سورہے تھے؟ آخر ایسا کیوں ہوا؟ سب خاموش جیسے کسی کے جسم میں جان تک نہیں۔ کوئی جواب نہیں دے رہا تھا آخر کیا ہوا‘ کیسے ہوا‘ بس ہوگیا اور جو ہوا برا ہوا۔ تھوڑی دیر کے بعد صحابی بابا نے سر اٹھایا اور فرمایا کہ اس نے جیل سے رہائی کیلئے قرآن کی آیت کا سہارا لیا ہے کہ جیل میں موجود ایک مسلمان جن محافظ نے اسے بتایا ہے۔ وہ آیت (وَلَقَدفَتَنَّا سُلَیمٰنَ وَاَلقَینَا عَلٰی کُرسِیِّہ جَسَدًا ثُمَّ اَنَاب) یہ آیت اس نے دن رات پڑھی ہے حتیٰ کہ اسے پڑھنا نہیں آتا تھا اس مسلمان محافظ نے کئی دن لگا کر اسے یاد کرائی ہے۔ اس کے بدلے میں اس نے اسے بہت سا مال دیا ہے اور وہ مال اس محافظ نے فلاح بوڑھے برگد کے درخت کے تنے کے اندر چھپا دیا ہے۔ اور اب بھی وہ یہی آیت سمندر کی تہہ میں بیٹھا پڑھ رہا ہے کیونکہ اسے محسوس ہوگیا ہے کہ اسے کوئی طاقت ورطاقتیں پکڑنے کیلئے آرہی ہیں لیکن بچائو کیلئے وہ یہی پڑھ رہا ہے۔
یہ بات سنتے ہی میں حیران ہوگیا کیونکہ اس آیت کے کرشمات کا پہلے بھی بے شمار دفعہ تجربہ ہوچکا تھا اور لاتعداد بے گناہ قیدی انسان رہا ہوگئے تھے کہ خود پڑھایا اس کی طرف سے ایک یا کئی آدمیوں نے پڑھا اور خوب کھلا پڑھا اور بہت کثرت سے پڑھا تو قیدی کی غیب سے رہائی ہوگئی۔ لیکن کسی غیرمسلم نے یہ آیت پڑھی ہو اور اس کی قید سے رہائی ہوگئی ہو پہلا انوکھاتجربہ ہے۔
بہرحال کچھ ہی دیر کے بعد وہ لاہوتی فِی سَمِّ الخِیَاط کے موکلات اس سرکش قیدی کو پکڑ لائے‘ کہنے لگے ہمیں اس کے پکڑنے میں دیر لگی ہے وہ اس لیے کہ یہ کوئی وظیفہ پڑھتا تھا اور ہماری نظروں سے اوجھل ہوجاتا تھا‘ ہم پریشان ہوئے ہم پھر اس کے قریب ہوئے اور پھر وظیفہ پڑھے یہ پھر ہماری نظروں سے اوجھل ہوجائے۔ آخر ہم نے لاہوتی دنیا میں اپنے آقا سے رجوع کیا تو انہوں نے اس کا حل بتایا کہ آپ طاقت سے اسم ذات اللہ پڑھیں۔ واقعی جب ہم نے اسم ذات پڑھنا شروع کیا تو اس کی زبان بند ہوگئی اور ہم اسے گرفتار کرکے لے آئے۔
وہ سرکش جن نہایت ذلت میں ڈوبا ہوا سخت پریشان اور اسی پریشانی میں اس کے جسم سے سمندر کی تہہ کی کیچڑ جو کہ اس کے جسم میں لگی ہوئی تھی اور اس سے سخت بدبو آرہی تھی۔

Majzobi
15-05-2012, 03:28 PM
میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں یہ آیت کس نے بتائی لیکن وہ خاموش تھا جب زیادہ اصرار پر بھی اس نے نہ بتایا تو پھر جیل کے نگرانوں نے محافظوں کو حکم دیا تو انہوں نے اس پر تشدد کیا ایسا سخت تشدد کہ اگر وہ لاہوتی کوڑا جو اس جن پر برستا تھا کسی ایک انسان نہیں اگر دس انسانوں پر اکٹھا برس جائے تو وہ قیمہ کی طرح پس جائیں‘ کچھ دیر کے تشدد کے بعد وہ بولا اور وہی بولا جو پہلے صحابی بابا نے بتایا تھا۔ اب اس محافظ مسلمان جن کو پکڑوایا گیا تو اس نے انکشاف کیا کہ دراصل مجھے ایک عامل نے قابو کیا ہوا ہے اور وہ مجھ سے رقم اور مال منگواتا رہتا ہے میں مجبور ہوں کہ میری آمدنی اتنی نہیں کہ میں کہاں سے لے آئوں آخر ایک دن اس نے مجھ سے بڑی رقم کا مطالبہ کیا میں وہ رقم نہ دے سکا تو اس نے مجھے تکلیف دی۔ میری اولاد کو تکلیف دی‘ مجبوراً اس غیرمسلم جن جو کہ عرصہ سے کہہ رہا تھا کہ سنا ہے کہ قرآن میں سب کچھ ہے مجھے بھی کچھ بتائیں۔ 31 سال جیل میں ہوگئے ہیں اس نے مجھے بڑے مال اور دولت کا طمع دیا میں مجبور تھا میں نے اسے یہی آیت پڑھنے کیلئے دی اسے آتی نہیں تھی۔ میں نے اسے یاد کرائی کئی دن کی کوشش کے بعد اس نے یاد کرلی پھر اس نے مجھے دولت دی جو میں نے برگد کے بوڑھے درخت میں چھپا دی ہے اور چھٹی کے دن اس عامل کو وہ دولت دینے جانا ہے حالانکہ خود میرے گھر میں غربت ہے لیکن میں ایسا کرنے پرمجبور ہوں جب اس کی یہ بات سنی جو کہ میرے لاہوتی علم کے مطابق سوفیصد درست تھی تو اس کے حال کو میں نے حاجی صاحب اور صحابی بابا کی خدمت میں پیش کیا اور ان سے عرض کیا کہ میں یہ کیس آپ کے سپرد کرتا ہوں جو سزا یا معافی آپ اس مسلمان محافظ جن کو دینا چاہتے ہیں دیں میری طرف سے ہرطرح کی اجازت ہے۔
تھوڑی دیر مشورہ کرنے کے بعد حاجی صاحب کہنے لگے اگر آپ قبول کریں تو میرا مشورہ ہے اصل مجرم وہ عامل ہے جو اس محافظ جن کو مجبور کرتا ہے۔ اس عامل کی خبر لینی چاہیے فیصلہ درست تھا طے ہوا کہ ا س محافظ جن کو اس عامل کے چنگل سے چھڑایا جائے اور اس عامل کو سخت سبق بھی دیا جائے کہ کسی مجبور کو مجبور نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی مدد کی جاتی ہے جبکہ اس عامل نے تو اس محافظ عامل کو مجبور کیا اور چوری ڈاکے اور ناجائز کاموں پر مجبور کیا۔اب اس کافر جن کو واپس کڑی جیل میں بھجوایا گیا اور حکم دیا کہ اس کی سزا سخت کردی جائے اور اس سے اس آیت کی تاثیر واپس لے لی جائے بلکہ محافظ جنات کو یَاوَکِیلُ کا ورد بتایا جائے کہ کوئی سرکش جن نکل نہ سکے۔
مجھے احساس ہوا کہ قرآن کیسی عجیب نعمت ہے اگر گنہگار اورخواہ وہ کافر ہو‘ پڑھے تو بھی اس میں شفاءموجود ہے اور کامل شفاءموجود ہے۔ آج ہم مسلمان قرآن کی نعمت سے محروم ہیں ایک نہ پڑھنا‘ دوسرا یقین سے نہ پڑھنا‘ اس کافر جن نے ایک تو زیادہ پڑھا اور بہت زیادہ پڑھا دوسرا یقین سے پڑھا تو اس کی رہائی ہوگئی۔ ہم سے کوئی بھی شخص وہ نفس اور شیطان کی مکاری ‘عیاری‘ مکروفریب سے رہائی چاہتا ہو گناہوں کی زندگی سے نجات چاہتا ہو یا کسی جیل کا قیدی ہو تو وہ بھی اگر یہ پڑھے گا تو رہائی ہوجائے گی میری طرف سے سب کو اجازت ہے بس شرط یقین‘ اعتماد اور کثرت سے پڑھنا ہے۔ دنوں کی قید نہیں۔
ایک بار میں نے باورچی جن کا تذکرہ کیا تھا جس نے عبدالسلام جن کی شادی میں بہت لذیز کھانے کھلائے اور لاجواب کباب اور بھونے ہوئے پرندے کھلائے۔ ابھی چند دن پہلے میں نے ایک غریب جن کی بیٹی کی شادی میں شرکت کی وہ اکثر آتا اور عرض کرتا کہ میری بیٹی کی شادی ہے۔ غریب ہوں‘ آپ نے ضرور آنا ہے۔ پھر خود ہی کہتا کہ مجھے علم ہے آپ شادیوں میں نہیں جاتے لیکن میری بیٹی کی شادی میں آپ نے ضرور شرکت کرنی ہے۔
ایک دن اس کے اصرار پر میں وعدہ کر بیٹھا پچھلے ہفتے وہ غریب جن جس کا نام سہراب ہے آیا کہنے لگا کہ بیٹی کا نکاح اگر آپ پڑھا دیں تو سعادت ہوگی اور شادی میں شرکت ضرور کریں۔ مقررہ وقت پر جنات کا لشکر مجھے لینے کیلئے آگیا ہم نے کوٹ ادو ضلع مظفرگڑھ کے قریب ایک صحرائی جنگل میں ان کی شادی میں جاکر اترے۔ایک گدھ نما کی طرح کا بڑا پرندہ تھا جس کی پشت پر ایک وسیع صحن تھا ہر طرف بالوں کی اٹھی ہوئی دیوار تھی جو باڑ کا کام دے رہی تھی تاکہ شاہی مہمان کا نقصان نہ ہو اور وہ گر نہ جائے۔ پرندے کے اردگرد اٹھے بالوں میں ایسے بال بھی تھے جو بلب قمقمے اور روشنیوں کاکام دے رہے تھے اور طرح طرح کی حیرت انگیز روشنیاں ان میں سے نکل رہی تھیں۔
ایک بڑی کرسی تھی اس کے ساتھ 70 کرسیاں اور پڑی ہوئی تھیں یہ دراصل شاہ جنات کی شاہی سواری ہے حاجی صاحب جن نے میرے لیے یہ سواری بھیجی تھی میرے گھرکی چھت پر یہ سواری آکر رکی میں نے وضو تازہ کیا دو نفل تحیة الوضو پڑھے خوشبو لگائی اور چھت پر چڑھ گیا تو جنات کا لشکر اس شاہی سواری کی حفاظت کیلئے ہر وقت ساتھ ہوتا ہے وہ موجود تھا انہوں نے مجھے سلام کیا پرندے کے پروں سے بنی ہوئی نرم گداز آرام دہ سیڑھیاں تھیں ان پر چڑھ کر میں چھوٹی کرسی پر بیٹھ گیا لیکن لشکر کے سپہ سالار نے عرض کیا کہ ہمیں حکم ہے کہ آپ کو شاہی کرسی پر بٹھا کر لایا جائے۔ میں شاہی کرسی جو خالص جواہر لعل موتی چاندی اور سونے کی بنی ہوئی تھی‘ پر بیٹھ گیا پرندہ گدھ نما اڑا اور پل بھر میں آسمان کی تاریکیوں میں گم ہوگیا بس مجھے ہلکی سی ہوا کی سرسراہٹ محسوس ہورہی تھی اور یہ احساس تھا کہ سفر طے ہورہا ہے پل بھر میں سواری صحرائی جنگل میں تھی ہر طرف جنات ہی جنات تھے۔
زرق برق لباس میں لیکن جو چیز خوشی کی تھی وہ یہ تھی کہ اس سارے مجمع میں دین دار اور باشرع جنات تھے اور سنت کے مطابق شادی سادگی سے ہورہی تھی کیونکہ میں نے شادی سے پہلے ان سے وعدہ لیا تھا۔ وعدے کے مطابق وہ سنت کے مطابق شادی کررہے تھے۔ شادی سے پہلے ہی میں نے باورچی بابا جن کو عرض کیا کہ آپ ہی وہاں کھانے کی نگرانی کریں میرے سامنے سادہ کھانا لایا گیا کیونکہ میں سادہ کھانے کو طبعاً پسند کرتا ہوں وہ سادہ کھانا لایا تو میں نے جن بابا کو عرض کیا کہ آپ میرے ساتھ بیٹھیں اور مجھ سے باتیں کریں۔ پچھلی صدیوں اور زندگی کے کچھ حالات سنائیں۔ انہوں نے ایک واقعہ سنایا جو واقعی حیرت انگیز تھا کہنے لگے محمد شاہ رنگیلا کا دور تھا۔ اس دور میں مراثیوں‘ بھانڈوں‘ طوائفوں اور شاعروں کی خوب سرپرستی کی جاتی تھی۔ دین کا نقش و نگار دھندلا پڑگیا۔ ہر طرف عیاشی‘ ظلمت اور اسراف کا عالم تھا‘اس دور میں میرے والد زندہ تھے‘ دادا زندہ تھے۔ میں بھرپور جوان تھا۔

Majzobi
15-05-2012, 03:28 PM
ایک انوکھا واقعہ ہوا جو میرے ذہن سے ابھی تک فراموش نہیں ہوا۔
باورچی بوڑھا جن ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اپنے ہاتھوں سے اپنی ڈھلکی ہوئی آنکھوں کی جلد کو اٹھا کر مجھے دیکھا اوربولا‘ ہوا یہ کہ شاہی خزانہ آہستہ آہستہ خالی ہوگیا اور سارا عیاشی میں ختم ہوگیا۔ حتیٰ کہ امور حکومت میں رکاوٹ پیدا ہوگئی چونکہ مداری‘ شعبدہ باز کالے جادو کے عامل ہر وقت اس کے اردگرد مقام اور انعام پاتے تھے۔ وہ قسمت اور ہاتھ کی لکیروں کے پرکھنے والوں کو خوب پسند کرتا‘ شکار سفرو حضر میں ان کو ساتھ رکھتا۔ اب ہر طرف فاقہ اور تنگدستی نے راج کیا تو اس نے ان مداریوں کو متوجہ کیا کہ اب کیا علاج کیا جائے ہر شخص نے اپنا اپنا راگ الاپا۔ ان میں ایک جادوگر نے کہا کہ اس کے شاہی قلعے اور نگری میں میرے علم کے مطابق بڑے بڑے خزانے دفن ہیں اگر آپ میرے مشورے سے چلیں اور میں آپ کو بتائوں تو آپ ان خزانوں کو نکال کر عوام کی فلاح اور بھلائی کیلئے استعمال کریں۔ یہ سنتے ہی شہنشاہ اچھل پڑا اور عمل درآمد کیلئے فوراً احکامات جاری کرنے لگا لیکن جادوگر کہنے لگا کہ پہلے مجھے اپنا عمل کرنے دیں کہ آخر کیسے اور کس طرح اس خزانے کو نکالا جائے۔ اس نے 40 دن کی مہلت مانگی کہ مجھے 40 دن کی مہلت دی جائے کہ میں اس مہلت میں خزانے تلاش کروں اورپھر مزدوروں کے ذریعے کھدائی کرائی جائے۔ باورچی جن کی آواز بھرا گئی اور کچھ پھول گئی حتیٰ کہ کھانسی شروع ہوگئی پانی کے چند گھونٹ پئے تو سانس بحال ہوئی۔
باورچی جن بولا اس نے اپنا چلہ شروع کیا اب وہ جگہ جگہ عمل کرتا کہ خزانہ کہاں ہے کہیں نہ ملا ایک جگہ جو کہ نہایت پرانا قلعہ تھا کچھ نشاندہی ہوئی لیکن اس پر جنات کا پہرا تھا کیونکہ ہر خزانے پر جنات اور طاقتور دیو کا پہرہ ہوتا ہے تاکہ کوئی انسان تو ویسے ہی نہ پہنچ سکے گا لیکن کوئی جن اس کو چرا کر نہ لے جائے ہر خزانہ اپنے مالک کے انتظار اور بطور امانت رکھا جاتا ہے کہ کتنی صدیوں یا سالوں کے بعد اس کے مالک تک اس امانت کو پہنچانا ہے۔ اس لیے ایک جناتی نظام ہے اس کے تحت بڑے بڑے طاقت ور جنات کی ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ اس خزانے کی بھرپور حفاظت کریں۔
اب خزانہ بہت بڑا تھا کہ 18 بادشاہوں کے خزانے بھی اس خزانے کا مقابلہ نہ کرسکتے تھے۔ جادوگر کے 28 دن ہوگئے باقی چند دن تھے ورنہ بادشاہ اسے قتل کرادیتا کیونکہ اس نے بادشاہ سے 40 دن کا وقت مانگا تھا اب جادوگر پریشان کہ اس کا حل کیسے ہو کہ بڑے طاقت ور جنات سے وہ مقابلہ نہ کرسکتا تھا۔ اسی پریشانی میں وہ ایک بڑے عامل سے ملا کہ مجھے یہ مشکل آپڑی ہے کہ کہیں سے اس کا حل نکالیں۔ اس عامل کے تابع جنات تھے۔ انہوں نے ان سب جنات کو بلایا ان جنات نے تین دن مانگے۔ تین دن کے بعد جنات نے افسوس سے کہا کہ ان بڑے دیو سے لڑنا ہمارے بس کا کام نہیں اور وہ خزانہ اس بادشاہ کے حصے کا نہیں ہے بلکہ وہ اس کے بعد کی چار نسلوں کے حصے کا ہے۔ ان کا حصہ ہم اس بادشاہ کو کیسے دے سکتے ہیں۔
ہاںآپ کو ایک راستہ بتاتے ہیں کہ کوہساروں کے دامن میں کمیل بستی کے ایک بزرگ ہیں گوشہ نشین ہیں وہ دعا اور کوئی وظیفہ بتائیں گے اس وظیفے کی برکت سے سب مسائل حل ہوجائیں گے۔ وہ جادوگر بھاگم بھاگ ان بزرگوں کے پاس گیا انہوں نے سارے حالات سن کر پہلے جادوگر کو توبہ کرائی کہ بغیر توبہ کے اللہ کی کلام نفع نہ دے گی مرتا کیا نہ کرتا ‘توبہ کی پھر درویش نے فرمایا کہ بادشاہ کو توبہ کرائیں کہ رنگین زندگی سے ہی قحط اور مفلسی‘ مہنگائی آتی ہے۔ جادوگر بادشاہ کے دربار میں پہنچا اور ساری بات کہی۔ بادشاہ بوڑھا ہوگیا تھا۔ موت سامنے نظر آرہی تھی اس نے توبہ میں نجات سمجھی۔ اب یہ مل کر اس درویش کی خدمت میں پہنچے۔ انہوں نے توبہ کرائی اور فرمایا خود بھی اور رعایا بھی یَافَتَّاحُ یَابَاسِطُ کھلا ہر حالت میں پاک ناپاک سارا دن پڑھیں۔ غربت‘ قرضہ‘ تنگدستی اور قحط کیلئے لاجواب ہے۔ واقعی ایسا ہوا۔ باورچی جن کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہ جب سب نے توبہ کی اور یہ لفظ پڑھے ہر طرف خوشحالی آگئی۔ بس شرط یہ ہے کہ چند ماہ یہ ضرور پڑھیں۔
کچھ عرصے سے عبقری کیلئے لکھ رہاہوں۔ قارئین نے خوب سے خوب تر پسند کیا اور ڈھیروں ڈاک میرے نام آتی ہے کہ میرا ایڈریس اور ملاقات دی جائے لیکن جتنا میں اپنے علم اور تجربے سے مخلوق خدا کی خدمت کرسکتا ہوں اتنی خدمت کررہا ہوں اس سے زیادہ مجھ سے اور کچھ نہ ہوسکے گا۔میں شاید کبھی سامنے نہ آتا لیکن حضرت حکیم صاحب کے اصرار پر اپنی آپ بیتی لکھ رہا ہوں۔ اگر میری گزشتہ اقساط کے تجربات کا قارئین بغور مطالعہ کریں تو ان پر نئے نئے انکشافات نئے‘ حیرت کے راز اور روحانیت کی انوکھی دنیا کھلے گی۔ آج میں اپنی زندگی کے کچھ ایسے واقعات سنانا چاہوں گا جو اس سے پہلے کبھی بھی نہ بیان کیے اور نہ ہی لکھا۔
میں نے ایک دفعہ حاجی صاحب کے بیٹے عبدالسلام اور عبدالرشید کو کہا کہ کبھی مجھے جنات کی سب سے بڑی جیل کی سیر کرائو وہاں کیا ہوتا ہے؟ اور جنات کی اصلاح اور جرائم کی روک تھام کیلئے انہیں کیسی سزائیں ملتی ہیں؟ جب میں نے انہیںیہ بات کہی تو کہنے لگے اس کیلئے آپ کو ایک عمل کا چلہ کرنا پڑے گا کیونکہ وہاں ایک جناتی طلسم کیا گیا ہے کہ کوئی اس میں داخل نہ ہوسکے اور نہ ہی داخل ہو کر واپس آسکے کیونکہ وہاںخود بڑے جادوگر ہوتے ہیں اور ان کے جادو کا توڑ ہر شخص بلکہ ہر جن کیلئے ناممکن ہوتا ہے۔ کئی واقعات ہوچکے ہیں لیکن ہم عاجز آگئے آخر کار ان جنات کو قابو اور باندھنے کیلئے صحابی بابانے یہ خاص قرآنی عمل کرکے اس کو حصار کردیا ہے اب یہ جیل قلعہ ہے تو چونکہ ہم جن ہیں اور باوجود جن ہونے کے ہم سب نے یہ عمل یعنی چلہ کیا ہے۔

Majzobi
15-05-2012, 03:29 PM
اور اس چلے کی وجہ سے ہم اس جناتی جیل کے اندر آجاسکتے ہیں ورنہ تو اس کے اندر جاناممکن نہیں اگر چلے جائیں تو واپس آنا ممکن نہیں۔ میں نے حامی بھرلی اس کیلئے مجھے ایک ویران قبرستان میں 11 دن کا چلہ کرنا تھا چلے کے جو لوازمات ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔
دو کفن کی چادریں‘ ایک عدد بڑی شیشی تیز خوشبو‘چار عدد تیز دھار چھریاں‘ ایک نئی جائے نماز‘ ایک سفید ٹوپی‘ ایک عدد کالے دھاگے کا چھوٹا بنڈل اب یہ چیزیں لے کر کسی ویران قبرستان میں ویران کونہ اور ویران قبر کے پاس جاکر رات ٹھیک بارہ بجے اپنی جگہ پرموجود ہونا ہے۔ کپڑے اتار کر کفن کی چادریں احرام کی طرح باندھ لیں خوب خوشبو لگانی تھی۔ سر پر ٹوپی اور جائے نماز بچھا کر چاروں طرف چھریاں مٹی میں گاڑدیں اور اپنے اردگرد دھاگہ لپیٹ لیں اور صرف ایک لفظ پڑھنا تھا وہ لفظ ہے” کہف“ اسی لفظ کو بغیر تعداد کے 3 گھنٹے بیٹھ کر پڑھنا ہے۔ 3 گھنٹے کے بعد اٹھیں پہلے چھریاں ہٹائیں پھر لباس تبدیل کرکے یہ چیزیں سمیٹ لیں اور وہ کالا دھاگہ جو اپنے اوپر کے جسم پر لپیٹا تھا یعنی 11چکر دھاگے کے دئیے تھے وہ اتار کر رکھ دیں واپس گھر آجائیں پھر دوسری رات اسی طرح جائیں اور سابقہ رات کی طرح کریں۔
کل گیارہ راتیں اگر کوئی ایسا کرے (اس کی سب کو میری طرف سے اجازت ہے) تو اس شخص کو جنات کا ہر حصار توڑنا آسان‘ جنات کی جیل میں آنا جانا ممکن‘ کوئی طاقتور جن جننی بدروح دیو‘ موکل‘ جادو‘ نظربد اور بندوق کا حملہ اس پر اثر انداز کبھی نہ ہوگا پھر جب کوئی اس لفظ یعنی کہف کو صرف پڑھ لے گا چاہے تھوڑی یا زیادہ تعداد میں تو جس پر بھی دم کرے یا پانی پر دم کرے یا کوئی کھانے پینے والی چیز پر دم کرے تو فوری اثر ہوگا۔ وہ تمام عوارضات ختم ہوں گے جو اوپر بیان کیے ہیں خیر میں نے قبرستان میں یہ عمل کیا چونکہ میرا جناتی پیدائشی تعلق ہے کچھ انوکھا یا غیرمرئی عمل محسوس نہ ہوا گیارہ دن کے بعد میں نے عبدالسلام اور عبدالرشید کو بلایا ان کے ساتھ حاجی صاحب بھی تشریف لے آئے۔ مجھے گدھ نما پروں والی سواری پر سوار کیا اور خود ساتھ ہوا بن کر پرواز کرنے لگے اس سواری پر کئی بار سفر کیا تو اس بار اس سواری میں انہوں نے میرے لیے لاجواب کھانے اور بہترین قہوے بھی رکھ لیے تھے مجھے بارہا اصرار کرکے وہ کھلا رہے تھے۔
سفر تھا کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا بہت لمبا اور بڑا سفر کیا جو کئی گھنٹوں پر محیط تھا۔ آخر کار مجھے ہر طرف پہاڑ اور برف ہی برف محسوس ہوئی پھر برف ختم ہوگئی اور ہر طرف خشک پہاڑ اور جنگل شروع ہوگئے اس کے درمیان ہم ٹھہر گئے۔ یعنی سواری اتری پروں سے بنی ہوئی سیڑھی سے میں اترا اور ہر طرف جنگل اور پہاڑیاں دوسری طرف برف پوش پہاڑ تھے۔ وہاں ہر طرف جنات کی قطاریں نظر آئیں چونکہ حاجی صاحب اور صحابی بابا اور میں ان کے وہاں بڑے اور مہمان خصوصی تھے عبدالسلام جن نے پہلے سے اطلاع کردی تھی لہٰذا وہاں سب حضرات یعنی محافظ جنات متوجہ اور چوکنے تھے جیل کیا ایک بہت بڑی پہاڑیوں کے درمیان میلوں پھیلی ہوئی وادی تھی جس کے اردگرد ایک طاقت ورحصار اور جنات کی طاقت ور فوج تھی۔
میں نے دیکھا کہ وہاں ایک نورانی فصیل تھی جو آسمان تک پہنچی ہوئی تھی اس کے اردگرد ایک جناتی مخلوق تھی جو مزید پہرہ دے رہی تھی ہر طرف ایسے جنات موجود تھے جو دن رات بس پہرہ دیتے ہیں ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی کام نہیں۔ ایک پہاڑی غار جس کا دھانہ یعنی منہ بہت بڑا تھا کہ اونٹ اندر آسانی سے چلا جائے اس دھانے پر 17 ببر شیر بیٹھے تھے میں حیران ہوا تو عبدالرشید نے بتایا کہ یہ دراصل بڑے دیو ہیں جو اس شکل میں پہرہ دے رہے ہیں۔ جب ہم غار کے قریب پہنچے تو وہ شیر اپنی جگہ سے ہٹ گئے اور اپنی مخصوص آواز میں گرج دار انداز میں دھاڑنے لگے انہوں نے بتایا یہ دراصل ہم سب کا استقبال کررہے ہیں ابھی ہم داخل ہوہی رہے تھے کہ چمگادڑیں جو شاید 10 فٹ سے بھی زیادہ لمبی ہو خطرناک آوازوں کے ساتھ اوپر مسلسل اڑرہی تھیں۔ انہوں نے یعنی عبدالرشید جن نے بتایا یہ بھی جنات کی ایک قسم ہے جو ہوائی محافظ ہوتے ہیں اور اوپر سے قیدیوں اور بدمعاش جنات پر نظر رکھتے ہیں وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ کچھ اور آگے گئے تو معلوم ہوا سانپوں کے ڈھیر اور بعض جگہ صرف کالے رنگ کے بڑے اژدھے کی طرز کے سانپ تھے جو مسلسل ہر جگہ چکر لگارہے تھے بتایا یہ بھی محافظ جنات ہیں ان کاکام صرف یہاں کے ان جنات کی خبر رکھنا ہے جو جادوگرہوں اور جادو کی وجہ سے وہ یہاں سے نکل نہ جائیں یا پھر وہ یہاں کے محافظوں پر جادو کردیتے ہیں۔ ان میں ہر سانپ خود بہت بڑا عامل ہے ان سب کو صحابی بابا نے ایسے طاقت ور قرآنی عملیات کروائے ہوئے ہیں کہ کوئی جن ان کی طاقت اور جادو تک پہنچ نہیں سکتا۔ کیونکہ جنات کے پاس آج سے 6 ہزار سال پہلے کا علم ہے۔ وہ اس علم کے مطابق وہ کچھ کرلیتے ہیں جو عامل کیا بلکہ کامل سے کامل کے بس کا روگ نہیں ابھی ہم یہ باتیں کرہی رہے تھے تو ایک بڑا کالا سانپ اپناپھن اٹھائے چلتا ہوا میرے پاس آیا‘ سلام کیا کہ میں مسلمان جن ہوں میری عمر بڑی ہے میں نے شاہ جہان بادشاہ کا دور دیکھا‘ جہانگیر کا دور دیکھا‘ رنجیت سنگھ کا دور تو کل کی بات ہے اس سے قبل میں نے لودھی خاندان کو دیکھا خاندان غلاماں کی بنیاد اور برباد ی سب کچھ میرے سامنے ہے۔ میں نے اس سانپ جن سے سوال کیا آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ لوگ برباد کیسے ہوتے ہیں۔ بے ساختہ کہنے لگے اس کی وجہ ظلم ہوتی ہے یہ لوگ دراصل ظالم ہوتے ہیں اور ظلم کی وجہ سے ان سب کا نشان تک ختم ہوجاتا ہے۔

Majzobi
15-05-2012, 03:29 PM
پھر انہوں نے مجھے شاہ تغلق کے دور کے باکمال درویش حضرت خواجہ سماسی رحمة اللہ علیہ کا کرتا دیا کہ اس کرتے کی برکت یہ ہے کہ جو اس کو اپنے سرھانے رکھ کر باوضو ہوکر سوجائے تو ضرور بالضرور اس کو ایسی باکمال ہستیوں اور شخصیات کی زیارت ہوگی جو عام انسان کے بس اور گمان تک میں نہیں بلکہ یہاں تک کہ ایسی برکت کہ نسلیں بھی اس سے استفادہ کریں۔ ایک سانپ جو رنگت میں نہایت کالے رنگ کا تھا وہ آتے ہی میرے پائوں پر گر گیا اور کچھ مخصوص انداز میں باتیں کرنے لگا مجھے اس کی کسی بھی بات کی سمجھ نہ آئی کہ آخر اس کی باتیںکیا ہیں؟ یا اس کا کیا مطالبہ‘ کیا مقصد ہے؟ ساتھ عبدالرشید کہنے لگا کہ یہ یہاں کے سانپ جنات کا بڑا آفیسر ہے جو آپ کو یہاں خوش آمدید کہہ رہا ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ میری طرف سے انسانوں سے معذرت کرلیں کہ میں ان جنات کی نگرانی پر متعین ہوں جو انسانوں کو طرح طرح کی تکالیف دیتے ہیں ہم شرمندہ ہیں کہ یہ لوگ ہمارے قابو سے باہر ہیں اور ہمارے بس میں نہیں ہم انہیں کیسے کنٹرول کریں۔ بہرحال ہم شرمندہ ہیں جب میں نے اس آفیسر سانپ جن کی یہ بات سنی تو حیرت ہوئی کہ ان جنات کی قوم میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے اندر احساس اور مخلوق خدا کی خدمت اور درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔
ہم آگے چلے تو ہمیں چیلوںکا غول جو دیکھنے میں تو چیل لیکن وہ کسی بڑے جہاز سے کم نہیں تھے۔ ان کے منہ سے شعلے اور ان کی آواز بہت گرج دار نکل رہی تھی ان کا ہجوم نہیں تھا بلکہ لشکر کے لشکر تھے جو مسلسل اڑ رہے تھے اور ایک پریشان کن شور تھا جو ہرطرف پھیلا ہوا تھا۔ چیلوں کاکام سارا دن اس میلوں کے پھیلے وسیع پہاڑی رقبے پر اڑنا اور نگرانی کرنا تھا۔ وہ ہر اس جگہ پر نظر رکھتے تھے جہاں سے نکلنے کا کوئی امکان ہوسکتا تھا۔ دن رات ان کا یہی کام تھا ابھی ہم ان چیلوں کے جناتی حالات سن ہی رہے تھے کہ ہمیں احساس ہوا کہ عبدالرشید کچھ اور کہنا چاہتا ہے اس سے پوچھا تو کہنے لگا کہ میں ایک اور چیز دکھانا چاہتا ہوں جو یہاں کا سب سے خطرناک پہرہ دینے والا گروپ ہے پھر ہمیں غار کے اندر ایک اور غار میں لے کر گیا چلے چلتے ایک طویل تنگ غار سے نکلے تو ایک اور میدان آگیا اس میدان میں تھوڑی دیر چلنے کے بعد کیا دیکھا کہ چمگادڑ نما ایک مخلوق ہے جس کی گردن ایسی ہے جیسے بطخ کی گردن ہوتی ہے۔ باقی سارا جسم چمگادڑ کی طرح ہے وہ جگہ جگہ ایک ایک کرکے خاموش بیٹھی ہوئی بالکل خاموش ایسے جیسے ان میں جان نہیں۔ میں حیران ہوا ساتھ حاجی صاحب کا بیٹا عبدالسلام نے میری حیرانی کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا کہ کیوں حیران ہورہے ہیں میں نے کہا کہ حیرت کی وجہ دراصل یہ ہے ان کا کام کیا ہے اور یہ خاموش کیوں ہیں۔ اتنی لاکھوں کی تعداد میں ان کو آخر کوئی تو ذمہ داری دی گئی ہوگی۔ یہ ساری باتیں حیرت اور استعجابی کیفیت میں بیان کردی ہے۔ میری حیرت کو دیکھ کر عبدالسلام کہنے لگا یہی چیز توآپ کو دکھانے کیلئے لائے تھے۔ یہ دراصل خون خوار اور پھاڑ کھانے والی مخلوق ہے جنات تو لوگوں کو تنگ کرتے ہیں یہ جنات کو تنگ کرنے میں حرف آخر ہیں۔
ان کاکام یہ ہے کہ جب بھی کوئی جن یہاں لڑتا ہے تو اس کو پہلے یہ ہلکی سزا دیتے ہیں پھر بڑی اور بھیانک سزا دیتے ہیں اور ان کے اندر ایک خطرناک مواد جسے انسان کی زبان یا دنیا کی تھیوری کے مطابق فاسفورس پہلے آنکھوں میں پھر کانوں میں اور پھر ناک اور زبان میں بھر دیا جاتا ہے ان کو کالی زنجیروں میں باندھ دیا جاتا ہے۔ وہ زنجیریں اتنی طاقت ور ہوتی ہیں جنہیں وہ نہ توڑ سکتا ہے اور نہ ہی ان زنجیروں سے جدا اور رہا ہوسکتا ہے بلکہ اگر اسی وقت ان زنجیروں کو کوئی ہاتھ لگائے تو اس کا ہاتھ جل نہیں بلکہ پگھل جاتا ہے جنات کی خوفناک چیخیں اور فریادیں میں نے دور دور سے سنیں اور سوچا کہ آخر یہ کیا آوازیں ہیں تو میری حیرانگی پر عبدالسلام جن بولا کہ یہ جنات کو سزائیں دی جارہی ہیں تاکہ انہیں سبق حاصل ہو اور انہیں احساس ہو کہ کس طرح نافرمانی کی جاتی ہے۔
پھر عبدالرشید جن خود ہی کہنے لگا میں آپ کو ان شرارتی اور باغی جنات کی سزائیں دکھاتا ہوں ہم غار کے ایک اور دھانے کی طرف چل دئیے جیسے جیسے ہم چلتے گئے غار کا دہانہ پھیلتا گیا اور اندر ہی اندر ایک آگ اور گوشت کی طرح کی جلنے کی بو آرہی تھی جب ہم قریب پہنچے تو احساس ہوا کہ یہ ایک جن کو سزا دی جارہی ہے جو لوگوں کے گھروں سے کچا گوشت چرا کر کھاتا تھا اور بے شمار وارداتیں اس کی اسی طرح کی ہیں اور یہ ان وارداتوں میں بے شمار دفعہ رنگے
ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی یہ سزا پاچکا ہے لیکن ہر بار یہ سزا ختم ہونے پر اپنی سابقہ عادات پر باقی رہتا ہے۔ اس بار اس کی سزا بہت سخت اور بہت کڑی ہے تاکہ اس کو نصیحت ہو ہم آگے چلے تو اس سے بھی زیادہ سخت سزا تھی اس کو دیکھتے ہی پہلی دفعہ مجھے پسینہ آگیا اور دل میں گھبراہٹ شروع ہوگئی یاالٰہی اتنی سخت اور اتنی اذیت ناک سزا میں گمان نہیں کرسکتا۔ سزا کیا تھی کہ لوہے کی کنگھی جس کے دندانے تلوار جتنے بڑے یعنی ہر دندانہ تلوار سے بھی بڑا ہوتا تھا بڑے بڑے خطرناک دیو دور ایک پہاڑ پر چڑھ جاتے پھر وہاں سے تیز ہوا کی طرح دوڑتے ہوئے آتے وہ جن سخت طرح سے بندھا ہوا تھا اس کے اندر وہ کنگھی گاڑھ کر واپس جب کھینچتے تو سارا جسم ایسے ادھڑ جاتا جیسے ریشہ ریشہ ہوگیا ہو۔ سخت بدبو‘ چیخیں ہولناک آوازیں بس ایک انوکھا اور بدترین اذیتوں کا ماحول تھا جسے میں الفاظ کیا بس بیان نہیں کرسکتا اب لکھتے ہوئے میرا قلم کانپ رہا ہے اور جسم میں لرزا طاری ہورہا ہے حالانکہ میرا بچپن اور ساری زندگی جناتی دوستی اور جنات کے ساتھ پھر ان کے شادی بیاہ‘ خوشی اور موت ولادت سب جگہ آنا جانا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں بے شمار واقعات طوفان اور جناتی لڑائیاں اور کارنامے دیکھے ہیں۔ آگ خون کے سمندر اور پہاڑ دیکھے میں ڈرا نہیں‘ کانپا نہیں‘ سہما نہیں لیکن یہ منظر ایسا تھا جس نے انگ انگ اور روئے روئے کے اندر ایک طوفانی ہلچل مچا دی ۔

Majzobi
15-05-2012, 03:30 PM
میں نے پوچھا اس کا قصور کیا ہے آخر ایسا کونسا خطرناک اور برا کام کیا ہے تو بتایا کہ یہ انسانی عورتوں سے زنا کرتا ہے ہر وہ جن جو عورتوں کی عزتوں سے کھیلے اگر وہ پکڑا جائے تو اس کے ساتھ یہی حال ہوتا ہے اور اسے خوب سزا دی جاتی ہے۔ بعض تو اس سزا کے دوران مر جاتے ہیں اور جل کر راکھ ہوجاتے ہیں کیونکہ جنات اگر کوئی برائی کرتے ہیں تو اس کی سزا ہونی چاہیے کہ آخر اس سے جنات کی بہت زیادہ بدنامی ہوتی ہے ہم یہی منظر دیکھ رہے تھے اور باتیں کررہے تھے کہ اچانک صحابی جن بابا تشریف لائے ہم سب ان کے ادب میں کھڑے ہوگئے فرمانے لگے میں مدینہ میں نماز پڑھ کر آرہا ہوں۔ مجھے پتہ چلا کہ علامہ صاحب آج جنات کی دنیا میں سب سے بڑی اور خطرناک جیل دیکھنے آئے ہوئے ہیں۔ میں اس جیل کا نگران اعلیٰ ہوں۔ پھر انہوں نے اپنی ایک لاجواب بات بتائی۔ فرمانے لگے ایک دن میں حضرت انس رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا تھا تو انہوں نے مجھے یہ دعا بتائی کہ جو شخص سخت خطرے میں ہو ُپریشان ہو‘ دشمن کا خطرہ ہو یا جنات یا کسی حادثے کا یا لٹنے کا‘ یا اغوا‘ یا مال کے ختم ہونے کا جیسا بھی خطرہ ہو بس فوری طور پر امن مل جاتا ہے۔ وہ عا یہ ہے: بِسمِ اللّٰہِ عَلٰی دِینِی وَنَفسِی وَوَلَدِی وَاَھلِی وَمَالِی بس سارا دن کھلا پڑھے ہر حالت یعنی وضو بے وضو۔
اس گیارہ ربیع الاول کی رات میں کچھ معمولات کررہا تھا۔ اچانک ایک ایسا انوکھا واقعہ ہوا جو آج سے قبل نہیں ہوا تھا یہ بات اس لیے لکھ رہا ہوں کہ پیدائشی جنات سے دوستی‘ ہم کلامی ‘بالمشافہ ملاقات‘ ان کی شادی‘ غمی میں آنا جانا‘ یہ سب کچھ ہوتا ہے پھر وہاں کے مشاہدات اور حیرت انگیز واقعات ان کی دنیا کے رنگ وروپ دیکھنے کا موقع ملتا ہے جو ایک سے بڑھ کر ایک ہے لیکن آج جو واقعہ ہوا وہ اس طرح ہوا کہ میں ایک خاص درود شریف پڑھ رہا تھا کہ مجھے اونگھ آگئی میں نے اپنے آپ کو ایک بہت ہی بڑے سرسبز شاداب جنگل میں پایا۔ وہ جنگل کم جنت زیادہ‘ ہر طرف سبزہ شادابی رعنائی اور مقام حیرت ہی حیرت‘ ہر طرف پھول کلیاں۔ میں اسی حیرت میں گم اور مسلسل گھوم رہا ہوں کہ ایک نہایت حسین بزرگ ملے جو کہ مصلیٰ بچھا کر بڑی تسبیح پر کچھ پڑھ رہے تھے۔ میرے قدم ان کے قریب جاکر رک گئے اور میں خاموش انہیں دیکھ رہا تھا اور دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ یہ کون ہیں؟ یہ کونسی جگہ ہے اور یہ کونسا ذکر کررہے ہیں؟ بہت دیر تک سوچتا رہا لیکن وہ درویش اپنے ذکر میں مشغول رہے۔ انہوں نے میری طرف کوئی توجہ نہیں کی بس خودبخود میری زبان پر سورہ اخلاص جاری ہوگئی اور میں نے سورہ اخلاص اونچی اونچی آواز میں پڑھنا شروع کردی‘ میرے پڑھنے سے اس جنگل کے ہر ذرہ نے یہی سورہ پڑھنی شروع کردی۔ ایک ایسا انداز اور کیفیت شروع ہوجاتی ہے کہ میں خود حیران کہ الٰہی یہ کیسا منظر ہے۔ میں خود ابھی تک وہ پرلطف منظر نہیں بھول سکا۔ بس میں بے ساختہ سورہ اخلاص پڑھ رہا ہوں اور بہت تیزی سے پڑھ رہا ہوں کچھ ہی دیر کے بعد میرے منہ سے شعلے نکلنا شروع ہوگئے میں ڈر گیا کہ یہ کیا ہوا لیکن پڑھنا نہیں چھوڑا وہ شعلے نہیں تھے بلکہ نور تھا اور ہر طرف نور ہی نور بس دل چاہتا تھا کہ میں پڑھتا جائوں ۔یکایک وہ درویش مصلّے سے اٹھے تو ان کے اٹھتے ہی وہ طلسم ٹوٹا۔
انہوں نے دعا شروع کی مختصر دعا کے بعد میں خودبخود خاموش ہوگیا وہ اٹھے مصافحہ کیا گلے ملے‘ میرے ماتھے کو چوما پیار کیا لیکن بات نہیں کی۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر چلنا شروع کردیا اب وہ اور میں ہم دونوں سورئہ اخلاص پڑھ رہے تھے اس کے پڑھنے سے محسوس ہوتا تھا ہمارا فاصلہ کم ہورہا ہے اور ہم بہت تیزی سے فاصلے منزل اور قدم طے کررہے ہیں لیکن شاداب جنگل طے نہیں ہورہا تھا ہر قدم نئی خوبصورتیاں‘ نیا حسن و جمال‘ نیا رنگ و روپ اور نئی دنیا ملتی تھی محسوس ایسے ہورہا تھا کہ وہ درویش مجھے وہاں کی سیر کرارہے ہیں بس ان کے ہاتھ میں میرا ہاتھ ہے اور ہم مسلسل سفر کررہے ہیں۔ سفر میں سورئہ اخلاص اور قدرت کے مناظر دیکھنے میں ایسا محو تھا کہ منزل کا احساس نہیں ہوا کہ میں کہاں ہوں‘ کتنا فاصلہ طے کرلیا اور جانا کہاں ہے۔ بس سفر جاری تھا‘ بہت دیر کے بعد ایک محل اور بہت ہی خوبصورت محلوں پر نظر پڑی ان کے حسن و جمال کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا ہم دونوں اس کے اندر داخل ہوئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ حاجی صاحب‘ صحابی بابا ‘عبدالسلام باورچی جن اور لاتعداد بڑے جنات مسند نشین ہیں‘ ہر طرف خوشبو رچی بسی ہے‘ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ ہمارا انتظار تھا اور بس ہم پہنچے تو محفل میں سورئہ اخلاص کی تلاوت شروع ہوگئی مختلف قرات میں سورئہ اخلاص پڑھی جارہی تھی‘ آواز ایسی دلکش اور پرسوز تھی کہ ہر شخص کے آنسو رواں تھے۔ پہلے تو میں نے محسوس نہ کیا لیکن پھر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ وہی درویش ہیں جو مجھے ساتھ لائے تھے یہ ان کی آواز تھی حالانکہ میرے ساتھ بیٹھے تھے لیکن سورئہ اخلاص کی آواز میں ایسی دلکشی اور سوز تھا کہ خود اپنے وجود کی خبر نہیں تھی میں نے قریب ہی بیٹھے ایک جن سے پوچھا یہ درویش کون ہیں؟ وہ حیران ہوکر بولے کہ آپ نہیں جانتے؟ یہ حضرت خضر علیہ السلام ہیں۔ سورئہ اخلاص کے عاشق ہیں اور ہر اس شخص سے عشق ومحبت کرتے ہیں جو سورئہ اخلاص کا ورد رکھتا ہو کیونکہ حضرت خضرعلیہ السلام خود سارا دن سورئہ اخلاص ہی پڑھتے ہیں اور یہ خود فرماتے ہیں وہ شخص مقام ولایت تک نہیں پہنچ سکتا جو سورئہ اخلاص نہ پڑھتا ہو۔
بس یہ مختصر سی بات کرکے ہم خاموش ہوگئے اور سورئہ اخلاص کی قرات جاری رکھی اس کی تلاوت ختم ہوئی۔ ہر آنکھ اشک بار تھی اور ہر طرف نور ہی نور تھا۔ پھر کھانے کی دعوت شروع ہوئی اوردستر خوان وسیع تھا۔

Majzobi
15-05-2012, 03:30 PM
حضرت خضر علیہ السلام فرمارہے تھے اور میری حیرت بڑھ رہی تھی۔ ساتھ ہی حاجی صاحب اور صحابی بابا بیٹھے یہ باتیں سن رہے تھے حضرت خضرعلیہ السلام نے سورہ اخلاص کی جو برکات بتائیں وہ سب لاکھوں جنات نے قبول کیں بلکہ حضرت خضرعلیہ السلام نے سب کو اجازت دی مجھے خاص الخاص اجازت عطا فرمائی اور میں ہر پڑھنے والے کو بھی اجازت دے رہا ہوں۔
فرمایا اگر کوئی شخص بغیر اسباب‘ رقم‘ سواری اور پاسپورٹ کے حج اور زیارت حرمین چاہتا ہے تو وہ نوچندی (نئے چاند کی) جمعرات سے پہلے دن 1100 بار سورہ اخلاص اول آخر 11 بار درود شریف پڑھے دوسرے دن ہزار بار تیسرے دن 900بار اس طرح ہر دن ایک سو کم کرتا جائے آخری دن یعنی گیارہویں دن سو بار پڑھے روزانہ ایک ہی وقت اور ایک ہی جگہ ہو تاکہ عمل میں طاقت اور تاثیر رہے سفید لباس اور خوشبو لگا کر یہ عمل کیا جائے ہر ماہ یہ عمل اسی طرح 11 دن کیا جائے بس یہ عمل جاری رکھے ناغہ نہ کرے اگر مرادجلد پوری نہ ہو تو عمل نہ چھوڑے جاری رکھے۔ ایسا غیبی نظام چلے گا اور اس کے ساتھ ہوگا کہ یہ خود سوچ نہیں سکے گا کہ کیا ہوا اور کیسے ہو گیا بس ہوجائے گا اور خودبخود یہ حرمین کا مسافر بن جائے گا۔
اس عمل کے بتانے کے بعد ایک عمل اور فرمایا جس قسم کا مسئلہ ہو اور کوئی بھی ناممکن مشکل ہو جو کسی طرح بھی حل نہ ہوتی ہو ہر طرف سے کوشش اور محنت کرکے تھک گئے ہوں کسی طرف سے راستہ نہ کھلتا ہو موت کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہ آتا ہو تو کسی وقت شنہاتی ہے بہتر ہے رات ایک بجے کے بعد 4 نفل اکٹھے ایک ہی سلام کے ساتھ پڑھنے کی نیت کرے پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد 101 بار سورہ اخلاص مع تسمیہ پڑھے اس طرح ہر رکعت میں پڑھے بس دھیان اور توجہ اللہ کی طرف اور خاص حضوری ہو (ہاتھ میں تسبیح لے سکتے ہیں) سلام کے بعد سربرہنہکرلیا اور دائیں بازو سے قمیض نکال کر بازو اور کندھا ننگا کرلیا جیسے حالت احرام میں ہوتا ہے پھر 500 بار سورہ اخلاص پڑھیں اول و آخر درود شریف پھر جتنی دیر سارے عمل میں لگتی ہے اتنی دیر خوب گڑگڑا کر بھکاری بن کر دعا کریں رو رو کر مانگیں کہ جسم کا رواں رواں کھڑا ہوجائے بہت لمبی اورعاجزانہ دعا کرکے پھر 100 بار سورہ اخلاص پڑھیں اور پھر سورہ اخلاص پڑھتے ہوئے لیٹ جائیں۔ یہ عمل کچھ عرصہ یا کچھ دن مستقل کریں۔ قدرت کے کمالات اور حمایت اپنی طرف متوجہ ہوتے دیکھیں آپ حیران رہ جائیں گے پھر ایک اور عمل فرمایا کہ کھانا کھاتے ہوئے سورہ اخلاص پڑھتے رہیں اگر درمیان میں بات چیت ہورہی ہو تو بھی حرج نہیں۔ کھانا کھاتے ہوئے سورہ اخلاص پڑھنے سے رزق میں برکت‘ کھانے میں صحت لاعلاج امراض کا خاتمہ‘ گھریلو الجھنیں‘ جھگڑے اور مشکلات کا خاتمہ یقینی ہوتا ہے جو بھی یہ عمل کرے گا وہ پریشانیوں سے ایسے نکلے گا جیسے ہوا بادلوں کو اڑا کر لے جاتی ہے۔ کسی کو نوکری چاہیے کسی کو کھلا رزق چاہیے‘ کسی کو مقدمات میںکامیابی چاہیے‘ کسی کو اولاد چاہیے‘ کوئی اولاد کی تربیت سے پریشان ہے۔ قرض اتارنا چاہتا ہے خواہ دل کی جو بھی مراد ہے وہ ہر کھانے کے درمیان ہر وضو کے درمیان‘ مسلسل سورہ اخلاص پڑھے‘ پھر قدرت ربی کا مشاہدہ کرے۔
میں نے حضرت خضرعلیہ السلام سے عرض کیا کہ کوئی ایسا عمل کہ آپ سے ملاقات ہوجایا کرے فرمایا جو شخص سورہ اخلاص کثرت سے پڑھتا ہے میں اس شخص سے ضرور ملاقات کرتا ہوں‘ چاہے جس حالت میں ہو ملاقات ضرور ہوتی ہے۔ مجھ سے مخاطب ہوکر تاکید سے فرمانے لگے کہ آپ کا سواکروڑ بار پڑھا سورہ اخلاص ہی ہے کہ میں خود تلاش کرتا ہوں جو آپ سے محبت کرے گا میں اس سے محبت کروں گا اور اس کی مشکلات میں اس کا ساتھی بنوں گا کیونکہ مجھے آپ سے محبت ہے اور پھر حضرت خضر علیہ السلام نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کرمزید فرمایا جو آپ سے نفرت کرے گا اس کے نقصانات ہوں گے اور پریشانیوں سے کبھی نکل نہیں سکے گا ایک مختصر عمل مزید فرمایا کیونکہ انہوں نے عمل تو انوکھے فرمائے ان میں سے چند عبقری کے قارئین کی نذر کررہا ہوں کہ جو شخص کسی پرندے جانور کو دیکھ کر 3 بار سورہ اخلاص اول آخر ایک بار درود شریف پڑھے گا اور تصور میں یہ کہے یا اللہ اس کا ثواب میں نے اس جانور کی روح کو ہدیہ کردیا اور اس جانور کو میرے لیے دعا میں لگا دے جو ایسا کرتا رہے گا وہ ایسے ایسے سخت سے سخت حالات سے نکلے گا کہ خود دیکھنے والے حیران ہوں گے اور وہ خود حیران ہوگا کہ یا اللہ ایسا ممکن کیسے ہوا؟ اس کی بھی آپ سب کو اجازت ہے۔
ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے میں عبدالسلام‘ باورچی جن‘ حاجی صاحب اور صحابی بابا اور بیشمار جنات ہم سب اکٹھے ہوکر لاہور کے شاہی قلعے کے تیسرے تہہ خانے میں ایک مشہور صاحب کمال درویش کی تربت پر بیٹھے سورہ اخلاص پڑھ رہے تھے۔ یکایک میں نے اپنے اوپر ایک غنودگی سی محسوس کی حالانکہ عام طور پر مجھے غنودگی محسوس نہیں ہوتی۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے اوپر کوئی چیز گررہی ہے لیکن گرنے کا انداز ایسے ہے جیسے پھول کی پتیاں گرتی ہیں میں بالکل بے سدھ سا ہوگیا دل پر غنودگی نہیں تھی لیکن جسم بے جان تھا اور مجھے اس بات کا بھی احساس تھا کہ صحابی بابا کے علاوہ اورلاکھوں کی تعداد میں سارے جنات موجود ہیں۔ ویسے بھی میرے ساتھ ہر وقت جنات کے لشکر چلتے ہیں۔ ساری کیفیتوں کے بعد میں نے ایک چیز اور مزید محسوس کی اب میرے اوپر ہلکی سی پانی کی پھوار ایسے کہ جیسے گلاب کے پھولوں پر شبنم ہوتی ہے.... وہ گرنا شروع ہوگئی۔ خوشبو بڑھ گئی‘کیفیات میں اضافہ ہوگیا اور میں مدہوش اسی خوشبو‘ پتیوں کے گرنے اور روحانی پھوار کو مسلسل اپنے جسم پر اور اپنے دل پر محسوس کررہا تھا یہ کیفیت بہت دیر رہی میں بیٹھا رہا اور مسلسل سورہ اخلاص پڑھتا رہا‘ پڑھتا رہا۔

Majzobi
15-05-2012, 03:31 PM
اچانک صحابی بابا کی آواز آئی کہ چلیں نا تب جاکر میں چونکا میں نے صحابی بابا اور حاجی صاحب سے اور ایک جیل کے دروغہ تھے ان سے سوال کیا کہ یہ کیا کیفیت ہے ؟باقی حضرات خاموش ہوگئے لیکن صحابی بابا مسکرا دئیے فرمایا کہ یہ اولیاءاللہ اورصالحین کی تربتوں پر جو اللہ جل شانہ کی طرف سے انوارات اور برکات نازل ہوتی ہیں یہ وہ چیز تھی۔ اس کی تازگی اس کی خوشبو اور اس خوشبو کا ایک انوکھا احساس ابھی یہ بیان کرتے ہوئے بھی میں محسوس کررہا ہوں اور شاید یہ احساس مجھے کبھی نہ بھول سکے۔
قارئین! آپ نے الفاظ تو پڑھے ہی ہونگے میرا احساس کون پڑھے.... اور پڑھ بھی کیسے سکتا ہے۔ مجھے بے شمار ملنے والے خطوط میں لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ سب واقعات دھوکہ اور فریب ہیں‘ وہ کہتے ہیں یہ محض ایک ڈھکوسلہ ہے لیکن اکثریت میرے اس کالم سے اور میرے ان مشاہدات سے نفع اٹھارہی ہے۔
کچھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سلسلے کو بند کردیا جائے جو حضرات یہ باتیں کہتے ہیں وہ بھی سچے ہیں ان کا برتن ہی اتنا ہے‘ ان کا ظرف ہی اتنا ہے۔ روحانی دنیا سے ان کو شناسائی ہے ہی نہیں۔ انہوں نے ظاہر کی دنیا کو اور مادی دنیا کو دیکھا ہے۔ اس دنیا کو کیسے سمجھ پرکھ سکتے ہیں۔ اس دنیا کو وہ کیسے پڑھ سکتے ہیں۔ خیر میں صحابی بابا کے اصرار پر اٹھا جبکہ اٹھنے کو میرا دل نہیں چاہ رہا تھا لیکن اٹھ تو گیا چل نہیں سکا۔ میں پھر بیٹھ گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ کوئی نادیدہ سی قوت ہے جو مجھے اٹھنے نہیں دے رہی میں کیا کروں۔ پہلے کی طرح سب خاموش لیکن صحابی بابا مسکرا رہے تھے۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ ہی بتائیے کہ اس نہ اٹھنے کی وجہ کیا ہے؟ وہ فرمانے لگے صاحب مزار جو کہ صاحب کمال درویش ہیں وہ چاہتے ہیں کہ آپ ابھی ہمارے ساتھ اور بیٹھیں اور کچھ کہیں کچھ سنیں سورہ اخلاص کا مزید ہدیہ دیں۔ میں بیٹھ کر مزید پڑھنا شروع ہوگیا۔ بہت دیر تک حالت سکرات میں سورہ اخلاص پڑھتا رہا اور اللہ سے عرض کرتا رہا کہ اے اللہ اپنے اس بندے کی روح کو میری طرف سے ہدیہ پہنچا‘ بہت دیر کے بعد میں نے محسوس کیا کہ میرے جسم میں جان آنا شروع ہوگئی ہے‘ میری ٹانگوں میں‘ میرے دل میں‘ میرے پائوں میں جان اور حرکت پیدا ہوئی۔ میں سمجھ گیا کہ ان کی طرف سے اجازت ہے‘ میں سلام کرکے اٹھا‘ صحابی بابا اور دیگر جنات میرے منتظر تھے۔ مجھ سے فرمانے لگے ان کو آپ سے محبت ہے۔ اس لیے آپ کو جانے نہیں دے رہے تھے۔
میں نے ان سے کہا میں جب بھی حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر پر جاتا ہوں وہاں بھی مجھے روک لیا جاتا ہے‘ ابھی نہ جائو۔ وہاں بھی مجھ بے حیثیت سے بہت زیادہ محبت کی جاتی ہے۔ ایک بے ذرہ اور بے حیثیت سے اتنی زیادہ محبت.... میں کیا اورمیری اوقات کیا۔ لیکن ایک چیز جو بار بار میرے تجربات اور دیکھنے میں آئی ہے وہ یہ کہ جن لوگوں کو میں نے یہ چیز بتائی ہے کہ کثرت سے سورہ اخلاص اور درود شریف پڑھیں! یہ دو چیزیں ایسی ہیں جو اللہ کی بارگاہ میں بندے کو صاحب مقام بنادیتی ہیں اور صاحب کمال بنادیتی ہیں جو اللہ کی بارگاہ میں بندے کو ایسا جسم عطا کرتی ہیں جو جسم لاہوتی ہوتا ہے۔ وہ جسم مٹی کا بنا ہوا نہیں ہوتا‘ وہ نورانی جسم ہوجاتا ہے۔ وہ جسم پھر سیر کرتا ہے عالم لاہوت کی‘ ملکوت کی‘ عالم جبروت کی اور ایسے عالم ہیں جن کے بارے میں قلم رک جاتا ہے۔ زبان گنگ ہوجاتی ہے۔
الفاظ ٹھہر جاتے ہیں‘ عقل کے سانچے پگھل جاتے ہیں سوچوں کے دھارے رخ بدل لیتے ہیں‘ نگاہیں پتھرا جاتی ہیں اور سانسیں رک جاتی ہیں۔ کیوں؟ وہ ایسی پراسرار دنیا ہیں جس کا میں نے ایک مرتبہ پہلے بھی تذکرہ کیا تھا۔ جن کو ہم عام طور پر اڑن طشتریاں کہتے ہیں وہ اس دور کی دنیا ہے اور ان کی سائنس ہم سے کہیں زیادہ اونچی ہے‘ ان کی دنیا ہم سے کہیں زیادہ اونچی ہے اور ان کی کائنات ہم سے زیادہ اونچی ہے۔ ہم ان کی ترقی تک پہنچ بھی نہیں سکتے جس ترقی اور ٹیکنالوجی تک وہ پہنچ چکے ہیںایک دفعہ مجھے صحابی بابا اس جہان میں لے گئے‘ وہاں جاکر مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ کی خدمت میں ایک شخص آئے کہنے لگے کہ شیخ آپ کی خدمت میں تزکیہ نفس کیلئے آیا ہوں دل کی دنیا کو اللہ کی محبت میں ڈبونے کیلئے آیا ہوں‘ کچھ اللہ اللہ کے بول سیکھنے آیا ہوں۔ اگر آپ کے قدموں میں جگہ مل جائے۔ شیخ کی خدمت میں بہت عرصہ رہے‘ بہت عرصہ رہے۔ حضرت کی خدمت میں رہتے ہوئے زندگی کے بہت سے دن رات گزر گئے‘ ایک دفعہ عرض کرنے لگے کہ شیخ اللہ کی کائنات بہت وسیع ہے میں اللہ کی قدرت کے مظاہر اور مناظر دیکھنا چاہتا ہوں چونکہ صاحب استعداد ہوگئے تھے‘ برتن بڑا ہوگیا تھا‘ شیخ فرمانے لگے اچھا ٹھیک ہے۔ یہ روٹیاں لو اور جنگل میں جاو۔ وہاں ایک ریچھ ملے گا اس ریچھ کو یہ روٹیاں ڈال دینا۔ وہ روٹیاں منہ میں ڈال کر چلے گا تم اس کے پیچھے چلتے جانا اور پھر قدرت کے جو مظاہر و مناظر نظر آئیں وہ مجھے آکر بتانا‘ انہوں نے روٹیاں لیں اور چل پڑے۔ بہت دیر چلتے رہے‘ آخر جنگل میں بالکل سیاہ ایک ریچھ ملا اس کو روٹیاں ڈالیں‘ اس نے منہ میں لیں اور بھاگنا شروع ہوگیا یہ اس کے پیچھے بھاگتے رہے‘ وہ ایک غار میں چلا گیا بہت لمبی غار تھی‘ اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ چلتے رہے چلتے رہے.... آخر اس غار کا دھانہ قریب آیا تو روشنی نظر آئی وہ ریچھ وہاں غائب ہوگیا اور یہ وہاں پہنچ گئے اور حیران ہوئے کہ یہ کونسی دنیا ہے؟ وہاں ایک شخص ملا۔

Majzobi
15-05-2012, 03:31 PM
شاہ صاحب کے خادم نے اسے سلام کیا انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ جواب دینے کے بعد اس خادم نے پوچھا آپ کون ہیں؟ وہ کہنے لگے نہ ہم انسان ہیں اور نہ جنات ہیں‘ نہ فرشتے ہیں۔ ہم کوئی اور مخلوق ہیں اور پھر اس نے پڑھا الحمدللہ رب العالمین کہ اللہ ایک عالم کا نہیں عالمین کا رب ہے۔ یہ کوئی اور عالم ہے اس عالم کو تم نہیں جانتے۔ جاو تم نے قدرت کے مناظر و مظاہر دیکھنے کی تمنا کی تھی وہ تم نے دیکھ لیے اس سے آگے مت جاو ‘ یہ تم نے دیکھ لیا کہ اور عالم بھی ہیں بس یہیں سے واپس مُڑ جاو۔ وہ خادم یہیںسے واپس ہوئے۔ واپس سفر کرتے کرتے شیخ کی خدمت میں پہنچے‘ حیران و پریشان تھے کہ یہ میں نے کیا دیکھ لیا۔ شیخ سے جاکر عرض کی۔ شیخ نے فوراً فرمایا الحمدللہ رب العالمین۔ اللہ عالمین کے رب ہیں عالم کے نہیں اور پھر فرمایا میری زندگی تک یہ بات کسی کو مت بتانا۔
ایک دفعہ صحابی بابا کے ساتھ میں نے ایسے ہی ایک عالم کی سیر کی کیا تھا؟ کیسے تھا؟ کس طرح تھا؟ میرے پاس نہ الفاظ ہیں‘ نہ واقعات ہیں‘ سوائے کیفیات کے۔ وہ کیفیات میں لفظوں میں ادا نہیں کرسکتا۔ آپ اسے دھوکہ سمجھیں یا فریب۔ کوئی کچھ سمجھے‘ کوئی کچھ۔
ہاں مجھے اتنا ضرور علم ہے کہ ہر شخص اپنے برتن کے بقدر میری ان باتوں کا مطلب لے گا۔ جو باتیں میں آپ تک پہنچاتا ہوں اور آج جو باتیں پہنچا رہا ہوںوہ بات سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص کے متعلق ہے کہ سورہ اخلاص پڑھنے والا کوئی بھی شخص آج تک ایسا نہیں ملا جس کو ملکوتی اور لاہوتی لباس نہ ملا ہو۔ پڑھنا شرط ہے اور بہت زیادہ پڑھنا شرط ہے اور نیکی کو کرنا اور گناہ سے بچنا لازم ہے۔ ورنہ نفع نہ ہوگا۔ سورہ اخلاص کا ایک عمل دیتا ہوں دو رکعت نماز نفل پڑھیں اس کی ہر رکعت میں 101 بار سورہ اخلاص پڑھیں دوران نفل ہاتھ میں تسبیح لے سکتے ہیں لیکن تسبیح صرف نوافل کیلئے ہے فرائض کیلئے نہیں۔ دو نفل پڑھنے کے بعد سجدے میں گرکے گیارہ دفعہ سورہ اخلاص پڑھیںپھر سجدے سے اٹھ کے گیارہ دفعہ سورہ اخلاص پڑھیں‘ پھر سجدے میں گرکے گیارہ دفعہ سورہ اخلاص پڑھیں‘ پھر سجدے سے اٹھ کے گیارہ دفعہ سورہ اخلاص پڑھیں۔ اسی طرح گیارہ سجدے کرنے ہیںاور ہر سجدے میں گیارہ دفعہ سورہ اخلاص پڑھنی ہے اور اٹھ کر بھی گیارہ دفعہ سورہ اخلاص پڑھنی ہے۔ اس کے بعد گیارہ دفعہ کوئی سا بھی استغفار پڑھنا ہے اس کے بعد گیارہ دفعہ درود ابراہیمی پڑھنا ہے اور گیارہ منٹ کم از کم انتہائی زاری کے ساتھ اپنے مقصد کیلئے دعا کرنی ہے۔
کوئی مقصد بھی ہو‘ دنیاوی ہو یا اخروی‘ آسمانی ہو یا زمینی‘ فرد سے ہویا افراد سے‘ ظالم سے ہو یا کافر سے‘ حاکم سے ہو یا محکوم سے‘ آقا سے ہو یا غلام سے‘ گھریلو ہو یا کاروباری ہو‘ دفتر کا ہو یا زمین کا‘ یعنی کسی بھی قسم کا مسئلہ ہو‘ اگر روزانہ کسی بھی وقت اس عمل کو کریں‘ گھر کے سارے افراد یا گھر کا کوئی ایک فرد اور اگر کوئی صبح و شام کرسکتا ہو تو بہت ہی بہترین ہے اس سے بڑا کوئی مشکل کشائی کا عمل میں نے کہیں کسی کائنات میں نہیں پایا۔ یہ صحابی بابا کا خاص ہدیہ ہے۔
یہ بہت عرصہ قبل مجھے خاص ہدیہ ملا جو کہ میں اب آپ کی نذر کرتا ہوں۔ ایک شخص کو میں نے یہ چیز بتائی‘ اس شخص کی ٹانگ گنگرین کی وجہ سے ران تک کٹنے کے قابل ہوگئی تھی‘ اُس نے بیٹھے بیٹھے اشارے سے یہ نفل پڑھے اور پڑھتا رہا اور مسلسل پڑھتا رہا۔ اس کی اہلیہ نے بھی پڑھے۔ قارئین شاید آپ یقین کریں نہ کریں صرف اکیس دن کے بعد اس کے زخم کی کیفیت بدل گئی اور اس کا زخم بھرنے لگا‘ اور بہت تھوڑے عرصے کے بعد اس کے کھرنڈ بن گئے اور سوفیصد صحت یاب ہوگیا۔اُس شخص نے بیان کیامیں اب تک اس عمل کو جو گن سکا تو تقریباً 23 لوگ ہیں اور جو نہ گن سکا وہ تو بے شمار ہیں اور جس جس کو بھی دیا اس کو سوفیصد فائدہ ہوا‘ سوفیصد نفع ہوا۔
اس طرح کا ایک واقعہ اور ہوا ایک صاحب کا بیرون ملک کا ویزہ نہیں لگ رہا تھا‘ غریب تھے اور میں غریب سے محبت کرتا ہوں اور غریب کا کام کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہوں اور امیر سے محبت کرتا ہوں لیکن بحیثیت مسلمان کے۔ لیکن غریب سے محبت اور غریب کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے مجھے دلی طمانیت اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔
ایک غریب آدمی کا جوان بیٹا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھے بیرون ملک جانا ہے‘ کاغذات مکمل ہوتے ہوتے رک جاتے ہیں‘ کام بنتے بنتے رہ جاتے ہیں‘ کوئی نہ کوئی رکاوٹ آہی جاتی ہے۔ میں نے یہی نفل بتائے اور یہ بات بھی بتائی کہ جلدی بھی نہ کرنا اور بے توجہی سے بھی نہ پڑھنا۔ انشاءاللہ تمہیں اس کا سوفیصد صلہ ملے گا۔ تھا تو مایوس‘ لیکن پرعزم تھا‘ اس نے پڑھنا شروع کیا‘ پڑھتا ہی گیا.... پڑھتا ہی گیا....

Majzobi
15-05-2012, 03:32 PM
مجھے تو یاد نہ رہا کچھ عرصے اس کی بوڑھی ماں میرے پاس آئی کہنی لگی میرا فلاں بیٹا آپ کے پاس آیا تھا آپ نے یہ عمل بتایا تھا کیونکہ میں نے یہ عمل چند لوگوں کو بتایا اور اب دل میں آیا کہ اس عمل کو عبقری کے لاکھوں قارئین تک پہنچائوں مجھے وہ جوان اور اس کا غمگین چہرہ‘ اُس کی غربت اور تنگدستی یاد آئی تو فوراً یاد آیا اور میں نے کہا ہاں مجھے یاد ہے۔ کہنی لگی کہ بیٹا باعزت روزگار میں ہے۔ بیرون ملک چلا گیا ہے‘ اور اس کے ساتھ والے جو چار چار سال پہلے گئے تھے وہ پریشان ہیں‘ اور یہ برسرروزگار ہے‘ اس نے وہاں سے پیغام بھیجا ہے کہ اب میں کیا پڑھوں اور کیا کروں؟ میں نے فوراً کہ جس عمل کی وجہ سے اتنے باوقار ہوئے ہیں اس عمل کو کیوں چھوڑ رہے ہو؟ اور اسے کہو کہ یہ عمل پڑھتا رہے‘ خاتون کہنے لگی کہ بیٹیوں کی شادیوں کا مسئلہ ہے ان کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں تو کیا پڑھوں کیا میں یہ عمل کرلوں؟ میں نے ان سے کہا کہ زندگی کا کوئی مسئلہ ہو گھریلو کوئی الجھن ہو‘ مشکلات ناممکن ہوں‘ اس عمل کی آپ کو اجازت ہے اور یہ عمل کرو اس نے وہ عمل کیا اور جب عمل کیا تو عمل کو کرتے ہوئے بہت ہی عرصہ وہ خاتون نہ ملیں اور جب ملی تو روپڑی‘ او رکہنی لگی کہ میں آ نہ سکی کہ اللہ کریم نے مجھے اس عمل کی برکت سے بیٹیوں کی شادیاں بھی کردیں اور گھر بھی بڑا بنادیا‘رزق بھی وافر ہوگیا‘ صحت کے مسائل بھی حل ہوگئے‘ مشکلات بھی دور ہوگئیں‘ اور میں نے اب تک بے شمار گھرانوں کو ہر مسئلے کیلئے یہ عمل بتایا ہے۔ چونکہ آپ نے اجازت دی ہے۔ اور جس کو بھی بتایا ہے اس کا کام ہوگیا ہے۔ میں نے تو اس عمل کا نام دستگیر رکھ دیا ہے۔ جس کے ہاتھ میں بھی اس عمل کا پرچہ پکڑاتی ہوں اس کا کام سوفیصد ہوجاتا ہے۔ قارئین! یہ اس عمل کی آپ سب کو اجازت ہے کچھ عرصہ مستقل کرتے رہیں‘ اور مسلسل کرتے رہیں جتنا خشوع اور جتنا دھیان سے پڑھیں گے اتنا زیادہ اس کی تاثیر اور طاقت ہوگی اور آپ کیلئے خوشخبری یہ ہے کہ جس کو بھی دینا چاہیں میری طرف سے اس کیلئے بھی خصوصی اجازت ہے۔
میرا تجربہ بار بار ایک بات کی غمازی کرتا ہے کہ جتنا زیادہ قرآن قوم جنات پڑھتی ہے شاید پوری دنیا کے قاری حافظ اور عالم پڑھتے ہوں‘ کیونکہ اس قوم کو قرآن پاک سے بہت زیادہ شرف ہے اور قرآن ان کے انگ انگ اور نس نس کے اندر گھلا ہوا ہے۔ ایک چیز قارئین کی معلومات کیلئے دینا چاہوں گا۔ آپ نے کبھی محسوس شاید نہیں کیا کہ پاکستان بھر میں اور دنیا بھر میں قرآن پاک سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ قرآن واحد کتاب ہے جو زندگی میں ایک یا دو بار گھر کیلئے لی جاتی ہے۔ کوئی اخبار یا رسالہ تو ہے نہیں کہ روزانہ یا ہفتہ وار یا مہینہ کے بعد لیا جائے اور ویسے بھی قرآن کا ذوق‘ تلاوت اور صبح صبح روزانہ کا پڑھنا ختم ہوچکا ہے لیکن اس کے باوجود قرآن پاک مسلسل چھپ رہا ہے‘ ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں چھپتا ہے آخر وہ کہاں جاتا ہے؟
تو آج آپ پر یہ راز عرض کرتا ہوں کہ وہ قرآن قوم جنات پڑھتی ہے‘ جنات کے جہیز میں سب سے زیادہ قرآن پاک دئیے جاتے ہیں اور جنات کی بچیاں اور بچے قرآن پاک بہت پڑھتے ہیں۔ رمضان المبارک میں تو اس کا خاص اہتمام ہوتا ہے ایک رات میں پورا ختم کرنے والے‘ تین راتوں میں ختم کرنے والے‘ پانچ راتوں کو ختم کرنے والے‘ دس راتوں میں ختم کرنے والے توعام سی بات ہے۔
اب جنات کا تقاضا یہ ہوتا کہ میں ان کے ختم قرآن میں شامل ہوں۔ ظاہر ہے میں سب میں شامل نہیں ہوسکتا لیکن کچھ ختم قرآن ایسے ہیں جن میں مجھے شامل ہونا پڑتا ہے۔ حاجی صاحب کا بیٹا عبدالسلام قرآن پاک ختم کرتا ہے‘ ان کے بھتیجے ختم کرتے ہیں‘ میرے ساتھ صحابی بابا کی خاص محبت ہے‘ بعض اوقات ان کی طرف سے تقاضا ہوتا ہے کہ میں ختم قرآن میں شامل ہوں اور قرآن پاک کے ترجمہ و تفسیر کے کچھ نکات بیان کروں‘ اس کیلئے مجھے سفر کرنا پڑتا ہے بلکہ بعض رمضان تو ایسے ہیں کہ کوئی رات ایسی نہیں گزری کہ جس میں مجھے ختم قرآن کے سلسلے میں قوم جنات کے پاس نہ جانا پڑا ہو اور مجھے اس کیلئے بار بار جانا پڑتا ہے اور بار بار ان کے تقاضے کو پورا کرنا پڑتا ہے۔ صفوں کی شکل میں قرآن پاک سناتے ہیں بلکہ صفوں کی صفیں ان کی قرآن پاک سن رہی ہوتی ہیں‘ جتنا لمبا ان کا قیام ہوتا ہے شاید ہم اتنا لمبا قیام نہ کرپائیں‘ ہمارے جسم کی طاقت ہمارا ساتھ نہ دے سکے اور ان سے جتنا لمبا رکوع ہوتا ہے ہم انسان سوچ بھی نہ سکیں اور جس لگن کیساتھ اور جس قرات کے ساتھ وہ قرآن پڑھتے ہیں‘ محسوس ایسے ہوتا ہے کہ قرآن بول رہا ہے تقریباً پانچ رمضان پہلے میں نے صحابی بابا سے تقاضا کیا آپ نے خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سنا ہے تو وہ قرآن مجھے سنائیں جو آپ نے سنا ہے تو فرمانے لگے بوڑھا ہوگیا ہوں‘ قرآن تو یاد ہے لیکن لمبی رکعات اور لمبے رکوع‘ قیام و سجود کی اب زیادہ ہمت نہیں‘ تو میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ مختصر رکعات اور مختصر قیام میں مجھے سنائیں۔ خیر انہوں نے میری بات نہ ٹالی اور نہایت شفقت فرمائی۔ انہوں نے قرآن پاک سنایا۔ دس دن میں پورا ختم القرآن ہوا‘ ایسی طرز اور ایسا پڑھنے کا انداز کہ لفظ لفظ سینے میں اتر گیا۔ حرف حرف سے قرآن کی حقیقی خوشبو محسوس ہوئی اور طبیعت ایسی سرشار ہوئی کہ عقل حیران ہوگئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کیا واقعی ایسا قرآن پڑھا جاتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا قرآن کتابوں میں پڑھا‘ علماءسے سنا‘ تفسیر نے اس کی لذت اور چاشنی کو بیان کیا۔ لیکن جب میرے کانوں نے خود سنا تو میری عقل دنگ رہ گئی اور مجھے محسوس ہوا کہ واقعی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایسا قرآن پڑھا جاتا تھا۔ دسویں دن حاجی صاحب کی تقریباً پون گھنٹہ رقت آمیز دعا‘ جنات کے لشکر کے لشکر تھے‘ آہوں اور سسکیوں کا ایک سمندر تھا‘ پون گھنٹے کے بعد حاجی صاحب کی دعا ختم ہوئی‘ حاجی صاحب نے تقاضا کیا کہ میں دعا کروائوں‘ تقریباً بیس منٹ میں نے دعا کروائی اور وہ دعا کیا تھی خود مجھے محسوس نہیں ہوا کہ کیا الفاظ تھے‘ کیا کیفیات تھیں اور کیا آنسو بہاچکا تھا۔ اس مجمع کی جو کہ جنات کا لشکر کا لشکر آہوں کے ساتھ آمین کہہ رہا تھا‘ مرد بھی‘ عورتیں بھی‘ بوڑھے بھی‘ بچے بھی ....

Majzobi
15-05-2012, 03:33 PM
جوان بھی وہ سب شامل تھے۔ حاجی صاحب کا ختم القرآن ہندوستان کے پہاڑی علاقے مسوری میں تھا۔ حسب معمول گدھ کی شکل کی اڑن سواری مجھے وہاں لے گئی، چند ہی لمحوں میں اس نے وہاں مجھے پہنچایا، ختم القرآن ہو اور پھر حاجی صاحب کا ہو، کیا عجیب لذت، کیا عجیب مزہ، کیا عجیب چاشنی،میں اس وقت لکھ رہا ہوں لیکن آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ میرا قلم میرا ساتھ نہیں دے رہا اور میں رک رک جاتا ہوں اور ٹھہر ٹھہر جاتا ہوں میرے رونگٹے کھڑے ہورہے ہیں، مجھے وہ قرآن کی لذت سے آشنائی اور وہ دور جب حاجی صاحب نے خود قرآن سنایا اور صحابی بابا نے خود قرآن سنایا، آپ محسوس نہیں کرسکتے۔ ایک خاص چیز جو میں نے دیکھی کہ صحابی بابا کے قرآن پڑھنے کا انداز خالص عربی تھا جو میں نے حج کی حاضری میں وہاں کے آئمہ سے سنا وہاں کے آئمہ نے جس طرز پر قرآن پاک پڑھا بالکل وہی طرز انہی کا تھا اور بالکل وہی طرز اور وہی انداز صحابی بابا کا تھا۔
دعا کے بعد ایک خاص قسم کی مٹھائی جو کہ قوم جنات میں بنائی جاتی ہے جس میں زعفران، تل اور خاص قسم کی چیزیں ہوتی ہیں۔ انسانوں کی دنیا کا آدمی تو ایک لڈو کے برابر شاید نہ کھاسکے جبکہ ان کے ہاں من و کی من بنائی جاتی ہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ اور لاکھوں من خوب کھائی جاتی ہے۔ میں اس مٹھائی کی لذت، ذائقہ اور چاشنی کسی اور مٹھائی سے مشابہت دیکر بیان نہیں کرسکتا کیونکہ انسانوں کے پاس وہ مٹھائی ہے ہی نہیں۔ اس مٹھائی کو جنات اپنی زبان میں ڈبی کہتے ہیں۔ ڈبی وہ مٹھائی ہے جس میں دنیا کی قیمتی چیزیں ڈالی جاتی ہیں اور یہ مہنگی مٹھائی وہ خاص مواقع پر ہی بناتے ہیں۔ چونکہ صحابی بابا کا ختم القرآن تھا اور میں بطور خاص وہاں بلایا گیا تھا اس لئے انہوں نے بہت زیادہ اہتمام کیا اور ایسا اہتمام کہ میں اور آپ سوچ نہیں سکتے۔ ایک اور ختم القرآن میں مجھے جانا ہوا جو کہ حاجی صاحب کے بیٹے عبدالسلام کا تھا۔ عبدالسلام بھی صحابی بابا کی طرز پر قرآن پڑھتا ہے، جوان ہے زیادہ عمر نہیں ہے۔ جنوں کی کم عمر بھی دو ڈھائی صدی کی ہوتی ہے لیکن ڈیڑھ صدی، دو صدی، ڈھائی صدی کا جوان ہوتا ہے۔ عبدالسلام نے مجھے آیت دی کہ ختم القرآن میں سورة الناس کی آخری آیت من الجنة والناس کی تفسیر بیان کروں۔ اللہ کے نام کی برکت سے جب میں وہ تفسیر بیان کرنے بیٹھا تو ایسی لذت ملی اور ایسے راز و رموز اور عقدے کھلے اور بے شمار جنات وہ باتیں لکھ رہے تھے، تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ میں نے اس کے تفسیری نکات فصاحت و بلاغت کے ساتھ بیان کیے۔ بعد میں وہ سب لکھا ہوا انہوں نے مجھے دکھایا جو کہ ماشاءاللہ چھپ کر جنات کی دنیا میں کتابی شکل میں بھی آچکا ہے۔ اس کا نام بھی انہوں نے ”تفسیر من الجنة والناس،، رکھا ہے۔ ساڑھے تین سو صفحات کی وہ کتاب بنی ہے۔ میں حیران ہوں کہ اللہ پاک نے اپنے خاص نام کی برکت سے میرا سینہ ایسے کھول دیا کہ میری عقل خود دنگ رہ گئی کہ میں حیران ہوگیا کہ کیا واقعی میں نے یہ بیان کیا؟
میں نے دو نفل شکرانے کے ادا کیے کہ اللہ تیرا شکر ہے، واقعی تو نے جب سینہ کھولنا ہوتا ہے تو ایسے ہی کھولتا ہے اور اللہ پاک نے میرا سینہ کھولا۔ ایک بات اسی مجمع میں مجھ تک پہنچی اور وہ یہ پہنچی کہ ہمارے اکثر جنات مدارس میں پڑھتے ہیں اور اکثر جنات ختم القرآن میں کسی اچھے اور متقی قاری کی تلاوت سننے ضرور جاتے ہیں، نماز تراویح میں جتنا زیادہ رش انسان نمازیوں کا ہوتا ہے اس سے ہزار گنا زیادہ ہجوم جنات کی قوم کا ہوتا ہے اور قوم جنات قرآن سننے میں عاشقانہ اور والہانہ انداز لیے ہوئے ہوتی ہے۔ کوئی مسجد ایسی نہیں ہوتی جس میں جنات قرآن نہ سنتے ہوں اور کوئی جگہ ایسی نہ ہوگی جہاں رمضان المبارک میں جنات قرآن نہ پڑھتے ہوں۔ وہ پڑھتے بھی بہت زیادہ ہیں، وہ سنتے بھی بہت زیادہ ہیں ،وہ سمجھتے بھی بہت زیادہ ہیں۔ ان کے اندر تفسیری علوم ( قرآن پاک کے متعلق) بہت زیادہ ہیں۔ ایک رمضان میں میں اپنے ایک خاص دوست کو جنات کے ختم القرآن میں لے گیا۔ انسان دوست میرے ساتھ اس اڑن سواری میں بیٹھے، خوفزدہ تھے، ڈر رہے تھے تو میں نے ان کے اوپر سانس روک کر سات دفعہ ”ولایودہ حفظہما وھوالعلی العظیم،، پڑھ کر دم کیا تب انہیں سکون آگیا جب انہوں نے وہاں کے کھانے کھائے، ختم القرآن کے مناظر دیکھے، سواری کو اڑتے، سواری کو اندھیرے کے پاتال سے نکلتے اور عجیب و غریب جنات کی خوفناک شکلوں کو دیکھا چونکہ میں ساتھ بیٹھا تھا اور میرا روحانی ہاتھ تھا اس لیے انہیں ہلکا سا خوف تو ہوا لیکن زیادہ خوفزدہ نہ ہوئے، ورنہ تو عام آدمی کا ہارٹ فیل ہوسکتا ہے، اتنے زیادہ خوفناک مناظر ہیں، قلم کی دنیا میں بیان کرنا تو بڑی بات ان کیلئے قلم اٹھانا ہی بڑی بات ہے، وہ بیان سے باہر ہے اور انہوں نے جب کھانے کھائے تو حیران ہوگئے کہ ایسے کھانے تو دنیا میں ہیں ہی نہیں، مجھے کہاں سے مل گئے اور وہ کھائے جاتے تھے اور حیران ہوتے جاتے تھے۔ میں نے انہیں کہا کہ کھانا بس یہیںکھانا ہے اس کو ساتھ نہیں لے جانا۔ انہوں نے کھانا کھایا اور خوب جی بھر کے کھایا، پھر میں انہیں واپس لایا اور سختی سے تاکید کی کہ کسی سے تذکرہ نہ کرنا ورنہ تمہاری موت واقع ہوجائے گی کیونکہ اس طرح کے کئی واقعات میری آنکھوں کے سامنے آچکے ہیں اور واقعی انہوں نے کسی سے ابھی تک بیان نہیں کیا۔
یہ کائنات کا سربستہ راز ہے جو کچھ کچھ میں آپ کے سامنے بیان کررہا ہوں، سارے بیان نہیں کرسکتا ایک تو اجازت نہیں، دوسرا میری یہی باتیں ہی بہت سے لوگوں کو ہضم نہیں ہورہیں، برتن بہت چھوٹے ہیں، کیسے بیان کرسکتا ہوں۔ اس لیے سب سے بہتر چیز خاموشی اور سکون ہے جو کہ میرے مزاج کا حصہ ہے۔ رمضان کے کچھ معمولات آج کے صفحات میں میں نے آپ کے سامنے بیان کیے کہ رمضان المبارک جنات کے ہاں کیسے گزرتا ہے اور جنات رمضان المبارک سے کیسے استفادہ کرتے ہیں اور جنات رمضان المبارک کا والہانہ کیسے استقبال کرتے ہیں ان کی عیدکی نماز میں بھی میں شامل ہوا، عید کیا تھی، نماز کیا تھی، واقعی ایک سماں تھا جس میں برکت، رحمت اورکرم کا دریا بہہ رہا تھا۔ ان کی نماز بہت طویل ہوتی ہے، میں اس میں شامل ہوا اور عید کے بعد ایک دوسرے کو طرح طرح کے کھانے اور میٹھی ڈشیں کھلاتے ہیں، ان کھانوں اور میٹھی ڈشوں کے اندر طرح طرح کے ذائقے اور خوشبوئیں ہوتی ہیں یہ پھر کبھی بیان کروں گا۔ اللہ پاک جل شانہ جنات کی طرح ہمیں بھی رمضان المبارک کا ادب اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Majzobi
15-05-2012, 03:33 PM
اس دفعہ رمضان المبارک میں تو واقعی ختم قرآن کے اتنے سلسلے چلے کہ خود میں تھک گیا۔ آخر میں انسان ہوں اور وہ قوم جنات‘ میں اپنی مصروف زندگی میں ان کا ساتھ کیسے دے سکتا ہوں۔ لیکن ہر جن کا اصرار یہی تھا کہ آپ ہمارے ختم القرآن میں آئیں۔ مجبوراً مجھے جانا پڑا۔ ادھر میں تراویح پڑھ کے جسم ٹوٹا تھکا اپنے گھر آتا پانی کے چند گھونٹ پیتا‘ اُدھر ان کا تقاضا کہ ہمارے ہاں ختم القرآن پر چلیں۔ بعض راتیں تو ایسی تھیں کہ ایک ایک رات میں مجھے نو نو ختم القرآن کی مجالس میں حاضری دینی پڑی اور بعض اوقات سحری مجھے جنات کے پاس کرنی پڑی۔ میں جو چیز خاص طور پر آپ حضرات کو بتانا چاہوں گا وہ اُن حضرات کا قرآن سے تعلق‘ قرآن سے محبت اور قرآن سے الفت ہے میرا مشاہدہ اور سوفیصد مشاہدہ یہی ہے کہ جتنے بڑے بڑے قاری علماءمحدثین‘ مفسرین اور قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے والے جنات کے پاس ہیں شاید انسانوں میں صدیوں میں بھی پیدا نہ ہوئے ہوں۔
میں ایک کم علم رکھنے والا شخص لیکن میری تقریر کو وہ ایسی دل گرفتگی اور شوق سے سنتے ہیں کہ ان پر گریہ اور آنسو جاری ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات سسکیاں اور اکثر آہ وبکا کی آوازیں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ حتیٰ کہ ابھی تیرہ رمضان کو درس قرآن اور تقریر کے دوران میں نے جنات کے بچوں کو روتے ہوئے دیکھا پھر میرے اندر ایک خیال آیا کہ میرے اندر تو قوت تاثیر نہیں ہے بس ان حضرات کا قرآن سے لگائو اور محبت ہی ہے جس نے انہیں اتنا ذوق عطا کیا ہے اور یہ ذوق واقعی ان کے اندر بہت زیادہ ہے۔
اسی رمضان میں کل من علیہا فان .... کی تفسیر میں نے بیان کی بس اللہ پاک کی طرف سے مضامین کی آمد تھی اور میں بیان کرتا چلا گیا بس بیان کیا تھااللہ کی طرف سے کچھ توجہات تھیں۔ اتنی آہ وبکا تھی اور اتنا رونا تھا کہ کئی دفعہ مجھے خاموش ہونا پڑا کہ خود میری آواز اُس رونے میںدب گئی۔ اور مجھے چپ کرانا پڑا۔ ایک بار تو میں نے حاجی صاحب کے بیٹے عبدالسلام کی ذمہ داری لگائی کہ وہ ان حضرات کو چپ کرائیں۔ لیکن وہ چپ ہوہی نہیں رہے تھے موت کا تذکرہ‘ آخرت کا تذکرہ‘ قبر کا تذکرہ اور خاتمہ بالخیر یہ ان حضرات کیلئے ایک جان لیوا مضمون اورمنظر تھا خود مجھے ایک ایسا احساس ہوا کہ موت کی حقیقت کو جتنا مسلمان جنات جانتے ہیں شاید ہم مسلمان انسان بھی کم جانتے ہیں۔ اسی تقریر کے بعد ایک بوڑھا جن جس نے اپنی عمر ساڑھے سترہ سو سال بتائی اور ساتھ والے جنات نے اس کی تصدیق بھی کی اور انوکھی بات یہ ہے کہ ساری زندگی اس کی سومنات کے مندر کے پجاری کے طور پر گزری کوئی دوست اس کو میری تقریر سنوانے کیلئے وہاں سے لایا تھا۔ جب اس نے کل من علیہا فان.... کی تفسیر اور موت‘ جہنم‘ قبر آخرت کا تذکرہ سنا تو اس کی چیخیں نکل گئیں۔
بعد میں میرے پاس آیا اور کہنے لگا میںمسلمان ہونا چاہتا ہوں اور میں نہیں بلکہ میرے ساتھ سومنات کے اور جنات پجاری بھی مسلمان ہونا چاہتے ہیں میں نے ان سب کو بلوالیا ہے میں نے انہیں کلمہ شہادت پڑھایا‘ایمان کی شرائط پڑھائیں اور ساتھ بیٹھے ایک عالم جن جن کا نام نعمان تھا انہیں تاکید کی کہ ان کے قبیلے میں جاکر انہیں اسلام ایمان اور اخلاق سکھائیں جس وقت میں انہیں کلمہ پڑھا رہا تھا وہ ہندو جنات کا ایک بہت بڑا گروہ تھا جب میں نے ان کی زبانوں سے کلمہ شہادت سنا میں خود بہت پھوٹ پھوٹ کر رویا کہ یااللہ میں اس قابل کہ صدیوں پرانے سومنات کے پجاری میرے ہاتھوں کلمہ پڑھیں اور انہیں ایمان کی دولت نصیب ہو یہ تو نے کتنی بڑی سعادت میرے ہاتھوں لکھی ہے وہ ایسا جھوم جھوم کرکلمہ پڑھ رہے تھے کہ خود میرا دل یہی چاہ رہا تھا کہ میں بھی کلمہ پڑھتا رہوں آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور ان کی چیخیں اور توبہ عرش الٰہی کو ہلا رہی تھیں۔ آخر میں ایک بار انہوں نے پھر دعا کا تقاضا کیا اب جو دعا ہوئی دل کی کیفیت ہی کچھ اور تھی اور ان حضرات کی آمین.... ظاہری طور پر بھی اور دل میں بھی ایک احساس ہورہا تھا کہ اللہ جل شانہ نے میری دعا کو سن لیا قبول فرمالیا‘ عرش الٰہی پر اٹھا لیا ان میں سے ہر جن کو میں نے ابتدائی سبق پانچ کروڑ دفعہ کلمہ پڑھنے کا دیا کہ پانچ کروڑ دفعہ کلمہ پڑھ کر پھر مجھ سے آئندہ سبق لیں اور باقی اپنی دینی زندگی عالم دین نعمان صاحب سے سیکھتے رہیں۔
جب میں اٹھ رہا تھا چونکہ اتنے لاکھوں جنات سے میں مصافحہ نہیں سکتا تھا تو میں نے سب سے اجتماعی سلام کہا اور جب وعلیکم السلام کا جب میں نے جواب سنا تو دل میں ایک احساس سا ہوا کہ یااللہ انہوں نے مجھ پر سلام بھیجا ہے اے اللہ اپنی بارگاہ کو اپنی میں قبول فرما کر پوری امت کو سلامتی پورے عالم کو سلامتی اور ہمارے ملک کو سلامتی عطا فرما۔ ویسے بھی جناتی دنیا میں سلام کرنے کا ذوق بہت زیادہ ہے۔ مجھے ایک بوڑھے جن نے جس کو میں نہیں جانتا لیکن وہ مجھ سے بیعت ہے۔ ایک دفعہ بتایا جس کھانے سے پہلے اکیس دفعہ یَاسَلاَمُ پڑھ لیا جائے یا دوائی کھانے سے یا کھانا کھانے سے پہلے یا کسی سفر سے پہلے یا کسی کام سے پہلے یا کسی مہم سے پہلے یا کسی مقصد سے پہلے اکیس دفعہ یَاسَلاَمُ پڑھ لیا جائے وہ کھانا شفاءاور صحت بن کر‘ وہ دوائی شفاءو صحت حتیٰ کہ بہت جلد وہ دوائی چھوٹ کر مکمل شفاءیابی ہوجاتی ہے اور جس مہم میں جائے‘ جس مقصد کیلئے جائے وہاں کی تکلیفوں سے دور ہوکر خیریں اس کا مقدر ہوجاتی ہیں اور برکتیں اور رحمتیں اس کے قدم چومتی ہیں اور مزید بوڑھے جن نے بتایا کہ جو شخص گھر میں داخل ہوتے ہوئے صرف پانچ یا سات بار یَاسَلاَمُ پڑھے گا گھر سے جھگڑے‘ تکلیفیں بیماریاں پریشانیاں اور مسائل ختم ہوجائیں گے‘ مشکلیں ختم ہوکر آسانیاں اور برکتیں اس گھر میں آجائیں گی اور واقعی میں نے جس جس کو یہ دونوں عمل بتائے اور جس نے بھی کیے انہوں نے اس کے کمالات سوفیصد پائے بلکہ اس سے بھی زیادہ پائے۔

Majzobi
15-05-2012, 03:34 PM
اسی رمضان میں جیسے کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ رمضان المبارک کی تقاریب مسلسل بیانات‘ دعا اور ختم القرآن میں جانا گزشتہ رمضان کی نسبت زیادہ ہوا۔ ٹھٹھہ کی قدیمی جیل اور جنات کا عقوبت خانہ جہاں بدمعاش اور شریرجنات کو قید کیا جاتا ہے اور ان کو سزا دی جاتی ہے۔ مجھے ایک دوست جن کے ذریعے پیغام موصول ہوا کہ وہاں کے ایک قیدی جن جس کا نام حافظ عبداللہ ہے نے قرآن ختم کیا ہے اس کی خواہش ہے آپ ختم القرآن میں برکت کیلئے چند الفاظ بیان کریں اور دعا کرائیں۔
باوجود مصروفیات کے میں 29 رمضان کی رات کو ٹھٹھہ کے میلوں پھیلے صدیوں پرانے قبرستان مکلی میں جنات کی مخصوص سواری کے ذریعے حاضر ہوا۔ حافظ عبداللہ دراصل اپنے کیے کی ایک سزا کاٹ رہا ہے اس کا جرم یہ تھا کہ ایک رات وہ اپنی خالہ کے گھرکی طرف سفر میں جارہا تھا ایک حسین خاتون اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ سوئی ہوئی تھیں چاندنی رات اس خاتون کے کھلے بال اور حسن و جمال نکھرا ہوا تھا۔ اس کی نیت میں خرابی پیدا ہوئی اس نے اس خاتون کے ساتھ نازیبا حرکات کیں۔ دل بہک گیا اور طبیعت مچل گئی دراصل وہ خاتون ایک صالح اور بہت نیک تھی اس نے اور تو کچھ نہیں کیا یَاقَہَّارُ کثرت سے پڑھنا شروع کردیا اور اتنا پڑھا کہ وجد اور وجدان سے بھی آگے نکل گئی بس اس کا کام سارا دن یَاقَہَّارُ پڑھنا تھا اور اللہ سے فریاد کرنا تھا کہ اے اللہ! یہ جن جس نے میری عزت پر ہاتھ ڈالا ہے میری پہنچ سے تو بالا تر ہے کیا یااللہ تو بھی بے بس ہے؟ اے اللہ ! میں اسے ہرگز معاف نہیں کرونگی اسے اپنی غیبی پکڑ میں لے اور میرا انتقام لے۔
بس پھر قدرت کی اندیکھی لاٹھی حرکت میں آئی۔ حافظ عبداللہ کا اپنے قریبی چچازاد سے کچھ گھریلو معاملات میں جھگڑا ہوگیا اور اس کے ہاتھوں ناچاہتے ہوئے وہ چچازاد قتل ہوگیا اب یہ اسی کی سزا بھگت رہا ہے کیونکہ دل کا اچھا‘ اندر کا نیک ہے‘ پہلے عورت سے غلطی کربیٹھا پھر اس کی بددعا نے اس انجام تک پہنچا دیا اور ویسے بھی یَاقَہَّارُ کا وجد کی حالت میں ہزاروں لاکھوں دفعہ پڑھنا جنات کو ایسے قہر میں مبتلا کرتے ہیں اور جادو کی کاٹ کو ایسے انداز سے واپس پلٹاتے ہیں کہ انسان گمان نہیں کرسکتا ہاں کوئی دیوانہ وار پڑھنے والا ہو تو۔ اب حافظ عبداللہ کی قید کٹ رہی ہے وہ ایک ایک دن سوچ سوچ کر گن رہا ہے جن ہے خطا کا پتلا ہے‘ اس کی زندگی میں بہت زیادہ نیکیاں لیکن بعض اوقات بعض خطائیں ایسی ہوتی ہیں جو نیکیوں کے ترازو سے بڑھ کر انسان کو کسی عذاب اور بلا میں مبتلا کردیتی ہے بالکل یہی حال حافظ عبداللہ جن کا ہوا۔ آپ یقین جانیے جب میں نے اس کا قرآن سنا اور اس قرآن کے اندر جب آیت وعدہ یعنی جس سے مومنوں سے جنت‘ نصرت‘ انعامات اور اللہ کی مدد کا وعدہ ہے تو جب یہ آیت پڑھتا تو اس کے لہجے کی رعنائی اور خوشی بشاشت ایسے ٹپکتی اور ایسے واضح ہوتی کہ جیسے ابھی اللہ کی رحمت مدد اور وعدے اتر رہے ہیں اور جب آیات وعید پڑھتا یعنی جہنم‘ عذاب اللہ کی مدد کا ہٹنا‘ دھمکی‘ ڈر خوف جب یہ آیات آتیں تو اس کے آنسو ہچکیاں‘ سسکیاں ایسی کیفیت کہ خود سننے والے بھی دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔
اس دفعہ پورے ٹھٹھہ کی جیل کو حافظ عبداللہ نے تمام مسلمان جنات کو تراویح میں قرآن سنایا۔ اور تمام جنات مستقل بیس تراویح ہی پڑھتے ہیں ختم القرآن کے موقع پر جب میں نے حافظ عبداللہ سے اس کی گرفتاری اور قید کے واقعات سنے تو دل میں اس کی ذات کیلئے ایک ہمدردی پیدا ہوئی اور ہمدردی بھی ایسی پیدا ہوئی کہ جی میں آیا کہ میں اسم یَاقَہَّارُ کے کمالات‘ برکات‘ ثمرات اور انوکھے کرشمات بیان کروں۔ کیونکہ اسم یَاقَہَّارُ ہی کی وجہ سے حافظ عبداللہ آج جیل کی سخت قید کاٹ رہا ہے اور اس کیلئے ترس اس لیے آیا کہ اے کاش یہ ایسا نہ کرتا تو آج یہ کہیں اور ہوتا۔ اتنی کڑی اور سخت جیل میں نہ ہوتا۔
میرے جی میں تھا کہ اسم یَاقَہَّارُ کے کمالات آج کے بیان میں جنات کے لاکھوں کے مجمع میں وضاحت سے بیان کروں لیکن اس سے پہلے ایک انوکھا واقعہ کچھ یوں ہوا کہ ایک بوڑھا قیدی جن جو کہ ہندو تھا وہ میرے قریب آیا ہاتھ ملایا‘ بوسہ دیا اور رونے بیٹھ گیا میں نے اس سے پوچھا کیا درد آپ کے اندر۔ مجھے کہنے لگا آپ اسم یَاقَہَّارُ کے کمالات انسانوں سے بیان نہ کریں۔ مجھے خبر ہے آپ عبقری رسالہ میں لکھتے ہیں اور جس سے لاکھوں لوگ فیض پاتے ہیں اگر اسم یَاقَہَّارُ کے کمالات کا انسانوں کو پتہ چل گیا تو انسان جنات کو بھون کر رکھ دیں گے پھر کہنے لگے میری عمر ساری کالی دیوی کے چرنوں میں گزری ہے ایک جرم کی پاداش میں۔ میں کلکتہ کے قریب رہنے والا ہوں وہاں سے لاکر یہاں ہمیں قید کردیا گیا ہے کیونکہ انسانوں کے درمیان ملکوںکی سرحدیں ہیں ہمارے ہاں ملکوں کی کوئی سرحدیں نہیں ہمارے لیے پوری دنیا سارے ملک‘ سارے صوبے ایک ہی ملک کی مانند ہیں۔ ہمارے ایک بہت بڑے پنڈت تھے جو کہ انسان تھے اور یہ بات اس دور کی ہے جب محمدشاہ رنگیلے کا دور تھا وہ پنڈت اپنے علوم اور کمالات میں ایسا ماہر تھا کہ محمدشاہ رنگیلا بادشاہ بھی اس کی ایسی قدر کرتا تھا کہ شاید ماں کی بھی کم کرتا ہو۔
محمد شاہ رنگیلا جہاں اپنے رنگیلے کردار کی وجہ سے رنگیلا تھا لیکن اس میں ایک ایسی خوبی تھی جو کم بادشاہوں میں تھی کہ وہ صاحب کمال کوئی بھی شخص ہو اور کسی بھی فن کا ہو اس کا بہت قدر دان تھا۔ تو ہمارے ہندو پنڈت جن کا نام پنڈت بھوگا رام تھا سے ایک دفعہ سوال کربیٹھا کہ ماہراج کوئی ایسی چیز بتائیں کہ جو جنات اور جادو کا آخری ہتھیار ہو‘ ننگی تلوار ہو اور جب بھی اس کو پڑھا جائے تو جادو جنات ایسے ٹوٹے جیسے میرے ہاتھ سے جام پتھر کے فرش پر ٹوٹ کر چکنا چور ہوجاتا تھا۔ پنڈت بھوگا رام اپنی جاپ میں تھی سر اٹھایا ان کی سرخ آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے تو پنڈت نے کہا آپ کو ایک چیز بتاتا ہوں کیونکہ آپ مسلمان ہیں

Majzobi
15-05-2012, 03:34 PM
تو آپ کو ایک ایسی اسلامی چیز دیتا ہوں جو یقینا آپ کو زندگی کے وہ کمالات دے جو آپ کو اور آپ کی نسلوں کو سدا اور صدیوں یاد رہے محمد شاہ رنگیلا بادشاہ ایک دم چوکنا ہوکر بیٹھ گیا۔ اپنے تاج کو اتار کر ایک طرف رکھ دیا اور کانوں کو قریب لے گیا تو پنڈت بھوگا رام بولا شہنشاہ اعظم آپ کے قرآن میں ایک لفظ ہے قہار یہ ایک ایسا لفظ ہے جس کو آپ یَاقَہَّارُ جب بھی پڑھیں گے یہ شریر جادوگر‘ بدکار‘ جنات اور جادوگروں پر ایک ننگی تلوار ثابت ہوگی۔ آپ کے اوپر جادو کسی نے کردیا آپ اس کو توڑنے پر تیار ہیں کوئی جن آپ کا گھر‘ در اور دولت کا دشمن ہے اور آپ چاہتے ہیں اس جن سے چھٹکارا مل جائے تو ہرگز ہرگز پریشان نہ ہوں آپ فوراً اس اسم یَاقَہَّارُ کو اپنی زندگی کا ساتھ بنالیں‘ پاک ناپاک ہروقت اس کو وجد کی حالت میں پڑھیں‘ یعنی ڈوب کر پڑھیں اور بے قراری‘ بے چینی سے پڑھیں۔ بس جب بھی پڑھیں گے آپ کو اس کا کمال ملے گا تھوڑے عرصے میں یا زیادہ عرصے میں لیکن کمال ضرور ملے گا۔ وہ ہندو بوڑھا جن کہنے لگا یہ گفتگو میں نے خود سنی اور اس کے بعد محمد شاہ رنگیلے نے اپنی بھری دربار میں یہ واقعہ سب کو سنا دیا۔ اس کے دربار میں ہندو بھی تھے‘ مسلمان بھی تھے اور سکھ بھی تھے بوڑھا ہندو جن رو کر کہنے لگا مجھے یاد ہے رنگیلے کے دور میں جنات پر اس اسم کی وجہ سے جو قہر برسا وہ شاید پھر زندگی میں کبھی کسی پر نہ برسا اس لیے میری خواہش ہے کہ آپ جنات کے پیرومرشد ہیں اور آپ کو علامہ لاہوتی پراسراری ایسے نہیں کہا جاتا‘ جنات کے قبائل در قبائل آپ کے مرید اور غلام ہیں لیکن براہ کرم اسم یَاقَہَّارُ کے کمالات انسانوں تک نہ پہنچنے دیجئے۔ اگر وہ انسانوں تک پہنچ گئے تو انسانوں نے جنات کی نسلوں کی نسلیں جلا کر رکھ دینی ہیں۔

کیونکہ شریف جنات کم اور شریر جنات بہت زیادہ ہیں۔ میں نے جب بوڑھے ہندو جن کی یہ بات سنی تومیں نے ان کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نے مجھ ایک ایسا تاریخی واقعہ سنایا جس نے مجھے کافی تجربہ دیا لیکن میں یہ وعدہ نہیں کرتا کہ میں یہ واقعہ انسانوں تک نہ پہنچائوں کیونکہ انسانوں کا درد میری طبیعت کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے میں یہ وعدہ نہیں کرسکتا پھر اسم یَاقَہَّارُ کے واقعات میں نے جنات کو بتائے اور ختم القرآن میںمیں نے حافظ عبداللہ کو کہا میراجی کہتا ہے کہ حافظ صاحب آپ دعا کریں ان کا اصرار تھا کہ ہم نے تو دعا کیلئے آپ کو بلایا ہے ان سے عرض کیا میرا حکم ہے حکم کو مانتے ہوئے حافظ عبداللہ نے سوا گھنٹے کی دعا جس میں سسکیاں اب ختم ہوچکی تھیں اب تو آہ اور چیخ و پکار تھی اور ایک ہجوم انتیس رمضان کی رات کو اللہ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے رو رہا تھا۔ اس کی دلدوز دعا درد بھرے الفاظ اور غم میں ڈوبی ہوئی فریادیں عرش الٰہی کو ہلا رہی تھیں‘ وہاں ہر طرف جنات ہی جنات تھے سوائے مجھ ایک انسان کے.... اور ایک عجیب منظر تھا ....ایک عجیب سماں تھا.... اور ایک بالیقین کیفیت تھی کہ اللہ پاک جل شانہ نے سب دعائیں قبول فرمالیں اور ہر طرف رحمت اور مغفرت کا اعلان ہوگیا یقین بھی تھا‘گمان بھی تھا اور دل کو اطمینان بھی تھا۔ میں نے ان جنات کے سامنے اسم یَاقَہَّارُ کے جو کمالات بیان کیے اور یہ گفتگو تقریباً سوا تین گھنٹے تک چلتی رہی‘ اس میں سے کچھ آپ حضرات کی خدمت میں پیش کیے ہیں۔

وہ خاص خاص عمل جو یَاقَہَّارُ کے سلسلے میں میں نے جنات کے لاکھوں ہجوم میں بیان کیے ان میں ایک یہ ہے جو شخص یاقہار کو جدا جدا حرف میں لکھے یعنی ”ی“ علیحدہ ”ا“ علیحدہ ”ق“ علیحدہ” ہ“ علیحدہ پھر”ا“ علیحدہ اور”ر“ علیحدہ اور پھر اسی طرح دوسری دفعہ یعنی کل اکتالیس دفعہ جدا جدا حروف میں لکھے اور کالی سیاہی گھلنے والی ہو جو پانی میں گھل جائے اس کو تعویذ بنا کر گلے میں بھی ڈال سکتا ہے‘ پی بھی سکتا ہے اور اپنے تکیے کے اندر بھی رکھ سکتا ہے جادو کا پرانا مارا ہوا‘ نظر بد کا ڈسا ہوا اور جنات کا بہت متاثر ہو ایسے گھر جن میں جنات آگ لگا دیتے ہیں‘ کپڑے کاٹ دیتے ہیں‘ کپڑوں پر خون کے یا گندی چیزوں کے نشان پڑ جاتے ہیں یا گھروں میںجگہ جگہ پاخانہ اور پیشاب ملتا ہے یا آوازیں آتی ہیں یا گھر بھر کو سونے نہیں دیا جاتا۔ گھر میںبیماری‘ پریشانی ایک مشکل سے نکلنا دوسری میں اور دوسری سے نکلنا تیسری میں.... ایسے تمام معاملات میں یَاقَہَّارُ کا اکتالیس دفعہ کا لکھا ہوا نقش نہایت موثر اور آزمودہ ہے آپ کیلئے ایک بات اور انوکھی ہوگی جنات بھی ایک دوسرے پر بہت جادو کرتے ہیں۔ مجھے ایک پڑھے لکھے عالم جو کہ سہارن پور کے ایک بڑے مدرسے میں اٹھارویں صدی میں پڑھے تھے انہوں نے بتایا کہ یَاقَہَّارُ کا یہ نقش جب تک ہم اپنے گھروں میں لگاتے ہیں کسی جن کا جادوئی وار ہمارے اوپر اثر نہیں کرتا اور اگر ہم اتار دیں تو اس کا وار اثر کرجاتا ہے۔

لہٰذا ہم بہت اہتمام سے یَاقَہَّارُ کا نقش گھروں میں ہر جگہ لگاتے بھی ہیں اپنے بچوں کے گلے میں ڈالتے بھی ہیں اور اس کو دھو کر اس کا پانی پیتے ہیں حتیٰ کہ اپنے کھانے پینے کی ہر چیز میں یہ پانی ڈالتے ہیں اور پانی بڑھاتے چلے جاتے ہیں مہینوں یہ نقش پیتے ہیں جب نقش بوسیدہ ہوجاتا ہے مزید لکھ کر اس میں ڈال دیتے ہیں اورپانی بڑھاتے جاتے ہیں اپنے گھروں میں چھینٹے بھی مارتے ہیں۔ اس عالم جن کی بات سننے کے بعد میں نے اس کو ایک بات سنائی کہ میرے پاس ایک واقعہ ایسا ہوا کہ جنات گھر میں پتھر مارتے تھے‘ مٹی کے ڈھیلے مارتے‘ گائے بھینس کا گوبر حتیٰ کہ بلی اور کتے کا پاخانہ جگہ جگہ گھر میں بکھیر دیتے‘ جگہ جگہ پیشاب کردیتے گھر بھر میں ایک عجیب و غریب افونت تھی اور غلاظت تھی اس عفونت اور غلاظت کی وجہ سے گھر میں رہنا دوبھر تھا۔ دنیا کا ہر علم اور اس کی کوشش کرکے دیکھ لی تھی کوئی فائدہ نہیں ہوا بہت عامل آئے کچھ تو ایسے تھے اپنا بیگ بھی چھوڑ کر بھاگ گئے جنات نے انہیں رہنے نہیں دیا اور جنات خود ان کے پیچھے پڑگئے۔

Majzobi
15-05-2012, 03:35 PM
جب یہ ہر طرف سے مایوس ہوگئے تو میں نے انہیں یَاقَہَّارُ ہر نماز کے بعد ایک سو اکیس دفعہ اول و آخر تین دفعہ درود شریف اور اس کا نقش پینے پہننے اور گھروں میں لگانے کیلئے دیا اور مزید تاکید کی کہ اس پانی کے گھر میں چھینٹے ماریں‘ چھڑکیں اور کھانے پینے کی ہر چیز میں اس کو شامل ضرور کریں اورایسا ہی ہوا۔ دن اور رات چلتے رہے‘ ان کے گھر سے یہ مصیبتیں اور جناتی دنیا ایسی گئی کہ کہنے لگے کہ ہم نے خواب میں اب دیکھنا شروع کردیا ہے کہ وہ چیزیں آآ کر ہماری منتیں کرتی ہیں کہ آپ یہ پڑھنا چھوڑ دیں اور یہ عمل کرنا چھوڑ دیں اور اپنے گھروں سے نقش ہٹا دیں اور اپنے گلے سے نقش اتار دیں اور اس نقش کو پینا چھوڑ دیں انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا کہ جنات ایسے کہتے ہیں میں نے کہا ہرگز نہ کرنا ان کا مقصد ہے یہ ان اعمال سے خالی کرکے تمہارے اوپر کوئی بڑا حملہ کرنا چاہتے ہیں لہٰذا اپنے عمل میں لگے رہیں اور پہلے سے زیادہ کوشش محنت اور توجہ اور دھیان سے اس کو پڑھتے رہیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اللہ کی رحمت سے ان کے مسائل حل ہوگئے۔ آج وہ گھرانہ اُس سوسائٹی میں سب سے زیادہ پرسکون گھرانہ ہے۔ ایک پلاسٹک فیکٹری کے مالک نے مجھ سے رابطہ کیا کہ میرا مال پڑا پڑا خراب ہوجاتا ہے اس میں آگ لگ جاتی ہے‘ مشینیں ٹوٹ جاتی ہیں‘ ہر وقت خراب رہتی ہیں‘ کام بنتے بنتے بگڑ جاتے ہیں ملازم بھاگ جاتے ہیں‘ فیکٹری میں ایک وحشت‘ خوف اور مستقل پریشانی رہتی ہے‘ آپس میں لڑائی جھگڑے اور یونین بن گئی ہے۔ رزق آتا ہے لیکن برکت نہیں ہے ‘ رزق رکتا نہیں ہے۔ بعض اوقات فیکٹری میں رہنے والے ملازم طرح طرح کے انوکھے واقعے دیکھتے ہیں‘ کوئی بھیڑ ہے کوئی بکری ہے‘ کوئی کتے ہیں مستقل آپس میں کھیل رہے ہیں جب قریب جاتے ہیں تو وہ چیزیں غائب ہوجاتی ہیں۔
مزید کچھ لوگوں نے تویہاں تک دیکھا کہ کوئی میت ہے اس پر بہت سے لوگ رو رہے ہیں خواتین کھلے بالوں کے ساتھ بین کررہی ہیں‘ ان کا رونا اس حد تک بڑھ جاتا ہے خود دیکھنے والے کو بھی رونا آجاتا ہے وہ حقیقت کو بھول جاتا ہے یہ سب کچھ حقیقت ہے یا سچ ہے جھوٹ ہے یا دھوکہ ہے وہ روتے روتے دیوانہ ہوجاتا ہے اور جب قریب جاتا ہے تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔
وہ حیران ہوتا ہے کہ دور سے قہقہوں کی آواز آتی ہے اور یہ آواز آتی ہے کہ اس جگہ کو چھوڑ جائو یہاں بہت پہلے ہمارا مندر ہوتا تھا پھر اس کو لوگوں نے مسمار کردیا اب اس جگہ فیکٹری بن گئی لہٰذا اب تمہاری خیر اس میں ہے کہ اس جگہ کو چھوڑ کر یہاں سے چلے جائو۔ ملازم بیمار ہوجاتے ہیں ان کو تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی دوا سے ٹھیک ہی نہیں ہوتیں وہ تندرست نہیں ہوتے مستقل بے چین‘ بے قرار رہتے ہیں شفاءیابی کوئی امید نہیں آتی اب تو یہاں تک معاملہ ہوگیا ہے جو اس فیکٹری میں کام کرتے ہیں ان کے گھر بھر بیمار ہوتے ہیں‘ بچے بیمار‘ بیوی بیمار‘ گھر میں جھگڑے پریشانیاں شروع ہوگئی ہیں اور سب ملازموں کے دل میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے جو یہاں رہے گا برباد رہے گا یہاں سے چھوڑ جانے میں عافیت ہے لہٰذا سب ملازم اس بات کا عزم لیے ہوئے ہیں کہ ہمیں یہاں سے چھوڑ کر چلے جانا چاہیے اور بہت سے چھوڑ گئے اور بہت چھوڑنے کی تیاریوں میں ہیں۔ یہ غمناک کیس جب میرے سامنے آیا تو میں نے یَاقَہَّارُ لاکھوںکی تعداد میں پڑھنے کا کہا اور پھر اس کے نقش لگانے ‘پینے اور پہننے کو کہے اور حتیٰ کہ ہر مشین کے اوپر اکتالیس دفعہ کا یہ نقش چپکائیں اور جو ملازم نمازی ہیں ان سے کہیں کہ وہ یَاقَہَّارُمسلسل پڑھیں اور جو بے نمازی ہیں ان کو نماز کی ترغیب دیں اور ان سے بھی کہیں کہ یہ پڑھیں میں نے سارے جنات کو متوجے کرکے دعوے سے بات کہی کہ یہ عمل جب میں نے انہیں بتایا تو صرف پانچ ہفتے محنت کرنے سے فیکٹری کے اندر ایک دھماکہ ہوا اور بہت ساری مٹی اڑی اور چیخ وپکار شروع ہوئی‘ انہوں نے حیران ہوکر دیکھا تو کچھ تھا نہیں اور مٹی کا ایک بہت بڑا غبار دھماکے کے بعد ساری فیکٹری پر چھاگیا وہ میرے پاس پہنچے میں نے جنات کو تحقیق کیلئے بھیجا تو پتا چلا کہ وہ سب جن جل گئے اور ان میں ایک بہت بڑا دیو تھا جو ان کا سربراہ تھا یہ اس کے جلنے اورمرنے کی نشانیاں ہیں اور یہ چیخ و پکار اسی کی تھی۔
واقعی اس کے کمالات اور برکات اتنی زیادہ ہیں کہ میں اپنی عمر کے جتنے سال بھی بیت چکا ہوں اتنے سال اتنے مہینے اور اتنے دن جس میں ہر روز اس کی نئی کہانی اور نئی گفتگو شروع ہوتی ہے۔ جو شخص کسی بُری عادت سگریٹ‘ نشہ‘ چرس‘ افیون‘ ہیروئن یا زنا شراب‘ بدنظری‘ چھوٹا گناہ یا بڑا گناہ اس عادت سے چھٹکارا چاہتا ہو تو اسے چاہیے ہر نماز کے بعد اس کی ایک تسبیح پڑھے اور وہ نقش جو میں پہلے بتاچکا ہوں اس کو مستقل لکھ کر روزانہ ایک نقش پئے چالیس دن‘ خود لکھے یا کوئی اسے لکھ کر دے وہ پیے اگر کوئی شخص خود پینے کو تیار نہیں تو اس کا کوئی مخلص اس کی نیت کرکے پیے تو اس کی نیت کرکے پڑھے تو بھی ضرور اثر ہوتا ہے۔ بعض اوقات چالیس سے زیادہ نقش پینے سے فائدہ ہوتا ہے یعنی جتنی دل کی سیاہی ہوگی اتنا اس پر محنت کرنے پڑے گی۔ اور جتنی محنت ہوگی اتنا صلہ ملے گا۔ میں جنات میں یہ گفتگو کر ہی رہا تھا ایک جن کی ایک زوردار چیخ نکلی وہ اتنی اونچی تھی کہ آسمان تک پہنچی اور اگر میں بھی حصار میں نہ ہوتا تو شاید زندہ نہ رہتا اور اس کی خوفناک چیخ سے پہاڑ اور پورا ویرانہ دہل اٹھا میں خاموش ہوگیا۔ وہ چیخ مار کر بیہوش ہوگیا‘ خادم جنات اسے اٹھا کر میرے پاس لائے محسوس یہ ہوتا تھا کہ اس کی آخری سانسیں ہیں پھر میں نے اپنے ایک خاص عمل کو نہایت توجہ دیکر اس کیلئے پڑھا اور محنت کی تھوڑی ہی دیر میں اس نے آنکھ کھولی میں نے پوچھا کیا ہوا؟ کہنے لگے جتنی دیر آپ یَاقَہَّارُ کے کمالات بتاتے رہے اتنی دیر میں سانس روک کر اس کو مسلسل پوری طاقت اور یقین سے پڑھتا رہا ۔پڑھتے پڑھتے مجھے احساس ہوا کہ میرے جسم کے روئے روئے سے خون نکلنا شروع ہوگیا‘ میں نے محسوس کیا تو واقعی ایسا ہوچکا تھا‘ لیکن میں پھر بھی پڑھتا رہا‘ بس پھر مجھے خبر نہیں کیا ہوا؟ اور میں بے ہوش ہوگیا۔ میں نے دیکھا تو اس کا جسم جگہ جگہ سے پھٹ گیا تھا اور جسمانی حالات اس کے ناقابل بیان تھے۔ میں نے اس سے ایک سوال کیا سچ بتائو کیا تم نے کبھی کسی کے سود یا رشوت کے پیسے چرائے تھے۔ ٹھنڈی آہ بھر کے کہنے لگا ہاں میں نے ایک انسان کے پیسے مسلسل کئی سال چرائے ہیں۔ اس کا شبہ سود اور رشوت کا تھا میں نے کہا کلمہ پڑھو اس نے کلمہ پڑھا اور بہت اونچی آواز میں پڑھا اور زور زور سے پڑھا اور پھر بار بار کہنے لگا یااللہ مجھے معاف کردے۔ یااللہ مجھے معاف کردے یااللہ مجھے معاف کردے اور چوتھی بار یااللہ منہ سے نکلا آگے نہیں بولا اور اس کا دم ٹوٹ گیا۔ بہت افسوس زدہ خبر تھی .... اس کی میت کو اٹھا کر خادم جنات نے ایک طرف رکھ دیا۔ میں نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور وہی گفتگو میں آپ حضرات کو بتا رہا ہوں۔ ایک شخص میرے پاس بہت پرانی بات ہے اپنا ایک بیٹا لے کر آیا جس کی دونوں آنکھیں چندھیائی ہوئی تھیں عمر ستائیس اٹھائیس سال کے قریب تھی دن کی روشنی میں نہیں دیکھ سکتا تھا رات کے اندھیرے میں اسے کچھ نہ کچھ نظر آتا تھا۔ میں نے پوری روحانی تحقیق کے بعد اس کے کیس کو چیک کیا تو محسوس ہوا کہ دراصل وہ کسی سیروتفریح کے سلسلے میں کالج کے دوستوں کے ساتھ پرانے کھنڈرات میں گیا ان پرانے کھنڈرات میں کچھ شریر جنات کا وجود تھا ان شریر جنات نے اس کی خوبصورتی کو دیکھتے ہوئے اس پر عاشقی اور دوستی کا اظہار کیا اور اسے کسی عیب میں مبتلا کردیا تاکہ اس کی شادی نہ ہوسکے۔ اور یہ بات واضح بتاتا چلوں کہ بعض لڑکیوں اور لڑکوں کو چہرے یا جسم کے کسی ظاہری حصے پر اگر کوئی عیب شروع ہوجائے تو اس کے پیچھے اصل میں ان کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ظاہر میں بیماری ہوتی ہے۔ اور یہ لوگ اس کی شادی نہیں ہونے دیتے یعنی اس کو کسی دوسرے کے پہلو میں دیکھتے ہوئے ان کو غصہ آجاتا ہے۔ اس لیے اگر ان کی شادی ہوبھی جائے تو مسلسل تلخیاں ان کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔
جب میں نے انہیں یہ تشخیص اور تحقیق بتائی تو اس جوان نے اعتراف کیا ہاں واقعی ایسا تھا۔ میں ایک ویرانے میں گیا تھا میں گانے بجانے میں بہت ماہر ہوں‘ میں نے وہاں ایک گلوکار کی غزل گائی تھی‘ گٹار میرے ساتھ تھا۔ اور اس کی دھن ایسی خوبصورت تھی نامعلوم کتنی اچھی تھی میں خود حیران ہوا۔ بس اسکے بعد میں نے محسوس کیا کہ میری آنکھیں آہستہ آہستہ کمزور ہورہی ہیں۔ اور ایک چیز جو انوکھی بتائی وہ یہ بتائی کہ خواب میں اکثر میں دیکھتا ہوں کہ کچھ خوبصورت سی مخلوق ہے جو میرے جسم اور میری آنکھوںکو چومتی ہے جتنا وہ چومتی ہے اتنی میری آنکھیں بند ہوتی جاتی ہیں جب میری آنکھیں ساری بند ہوگئیں انہوں نے چومنا بھی چھوڑ دیا میں نے ان سے کہا گھبرائیں نہیںیَاقَہَّارُ ایک تسبیح ہر نماز کے بعد سارا دن کھلا ہزاروںکی تعداد میں اور اس کے نقش مسلسل نوے دن پئیں۔ انہوں نے ایسا کرنا شروع کردیا اور تقریباً چار پانچ مہینے کی محنت کے بعد وہ جوان بالکل تندرست ہوگیا آج اس کے پانچ بچے ہیں خود اس کا بیٹا جوان ہوگیا ہے اور وہ خوش و خرم ہے۔
قارئین! یہ بات بہت بڑی حقیقت ہےیَاقَہَّارُ جنات کا وظیفہ ہے اور جنات کا ورد ہے اور وہ جنات جو کسی عورت پر فریفتہ ہوجائے ان کو تو یہ وظیفہ بہت ہی زیادہ نفع دیتا ہے پچھلے دنوں میرے پاس ایک آدمی آیا جس کا تعلق پنجاب کے شہر ہارون آباد سے تھا وہ ایک ایسی مصیبت میںمبتلا تھا جو ظاہر بھی نہیں کرسکتا اور چھپا بھی نہیں سکتا تھا اس نے آتے ہی مجھے ایک دستی کاغذ خط کی شکل میں پکڑایا۔ اس میں لکھا تھا کہ میرا نام فلاں ہے میں اپنے علاقے میں بڑا زمیندار ہوںبہت اچھی کپاس کی اور گندم کی کاشت ہوتی ہے۔ بیٹے ہیں‘ بیٹیاں ہیں گھر ہے‘ زمینداراہ ہے زندگی بہت سکھی گزرر ہی ہے لیکن ایک روگ مجھے بہت کھائے جارہا ہے جس کا میں نے کچھ لوگوں کے سامنے اظہار کیا لیکن اس کا حل نہیں ہوسکا پھر میں نے استخارے کیے مسنون دعاکسی کے کہنے پر مسلسل سارا دن پڑھنا شروع کردی پہلے تو فوٹوکاپی کرا کر جیب میں رکھ لی پھر کچھ دنوں کے بعد وہ یاد بھی ہوگئی پھر اللہ سے کہنا شروع کردیا یااللہ! مجھے اس کا کوئی حل بتا.... تو خواب میں آپ کی شکل‘ آپ کا نام اور آپ کا مکمل پتہ بتایاگیا۔ اب میںبڑی مشکل سے آپ تک پہنچا ہوں بات دراصل یہ ہے کہ میں ابھی جوان تھا اور شادی کو تین سال ہوئے تھے میرے گھر میری بیٹی پیدا ہوئی میرے چونکہ پہلے دو بیٹے تھے بیٹی کی پیدائش پر میں بہت خوش ہوا اور میں نے بہت سی مٹھائی بانٹی۔ لوگ آرہے تھے اور مٹھائی لے رہے تھے ایک خاتون ایک دفعہ لے گئی‘ دوسری دفعہ لے گئی جب تیسری دفعہ آئی تو میں نے دینے سے انکار کردیا اس نے میرا ہاتھ تھاما کہنے لگی میرا منہ میٹھا کردے تیرا جسم میٹھا کردوں گی نامعلوم اس کے اس بول میں کیا تاثیر تھی حالانکہ وہ بالکل بوڑھی اور بہت بدشکل خاتون تھی میں نے اسے ڈھیر ساری مٹھائی دے دی۔
رات کو سویا تو میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ آئے انہوں نے مجھے اٹھایا اور کہنے لگے تیری شادی ہم ایک جن عورت سے کرنے لگے ہیں میں نے کہا میں تو پہلے سے شادی شدہ ہوں‘ کہا نہیں وہ عورت جو آج تیرے پاس مٹھائی لینے آئی تھی اس کا اصرار ہے کہ میری اس سے شادی کرو اور ہمیں حکم ملا ہے۔ کیونکہ وہ عورت مالدار ہے اور ہم اس کے غلام ہیں اور اسے لے آئو۔ مجھے اٹھا کر لے گئے‘ میں احتجاج کرتا رہا۔ لیکن میرے منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی ایسے محسوس ہورہا تھا کہ زبان تو ہل رہے‘ لفظ نہیں نکل رہی وہ زندگی کا پہلا موقع تھا جب میں نے اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کیا۔ بہت دور لے جانے کے بعد سرسبز پہاڑیاں تھیں ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے کشمیر کی پہاڑیاں ہیں‘ وہاں ہر طرف کھانے پک رہے تھے گہما گہمی تھی کچھ موسیقی اور شادیانے بھی بج رہے تھے ہر طرف خوشی کی آوازیں تھی مجھے ایک بہت خوبصورت لباس پہنایا گیا اور میں اس خوبصورت لباس میں دولہے کی شکل بن گیا۔ میں پچھلے سارے غم بھول گیا میرے اندر بھی نئی شادی کی امنگ پیدا ہوئی پھر باقاعدہ شرعی طور پر میرا نکاح ہوا حجاب وقبول ہوا اور پھر مجھے اٹھا کر دلہن کے کمرے میں پہنچایا گیا۔
میری بیوی واقعی جیسا میں نے کوہ قاف کی پری کا حسن وجمال سنا تھا اتنی ہی خوبصورت اس کا سراپا اس کا جسم‘ اس کی خوبصورت آنکھیں خوبصورت گردن‘ گلابی ہونٹ‘ مہکتے رخسار‘ نشیلی پلکیں‘ دلربا آواز‘ خوبصورت ہاتھ اور کلائیاں جسم سسارا سونے اور ہیرے جواہرات سے لدا ہوا تھا میں نے رات اس کے ساتھ شب بسری کی۔ صبح خود ہی کہنے لگی اب میرے غلام آپ کو چھوڑ آئیں گے اپنی انسانی بیوی سے اس کا اظہار مت کرنا ورنہ وہ ناراض ہوگی۔ خط میں اس نے مزید لکھا کہ علامہ صاحب اس کہانی کو سالہا سال ہوگئے میری جننی بیوی جس کا نام عنایتاں اور میں اسے دلربا کہتاہوں بس میری دلربا کے ساتھ ایسی محبت بڑھی کہ اس میں سے میرے سات بچے ہیں جو کہ جن ہیں۔ ہماری کبھی لڑائی نہیں ہوئی‘ میں جب بہت غریب تھا جس وقت سے میری دلربا سے شادی ہوئی‘ دولت مال‘ چیزیں اور انعامات خداوندی مجھ پر بارش کی طرح برسی۔ ہمارے دن رات سالہا سال سے گزر رہے تھے ۔میں بعض اوقات بیوی کو کسی دوسرے شہر کے بہانے سے ہفتے میں دو تین دفعہ یا اپنے کسی دوست کے بہانے سے چلا جاتا ہوں اور دلربا کے ساتھ وقت گزارتا ہوں۔ دلربا کے خادم مجھے لے جاتے ہیں وہ دور کشمیر کی پہاڑیوں پر رہتی ہے دنیا کے سب میوے اس کے پاس ہیں زمین کے خزانے اس کے تابع ہیں۔ وہ سات بچے مجھ سے محبت کرتے ہیں میں ان سے محبت کرتا ہوں جن میں پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔بڑے بیٹے کا نام عدنان‘ برہان‘ تیسرے کا نام عترت اور چوتھے کا نام احمد اور پانچویں کا نام صادان اور دو بیٹیاں ایک کا نام فاطمہ اور ایک کا نام زینب ہے۔ اب میری اولاد جوان بھی ہوگئی ہے ادھر سے انسانی اولاد جوان ہوگئی ان کی شادیاں ہوگئیں۔

Majzobi
15-05-2012, 03:36 PM
اب مجھے جناتی اولاد کی شادیوںکی فکر ہے میں پریشان اس وجہ سے ہوں کہ جناتی اولاد کی شادیوںکا کیا کروں؟ کیسے کروں؟ جنات میرا رشتہ لینے کو تیار نہیں وہ کہتے ہیں کہ ان کا باپ انسان ہے۔ یہ جن تو ہیں لیکن خالص جن نہیں میں بہت پریشان ہوں‘براہ کرم میری پریشانی کا ازالہ کریں مسلسل استخارے کے بعد آپ کا پتہ‘ آپ کانام اور سوفیصد آپ کا حلیہ بتایا گیا۔ میں نے اس کی بات سنی تو مسکرا دیا میں نے کہا یہ کوئی مسئلہ نہیں۔
میںجنات سے عرض کروں گا وہ رشتوں کے معاملے میں آپ کا ساتھ دیں گے اور پھر کچھ عرصے کے بعد اللہ کے فضل سے اس کی اولاد کی شادیاں ہوگئیں ہاں میں نے اسے ایک چیز ضرور بتائی چونکہ جن جنات نے آپ کے رشتے ٹھکرائے تھے وہ کہیں آپ کی اولاد پر جادو نہ کردیں تو یَاقَہَّارُ کاوظیفہ خود بھی انسانی بیوی بھی‘ جن بیوی اور اس کے بچے سب پڑھتے بھی رہیں اور پیتے بھی رہیں۔ آج وہ اتنا خوش ہے اس کی بیوی مجھ سے ملنے آئی یعنی جن بیوی.... اس نے شکریہ ادا کیا ڈھیروں ہدیے لائے‘ گفٹ لائے جو میں نے غریبوں میں تقسیم کردئیے اور ضرورت مندوں کو دے دئیے۔
شادیوں کے کیس تو ویسے بہت آتے ہیں میری ابتدائی زندگی میں جب میرا جنات سے تعارف ابھی ابتدا ئی تھا میں ان چیزوںکو حقیقت سے بہت دور سمجھتا تھا اور حیرت بھی ہوتی تھی بلکہ بعض اوقا ت تو میں خود کو جھٹلا دیتا تھا کہ یہ حقیقت نہیں ہے جنات سے شادی کیسے ہوسکتی ہے؟ لیکن پھر مسلسل جنات سے دوستی کے بعد میرے ساتھ یہ حقیقت کھلنا شروع ہوئی کہ جنات سے شادیاں ہوسکتی ہیں۔ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ میرے پاس ایک صاحب آئے اور کہنے لگے کہ ہمیں تو ایک مسئلہ درپیش ہے میں نے پوچھا کیا تو کہنے لگے کہ مسئلہ یہ ہے کہ میرے بیٹے پر پہلے ابتدائی طور پر دورے پڑنا شروع ہوئے اور دورے بڑھتے گئے بڑھتے گئے۔ اس کا مستقل علاج کرایا‘ ڈاکٹروں اور نفسیاتی ڈاکٹروںکو دکھایا پھر کچھ عاملوںکو دکھایا۔ کسی کی سمجھ میں کوئی کیس بالکل نہ آیا۔ آخرکار ایک بزرگ کے پاس لے گئے تو انہوں نے اس جن کی حاضری کرائی تو وہ جن نہیں تھا جننی تھی۔ کہنے لگی میں مسلمان جننی ہوں‘ بیوہ ہوں‘ مجھے کسی ساتھی اور شوہر کی تلاش تھی آپ کا بیٹا نمازی ہے‘ ذاکر شاغل روزے دار ہے‘ مجھے یہ پسند آیا تو میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں اور اس سے اپنے ازدواجی تعلقات قائم کرنا چاہتی ہوں لیکن چونکہ میں نے پانچ حج کیے اور مجھے پتہ ہے کہ ازدواجی زندگی کیلئے نکاح ضروری ہے اور اس لیے مجھے اجازت دیں میں آپ کے بیٹے سے نکاح کرنا چاہتی ہوں اس کے والدین کہنے لگے کہ ہم تو اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی ہماری برادری میں یہ نسلوں میں زندگی میں ایسی کوئی کہانی ہم نے سنی ہے۔

کہنی لگی کہ میں آپ کی منت کرتی ہوں کہ ا ٓپ اجازت دیں۔ آپ کہیں تو میں آپ کی برادری کے بڑوں کے پاس جائوں گی اور انہیں منائوں اور ان کی منت کروں گی‘ میں جنات کی مخلوقات میں سے ہوں میرے پاس طاقت بھی ہے اور زور بھی ہے لیکن میں یہ طاقت اور زور استعمال نہیں کرنا چاہتی۔ آپ مہربانی کریں میرا ساتھ دیں۔ اور میں ہرحال میں اس نوجوان کو اپنا شوہر بنانا چاہتی ہوں ہم نے انکار کردیا وہ چلی گئی۔ اب ہمارے بیٹے کے بقول کہ وہ کبھی کبھی آتی تھی پھر اس نے ہماری برادری کے بڑوں کے خواب میں آنا شروع کیا پہلے تو خواب سمجھتے رہے پھر ان بڑوں نے ہم سے رجوع کیا کہ اصل بات کیا ہے؟ تو ہم نے ان سے کہا کہ اصل تو حقیقت یہی ہے کہ وہ عورت جننی شادی کرنا چاہتی ہے۔ اب ہم اس کی شادی کی اجازت کیسے دیں کہ ہم نے بیٹے کو اس کی پھوپھی کے گھر اس کی لڑکی کے ساتھ بات طے کردی تھی برادری والے بھی حیران کہ یہ سلسلہ کیسے شروع ہوا‘ جادو کا زور کیا گیا لیکن وہ جن لڑکی کسی طرح بھی جانے کو تیار نہیں تھی۔
لڑکے کی ماںکہنے لگی کہ ایک دن ہمارے گھر میں ایک فقیر عورت نے سوال کیا وہ نقاب اور برقعے میں تھی اور گھر کے اندر آگئی ہم نے اس کا سوال پورا کیا کہنے لگی مجھے پانی پلائیں جب ہم نے اسے پانی پلانے کیلئے گلاس میں پانی دیا تو جب اس نے اپنا نقاب ہٹایا تو وہ جوان اور نہایت خوبصورت جوان ایک لڑکی تھی جس کے روپ نکھار اور حسن و جمال کو دیکھ کر ہم خود حیران رہ گئے۔ اس نے پانی پیا پانی پینے کی دعا پڑھی اور ہمیں دعائیں دینے لگی اور ٹھنڈا سانس بھر کر کہنے لگی کہ آپ مجھے اس گھر کی خدمت دیں گے؟ ہم کہنے لگے کہ نہیں ہمارے پاس پہلے کام کرنے والی ہے وہ خوبرو لڑکی کہنے لگی میں آپ کے گھر کی بہو بننا چاہتی ہوں ہم حیران ہوگئے۔ ہم نے کہا نہیں ہمارے لڑکے کی پہلے سے بات طے ہے۔
کہنے لگی نہیں اگر آپ مجھے اپنے گھر کی بہو بنالیں تو میں آپ کی بہت خدمت کروں گی۔ آپ کیلئے سارے کام کروں گی۔ حتیٰ کہ آپ کی بخشش کیلئے اعمال کروں گی‘ کروڑوں کی تعداد میں کلمہ‘ قرآن پڑھوں گی‘ میں قرآن کی حافظہ اور قاریہ ہوں‘ میں اکوڑہ خٹک کے مدرسے میں بہت عرصہ پڑھتی رہی ہوں۔ اور پھر کراچی کے ایک بڑے مدرسے میں پڑھتی رہی ہوں۔ پھر ایک معلمہ سے میں نے قرات اور تجوید سیکھی ہے پھر ایک اور بڑا مدرسہ جس کا میں نام نہیںلینا چاہتا سے میں نے عالمہ کا کورس کیا ہے آپ مجھے اپنی بہو بنالیں۔ ہم حیران ہوئے کہ تو کہاں کی رہنے والی ہے؟ کون ہے؟ تو فوراً کہنے لگی میں وہی ہوں جو آپ کی کئی عرصے سے منت کررہی تھی‘ ہم ایک دم ڈر گئے کہنی لگی آپ ڈریں نہیں آپ ڈریں گے تو میں یہاں سے چلی جائوں گی ہم نے کہا چلی جا‘ وہ رونے لگی فریاد کرنے لگی کہ مجھے قبول کرلیں۔ آپ چاہے اپنے بیٹے کی شادی کہیں اور کرلیں لیکن میں زبردستی بھی اس سے شادی کرسکتی ہوں‘ اس سے اپنے ازدواجی تعلقات قائم کرسکتی ہوںلیکن میرا دین میری شریعت مجھے اس کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ مجھے قبول کرلیں ۔لڑکی کی ماںکہنے لگی کہ وہ اتنا روئی.... اتنا روئی.... کہ ہمارا دل بھرآیا....

Majzobi
15-05-2012, 03:37 PM
کہنی لگی میں لاوارث ہوں‘ میری ماں فوت ہوگئی باپ نے آوارگی اختیار کی۔ میرے چار بھائی ہیں جو خود آزاد پرست زندگی گزار رہے ہیں میری ماںکی خواہش تھی کہ میری بیٹی اور بیٹے نیکی کی طرف آئیں گھر میں سے کوئی بھی نہ آسکا میں آگئی میں اب نیکی ہی میں آنا چاہتی ہوں تاکہ میری ماں کی قبر ٹھنڈی رہے اور اس کو سکون ملتا رہے اور یہ کہہ کر چلی گئی کہ میں آئندہ بھی آپ کی منت کرتی رہوں گی۔ آخر ہم سب گھر والے سرجوڑ کر بیٹھے اور فیصلہ یہ ہوا کہ اس کو اجازت دے دی جائے اور اب ہم نے اس کو اجازت دیدی ہے گزشتہ ساڑھے چھ ماہ سے اس کی شادی ہوگئی ہے شادی کی ترتیب کچھ یوں بنی کہ قوم جنات ہمارے بیٹے کو اٹھا کر لے گئے تین دن وہ وہاں رہا لیکن تین دن مسلسل ہمارا اس سے رابطہ رہا۔ کسی نامعلوم کال سے جس میں موبائل میں نمبر نہیں آتا تھا فون کرتاکہ میں خیریت سے ہوں۔
بیٹے نے اپنی شادی کی جو داستان سنائی تو کہنے لگا کہ میں جب وہاں پہنچا تو مجھے خوبصورت لباس پہنایا گیا جو کسی دور میںہم مغل بادشاہوں کا لباس سنتے تھے جس میں خوبصورت تاج‘ شیروانی‘ شاہی جوتا‘ اور ہاتھوں میں ہیرے جواہرات اور سونے کے کنگن‘ گلے میں سونے کے ہار وہ لڑکی بہت مالدار ماں باپ کی بیٹی تھی باپ نے تو اپنا مال ضائع کیا لیکن ماں نے اس کامال اپنا سارا ورثہ اسی کو دیا اور اس نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا اور کہا کہ بہت بڑے عالم جنات اس میں موجود تھے‘ بڑے بڑے ولی انہوں نے ہمارا نکاح پڑھایا اور نکاح کے بعد ہم ایک بہت بڑے محل میں داخل ہوئے جو میری عقل اور شناسائی سے بہت دور تھا اس محل میں ہم جب پہنچے تو وہاں جگہ جگہ کمرے تھے‘ تخت تھے‘ جنات عورتیں خادمائیں تھیں تین دن میں وہاں رہا تیسرے دن ہمارا ولیمہ ہوا اور ولیمے میںبہت بڑی تعداد سے دوردراز کے جنات موجود تھے میں آخر وہ مجھے میرے گھر چھوڑ گئے اب میری بیوی میرے پاس شب بسری کیلئے آتی ہے۔ لڑکے کی ماں کہنی لگی کہ میرے بیٹے کے بقول میری بیوی امید سے ہے دعا کریں اللہ پاک بیٹا عطا فرمائے۔ اب یہ واقعات سن سن کر میرے لیے یہ داستانیں بہت پرانی ہوگئی ہیں۔ نئی نہیں ہیں۔ لیکن ایک چیز جو سب سے بڑی اور سب سے زیادہ مجھے اکثر مشاہدے میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ جنات کا عورتوں کو اٹھا کر لے جانے کے کیس بہت زیادہ ہیں اور اس میں ایسی عورتیں جو بیس بائیس سال کی عمر کے قریب ہوتی ہیں۔
بعض اوقات پچیس تیس سال کی عمر اور بعض اوقات اس سے زیادہ بھی لیکن اکثر بیس بائیس سال کی عمر کی خواتین کو جنات بہت زیادہ اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ میں ایک سفر میں تھا جنات کی گدھ نما سواری پر بیٹھا ہوا تھا تاریک آسمانوں کے سفر میں اور ایک فضائے بسیط تھی ہر طرف خاموشی تھی‘ سناٹا تھا اور سواری مسلسل اڑ رہی تھی یہ سفر کچھ لمبا ہوگیا میں سمجھ گیا کہ آج فاصلہ کچھ بہت ہی زیادہ دور ہے… اڑتے اڑتے ہم آخر کار افریقہ کے ایک ایسے جنگل میں پہنچے جہاں ‘ مرد اورعورتیں برہنہ رہتے ہیں‘ وہاں بہت بڑے بڑے درخت اتنے بڑے درخت کہ ایک اگر پچاس انسان بھی درخت کو اپنے ہاتھ پکڑ کر گھیریں تو اس درخت کا تنا نہیں پکڑا جاسکتا۔ اتنے بڑے درختوںپر جنات کا بسیرا ہے۔ ان جنگلات میں جنات کا قیام ہے میرا جانا دراصل وہاں کچھ یوں ہوا کہ وہاں ایک فوتگی ہوگئی تھی۔ میرے کچھ دوست جنات تھے جن کے رشتے دار وہاں رہتے تھے اور وہ مسلمان جنات تھے۔ ان کا بہت عرصے سے اصرار تھا کہ ہمیں علامہ صاحب سے ملاقات ضرور کرائیں کئی بار مجھ سے وہاںسے ملنے بھی آئے لیکن سفر کی زیادتی کی وجہ سے میں نہ جاسکا۔ اب ان کے سردار فوت ہوگئے اب ان دوستوں کا اصرار تھا جو یہاں کے دوست جنات تھے کہنے لگے آپ ضرور چلیں وہاں ان کی تعزیت بھی کریں اور دعا بھی کریں۔ یہ سفر کچھ ایسا تھا کہ جمعرات کی رات کا یہ سفر تھا کچھ یوں ہی تھا کہ میں ساری رات سفر میں ہی رہا۔
بہت دیر کے سفر کے بعد وہاں پہنچے بہت بڑے بڑے جنات انتظار میں تھے تکیے لگے ہوئے تھے قالین بچھے ہوئے تھے ہر طرف چہل پہل تھی لیکن افسردگی تھی وہ سردار جو فوت ہوئے تھے ان کے بقول ڈیڑھ سو سال تک دن میں روزہ رکھا اور کبھی بھی ان کا ایک روزہ نہیں چوکا۔ عمر تو ان کی بہت لمبی تھی لیکن ڈیڑھ سوسال صرف روزہ رکھا اور دن اور رات میں ایک قرآن پڑھ لیتے تھے اور لاکھوں قرآن انہوں نے اب تک پڑھے اورجب ان کی زندگی کا آخری وقت آیا تو ان کے بیٹے نے مجھے بتایا کہنے لگے کہ میرے والد نے مجھے قریب بلایا کہنے لگے بیٹا میں نے ساری زندگی بڑے بڑے علماء‘ محدثین کی خدمت کی ہے ان کی خدمت سے میں نے ایک راز اور موتی پایا اس راز کو سدا سنبھال کر رکھنا اور کبھی بھی اس راز کو ضائع نہ کرنا اور تجھے جب بھی کوئی مشکل اور پریشانی آئے اور جب کوئی حاجت ہو اس کا تعلق زمین والوں سے ہو یا آسمان والوں سے اس راز کو پڑھنا تجھے سوفیصد مطلوب ملے گا۔ بیٹا کہنے لگا میرے آنسو ٹپک رہے تھے اور میں والد کی کمزور آواز میں وہ راز اور نصیحت سن رہا تھا پھر میرے والد نے میرا ہاتھ پکڑا اور چوما اور کہنے لگے دیکھ بیٹا اگر تو ہروقت باوضو رہے گا تجھے کبھی بھی مقدر کے دھکے نہیں لگیں گے رزق میں برکت‘ صحت میں برکت‘ عزت وجاہت شان و شوکت تجھے ڈھونڈے گی تو اس کو نہیں ڈھونڈھے گا تیری زندگی راحت و برکت کا ذریعہ رہے گی۔ ہمیشہ زندگی میں سلام کرتے رہنا‘ سلامتی تیرے چاروں طرف رہے گی اور جو راز میں تجھے دینا چاہتا ہوں وہ راز یہ ہے کہ دو رکعت نماز نفل حاجت کی نیت سے پڑھ اور اس میں ثناء کے بعد سورۂ فاتحہ شروع کر جب اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ پر پہنچ اور اس کو بار بار دوہرا اور اتنا دوہرا اتنا دوہرا کہ تین سو چار سو دو ہزار تین ہزار کی تعدادمیں اس کو دوہرا اگر تو کھڑا ہوکر نفل پڑھ لے تو سعادت اگر کھڑا نہیں ہوسکتا تو بیٹھ کر پڑھ لے۔

Majzobi
15-05-2012, 03:37 PM
اور اس عمل کو دہراتا رہ اور مسلسل دہراتا رہ اور اپنے مقصد کا تصور کر اتنا اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کو دہرا کہ تیرے اندر ایک وجدان کی کیفیت پیدا ہوجائے اور تو اللہ کی محبت میں غرق ہوجائے… اللہ کے نام میں ڈوب جائے اور مسلسل اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کو دہراتا رہ …چاہے جتنی دیر لگ جائے …پھر کوئی سورۃ ملا کر رکعت پوری کر۔ سجدہ کر پھر دوسری رکعت میں جب اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ پر پہنچ تو پھر دہراتا رہ اور بہت زیادہ دہرا اپنے مطلوب اور اپنے مقصد کا بہت زیادہ تصور کر اور اپنے تصور کو مضبوط کرتا رہ …کرتا رہ… کرتا رہ… حتیٰ کہ تیرے دل کی اندر کی کیفیت متوجہ ہوجائے اور تیرا دل مان جائے کہ اللہ پاک نے میری چاہت کو پورا کردیا اور پھر سلام کرکے خشوع و خضوع سے دعا کر …وہ بزرگ جن یہ بات کہہ رہے تھے اور ان کا بیٹا سن رہا تھا اور وہی بیٹا رو رو کر مجھ سے یہ بیان کررہا تھا کہ میرے والد نے جاتے ہوئے مجھے یہ راز دیا یہ میں نے کسی کو نہیں بتایا آپ کو دیکھا نہیںتھا لیکن آپ کا نام سنا تھا ہماری قوم جنات آپ سے عقیدت رکھتی ہے اور آپ کے ہاں ملنے جاتی ہے آج آپ میرے والد کی فوتگی کے سلسلے میں بہت دور سے سفر کرکے آئے ہیں تو جو کچھ میرا والد مجھے دے گیا ہے وہ میں آپ کو دینا چاہتا ہوں۔ قارئین! آپ جانتے ہیں کہ جو کچھ میرا ہے وہ میں عبقری کے قارئین کو دے ہی دیا کرتا ہوں اور بہت قیمتی جواہرات لٹا رہا ہوں اور اس کی مستقل اجازت عام ہے یہ عمل بھی اور اس سے پہلے جتنے بھی عمل آپ کو عبقری میںدئیے ان کی مستقل اجازت ہے آپ میں سے ہر شخص کرسکتا ہے حتیٰ کہ یَاقَہَّارُ کا عمل اور اس کانقش اور اس کا وظیفہ آپ لکھ بھی سکتے ہیں‘ کسی سے لکھوا بھی سکتے ہیں اسے اپنے گلے میں لٹکا بھی سکتے ہیں‘ اسے دھو کر پی بھی سکتے ہیں۔ اسے گھر میں لگا بھی سکتے ہیں۔ میں نے اس جوان کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے اپنے والد مرحوم کا یہ تحفہ دیا۔
جنات کے سردار کی آمد
اس وقت قوم جنات میں سے کچھ بڑے میرے پاس آئے اور باادب کہنے لگے کہ یہاں بہت زیادہ جنات اکٹھے ہیں اور انکی چاہت اور خواہش ہے کہ آپ کچھ چیزیں ان کے سامنے بیان کردیں … آپ انہیں کچھ بتائیں‘ انہیں سمجھائیں… ان کی خواہش کے پیش نظر میں نے ان کے سامنے کچھ چیزیں بیان کیں بہت لمبی دعا ہوئی۔ ہرطرف آہ و زاری اوراستغفارو امین کی آوازیں تھیں‘ شور تھا کئی لوگوں نے اپنی سابقہ زندگی سے توبہ کی۔
جو عمل مجھے اس مرحوم جن کے بیٹے سے ملا تھا اور جو میں نے آپ کے سامنے پیش کیا ہے سورۂ فاتحہ کے اس عمل کو میں نے جب بھی خود آزمایا اور جس کو بھی دیا نہایت اکسیر بے خطا پایا۔ بہت کمال اور بہت برکت والا عمل ہے۔ عجیب اس کے کمالات ہیں عجیب اس کی برکات ہیں۔ ہر وہ چیز جو ناممکن ہو اس سے ممکن ہوجاتی ہے۔ ایسے ایسے واقعات سامنے آئے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ ایسا ہو بھی سکتا ہے ؟؟ اور بعض اوقات انسان کہتا ہے کہ ایسا کبھی نہیںہوگا لیکن جب عمل شروع کرتا ہے تو آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے کہ ایسا ہوگیا ہے اور واقعی اللہ جل شانہٗ اس کی برکت سے ایسا کردیتے ہیں بہت تیربہدف عمل ہے بہت پرتاثیر عمل ہے اور اپنی طاقت اور تاثیر کے اعتبار سے بہت باکمال ہے۔
کبوتر کے ذریعے جادو
چلتے ہوئے میں پچھلی اپنی گفتگو میں یَاقَہَّارُ کے کمالات عرض کرچکا ہوں وہیں بیٹھے ایک جن نے جو کہ میرے مکلی اور ٹھٹھہ کے قبرستان میں ختم القرآن کے موقع پرموجود تھا مجھ سے کہنے لگے ابھی پچھلے تھوڑے عرصے پہلے کی بات ہے کہ میرے اوپر ایک طاقتور جن نے ایک جادو کردیا اور جادو کیا تھا کہ ایک کبوتر بہت عرصہ اپنے پاس رکھا اس کے اوپر کچھ کالا منتر پڑھتا رہا‘ پڑھتا رہا اور کالے منتر اور گندے خون میں کچھ دانے بھگو کر وہ اس کو کھلاتا رہا اور باقاعدہ اس نے مجھے وہ منتر بتایا اور کہنے لگا کہ میں نے کسی اور عامل جن کے ذریعے اس منتر کا پتہ کرایا وہ دونوں ایک ہی استاد کے شاگرد ہیں جس نے مجھے یہ منتر بتایا وہ اب توبہ کرچکا ہے اور اس نے مجھے بتایا کہ وہ کیوںمنتر پڑھتا ہے… بہت عرصہ منتر پڑھنے کے بعد اس کو کالی چیزیں اور کالا دانا کھلانے کے بعد اس نے کبوتر پر بہت طاقتور جادو کیا اور جادو کرنے کے بعد اس کبوتر کو میری طرف چھوڑ دیا …میں نے دیکھا کہ ایک کبوتر ہے جس کے اوپر بہت طاقتور قسم کی عقاب نما چیزیں اڑ رہی ہیں لیکن وہ ان سے ڈر نہیں رہا لیکن وہ عقاب اور شاہین نما چیزیں اس کے تابع معلوم ہوتی ہیں جس طرف وہ جاتا ہے اس طرف جاتی ہیں اور ان عقاب نما چیزوں سے بجلیاں اور شرارے نکل رہے ہیں اور وہ ہمارے گھر کے اوپر منڈلا رہا ہے۔
وہ جن کہنے لگا( جو مجھے یہ واقعہ بیان کررہا تھا) کہ میں نے اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ جو جادو زدہ کبوتر اڑرہا ہو اس کے ساتھ یہ نشانی ضرور ہوگی ورنہ ہرکبوتر جادو زدہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا مجھے جب نظر آیا تو میں نے فوراً یَاقَہَّارُ پڑھنا شروع کردیا اور میرے گھر والوں نے بھی پڑھ پڑھ کر اس کی طرف پھونکنا شروع کردیا اور میں دیکھ رہا تھاکہ اس کو کوئی اثر نہیں ہورہا میں حیران ہوا کہ یَاقَہَّارُ کے اندر تو بہت طاقت ہے۔
ایک دم میرے اندر آواز آئی کہ تیرے پڑھنے کی طاقت میں کمی ہے ورنہ یَاقَہَّارُ کا قہر جب جادوگر پر برسے گا تو اس کو برباد کردے گا میں نے اس کو زیادہ پڑھنا شروع کیا‘ اور سانس روک روک کر پڑھنا شروع کیا۔
جب میں نے اس کو سانس روک روک کر پڑھنا شروع کیا تو اس کی تاثیر واضح سامنے آئی اور وہ عقاب آہستہ آہستہ ہٹنا شروع ہوگیا اور کبوتر غوطے لگانا شروع ہوا مجھے یقین ہوگیا کہ یَاقَہَّارُ کے اندر بہت طاقت ہے میں یَاقَہَّارُ کو سانس روک کر پڑھتا اور اس پر پھونک دیتا پھر سانس روک لیتا اور سانس روک کر لا تعداد مرتبہ اس کو پڑھتا پڑھتا پڑھتا اور جب سانس ٹوٹتا تومیںاس پر پھونک دیتا آہستہ آہستہ وہ بلائیں ہٹنا شروع ہوئیں جن کے اوپر آگ برس رہی تھی حتیٰ کہ اکیلا کبوتر رہ گیا اور کبوترکی پریشانی شروع ہوئی محسوس ہوتا تھا کہ وہ بھاگنا چاہتا ہے لیکن کوئی طاقت ہے جس نے اس کو اپنے نرغے میں لے رکھا ہے اور بھاگنے نہیں دے رہی۔ کہنے لگے اب میری ہمت اور بڑھ گئی سارے گھر والے اپنا جینا بھول گئے اور اسی کو پڑھنا شروع کردیا حتیٰ کہ وہ کبوتر ہمارے درمیان آکر بیٹھ گیا اور اس کبوتر کے پروں سے خون نکل رہا تھا میرے بیٹے نے بڑھ کر اس کو پکڑنا چاہا تو میں نے چیخ کر کہا اس کو ہاتھ مت لگانا‘ جادو زدہ کبوتر ہے ہم پڑھتے رہے… پڑھتے رہے… پڑھتے رہے… حتیٰ کہ وہ کبوتر مرگیا اور حیرت انگیز طور پر کبوتر کے مرتے ہی اس کو آگ لگی اور آگ اتنی تیز تھی کہ پل بھر کے اندر اس کبوتر کو اس نے راکھ بنایا اور راکھ ایک ہی پل کے اندر زمین کے اندر جذب ہوگئی اور اس کا نشان تک ختم ہوگیا۔

Majzobi
15-05-2012, 03:38 PM
یَاقَہَّارُ اور جادوگر جن کی چیخیں
لیکن انوکھی بات یہ ہے کہ اس کی راکھ سے آگ کا ایک شعلہ اٹھا اور وہ آسمان کی طرف گیا اور اسی طرف گیا جس طرف سے کبوتر آیا تھا کہنے لگے کہ ہم بھی اسی طر ف اس کے پیچھے بھاگے بہت دور جاکے جس شخص نے اس کو بھیجا تھا وہ اسی پر برسا اور اسی کے جسم کو جلا دیا اور اس کی چیخیں ہم سنتے واپس آئے۔ وہ جن بتانے لگے کہ مجھے یقین ہوگیا کہ یَاقَہَّارُکے اندر یہ طاقت ہے جہاں وہ جادو کو کاٹتا ہے وہاں جادو کرنے والے کو ختم بھی کرتا ہے حتیٰ کہ جادو کرنے والے کو یہ نصیحت ملتی ہے کہ کسی کو بے وجہ تنگ نہیں کرنا چاہیے مسلمان کو تکلیف دینا اللہ نے حرام قراردیا ہے اور کسی مسلمان کو تکلیف نہیں دینی چاہیے اور مجھے یقین ہوگیا۔ میں اس کا واقعہ سن کر حیران ہوا میں نے کہا جتنے بھی جنات بیٹھے ہیں ان سب کو سناؤ ۔اس نے کھڑے ہوکر ان لاکھوں کروڑوں جنات کو جو افریقہ کے تاریخی جنگل میں بیٹھے ہوئے تھے ان کیلئے یَاقَہَّارُ کی طاقت اور تاثیر انوکھی چیز تھی۔ کچھ واقعات یَاقَہَّارُ کے میں نے بھی سنائے۔ وہ سارے خاموشی سے سنتے رہے اور سب نے پوچھا کیا ہمیں اس کی اجازت ہے۔ میں نے ان سب کو اجازت دی لیکن اس کو ناجائز استعمال کرنے والے کاچونکہ نقصان ہوتا ہے۔اس لیے میں نے ان کو بھی تاکید کی کہ اس کو ناجائز ہرگز استعمال نہ کرنا اور کسی پر ناجائز بالکل نہ پڑھنا۔ انہوں نے ہم سے وعدہ کیا کہ ہم بالکل اس کو ناجائز نہیں پڑھیں گے اسی دوران ایک اورمشاہدہ ز یَاقَہَّارُ کے سلسلے میں مجھے ملا اور وہ بھی اچانک ملا۔ ایک صاحب مجھ سے کہنے لگے یعنی جن… ہمارے ہاں ایک بابا جی ہیں جو بہت بوڑھے ہوگئے ہیں آنکھوں سے معذور ہوگئے ہیں۔ وہ افریقہ کے بہت بڑے عامل اور جادوگر مانے جاتے ہیں جنات میں۔ میں ان کو بتاؤں گا یقیناً ان کے تجربے میں یَاقَہَّارُ کا کوئی عمل ضرور آیا ہوگا کیا اجازت ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ان کو بتادیں۔ ہماری روانگی ہوئی حسب معمول ہم اسی گدھ نما سواری پر بیٹھے اور ہماری واپسی ہوئی۔ میں گھر واپس آگیا۔
افریقی ہیبت ناک جن کی آمد
چند دنوں کے بعد وہ افریقی جن اس بوڑھے بابے کو لیے ہوئے میرے پاس آگیا۔ بابا کیا تھا کوئی ہیبت ناک پہاڑ تھا اور پراسرار قوتوںکاعظیم مالک اور انسان تھا۔ انسان سے مراد انسان نہیں … وہ جن تھا جیسے محاورتاً کہتے ہیں۔ وہ واقعی پراسرار قوتوں کا مالک جن تھا۔ میں نے ان کی تواضع کی ان کی مخصوص خوراک دی۔ بابا بہت خوش ہوا کیونکہ میں نے بابے کو اس کی مخصوص خوراک گائے کا گوشت دیا۔ ساڑھے تین من گائے کا گوشت دیا۔ میرے دوست جنات اس خدمت پر معمور ہیں… میں انہیں پیسے دیتا ہوں وہ قیمتاً گوشت لاکردیتے ہیں یا وہ اپنی گائے خرید کرذبح کرتے ہیں۔ بابے نے بڑی رغبت سے گوشت کھایا کہنے لگا اتنا اچھا گوشت افریقہ کی گائے کا نہیں ہوتا جو آپ کی گائے کا ہے اور بہت ہی زیادہ مسرورہوا۔ اب ہم اپنے موضوع پر آئے اور وہ جن جوانہیں ساتھ لائے تھے وہ کہنے لگے جب آپ افریقہ آئے تھے اور آپ کے جانے کے بعد میں اس بابے کے پاس گیا اور آپ کا تذکرہ کیا کہ ایسے ایسے ایک درویش علامہ صاحب ہمارے پاس تشریف لائے تھے جن کے پاس بے شمار جنات یہاں سے بھی آتے جاتے ہیں انہوں نے یَاقَہَّارُ کے کچھ کمالات بتائے تھے تو ایک دم بابا چونک پڑاکہنے لگا اس بندے سے مجھے ملاؤ میرے پاس ایک عمل ہے جو راز کی شکل میں ہے میں اس بندے کو دینا چاہتا ہوں جس بندے نے سارے لاکھوں کروڑوں جنات کے مجمع کو یہ عمل بتایا ہے اور سب کا بھلا کیا ہے جو بھلا کرنا جانتا ہے اس کا بھلا میں کروں گا۔
اور میں اسے خود بتاؤں گا تمہیں نہیں بتاؤں گا۔ لہٰذا یہ جادوگر جن بابا آپ کی خدمت میں حاضر ہے آپ خود ان سے بات کرلیں۔ میں نے بابا جی کا شکریہ ادا کیا اور ان سے عرض کیا وہ راز آپ مجھے ضرور بتائیں۔ جو یَاقَہَّارُ کے سلسلے میں آپ کی زندگی میںآیا ہے۔
ہیبت ناک جن اور انسانی عورتوں سے عشق
بابا جی کہنے لگے بات کچھ اس طرح کہ میں ایک انسان عورت پر عاشق تھا میں نے زندگی میں بہت گناہ کیے ہیں۔ میں ہرخوبصورت عورت کو دیکھ کر اس پر دیوانہ اورعاشق ہوجاتا تھا اور ہر وہ عورت جس کے بال اور جسم کھلا ہوتا تھا‘ جوان ہوتی تھی ۔ اور پھر بابے نے جو باتوں باتوں میں بات کہی جو میرے دل کو لگی کہ ہر وہ عورت جو کھلا جسم‘ کھلے بال برہنہ بدن‘ برہنہلباس‘ نماز تسبیح کی جس کو توفیق نہیں۔ میں اس پر ضرور عاشق ہوتا تھا اور ہم سب جن اس پر عاشق ہوتے ہیں پھر ہم اس سے اپنے ازدواجی تعلقات زبردستی قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر اس کے گھر میں ہم جھگڑے کرواتے ہیں‘ میاں بیوی میں ناچاقیاںکرواتے ہیں‘ اولاد کی نافرمانیاں پیدا کرتے ہیں‘ بیماریاں پیدا کرتے ہیں‘ نقصان کرواتے ہیں‘ ہرچیز خراب کرتے ہیں۔ ان کو الجھاتے ہیں تاکہ ان کو سکون نہ ملے اگر سکون ملے گا تو ہمارے کام کے قابل نہیں رہے گی اور ایسی لڑکیاں اور عورتیں وہ ہمارا ترنوالہ ہوتی ہیں… تو وہ جادوگر بابا کہنے لگا میں نے زندگی میں بہت گناہ کیے اور میرے پاس قرآن پاک کی ایک ایسی آیت ہے جس کو میں پڑھ کے جس پر پھونک مارتا تھا وہ عورت میری دیوانی ہوجاتی تھی اور اس نے وہ آیت قرآن پاک کی مجھے بتائی جو میں عام طور پر نہیں بتانا چاہتا کہ لوگ اس کو غلط استعمال کریں گے۔
ہیبت ناک جن اور مسلمان بزرگ
پھر اس کو نصیحت ہوئی اور وہ نصیحت کیسے ہوئی؟ افریقہ کے غار کے اندر ایک مسلمان انسان بزرگ رہا کرتے تھے جو اپنی تسبیح پر ہر وقت صرف اور صرف اَللّٰہُ الصَّمَدْ پڑھتے تھے اور بہت اونچی آواز میں پڑھتے کہ پہاڑ بھی دہل جاتے تھے اور صرف اور صرف نماز کے اوقات میں باہر نکلتے اور چند انسان موجود ہوتے جو ان کی زیارت کیلئے آتے نماز کی جماعت کرکے وہ بزرگ پھر غار میں چلے جاتے۔ مختصر سا کھاتے پیتے ان کا جسم سوکھ کر کانٹا ہوگیا تھا۔ ایک دن میں ایک انسان عورت کو اٹھا کر وہاں سے گزررہا تھا تو ان کے اَللّٰہُ الصَّمَدْ نے مجھے آگے نہ جانے دیا مجھ پر غشی سی طاری ہوگئی۔
اَللّٰہُ الصَّمَدْ نے مجھے دیوانہ کردیا
آخر کار میں وہاں رک گیا‘ اس عورت کو میں نے وہاں بٹھا دیا وہ بیہوش تھی‘ میرا اس کے ساتھ حسب معمول گناہ کا ارادہ تھا لیکن اس بزرگ کے اَللّٰہُ الصَّمَدْ کے نعرے اور وجدان نے مجھے دیوانہ کردیا میں اس کو سننے بیٹھ گیا جوں جوںسنتا جاتا تھا میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوتا گیا۔ تین راتیں اور چار دن میں مسلسل اسی وجدان میں بیٹھا رہااور اَللّٰہُ الصَّمَدْ سنتا رہا آخر مجھے ہوش آیا اور مجھے احساس ہوا کہ میں زندگی کی جن راہوں پر چل رہا ہوں وہ راہیں بہت غلط ہیں اللہ کے نام نے اللہ کے ذکر نے اور اللہ کے نام کی تسبیح نے میرے دل کی دنیا بدل دی‘ میری صبح و شام بدل گئے‘ میرے دن رات بدل گئے‘ میں انتظار کرنے لگا کہ اس بزرگ کو کیسے اپنا دل دکھاؤں‘ کیسے اپنے حال بیان کروں۔
پہلے سوچا کہ اس عورت کو واپس چھوڑ آؤں‘مسلمان عورت انسان تھی‘ اس کو واپس اس کے گھر چھوڑ کر اس بزرگ کی غارکے پاس آکر بیٹھ گیا۔

Majzobi
15-05-2012, 03:38 PM
بزرگ کی نظر سے دنیا بدل گئی
ایک دن بزرگ عصر کی نماز کے بعد غار سے باہر نکلے اور مجھ پر نظر پڑی میں نے ان کی قدم بوسی کی ۔ ہاتھ چومے پاؤں چومے۔ مجھ سے پوچھنے لگے کیسے آئے میں نے رو رو کر اپنی بات بیان کی۔ فرمانے لگے نماز کے بعد بات کریں گے۔ میں ایک طرف بیٹھ گیا میں نے نماز نہ پڑھی‘ حالانکہ میں آباؤاجداد سے مسلمان ہوں لیکن غلط راہوں پر بہک گیا تھا۔ انہوں نے مجھے نماز کا بھی نہ کہا ‘نماز کے بعد وہ مجھے غار کے اندر لے گئے۔ ایک ٹوٹی چٹائی بچھی ہوئی تھی‘ ساتھ ایک پانی کا گھڑا پڑا ہوا تھا۔ اس پر مٹی کا پیالہ تھا اور ایک بہت بوسیدہ قرآن پاک ساتھ پڑا ہوا تھا اور دو کھانا کھانے کے لکڑی والے برتن تھے اور ایک سیاہ رنگ کی چادر تھی‘ بس اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا‘ اس غار میں اور میں نے دیکھا کہ غار میں ساتھ سانپ آرہے تھے اور جارہے تھے اور ان بزرگ سے ان کو کچھ خوف نہیں تھا‘ میں دیکھ رہا تھا کہ ان موٹے زہریلے سانپوںکا وہاں آنا جانا لگا ہوا تھا اور کچھ اور زہریلی چیزیں بھی تھیں‘لیکن ان بزرگ کو ان سے کوئی خوف نہیں تھا۔ ان بزرگ نے ان سے کوئی اثر تک نہ لیا۔ میں ان کے سامنے رو کر اپنی گناہوں کی داستان بیان کرتا رہا کرتے کرتے آخر میں نے ان کے ہاتھ پر توبہ کی۔ ایمان کی تجدید کی ایمان کی تجدید کرنے کے بعد وہ مجھ سے فرمانے لگے دیکھ ایسا کر تو سارا دن یَاقَہَّارُ پڑھا کر۔ تیرے اوپر جادو ہے‘ اور تیرے اوپر شیطانی چیزوںکی سخت نظر بد ہے اور سخت اثرات ہیں۔ تو بس سارا دن یَاقَہَّارُ پڑھا کر میں نے ان سے عرض کیا حضرت آپ مجھے اَللّٰہُ الصَّمَدْ کی اجازت دیں۔ فرمایا نہیں۔ یہ اجازت ابھی میں نہیں دے سکتا تو یَاقَہَّارُ پڑھا کر۔کہنے لگے میں نے یَاقَہَّارُ پڑھنا شروع کیا۔ اور یَاقَہَّارُ ایک دن کے اندر میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں پڑھ لیتا تھا۔ بس اس دن کے بعد میری زندگی کے دن رات بدلنا شروع ہوئے۔ پھر میرے اوپر یَاقَہَّارُ کے کمالات کھلے کہ ساری کائنات کو جو بھی حفاظت کا سامان ملتا وہ یَاقَہَّارُ کی برکت سے ملتا ہے اور ساری کائنات پر جتنے بھی شرور‘ آفات‘ بلیات مختلف شکلوں میں ہٹتی ہیں وہ یَاقَہَّارُ کی وجہ سے ہٹتی ہیں۔ کہنے لگے یَاقَہَّارُ کے وہ کمالات آپ کو بتا سکتا ہوں آپ گمان نہیں کرسکتے۔
بابا جن کا بتایا آزمودہ عمل
پھر اس جادوگر جن نے وہ عمل بتایا جس عمل کو بتانے کیلئے وہ میرے پاس آئے تھے۔کہنے لگے اگر گرمی ہے تو کچا برتن پرات یا کوئی لوہے کا تھال نمابرتن لے کر۔ چارپائی پر بیٹھ کر اس میں اپنے پاؤں ڈبو لیں۔ پانی ٹھنڈا ہو اور اگر سردی ہو تو گرم پانی میں پاؤں ڈبولیں پاؤں ڈبونا بہت ضروری ہے اور باوضو بیٹھ کر آپ گیارہ سو بار یَاقَہَّارُپڑھیں اور تصور کریں جس جادو سے‘ جس گناہ سے‘ جس عیب سے‘ جس بدکاری سے‘ یا شراب اور جوئے اور نشے سے نجات آپ چاہتے ہیں یا کسی کو دلانا چاہتے ہیں۔ اپنے لیے بھی پڑھ سکتے ہیں کسی کا تصور کرکے بھی پڑھ سکتے ہیں۔ وہ پڑھنا شروع کردیں۔ روزانہ ایک وقت مقرر ہو‘ قبلہ رخ بیٹھ کر‘پانی روز بدلنا ہے‘ اس پانی کو گرا دیں۔ اس وظیفہ کو روز پڑھنا ہے‘ گیارہ دن‘ اکیس دن‘ اکتہر دن‘ اکانوے دن۔ آپ پڑھیں۔ صبح و شام پڑھنا چاہیں تو فائدہ زیادہ ہوگا ورنہ ایک وقت بھی پڑھ سکتے ہیں۔
آپ کا جادو‘ اثرات‘ بندش‘ کالی دنیا کالے اثرات‘ یہ سب کچھ ختم ہوجائے گا۔ کہنے لگے کہ میں جنات کو یہ چیزیں اکثر بتایا کرتا ہوں ایک جن میرے پاس آیا مجھ سے کہنے لگا کہ میرے اوپر کسی نے جادو کرکے میرے بدن کو سیاہ کردیا ہے میں نے اسے یَاقَہَّارُ کا یہ پانی والا عمل بتایا اور سختی سے کہا کہ اس پانی کو استعمال نہیں کرنا اور نہ پانی کوئی گھر والا استعمال کرے۔ کیونکہ سارا جادو سر سے نکل کر پاؤں اور پاؤں سے نکل کر پانی میں چلا جاتا ہے اور اگر کوئی سخت بیمار ہے سخت مریض ہے کسی بھی مرض میں تومبتلا ہے‘ وہ پانی میں پاؤں رکھ کر یَاقَہَّارُ کا عمل کرے اور ساری بیماری‘ سارے روگ ساری تکلیف جسم سے نکل کر پانی میں چلی جاتی ہے۔ جب وہ جسم سے نکل جاتی ہے تو اس پاؤںکو نالی میں یا کہیں پھینک دیں۔ ہر روز نیا پانی ہو۔ بعض لوگوں کے تو پانی کی رنگت تبدیلی ہوتی ہے اور یہ بھی واقعات بے شمارآئے ہیں۔ میں نے اس جادوگر جن کا شکریہ ادا کیا اس کی مزید خدمت کی‘ تحائف دئیے اس جادو گر نے بہت عجیب و غریب عمل دئیے ایک ایسا عمل بھی دیا کہ جس سے جو حجاب الابصار کا عمل دیا تھا بہت مختصر آسان سا عمل تھا۔ آپ سب کو دیکھ سکیں آپ کو کوئی نہ دیکھ سکے۔
کہنے لگے کہ اس عمل کو میں نے افریقہ کے بہت سے لوگوں کو دیا اور خود کرایا انہیں وہ اس عمل کی وجہ سے حج کرکے آگئے۔ سواری میں خودجاکے بیٹھ گئے نہ ویزہ نہ ٹکٹ کچھ بھی نہیں۔ کوئی بحری جہاز کے ذریعے‘ کوئی ہوائی جہاز کے ذریعے‘ بہت سے غریب مفلس لوگ حج کرکے آئے۔
کہنے لگے کچھ لوگ تو ایسے ملے کہ کعبہ کا دروازہ کھلا اور وہ کعبے کے اندر چلے گئے اور ایک خوش قسمت نے مجھے بتایا کہ روضہ اطہر ﷺپر جاروب کش ہیں جو کہ آقاﷺ کے روضہ کے اندر سے جھاڑو دیتے ہیں وہ خواجہ سراء ہیں‘ ایک دن انہوں نے رات کی تنہائی میں کھولا میں مسجد نبوی ﷺ کے اندر رہ گیا میں اس کے اندر چلا گیا اور اس کے اندر کا اس نے نقشہ بتایا اور جو جلوے بتائے وہ بیان اور گمان سے بالاتر ہیں۔ میں نے ان جادو گر باباجی کا شکریہ ادا کیا اور میں نے چلتے ہوئے جو اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کا عمل میں نے پہلے بتایا تھا وہی عمل انہیں بھی بتایا کہ ہر رکعت میں اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کی تکرار کرنا ہے۔بطور ہدیہ پیش کی‘ بہت خوش ہوئے۔ انہیں بہت پسند آئے۔ کہنے لگے کہ یہ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کے میرے تجربات تو ہیں لیکن اس ترتیب اور ترکیب کے اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُے تجربات مجھے پہلی دفعہ ملے ہیں۔ میں نے جس شخص کو بھی اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُکا یہ عمل دیا ہے مجھے آج تک کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا جس کو نفع اور فائدہ نہ ہوا ہو۔ ایسے ایسے لوگ بھی ملے ہیں جن کی زندگیوں میں وبال‘ بلائیں‘ پریشانیاں دکھ اور الجھنوں نے ڈیرے ڈال دئیے تھے۔
ایسی عورتوں نے کیے جن کے رشتے نہیں ہوتے تھے جن کے بال سفید ہوگئے تھے ایسی ماؤں نے کیے جن کی اولادیں نہیں ہوتی تھیں۔ بس اس کو مستقل کرتے رہنا ہے چند دن‘ چندہفتے‘ چندمہینے کرتے رہتا ہے جب تک کامیابی نہیں ملتی۔ مقدمات میں کامیابی‘ مشکلات سے دوری‘ مسائل کا حل‘ غموں سے دوری‘ دکھوں سے دوری‘ زندگی کی ہر مشکل کو دور کرنے اور پریشانی کو دور کرنے کیلئے‘ اس سے بڑا وظیفہ شاید کہیں نہ ملا ہو۔ میری طرف سے تمام قارئین کو پھر اس کی اجازت ہے۔ اس کو جتنا کریں اتنا اس کا نفع پائیں گے اور جتنا کریں اتنا اس کا کمال پائیں گے۔ کبھی آئندہ آپ کو چند ایسے عبرتناک مشاہدات بھی بتاؤں گا کہ جنات کس طرح لوگوں کو بیمار کرتے ہیں اور بیماری میں ان کا کتنا دخل ہوتا ہے اور ان کی ترتیب کیا ہوتی ہے کبھی میں آپ کو جنات کے قبرستان کی سیر بھی کراؤں گا اور جنات کی خوراک بھی بتاؤں گا اور جنات کہاں دفن ہوتے ہیں‘ ان کی مییتیں اٹھتی ہیں ان کے جنازے کیسے ہوتے ہیںکیونکہ بے شمار جنازے میں نے خود پڑھائے ہیں ان کی زندگی کیسے گزرتی ہے۔ ان کے دن رات کیسے ہوتے ہیں یہ ساری چیزیں انشاء اللہ کبھی میں آپ کو تفصیل سے بتاؤں گا۔

Majzobi
15-05-2012, 03:44 PM
جوان جن کی علامہ صاحب کے پاس آمد
ابھی میں نے تھوڑاپہلے افریقی بوڑھے بابے کا تذکرہ کیا تھا جس کے بارے میںمیں نے کہا تھا کہ وہ جن نہیں تھا کوئی ہیبت کا پہاڑ تھا اور پراسرار قوتوں کا مالک تھا اور جس کے بارے میں میں نے آپ کو بتایا کہ لوہے کے تھال میں پانی بھر کے اس میںپاؤںڈبو کر عمل کیا تھا اور چلتے ہوئے میں نے انہیں ایک تحفہ بھی دیا۔ ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ ان کی طرف سے مجھے ایک جن کے ذریعے ایک تحفہ کچھ کھانے پینے کی مٹھائیاں‘ کچھ میوہ جات تھے اور کچھ کپڑے اور لباس تھے۔ اور ایک خوبصورت سا کنگن بھی تھا جو کہ سردار جن اپنے ہاتھوں میں ڈالتے ہیں خیر میں نے وہ ڈالا تو نہیں رکھ ضرور لیا۔ اس جن کے ذریعے ان کا شکریہ ادا کیا۔ وہ جوان جن تھا میں نے اس سے اس کی عمر پوچھی وہ کہنے لگا کہ ایک سو ستاسی سال میری عمر ہے۔ وہ گفٹ لے کر آیا اس افریقی جادوگر جن کا میں نے اس سے اس کا حال احوال پوچھا کہ وہ کیا کرتا ہے؟ کہنے لگا میں کپڑے کا کام کرتا ہوں ہمارے جنات کے ہاں ریشمی کپڑا پہنا جاتا ہے اور اس میں شوخ رنگ زیادہ پسند کیے جاتے ہیں اور ایسا کپڑا جس کپڑے کے اوپر ہلکے پھول بنے ہوں میں اس کپڑے کا کام کرتا ہوں اور میں اس کو انسانوں میں بھی بیچتا ہوں اور جنات میں بھی۔


اس کا مزید آگے حصہ ہے لیکن آن لائن اتنا ہی تھا جو میرے پاس میگزین ہے اس میں کافی آگے تک ہے اگر مجھے مل گیا تو شیئر کر دوں گا انشااللہ اگر مجھے نہ مل سکے تو آپ اس میگزین (http://www.ubqari.org/controller.php?action=Edition_OnlineMag&nEdtId=75)سے مزید آگے پڑھ سکتے ہیں یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے انشااللہ زندگی رہی تو شیئر کرتا رہوں گا۔ جزاک اللہ

Majzobi
08-07-2012, 07:22 AM
پھر میں نے ان سے کہا آپ کی خیر اسی میں ہے کہ آپ مسلمان ہوجائیں اور ایمان لے آئیں۔ اتنے میں دو بیہوش بھی ہوش میں آگئے اور چیخ چیخ کر رونے لگے‘ اپنا جسم اور بال نوچنے لگے کہ ہمیں اب تک بتانے والا تھا ہی نہیں ہم نے تو سب کچھ اسی کو سمجھا ہوا تھا‘ ہم نے یہی جانا کہ اسی میں سب کچھ ہے۔ ہم برباد ہوگئے‘ وہ سینہ کوبی کررہے تھے‘ وہ چیخ و پکار کررہے تھے‘ وہ رو رہے تھے۔ ان کی زندگی کی مجھے شام نظر آرہی تھی کہ وہ مرجائیں گے اور ابھی ختم ہوجائیں گے… میں سوچتارہا‘ کہ اب ان کا کیا کیا جائے؟ اور انہیں مسلسل اسلام کی خوبیاں بتانا شروع کیں۔ آخر وہ سب مسلمان ہوگئے۔ میرے ساتھ کچھ اولیاء جنات بیٹھے ہوئے تھےمیں نے ان کے ذمے لگایا کہ ان کو اپنے رابطے میں رکھو اور ان کو دین سکھانا شروع کرو۔
ان میں سے ایک کہنے لگا اگرمیرا خاندان مسلمان ہونا چاہے تو آپ کرلیں گے؟ میں نے ان سے کہا ہاں زبردستی نہ کرنا اگر وہ اپنی رضا سے ہونا چاہیں تو میں ضرور کرلوں گا۔ تو کہنے لگا ٹھیک ہے دوسرے دن تمام جنات اپنے ساتھ چوالیس سو تئیس جنات مزید لے آئے مسلمان کرنے کیلئے۔ ایک جن میرے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور رو رہا تھا بوڑھا جن تھا۔ وہ تو روتے روتے تڑپنا شروع کردیتا‘ میں نے اسے اٹھایا اپنے سینے سے لگایا۔ بوسہ دیا‘ اس کے آنسو صاف کیے‘ میں نے پوچھا آپ کی عمر کتنی ہے‘ کہنے لگے نو سوسال سے کچھ کم ہے‘ پوچھا کیوں رو رہے ہیں کہا ایک اپنا گناہ یادآیا‘ میں نے پوچھا کیا اس نے آہستگی سے بتایا کہ میں گھی کا کام کرتا تھا‘ یعنی گھی چاول‘ چینی اور اس طرح کی کھانے پینے کی چیزوں کا ہول سیل کا بیوپاری ہوں۔ میں ایک کام کرتا تھا میرے پاس انسان تاجر بھی آتے تھے میں انسان کی شکل بنا کر ان سے تجارت کرتا تھا‘ انہیں کبھی علم نہ ہوسکا اور جنات میں بھی میرا بہت بڑا کاروبار تھا‘ میں ایک کام کرتاتھا کہ جن لوگوں کو خاص طور پر انسانوں کو اگر میں نے گھی کے سو ٹین دئیے میں چپکے سے ان میں سے پانچ ٹین اٹھا لیتا تھا۔ اس وقت جب مال ان کے گودام میں پہنچ جاتا تھا اور انہیں قطعی علم بھی نہیں ہوتا تھا۔ اس طرح ہر کھانے پینے کی چیز کے ساتھ میں ایسا کرتا تھا اور سالہا سال سے میں ایسا کررہا ہوں۔ ساری زندگی میں نے دھوکہ فریب چوری سے اپنا گھر بھرا۔ آج پتہ چلا کہ میں تو بہت نقصان میں ہوں اور میں بہت گھاٹے میں ہوں‘ بس وہ دن اور آج کا دن مجھے بہت بڑی ندامت کا سامنا ہورہا ہے اب میں اتنے بندے کہاں سے لاؤں گا جن لوگوں کے ساتھ میں نے دھوکہ کیا۔ مجھے تو یاد ہی نہیں صدیوں سے میں کام کررہا ہوں۔ انسانوں کی نامعلوم کتنی نسلیں ختم ہوچکی ہیں اور انسانوں کی کتنی نسلوں کو میں نے دھوکہ دیا وہ رو رہا تھا اور مسلسل چیخ و پکار کررہا تھا۔ میں نے اسے تسلی دی اور کہا حقوق العباد بہرحال حقوق العباد ہوتاہے جو جو آپ کو یاد ہے ان کی لسٹ بناؤ ان کو لوٹاؤ جو یاد نہیں ہے جتنا یاد ہے ان کی طرف سے صدقہ کردو اور مجھے ابھی ابھی پتہ چلا کہ وہ ایسا مسلسل کررہا ہے۔ بیٹھے بیٹھے یاد آیا کہ قارئین! کیوں نہ آپ کو جنات کے رمضان کی کچھ کیفیات‘ معمولات‘ مجاہدے‘ قربانیاں‘ مانگنا‘ گڑگڑانا‘ رونا‘ قرآن پڑھنا‘ تراویح پڑھنا‘ ذکر کرنا‘ صدقہ وخیرات کرنا‘ غریب پروری میں آگے آگے بڑھ کر چلنا‘ یہ سب معمولات واقعی آپ کو ضرور بتائے جائیں۔
جنات کا رمضان
جنات کی زندگی میں رمضان کا استقبال ایک خاص اہمیت رکھتا ہے اور جنات رمضان المبارک میں ایک ذکر بہت کثرت سے کرتے ہیں حَلِیْمٌ کَرِیْمٌ عَفُوٌّ کَرِیْم۔ اتنا کرتے ہیں کہ آپ سوچ نہیں سکتے۔ اربوں سے زیادہ یہ ذکر کرتے ہیں‘ کھانے کا انتظام ان کے ہاں بہت زیادہ ہوتا ہے ہر جن کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کھلائے‘ پلائے‘ رمضان کے مہینے میں جنات کی زندگی کے معمولات دھیمے پڑجاتے ہیں‘ ان کا کاروبار بہت کم رہ جاتا ہے‘ پورا رمضان وہ تقریباً چھٹی میں گزارتے ہیں‘ ہروقت ذکر و اذکار‘ لاکھوں قرآن پڑھے جاتے ہیں کیونکہ حفاظ زیادہ ہیں۔ اس لیے ان کے ہاں ہرجگہ‘ گھرگھر ہرقبرستان‘ ہر ویرانے‘ ہر جنگل میں اور ہردرختوں کے جھنڈ میں اور ہر پرانی بھٹی میں اور پرانے بھٹے میں‘ ہر پانی کے کنارے‘ دریا اور سمندر میں مصلے پڑھے جاتے ہیں۔ قرآن بہت خوبصورت پڑھتے ہیں اور نہایت عمدہ لہجے کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ جنات میں ہمیشہ قرآن سعودی طرز پر ہی پڑھا جاتا ہے‘ یہ اس دور کی بات ہے جب ابھی شیخ شریم اور شیخ السدیس کا تعارف بھی نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ جنات نے خود قرآن حضور اقدس ﷺ سے سنا‘ صحابہ اہل بیت تابعین تبع تابعین محدثین اولیاء صالحین سے خود سنا۔ اس لیے جنات کے ہاں ہمیشہ وہ طرز ہے جس طرز پر سعودی عرب میں قرآن پڑھا جاتا ہے۔ رمضان میں میں نے بہت ختم القرآن میں جانا ہے تھک جاتا ہوں۔ ہرطرف سے تقاضا ہوتا ہے کہ آپ ہمارے ختم القرآن میں آئیں اور دعا کروائیں کچھ کلمات بھی جن میں عظمت قرآن‘ تعارف قرآن اور فضائل قرآن کی بات بھی ہوجائے۔ میں بہت ختم القرآن میں جاتا ہوں ہر جگہ مٹھائی بہت بانٹی جاتی ہے۔ قارئین! کبھی آپ نے غور کیا کہ قرآن کیا اخبار ہے جو روزانہ آپ کے گھر آتا ہے۔ کتنے سینکڑوں ادارے مسلسل قرآن چھاپ رہے ہیں اور انسانی دنیا میں قرآن پڑھنے کا ذوق تو بالکل ختم ہوجاتا ہے پھر یہ آخر چھپا ہوا قرآن کہاں جاتاہے اور بک جاتا ہے؟ جنات ہمیشہ قرآن پڑھتے ہیں اور بہت زیادہ پڑھتے ہیں پھر ایک دوسرے کو لے کر تحفے دیتے ہیں۔ ان کے ہاں قرآن بہت بوسیدہ ہوتے ہیں اس لیے بہت زیادہ بکتے ہیں اور پڑھے جاتے ہیں کئی قرآن مجھے جنات نے تحفۃً دئیے پھر میں ان کو دوسرے جنات کو تحفے میں دے دیتا ہوں۔
رمضان کے مہینے میں ایک دن میں قرآن ختم کرنے والے‘ آدھا دن میں قرآن ختم کرنے والے بے شمار سے بھی بے شمار ہیں۔ لوگ ملتے ہیں ورنہ دو یا تین دن میں قرآن ختم کرنے والے تو عموماً ملتے ہیں۔ روزے کا ذوق‘ ختم القرآن کا ذوق‘ کروڑوں دفعہ کلمہ‘ کروڑوں بار استغفار‘ کروڑوں بار درود شریف اور اربوں سے زیادہ حَلِیْمٌ کَرِیْمٌ عَفُوٌّکَرِیْم بہت پڑھنے والے ملتے ہیں اور ویسے بھی بقول ایک جوان جن کے جو شخص رمضان میںحَلِیْمٌ کَرِیْمٌ عَفُوٌّ کَرِیْمپڑھے گا اس کا وہ رمضان روزہ اور مجاہدہ اتنا قبول ہوگا کہ دنیا حیران ہوجائے گی۔ اور حیرت انگیز رزلٹ ملتے ہیں مشکلیں حل ہوتی ہیں‘ پریشانیاں دور ہوتی ہیں‘ رزق میں وسعت برکت‘ عزت‘ کامیابی‘ کمال برکت‘ کمال راحت‘ ہرمشکل کا حل ہر پریشانی کا حل‘ زندگی ایسی بن جاتی ہے کہ انسان گمان سے بالا تر ہوتا ہے۔ آپ سب کو اس کی اجازت ہے۔ ( جاری ہے)

Majzobi
09-08-2012, 03:17 PM
جی چاہتا ہے کچھ باتیں حضرت خضرعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملاقات کی کرلوں‘ زندگی کی خبر نہیں جو ملا ہے لوٹانا چاہتا ہوں اپنے ساتھ کچھ لے کر جانا نہیں چاہتا‘ ویسے بھی مومن کے پاس جوکچھ ہوتا ہے وہ ادھار ہوتا ہے ادھار کو لوٹانا مومن کے مزاج کا حصہ ہے۔
ایک پرانی اور کالی رات میرے سامنے ہے جب میں اپنے مکان کی چھت پر بیٹھا اسم ذات کا ذکر کررہا تھا سردی کے دن تھےاور سخت سردی پڑرہی تھی‘ میں نے ایک کمبل اوڑھا ہوا تھا لیکن میں پسینہ پسینہ تھا اچانک مجھے احساس ہوا کہ میرے قریب کسی نے آکر اپنا گھٹنا لگا دیا اور سلام کیا۔ ہلکا سا خوف ہوا لیکن پھر ایک اطمینان ہوگیا۔۔۔دیکھا تو ایک خضر صورت درویش بیٹھے ہیں مصافحہ ہوا میں نے پوچھا آپ؟ فرمانے لگے لوگ مجھے خضر(علیہ الصلوٰۃ والسلام) کہتے ہیں یہ ان سے میری سب سے پہلی ملاقات تھی۔ میں سمجھتا ہوں یہ لفظ اسم ذات یعنی اللہ جو میں نے لاکھوں کروڑوں مرتبہ کیا‘ یہ اس کی برکات ہیں۔ اس کی برکات تو مجھے بہت ملیں وہ پھر کبھی عرض کروں گا لیکن اس کی ایک برکت یہ ہے کہ حضرت خضرعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملاقات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
حضرت خضر علیہ الصلوٰۃ والسلام سے میں نے بہت پایا بہت حاصل کیا ہے ایک چیز جو کہ گزشتہ صفحات میں آپ مسلسل پڑھ رہے ہیں وہ یَاقَہَّارُ ہے۔ آج میں یَاقَہَّارُ کے روحانی و نورانی فوائد حضرت خضر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زبانی بتانا چاہتا ہوں ایک بار فرمانے لگے:۔
’’جو شخص اس کو بکثرت پڑھے گا جتنا بڑے سے بڑا گناہ ہو اور وہ اس گناہ سے چھٹکارا پانا چاہتا ہو‘ جتنی بڑی سے بڑی برائی ہو‘ نشہ ہو‘ کوئی عادت بد ہو‘ کوئی عیب اور وہ اس عیب سے چھٹکارا پانا چاہتا ہوں وہ بلا تعداد اس کو مستقل پڑھے۔ جتنا زیادہ تعداد میں پڑھے گا اتنا فائدہ ہوگا۔ لاکھوں سے زیادہ پڑھے‘ بس ہروقت پڑھتے ہوئے یہ تصور یعنی جس چیز سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے اس کا تصور …وہ نہیں پڑھ رہا تو اس کی طرف سے کوئی اور پڑھے لیکن بات ہے پڑھنے کی… چند بار پڑھ کر چھوڑ دینا۔ ایسا نہ ہو یہ بات مسلسل تجربات میں آئی ہے کہ اس کو مسلسل پڑھنے سے گوہر مقصود ضرور ملا ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ہیروئن چھوٹتے دیکھی‘ بدکاری سے نفرت دیکھی‘ جھوٹ گناہوں سے نفرت دیکھی‘ ایک نہیں بے شمار ‘بے شمار نہیں اور بے شمار لوگوں کو اسم یَاقَہَّارُ سے متقی ولی‘ اور اللہ کا دوست بنتے دیکھا۔ اللہ کی دوستی اور اللہ تعالیٰ کا قرب اور اللہ کی محبت یَاقَہَّارُ کے سامنے ایک انوکھا راز ہے۔ میں نے ایک صاحب کو یہ پڑھنے کیلئے بتایا کہنے لگے میں نے دن دیکھا نہ رات ‘ صبح دیکھی نہ شام‘ نیند دیکھی نہ جاگنا ہر صورت یَاقَہَّارُ پڑھتا چلا گیا‘ لاکھوں کی تعداد میں یَاقَہَّارُ پڑھا۔ میں وہ تھا جو کماتا تھا جوئے پرلگا دیتا تھا پھر جو بچتا تھا شراب میں لگا دیتا تھا اور بدکاری پر لگاتا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں اس سے بڑا لفظ کہیں پایا ہی نہیں… کہیں دیکھا ہی نہیں۔ اب رات کو سوتا ہوں تو تہجد کے وقت مخصوص مہک اور خوشبو ہوتی ہے جو میرے بدن کو لپیٹ لیتی ہے اور مسرور ہوں کہ ایک خوشبو مجھے تہجد کیلئے اٹھا دیتی ہے پھرتہجد کے بعد سوتا ہوں تو وہی خوشبومجھے نماز فجر کیلئے اٹھا دیتی ہے اسی طرح میرے دن رات گزر رہے ہیں۔
مجھے وہ وقت بھی یاد تھا جب میںعید کی نماز تک نہیں پڑھا کرتا تھا‘ جمعہ تو دور کی بات ہے۔ جب مجھے اللہ کے نام سے شناسائی نہیں تھی۔ میں بھٹکا ہوا تھا الجھا ہوا تھا‘ ڈوبا تھا‘ گمراہ تھا۔ اسم یَاقَہَّارُ نے مجھے اللہ تک پہنچانے میں بہت مدد کی۔ قارئین! ویران گھروں اور اجڑی زندگیوں کیلئے اسم یَاقَہَّارُ کے اندر بہت تاثیر اور طاقت ہے‘ اس کے اندر تقویٰ ہے‘ عظمت ہے‘ اخلاص ہے‘ للہیت ہے ‘تہجد ہے‘ نماز کا خشوع ہے‘ قرآن سے محبت ہے‘ عشق مصطفی ہے‘ عشق صحابہ اہل بیت ہے‘ عشق اولیاء ہے‘ صالحین سے محبت ہے‘ یہ کوئی شے نہیں عجیب شے ہے۔
اپنی نسلوں کیلئے پڑھ سکتے ہیں‘ ایک چھوٹی سی بات کہتا چلا جاتا ہوں اس کی وضاحت نہیں کروں گا۔ بس آگے آپ خود سمجھ لیں کہ جب بھی میاں بیوی ملاقات کا ارادہ کریں دونوں ملاقات سے پہلے بکثرت اسم یَاقَہَّارُ پڑھیں۔ اولاد صالح ہوگی‘ بے عیب ہوگی‘ اندھی کانی لولی لنگڑی‘ اپاہج‘ ناکارہ‘ بیوقوف‘ پاگل‘ دیوانی‘ بدشکل نہیں ہوگی۔
جہاں حسن ظاہر ہوگا‘ وہاں حسن باطن بھی ہوگا‘ خوبصورتی جہاں اندر کی ہوگی وہاں باہر کی بھی ہوگی‘ بچے میں تقویٰ اخلاص‘ خلوص نیکی‘ امانت‘ خیرخواہی‘ دریا دلی‘ سخاوت اور محبت کے آثار نمایاں ہوں گے۔ ویسے بھی میاں بیوی جب ملیں ان الفاظ کو تھوڑا یا زیادہ اس سے پہلے پڑھ لیا کریں۔
شیطانی عمل دخل نہیں ہوتا۔ بیماریاں نہیں ہوتیں‘ حتیٰ کہ آپس میں نفرت نہیں ہوتی۔ میں نے گھریلو جھگڑوں کے کئی لوگوںکو یہ بتایا کہ میاں بیوی جب بھی ملیں تھوڑا یا زیادہ اسم یَاقَہَّارُ ضرورپڑھ لیا کریں۔ اس وقت وضو ہے یا نہیں اس کی کوئی شرط نہیں۔ پھر اس کی برکات کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریں بہت کمال کی چیز ہے۔ یہ ایک راز تھا جو دل کی دنیا میں بسا ہوا تھا جو مجھے ملا تھا سو آپ تک لوٹا دیا۔ (جاری ہے)

Majzobi
24-10-2012, 07:01 PM
بیٹیوں کی شادی کا مسئلہ کس نے حل کروایا
مجھے آج ان باتوں سے وہ سارا تجربہ وہ سارا مشاہدہ وہ سارا ثبوت یاد آگیا۔ مجھے خوشی ہوئی کہ چلو اس جن نے اپنے مشاہدات بھی بتا دئیے اور میری بات کی تصدیق بھی کردی۔
ایک بونے جن نے ایک بات بتائی کہنے لگے کہ جب سے آپ نے موتی مسجد کا بتایا تو کراچی سے دو بوڑھے میاں بیوی یہاں آئے ان کی بیٹیوں کی شادی کا مسئلہ تھا اور وہ بہت پریشان تھے بیٹیوں کے بال سفید ہوگئے تھے‘ کسی بھی طرح رشتہ نہیں ہوتا تھا اور زندگی کے دن رات یونہی مایوسی میں گزر رہے تھے ہرصبح ایک نئی امید اور ہر شام حسرت و یاس میں چلی جاتی وہ پریشان تھے کہ آخر کیا ہوگا؟ عبقری میں آپ کا مضمون پڑھ کر وہ آئے تو روتے روتے موتی مسجد میں ان کی ہچکی بندھ گئی‘ ہمیں ان کے مسائل کی چونکہ خبر ہوگئی اس لیے ہم ان کے ساتھ چلے گئے۔ و ہ ٹرین سے چونکہ کراچی پہنچے‘ ہم ان سے پہلے کراچی پہنچ گئے اور ان کے گھر پہنچ کر ان کے گھر کے ایک کونے کے اندر کچھ ایسے تعویذ دبے ہوئے تھے جن کا تعلق رشتوں کی بندش سے تھا ہم نے ان کو نکالا اور جاکر سمندر میں ڈال دیا جب سمندر میں ڈالا تو ان کی وہ چیزیں ختم ہوگئیں تو جب وہ گھر پہنچے تو رشتے والے ان کی طرف رجوع کرنےلگے۔ تین بیٹیاں تھیں جن میں سےایک کی شادی ہوگئی‘ ایک کا رشتہ طے ہوگیا ہے اور تیسری کیلئے رشتے آرہے ہیں۔
ہمیں توموتی مسجد سے عشق ہے
میں نے ان جنات کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نے میرا مضمون پڑھنے والے قارئین کی مدد کی۔ وہ بونے جنات کہنے لگے ہمیں تو موتی مسجد سے عشق ہے‘ ہمیں موتی مسجد محبت اور پیار ہے‘ ہم تو ہر آنے والے کو اپنا مہمان سمجھتے ہیں اورہرآنے والا ہمارا دوست اور ہمارا مخلص ساتھی ہوتاہے‘ ایسے ایسے لوگ آئے جن کے پاس وسائل کم تھے‘ مسائل زیادہ تھے ہم نے ان کے گھر جاکر مدد کی‘ بعض لوگوں کے شیاطین جنات سے ہم نے خود لڑائی کی اور ان جنات کو ختم کیا‘ بعض لوگوں کے جادو ختم کیے اور بعض لوگوں کی آپس میں صلح کروائی‘ نفرتیں اور دل کے کینے ختم کیے‘ ان کے دل کی دنیا آباد ہوئی‘ بعض لوگ اپنی اولاد کی نافرمانی سے پریشانی ہوکر آئے ان کےساتھ ہم خود گئے اور اولاد کو نافرمان بنانے کیلئے جو خبیث جناتی چیزیں مسلط تھیں اور جو انہیں ہر وقت منفی سوچ دیتی تھیں‘ انہیں مثبت طریقوں اور نیکی کی راستوں سے ہٹاتی تھیں ان سے ہم نے جنگ کی اورانہیں دور کیا اور ان نوجوان بیٹے اور بیٹیوں کو ہم نے اپنی روحانی نظر سے پاک کیا اور ان کے اوپر روحانی دمکیے اورواپس آگئے۔ میں حیرت سے ان نیک جنات کی کارگزاری سن رہا تھا اور مجھے اچھا لگا کہ اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے مخلوق خدا کو موتی مسجد تک پہنچانے کاذریعہ بنایا۔

Majzobi
24-10-2012, 07:03 PM
ایک بددعا۔۔۔اور نسلیں برباد
ایک جن نے بتایا یعنی بونے جن نےکہ ایک جوڑا ہمارے پاس موتی مسجد میں آیا میں نے انہیں ٹوکا کہ ہمارے پاس سے کیامراد ہے؟؟؟ تو کہنے لگاکہ ابھی تو ہم نے آپ سے کہا ہےکہ موتی مسجد میں آنے والا ہر شخص ہمارا مہمان ہوتا ہے۔۔ ہمارے پاس ایک جوڑا آیا ان کے ہاں اولاد نہیں تھی‘ انہیں شک تھا کہ ان کے اوپر کسی نے جادو کیا ہے حالانکہ ان پر جادو نہیں تھا اور نہ ہی ان کے اوپر جنات کا اثر تھا۔ دراصل ان کے پیچھے ایک بددعا تعاقب کررہی تھی اور وہ بددعا یہ تھی کہ ان کے دادا نے ایک فقیر کو ستایا تھا اور اس کی توہین کی تھی اور ان کے گھر کے اندر ایک خاتون کام کرتی تھی اس خاتون کو انہوں نے بری طرح جھڑکا تھا اور بہت زیادہ سزا دی تھی جبکہ ان کی غلطی بہت تھوڑی تھی‘ اس کے دل سے دکھی آہ نکلی اور آہ یہ نکلی کہ تیری نسلیں کبھی آباد نہ رہیںاور واقعی ایسا ہوا ان کی اولاد یا تو پیدا ہوتے ہی مرجاتی تھی یا پھر اس کی اولاد ہوتی ہی نہیں تھی تو ہم نے ان کی بددعا کا ازالہ یہ کیا کہ ان کے مال میں سے بہت سا حصہ صدقہ کیا اور وہ صدقہ اس خاتون کو جو کہ بہت عرصہ پہلے فوت ہوگئی تھی اورجس کی بددعا لگی تھی اس کی روح کو پہنچایا۔ مزید قرآن پاک سے مخصوص آیات ہم نے ان پر دم کیں اور جب وہ گھر پہنچے تو ہفتے بعد ہی اس خاتون کو امید ہوگئی اور اب وہ خاتون امید سے ہے۔
میری خوشی و مسرت
میں ان کی باتیں سن رہا تھا اور خوشی بھی ہورہی تھی اور مسرت بھی… حتیٰ کہ خوشی اور مسرت سے میری آنکھوںسے آنسو نکل آئے۔ بونے جنات بہت سارے تھے میں نے ان سے پوچھا کوئی اور بات سنائیں کہ مجھے آپ کی باتوں سے دلی سکون مل رہا ہے کہ مخلوق خدا کی مشکلیں ٹلیں۔
موتی مسجد سے چوری کرنیوالے کا انجام
کہنے لگے یہاں کچھ لوگ جائے نماز جھاڑو اور کچھ چیزیں چھوڑ کرگئے پھر کچھ لوگوں نے انہیں اٹھا کر بیچنا شروع کردیا‘ جس جس نے بھی یہ کام کیا یعنی چیزیں بیچیں ہم نے انہیں سزائیں دی‘ کسی کے بیٹے کو نقصان پہنچایا‘ کسی کے گھر کو نقصان پہنچایا‘ کسی کا حادثہ کرایا‘ کسی کی ہڈی تروادی اور کسی کے گھر کے اندر لڑائی کروا دی‘ کسی کو مالی کسی کو جانی بہت نقصان پہنچایا کیونکہ یہ کام وہ تھا جو کہ مسجد کا تھا اور یہ ہماری محبوب مسجد‘ ہماری مسجد سے کوئی چیز چوری کرے توہم اسے پرسکون نہیںدیکھ سکتے وہ یقینا ًپریشان ہوگا اور اسے پریشان ہونا بھی چاہیے۔ ہم نے جی بھر کر انہیں پریشان کیا۔
بونے جنات کی دعائیں
یہاں جو عبادت کرنے آئے اور خلوص سے آئے ہم نے جی بھر کر ان کیلئے دعائیں کیں‘ کچھ کی مدد کی‘ ورنہ سب کو دعاؤں کے ساتھ بھیجا اور سب کو ہم نے روحانی دم کیا‘ ہر آنے والا شخص یہاں سے خالی نہیں گیا‘ ہاں وہ شخص جس کے اندر یقین نہیں وہ ضرور خالی جائے گا کیونکہ ہر شخص یہاں یقین کی خیرات پاتا ہے‘ اللہ بھی یقین والوں کے ساتھ ہے بے یقین کے ساتھ تو خود رب بھی نہیں ہے‘ ہم نے یقین کی دنیا میں ان لوگوں کو دیکھا ہے ۔ جنات بتا رہے تھے کہ بعض لوگ موتی مسجد میں ایسے آئے جو تین تین دن یہاں ٹھہرے‘ صبح آتے تھے شام کو چلے جاتے تھے‘ پھراگلی صبح آتے تھے‘ بعض ایسے ہیں جو سات سات دن ٹھہرے‘ بعض ایسے جو دو دو تین تین ہفتے ٹھہرے اور یہاں مسلسل عبادت‘ اعمال اور وہ نوافل جو آپ نے بتائے تھے کرتے رہتے تھے اور وہ پاکرگئے۔ بعض لوگ چونکہ جلدی میں ہوتے ہیں اور تسلی سے عبادت نہیں کرتے اس لیے انہیں مراد نہیں ملتی۔ جو تسلی سے وہ نفل پڑھے اور بار بار یہ عمل کرے وہ جلدی یا دیر سے۔۔۔۔ دراصل دیر اس لیے ہوتی ہے ان کے گناہ زیادہ ہوتے ہیں‘ ان کی پریشانیاں اس لیے ہوتی ہیں یا ان کے اوپر جادو سخت ہوتا ہے‘ بندشیں سخت ہوتی ہیں‘ یا ان کے پیچھے کوئی بددعا تعاقب کررہی ہوتی ہے اس لیے دیر لگتی ہے جو عمل کو متواتر کرتا رہے اور جو عمل میں تواتر کرے اسے دیر نہیں لگتی‘ پریشانیاں اور مصیبتیں دور ہوجاتی ہیں‘ مصیبتیں دور کراکے بہت خوشگوار ہلکا پھلکا موتی مسجد سے نکلتا ہے۔

Majzobi
24-10-2012, 07:04 PM
اسم یاقہار ۔۔۔اور خبیث جنات کا شکوہ
میں نے ایک بونے جن سے پوچھا یاقہار کے کوئی تجربات آپ کے مشاہدے میں آئے ہوں۔
کہنے لگے جب سے آپ نے یاقہار بتایا ہے اور وہ لوگ جو عبقری پڑھتے ہیں وہ یاقہار پڑھتے ہوئے جب بھی شاہی قلعے میں آتے ہیں تو اس شاہی قلعے کے شاہی محلے یعنی ہیرا منڈی کے جس کونے کا میں نے پہلے تذکرہ کیا اس کونے کے وہ جنات جو بیت الخلا کی طرف رہتے ہیں وہ بہت پریشان ہیں اور ان کے کئی جنات مرگئے ہیں ان کے گھروں کو آگ لگ گئی ہے وہ ہمارے پاس آئے اور کہا کہ آپ علامہ صاحب کو روکیں کہ علامہ صاحب لوگوں کو یاقہار نہ پڑھنے دیں ہم علامہ صاحب کو نقصان نہیں پہنچاسکتے کیونکہ ان کے گرد مضبوط روحانی قلعہ ہے‘ ان کی نسلوں کی بھی حفاظت رہے گی انشاء اللہ تعالیٰ کیونکہ ان کی نسلوں کے گرد بھی روحانی قلعہ ہے لیکن ہمارے تو گھر اجڑ گئے برباد ہوگئے تو وہ بونا جن مجھ سے کہنے لگا کہ میں نے ان سے کہا کہ تم لوگوں کو تنگ کرنا چھوڑ دو کہنے لگا کہ شرارت تو ہمارے خمیر میں ہے ہم کیسے تنگ کرنا چھوڑ دیں؟
انسان و جنات کیلئے خیر کا ذریعہ
میں نے ان سے کہا تم مسلمان ہوجاؤ ‘کہا ہم مسلمان نہیں ہوسکتے‘ میں نے ان میں سے کئی لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دی اور شاہی محلے کے کئی ہندو اور عیسائی جنات مسلمان ہوگئے‘ بہت سوں پر محنت جاری ہے ۔ واقعی یاقہار کا پڑھنا جہاںانسان کے تقویٰ و تربیت کا ذریعہ بنتا ہے وہاں جنات کیلئے بھی ہدایت اور خیرکا ایک ذریعہ بنتا ہے جنات بھی اس کو مانتے ہیں جنات بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں یہ ایک مختصر نشست کا تذکرہ تھا جو میں نے جنات کے ساتھ کی۔
لاہور شہر کے نیچے ایک اور آباد شہر.......!!!
ایک بات بتانامیں بھول گیا وہ یہ ہے کہ شاہی قلعہ کے اردگرد کچھ ایسے راز اور بھی ہیں جوکبھی میں آپ بتاؤں گا ان رازوں کا تعلق اللہ کی قدرت سے ہے جس جگہ شاہی قلعہ بنا ہے یہاں پہلے اونچے اونچے ٹیلے ہوتے تھے اور ویسے بھی پرانا شہر تمام ان پرانے ٹیلوں پر بنا ہوا تھا۔ انوکھی بات یہ ہے کہ ان ٹیلوں کے نیچے صدیوں اور ہزاروں سال پہلے بہت پرانا شہر آباد تھا‘ قدرت خدا کی وہ شہر ختم ہوگیا‘ پھر اللہ کا نظام کہ اللہ نے اپنی طاقت و قوت سے مٹی کو حکم دیا اور پھر یہاں بہت بڑے بڑے ٹیلے بن گئے ان ٹیلوں کے نیچے یعنی شاہی قلعہ کے نیچے اور پورے پرانے لاہور شہر کے نیچے ایک بہت بڑااور بہت پرانا شہر ہے جس کی اپنی ایک مخصوص تہذیب اور تمدن اور جس کے اندر اپنا ایک مخصوص نظام ہے اور وہاں بھی ایک مخلوق آباد ہے جو انسان نہیں اورجنات بھی نہیں وہ اور مخلوق ہے جو صرف اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے ۔۔۔میں یعنی علامہ لاہوتی بھی اس کائنات کے رازوں کو تھوڑا سا پاسکا ہوں زیادہ نہیں پاسکا اور زیادہ پانے کی کوشش کرہی نہیں سکتا کیونکہ وہاں کا نظام صرف اور صرف اللہ کے امر کے ساتھ چلتا ہے جس طرح آسمانوں کے اوپر مخلوق ہے‘ زمین کے اوپر مخلوق ہے ‘زمین کے نیچے بھی مخلوق ہے زمین کے نیچے بھی کائنات ہے اور وہ اللہ کے امر میں ہے اللہ جس طرح چاہ رہا اس طرح ہورہا۔ اللہ نے اپنا نظام اپنے چند بندوں کیلئے کھولا ہے ہر بندہ اس نظام کو پہنچ نہیں سکتا اگر ہربندہ اس نظام کو پہنچ جائے تو کائنات کا راز راز نہ رہے کیونکہ یہ راز اب سب کے بس کا کام نہیں ویسے بھی روح کی دنیا پراسرار دنیا لاہوتی دنیا‘ ملکوتی دنیا‘ جبروتی دنیا‘ ناسوتی دنیا اور ارواح کی دنیا یہ کائنات کے پوشیدہ رازوں میں سے ایک راز ہے‘ اس دنیا کو پہنچنے کیلئے ایک لمبی منزل ہے‘ ایک عظیم شخص کا ہاتھ ہونا پھر اس کی مسلسل اتباع ہونا‘ پھر اس کے ساتھ مسلسل رابطہ ہونا اس کے بغیر ایسا ممکن نہیں کیونکہ میں نے بہت سے اللہ والوں کی اور نیک جنات کی مسلسل صحبت اٹھائی ہے اب بھی ان نیک جنات جو کہ بچپن سے میرے ساتھ ہیں اور اب بھی وہ نیک جنات مسلسل مجھے اپنے ساتھ لیکر چلتے ہیں۔ قدم قدم پر میری رہبری کرتے ہیں اور قدم قدم پر مجھ سے محبت اور پیار کرتے ہیں اور قدم قدم پرمیرے ساتھ اپنی محبت اور پیار کا تعلق جگاتے ہیں میں بعض اوقات ان لوگوں کو مشکور ہوتا ہوں کہ وہ نیک جنات مجھے اپنے شاہی اڑن جہازوں میں لیکر چلتے ہیں جو کہ گدھ نما پرندے کے طرز پر بڑے بڑے بنے ہوئے ہوتے ہیں اور بعض اوقات مجھے اپنے ساتھیوں میں بلاتے ہیں‘ قرآن کی محفل میں بلاتے ہیں‘ نکاحوں میں بلاتے ہیں‘ ولیموں میں بلاتے ہیں زندگی میری ان ہی کے ساتھ مسلسل گزررہی ہے۔ میںآپ کے سامنے کن کن رازوں سے پردہ اٹھاؤں‘ بہرحال کچھ رازایسے ہوتے ہیں جن کا اظہار کردیتا ہوں کچھ راز ایسے ہوتے ہیں جن کا اظہار نہیں کرسکتا جتنا ہوتا ہے آپ کو بتا دیتا ہوں‘ بہت کچھ نہیں بتاسکتا اور بتانا بھی نہیں چاہیے کہ میرے پڑھنے والے یہی برداشت نہیں کرسکتےاور بعض اس کو ڈھکوسلہ دھوکہ اور فریب کہتے ہیں لیکن اکثریت ایسی ہے جو اس سے فائدہ حاصل کرتی ہے جو اس سے استفادہ حاصل کرتی ہے اور جو اس سے فیض پاتی ہے۔ کتنے لاکھوں ایسے ہیں جن کی مشکلات ٹلیں‘ کتنے لاکھوں ایسے ہیں کہ جنکی پریشانیاں دور ہوئیں‘ کتنے ایسے ہیں کہ میرے کالم کو پڑھ کر ان کے گھر شادو آباد ہوئے‘ انکی ویرانیاں دور ہوئیں‘ ان کے چہرے پر مسکراہٹیں اور شادمانیاں آئیں‘ ان کی زندگی کی پریشانیاں دور ہوئیں‘ ان کے مسائل حل ہوئے‘ میں خوش ہوتا ہوں‘ میں مطمئن ہوتا ہوں۔ مجھے دل کے اندر سکون ملتا ہے کہ میری وجہ سے لوگ خوشیاں پارہے دکھ دور ہورہے غم دور ہوگئے‘ مسائل حل ہورہے‘ میں یہی چاہتا ہوں اوریہی میرے دل کی آواز ہے ۔
علامہ لاہوتی کا قارئین سے وعدہ
دوستو! میری زندگی کی خبر نہیں لیکن میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں جتنا بھی ہوسکا آپ کو دوں گا جتنا بھی ہے وہ آپ کا ہے لیکن مجبور ہوں بعض کائنات کے ایسے راز ہیں جو کہ میں آپ کو نہیں بتاسکتا کہ مجھے حکم نہیں کیونکہ اگر وہ بتاتا ہوں تو کائنات کے رازوں میں خلل آتا ہے میں ایسا نہیں کرسکتا۔ لیکن جتنا زیادہ سے زیادہ ہوگا میں بتاتا رہوں گا۔
قارئین سے معذرت خواہ ہوں
میں نے پچھلے دنوں ایک بات کہی اور لکھی تھی کہ ایک جن ایک کلام پڑھ کر عورتوں کو اٹھا لیتا تھا اور ہر کسی کو اپنی طرف مائل کرلیتا تھا جب سے یہ چیز لکھی اس وقت سے مسلسل میری طرف لوگوں کی پیغامات آنا شروع ہوئے کہ وہ اسم ہمیں بتایا جائے ہم اسے ہرگز ناجائز استعمال نہیں کریں گے اس سلسلے میں میں ایک بات بتاؤں کہ انسان بہت کمزور اور نادان ہے وہ بہت جلداپنے وعدے توڑ دیتا ہے‘ انسان نے تو اللہ سے وعدہ کیا وہ توڑ دیا تھا‘ انسان سے وعدہ کیسے پورا کرسکتا ہے اور بعض چیزیں ایسی ہیں جو انسان کو گناہ اور غلطیوں کی طرف مائل کردیتی ہیں اس لیے میری کوشش ہوتی ہے کہ ایسی چیزیں بتاؤں جو نیکی کی طرف‘ عبادت کی طرف‘ للہیت کی طرف‘ اخلاص کی طرف اور اللہ کی محبت کی طرف مائل کردے۔ اس لیے میں ایسی چیزوں کو بتانے سے آپ سب قارئین سے معذرت خواہ ہوں اور براہ مہربانی اس کیلئے اصرار بھی مت کیجئے گا۔(جاری ہے)

Majzobi
20-11-2012, 11:44 AM
چڑیا گھرکا شیر میرا دیوانہ ہوگیا
کہ وہ آیت یا وہ لفظ یا وہ ورد اگر میں آپ کو بتادوں کہ اس کا فوری اثرہے‘ اس کا اثرتو میں نے یہ بھی دیکھا کہ بہت پرانی بات ہے کہ ایک دفعہ جب میں ابھی بچہ تھا یعنی نوعمر تھا تو ایک چڑیا گھر میں گیا‘ وہاں شیر کے پنجر کے پاس گیا جہاںایک شیر بیٹھا ہوا تھا‘ میرے دل میں آیا کہ اس شیر میں میری محبت پیدا ہوسکتی ہے‘ میں نے وہ پڑھا اور پڑھ کے شیر کے پنجر ےکے اندر اپنا پورا بازو ڈال دیا‘ شیراپنے پنجر کے دوسرے حصےسے دوڑتا ہوا آیا اور میرے بازو کو اپنی زبان سے چاٹنا شروع کردیا‘ وہاں اور بھی لوگ تھے جو چڑیا گھر دیکھنے آئے تھے‘ ان میں چیخ وپکار شروع ہوگئی‘ میں وہ ورد پڑھ رہا تھا اور شیر کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا اس کے سر کے بال میرے ہاتھوں کے نیچے تھے اور وہ پلٹ پلٹ کر میرا ہاتھ چاٹتا‘ اپنا منہ پھیرتا‘ میرے ہاتھوں پر اپنی آنکھیں پھیرتا‘ اس کی دم ہل رہی تھی‘ اس کا جسم محبت میں تھرتھرا رہا تھا۔
میں نے کہا اے خالق کائنات! تو نے اپنے ان کائنات کے پوشیدہ رازوں میں ایسی قوت رکھی ہے کہ یہ انسان کو چیڑنے اور پھاڑنے والا جانور پل میں دوست کیسے بن جاتا ہے‘ دوست نہیں بلکہ غلام بن جاتا ہے اور ایسا غلام بن جاتا ہے جو اس کو شاید کوئی سوچنے پر بھی نہ مانے لیکن دیکھنے والوں نے دیکھا۔تقریباً دس پندرہ منٹ سے زیادہ میں اس کے ساتھ رہا‘ اتنی ہی دیر میں شیرنی آگئی اب شیر کی کوشش ہو کہ وہ میرا ہاتھ چاٹے‘ شیرنی کی کوشش ہو کہ وہ میرا ہاتھ چومے‘ تو میں نے دوسرا ہاتھ بھی پنجرے کی سلاخوں کے اندر ڈال دیا‘ شیرنی نے دوسرا ہاتھ چومنا اور چاٹنا شروع کردیا ‘ حتیٰ کہ اس نے میرا ہاتھ اپنے منہ میں لیا اور نرم نرم ہونٹوں کے ساتھ زبان میں لینا شروع کیا کہ میرا ہاتھ اس کے لعاب سے بھرگیا‘ میں ان سے محبت کرتا رہا پڑھتا رہا‘ اس کے بعد میں نے دونوں ہاتھ باہر نکالنے کی کوشش کی تو شیرنی نے میرا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے اور ہلکے ہلکے دانتوں سے پکڑ لیا‘ جس سے مجھے تکلیف نہیں پہنچی اور یہ اس بات کی علامت تھی کہ آپ ہمیں چھوڑ کر کیوں جارہے ہیں؟ لیکن میں نے ان سے کہا نہیں مجھے جانا ہے آپ چھوڑ دیں اور میں نے آہستگی سے ان کے منہ سے اور پنجرے سے ہاتھ نکال لیے اس کے بعد وہ ہاتھ میں نے دھولیے۔ میں نے ان دونوں شیروں کو دیکھا ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ پنجرے کی سلاخوں کو توڑ دیں اور آکر میرے جسم سے لپٹ جائیں اور میرے پاؤں چاٹنا شروع کردیں وہ دیوانگی کے انداز میں اور پاگل پن کے انداز میں پنجرے کے اندر چکر کاٹ رہے تھے جب میں ذرا دور ہوا تومیں نے ان کی آنکھوں میں تیرتے ہوئے آنسو دیکھے کہ خود ان کے آنسوؤں سے میرے بھی آنسو آگئے۔ وہ محبت کے آنسو وہ جدائی کے آنسو‘ وہ دلفریبی کے آنسو تھے جو آنسو ان کی آنکھوں میں میں نے خود دیکھے۔ مجھے احساس ہوا کہ اللہ کے نام میں محبت ہے اللہ کے کلام میں محبت ہے‘ دلوں کی نفرت‘ دلوں کا بغض‘ وحشیانہ پن ‘ خونخواری اللہ چاہے تو ختم کردے‘ اللہ نہ چاہے تو ختم نہ کرے۔
ایسی چیز ہرگز نہیں دونگا
قارئین! میری زندگی اللہ کے کلام کے کمالات اور مشاہدات سے بھری ہوئی ہے بس آپ کو کبھی کبھی جب بیٹھتا ہوں باتیں بتاتا چلا جاتا ہوں تو بات میں سے بات نکلتی چلی جاتی ہے اور باتوں میں سے بھی بات نکلتی ہے تو اس میں سے انوکھے واقعات میرے منہ سے نکلتے چلے جاتے ہیں۔ یہ واقعات اس لیے بتائے ہیں کہ وہ الفاظ جو جن پڑھتا تھا وہ بہت پہلے مجھے کسی دوسرے جن نے بھی بتائے تھے‘ اس سے بھی پہلے مجھے صحابی جن نے بھی یہ بات بتائی تھی اور اس جن نے بھی بتائی اور وہی الفاظ ہیں مختصر سے… لیکن میں کیا کروں ان لفظوں کا اظہار نہیں کرسکتا۔ اسے میرا بغض نہ سمجھیے گا بلکہ احتیاط سمجھیے گا‘ احتیاط بہت ضروری ہے کیونکہ یہ زندگی احتیاطوں کے ساتھ گزاری جائے تو اس میں خیر زیادہ ہوگی‘ مجھے آپ کی دلچسپی اور محبت کا احساس ہے لیکن میں ایسی چیز ہرگز نہیں دوں گا جو آپ کی دنیا و آخرت کو برباد کردے یا وہ چیز کسی کی عزت یا عصمت کے نقصان کا ذریعہ بنے یا کسی کا گھر اجاڑنے کا ذریعہ بنے بس آپ کو میں نے جو اعمال دئیے اور جو ذکر اور تسبیحات دیں اس کی ہمیشہ سب کو اجازت دیا کرتا ہوں۔
میرے تحفے سنبھال کر رکھنا
میں نے یاقہار کے عمل دئیے‘ آپ کو نفل کا عمل دیا اور پھر ان آیات کا عمل دیا جن آیات میں اللہ پاک نے قسم اٹھائی ہے کہ وہ آیات مشکلات اور پریشانیوں کیلئے ایک بحربیکراں ہے‘ یہ ساری چیزیں میں آپ کو تحفے دیا کرتا ہوں‘ آئندہ بھی تحفے دوں گا‘ میرے تحفے سنبھال کر رکھنا‘ زندگی میں نہیں نسلوں میں کام آئیں گے اور آرہے ہیں۔ لوگ شادو آباد ہورہے ہیں مجھے عبقری کے ذریعے وہ خطوط ملتے رہتے ہیں جو لوگ لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اس عمل سے کیا نفع پہنچا۔

Majzobi
20-11-2012, 11:46 AM
جانوروں کو اعمال کا ہدیہ۔۔۔ اور نتائج
میں نے اپنی پچھلی کئی نشستوں پہلے جانوروں کو اعمال کا ہدیہ کرنے کے بارے میں کہا تھا ایک نہیں‘ دو نہیں‘ سینکڑوں نہیں‘ ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں نے اس عمل کو آزمایا اور ایسے ایسے انوکھے مشاہدات مجھ تک پہنچے جو میں آپ کے سامنے اگر بیان کردوں یا تو آپ مجھے دیوانہ کہیں گے‘ یا پھر جھوٹا کہیں گے۔ لیکن مجھے یقین ہے میرا کالم پڑھنے والوں کی اکثریت نہیں بلکہ سوفیصد ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اسے یقین کی طاقت سے اور محبت اور پورے خلوص سے پڑھتے ہیں۔ جانوروں کو عمل کا ہدیہ دینے سے ان کے دلوں میں ایسی محبت پیدا ہوتی ہے کہ وہ آپ کیلئے دعاؤں میں لگ جاتے ہیں وہ بے زبان ہوتا ہے‘ وہ گناہوں سے پاک ہوتا ہے‘ اس لیے قیامت کے دن ان کا حساب و کتاب نہیں ہوگا اور اللہ پاک ان کو ختم فرمادیں گے‘ جانوروں کو مسلسل اعمال کا ہدیہ پہلی نشست میں میں نے آپ کو ایک مخصوص عمل دیا تھا لیکن آج میں کہہ رہا ہوں آپ ایک تسبیح درود شریف کی پڑھ کر ہدیہ کرسکتے ہیں‘ آپ تین دفعہ درود شریف پڑھ کر ہدیہ کرسکتے ہیں‘ آپ تین دفعہ سورۂ اخلاص ہدیہ کرسکتے ہیں‘ آپ تین دفعہ سورۂ فاتحہ پڑھ کر ہدیہ کرسکتے ہیں‘ آپ گیارہ دفعہ پہلا کلمہ طیب پڑھ کر ہدیہ کرسکتے ہیں‘ کرتے رہیں۔
بکری شریف ہوگئی
ایک صاحب نے بتایا ان کے گھر میں بکریاں تھیں اور ایک بکری باقی سب بکریوں کو مارتی تھی‘ حتیٰ کہ اس نے ایک بکری کی آنکھ میں سینگ مارا اور اس کی آنکھ ہمیشہ کیلیے ختم ہوگئی۔یہ میری والدہ کی بکری تھی‘ سب بہن بھائی اس بکری کو نہ چاہتے ہوئے بھی رکھنے پرمجبور تھے کیونکہ والدہ کی تھی‘ کئی دفعہ مشورہ بھی ہوا کہ اس کو بیچ دیا جاے یا ذبح کردیا جائے لیکن کوئی بھی اس پر آمادہ نہیں ہوا۔ آخرکار ہم نے اس بکری کو اعمال کا ہدیہ کرنا شروع کردیا کچھ ہی عرصے کے بعد اس بکری کے اندرکی وہ صفت ختم ہوگئی‘ اور اس کے اندر شرافت‘ ہمدردی اور خیرخواہی کا جذبہ پیدا ہوگیا۔
بلیاں چوزوں کی حفاظت کرتی ہیں
کہنے لگے کہ ہمارے گھر میں بلیاں اور مرغیاں بھی تھیں یہ بات پہاڑی بستی کے ایک شخص نے بتائی جب سے آپ کا کالم پڑھا ہم نے بلیوں کو اعمال کا ہدیہ کرنا شروع کردیا اور مسلسل کرتے رہے اوراب یہ عالم ہے کہ وہ بلیاں مرغیوں کی‘ چوزوں کی اور انڈوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ ہم بلیوں کو روٹی کے ٹکڑے ڈال دیتے ہیں وہ روٹی کھا کر اپنا گزارا کرلیتی ہیں‘ وہ مرغیوں کو اور مرغی کے بچوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتیں ا ور ہمارا گھر اب پرسکون ہوگیا ہے۔ حتیٰ کہ ایک رات ایسا ہوا کہ گیدڑ مرغیاں پکڑنے کیلیے رات کوآئے تو بلیوں نے گیدڑوں کا مقابلہ کیا دو تین بلیاں زخمی بھی ہوئیں ایک بلی کا کان بھی گیدڑ نے چباڈالا لیکن بلیوں نے گیدڑوں کو مرغیوں تک نہیں پہنچنے دیا‘ ہم مسلسل اپنی بلیوں کو اعمال کا ہدیہ کرتے رہتے ہیں اور بلیاں ہم سے زیادہ مانوس ہوگئی ہیں اب جگہ جگہ پاخانہ نہیں کرتیں‘ ہمارے دودھ میں منہ نہیں ڈالتیں‘ پانی کے برتنوں میں منہ نہیں ڈالتیں بلکہ دور بیٹھ کر میاؤں میاؤں کرتی رہتی ہیں یعنی اس بات کا اظہار کرتی ہیں کہ آپ ہمیں جتنی قیمتی چیزیں دے رہے ہیں آخر ہم کیوں آپ کا نقصان کریں۔ ہم آپ کا نفع چاہیں گے اعمال کا ہدیہ جانوروں کیلئے ان کے نقصان سے بچنے کیلئے بہت فائدہ مند ہے
بیل نے ضد چھوڑ دی
ایک صاحب بتانے لگے کہ میں ان پڑھ آدمی ہوں میرا ایک بیل ہے‘ روزانہ مزدوری کیلئے اس کو ریڑھے میں جود کرلیجاتا ہوں بعض اوقات بیل ضد کرتا ہے‘ چلتا نہیں اور رک جاتا ہے یا بعض اوقات جان بوجھ کر ایسی جگہ ریڑھی کو ماردے گا کہ جہاں ریڑھی کا نقصان ہوجائے۔
بتانے لگے مجھے پڑوس کی خاتون نے کہا کہ چاچا اس بیل کو اعمال کا ہدیہ کر مجھے تو صرف کلمہ آتا تھا میں سارا دن کلمہ پڑھ پڑھ کر بیل کے دل کا تصور کرکے پھونکتا رہتا تھا اور دل میں خیال کرتا تھا کہ اے میرے ساتھی بیل! تجھے میں کلمہ تحفہ دیتا ہوں بس یہ تصور کرتا رہتا تھا۔ کہنے لگے کہ اس تحفے کے بعد یہ ہوا کہ اس بیل کے مزاج میں تبدیلیاں آنا شروع ہوگئیں پہلے وہ لوگوں کومارتا تھا اس نے مارنا چھوڑ دیا‘ پہلے وہ ضد کرتا تھا وہ ضد اس نے ختم کردی اور پہلے وہ اپنی مرضی کے مطابق چلتا تھا‘ دائیں بائیں ریڑھی سےنقصان کرتا تھا اب نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر میں نے بہت سی خوبیاں پانی شروع کردی ہیں اب وہ اپنے دوسرے اور جانوروں کے ساتھ جو چھوٹے جانور اور ایک گائے میں نے گھر رکھی ہوئی ہے ان سب کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اس سے پہلے سب کومارتا تھا اکثر کھرلی میں اکیلا کھاتا تھا کسی کو کھانے نہیں دیتا تھااب صرف اپنے آگے سے کھاتا ہے۔ اس کی اطاعت ‘اس کی فرمانبرداری اس کی نرم مزاجی سے میں حیران ہوں… وہ چاچا کہنے لگا کہ اب تو میں ساری زندگی اس بیل کو اپنے ساتھ رکھوں تو کوئی مشقت نہیں۔ یہ بیل میری مان مان کر چلتا ہے اور چاچے نے مزید کہا کہ جب سے میں نے کلمہ پڑھنا شروع کیا ہے‘ میرے رزق میں برکت ہے اور غیب سے گاہک ملتے ہیں‘ تھوڑا وقت مزدوری میں لگاتا ہوں اور زیادہ رزق مل جاتا ہے پہلے سارا دن تھکتا تھا اور روٹی نہیں پوری ہوتی تھی اب گھر میں رزق کی فراوانی ہے گھر میں عیش و برکت ہے۔ ایک نہیں جانوروں کوہدیہ کرنے کے ہزاروں واقعات میرے سامنے ہیں جو آپ کو سناتا چلاجاؤں اورآپ کے رونگٹے کھڑے ہوتے چلے جائیں۔

Majzobi
20-11-2012, 11:47 AM
قبرستان میں بیتی زندگی کے انوکھے واقعات
قارئین! آج آپ کو قبروں اور قبرستان میں بیتی زندگی کے وہ انوکھے واقعات سناؤں مجھے یقین ہے بلکہ سوفیصد یقین ہے کہ میری باتیں بعض لوگوں کیلئے ایک من گھڑت قصے کہانیوں سے بھر کر نہیں ہوںگی یا پھر اتنا کہ شاید ایسا ہوتا ہوگا… یا وہ لوگ جو مجھ پر کچھ اعتماد کرتے ہیں تو وہ کہتے ہوں گے ہاں دنیا میں ایسےلوگ بھی ہوتے ہیں جن کے ساتھ یہ واقعات بیتتے ہیں۔
یقین کی دنیا کو پانے والے بہت کم لوگ ہیں جو یہ مانتے ہوں گے کہ نہیں یہ حقیقت ہے…!!! اور علامہ لاہوتی پراسراری حقائق ہی کو بیان کرتے ہیں یہ سمجھ بہت کم لوگوں کو ہے۔ ایک بات کا تجربہ میرا بھی ہے جس کو یہ بات سمجھ آگئی وہ کائنات کے بہت حیرت انگیز اسرار پاجاتا ہیں جب سے یہ سلسلہ شروع ہوا ہے مجھے عبقری کے ذریعے بے شمار خطوط مشاہدات‘ واقعات ملتے رہتے ہیں کہ کتنے لوگوں نے میرے کالم کو پڑھ کر ایسے ایسے حیرت انگیز مسائل سے چھٹکارا پایا ہے کہ جس کی الجھنیں ان کی نسلوں کو تار تار کرچکی تھیں اور نسلیں مایوس ہوچکی تھیں کہ یہ مشکلات اور مسائل اب کبھی ہم سے جانہیں سکتے ہم تو مرسکتے ہیں یہ مسائل کبھی نہیں مرسکتے۔ میں مطمئن ہوں کہ قارئین تک جو چیزیں پہنچارہا ہوں وہ صرف قصے کہانیاں انوکھی باتیں انہونے قصے یا من گھڑت افسانے نہیں ہیں بلکہ قدرت کے وہ سربستہ راز ہیں جو اللہ پاک جل شانہٗ جس پرچاہے کھول دے اور جس پرچاہے بند کردے۔ میں نے اس کبھی اپنا کمال نہیں سمجھا اسے محض اپنے رب کا کمال سمجھا ہے اور رب کی عطا سمجھی ہے کہ یہ کمالات میرے اللہ نے مجھ پر کھولے میں نے اپنے آپ کو کبھی اس کا اہل نہیں سمجھا۔
قبرستان صرف مٹی کے ڈھیروں کا نام نہیں بلکہ روحوں اور جنات کے گہرے مسکن کا نام ہے۔ وہاں روحوں کا بھی ڈیرہ ہےاور جنات کا بھی مسکن ہوتا ہے۔ جنات…! قبرستانوں میں بہت رہتے ہیں یہ صرف قبرستانوں میں نہیں بلکہ ہرجگہ‘ ہردرخت‘ ہرپانی کی جگہ‘ ہر خشکی کی جگہ ہر آباد گھر‘ ہر ویران گھر‘ ہر جگہ رہتے ہیں‘ نیک بھی ہوتے ہیں بد بھی ہوتے ہیں‘ سخی بھی ہوتے ہیں بخیل بھی ہوتے ہیں‘ رحم دل بھی ہوتے ہیں اور ظالم بھی۔ چونکہ میرا واسطہ سالہا سال سے اولیاء جنات کے ساتھ ہے اور صحابہ جنات کے ساتھ ہے۔ صحابہ جنات کی ملاقات کے بعد میں نے تابعی اور تبع تابعی جنات سے بھی بہت ملاقاتیں کی ہیں اوراس واسطے نے مجھے جنات کی زندگی پر بہت گہرا مطالعہ کرنے کا موقع دیا ہے اور میں جنات کی زندگی کے بہت قریب گیا ہوں۔اس سے پہلے مجھے خبر نہیں تھی کہ جنات کی خوراک کیا ہے؟ اس سے پہلے مجھے معلوم نہیں تھا کہ جنات رہتے کہاں ہیں؟ جنات میں تولید اور ازدواجی تعلقات کیا اور کیسے ہوتے ہیں؟ یہ باتیں اس وقت کھلیں جب انسانوں کی جنات کے ساتھ شادیاں یعنی انسان مرد اور جننی عورت کی شادی پھر ان کی اولادیں ۔۔۔۔یوں واقعات تہہ در تہہ مجھ پر کھلنے لگے۔
ایک دفعہ مجھے صحابی با با نے گیارہ دن کا سورۂ مزمل کا ایک چلہ قبرستان میں کرایا تھا۔ سردی کی کہرآلود راتیں تھیں میں نے قبرستان کے ویرانے میں دو کفن نماچادریں پہنیں اور اوپر ایک موٹا کمبل اوڑھے ایک قبر کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا۔ بہت بوسیدہ پرانی قبر اور قبرستان کا وہ کونہ جہاں شاید ہفتوں بھی کسی انسان کا گزر نہ ہو‘ ہاں کتے‘ نیولے‘ گوہ‘سانپ‘ بچھو اور جنگلی جانور عام ہوتے ہیں۔ (جاری ہے)