PDA

View Full Version : ( جنات کا پیدائشی دوست (قسط نمبر 22



Majzobi
25-03-2012, 04:41 PM
حضرت خضر علیہ السلام فرمارہے تھے اور میری حیرت بڑھ رہی تھی۔ ساتھ ہی حاجی صاحب اور صحابی بابا بیٹھے یہ باتیں سن رہے تھے حضرت خضرعلیہ السلام نے سورہ اخلاص کی جو برکات بتائیں وہ سب لاکھوں جنات نے قبول کیں بلکہ حضرت خضرعلیہ السلام نے سب کو اجازت دی مجھے خاص الخاص اجازت عطا فرمائی اور میں ہر پڑھنے والے کو بھی اجازت دے رہا ہوں۔
فرمایا اگر کوئی شخص بغیر اسباب‘ رقم‘ سواری اور پاسپورٹ کے حج اور زیارت حرمین چاہتا ہے تو وہ نوچندی (نئے چاند کی) جمعرات سے پہلے دن 1100 بار سورہ اخلاص اول آخر 11 بار درود شریف پڑھے دوسرے دن ہزار بار تیسرے دن 900بار اس طرح ہر دن ایک سو کم کرتا جائے آخری دن یعنی گیارہویں دن سو بار پڑھے روزانہ ایک ہی وقت اور ایک ہی جگہ ہو تاکہ عمل میں طاقت اور تاثیر رہے سفید لباس اور خوشبو لگا کر یہ عمل کیا جائے ہر ماہ یہ عمل اسی طرح 11 دن کیا جائے بس یہ عمل جاری رکھے ناغہ نہ کرے اگر مرادجلد پوری نہ ہو تو عمل نہ چھوڑے جاری رکھے۔ ایسا غیبی نظام چلے گا اور اس کے ساتھ ہوگا کہ یہ خود سوچ نہیں سکے گا کہ کیا ہوا اور کیسے ہو گیا بس ہوجائے گا اور خودبخود یہ حرمین کا مسافر بن جائے گا۔
اس عمل کے بتانے کے بعد ایک عمل اور فرمایا جس قسم کا مسئلہ ہو اور کوئی بھی ناممکن مشکل ہو جو کسی طرح بھی حل نہ ہوتی ہو ہر طرف سے کوشش اور محنت کرکے تھک گئے ہوں کسی طرف سے راستہ نہ کھلتا ہو موت کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہ آتا ہو تو کسی وقت شنہاتی ہے بہتر ہے رات ایک بجے کے بعد 4 نفل اکٹھے ایک ہی سلام کے ساتھ پڑھنے کی نیت کرے پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد 101 بار سورہ اخلاص مع تسمیہ پڑھے اس طرح ہر رکعت میں پڑھے بس دھیان اور توجہ اللہ کی طرف اور خاص حضوری ہو (ہاتھ میں تسبیح لے سکتے ہیں) سلام کے بعد سربرہنہکرلیا اور دائیں بازو سے قمیض نکال کر بازو اور کندھا ننگا کرلیا جیسے حالت احرام میں ہوتا ہے پھر 500 بار سورہ اخلاص پڑھیں اول و آخر درود شریف پھر جتنی دیر سارے عمل میں لگتی ہے اتنی دیر خوب گڑگڑا کر بھکاری بن کر دعا کریں رو رو کر مانگیں کہ جسم کا رواں رواں کھڑا ہوجائے بہت لمبی اورعاجزانہ دعا کرکے پھر 100 بار سورہ اخلاص پڑھیں اور پھر سورہ اخلاص پڑھتے ہوئے لیٹ جائیں۔ یہ عمل کچھ عرصہ یا کچھ دن مستقل کریں۔ قدرت کے کمالات اور حمایت اپنی طرف متوجہ ہوتے دیکھیں آپ حیران رہ جائیں گے پھر ایک اور عمل فرمایا کہ کھانا کھاتے ہوئے سورہ اخلاص پڑھتے رہیں اگر درمیان میں بات چیت ہورہی ہو تو بھی حرج نہیں۔ کھانا کھاتے ہوئے سورہ اخلاص پڑھنے سے رزق میں برکت‘ کھانے میں صحت لاعلاج امراض کا خاتمہ‘ گھریلو الجھنیں‘ جھگڑے اور مشکلات کا خاتمہ یقینی ہوتا ہے جو بھی یہ عمل کرے گا وہ پریشانیوں سے ایسے نکلے گا جیسے ہوا بادلوں کو اڑا کر لے جاتی ہے۔ کسی کو نوکری چاہیے کسی کو کھلا رزق چاہیے‘ کسی کو مقدمات میںکامیابی چاہیے‘ کسی کو اولاد چاہیے‘ کوئی اولاد کی تربیت سے پریشان ہے۔ قرض اتارنا چاہتا ہے خواہ دل کی جو بھی مراد ہے وہ ہر کھانے کے درمیان ہر وضو کے درمیان‘ مسلسل سورہ اخلاص پڑھے‘ پھر قدرت ربی کا مشاہدہ کرے۔
میں نے حضرت خضرعلیہ السلام سے عرض کیا کہ کوئی ایسا عمل کہ آپ سے ملاقات ہوجایا کرے فرمایا جو شخص سورہ اخلاص کثرت سے پڑھتا ہے میں اس شخص سے ضرور ملاقات کرتا ہوں‘ چاہے جس حالت میں ہو ملاقات ضرور ہوتی ہے۔ مجھ سے مخاطب ہوکر تاکید سے فرمانے لگے کہ آپ کا سواکروڑ بار پڑھا سورہ اخلاص ہی ہے کہ میں خود تلاش کرتا ہوں جو آپ سے محبت کرے گا میں اس سے محبت کروں گا اور اس کی مشکلات میں اس کا ساتھی بنوں گا کیونکہ مجھے آپ سے محبت ہے اور پھر حضرت خضر علیہ السلام نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کرمزید فرمایا جو آپ سے نفرت کرے گا اس کے نقصانات ہوں گے اور پریشانیوں سے کبھی نکل نہیں سکے گا ایک مختصر عمل مزید فرمایا کیونکہ انہوں نے عمل تو انوکھے فرمائے ان میں سے چند عبقری کے قارئین کی نذر کررہا ہوں کہ جو شخص کسی پرندے جانور کو دیکھ کر 3 بار سورہ اخلاص اول آخر ایک بار درود شریف پڑھے گا اور تصور میں یہ کہے یا اللہ اس کا ثواب میں نے اس جانور کی روح کو ہدیہ کردیا اور اس جانور کو میرے لیے دعا میں لگا دے جو ایسا کرتا رہے گا وہ ایسے ایسے سخت سے سخت حالات سے نکلے گا کہ خود دیکھنے والے حیران ہوں گے اور وہ خود حیران ہوگا کہ یا اللہ ایسا ممکن کیسے ہوا؟ اس کی بھی آپ سب کو اجازت ہے۔
ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے میں عبدالسلام‘ باورچی جن‘ حاجی صاحب اور صحابی بابا اور بیشمار جنات ہم سب اکٹھے ہوکر لاہور کے شاہی قلعے کے تیسرے تہہ خانے میں ایک مشہور صاحب کمال درویش کی تربت پر بیٹھے سورہ اخلاص پڑھ رہے تھے۔ یکایک میں نے اپنے اوپر ایک غنودگی سی محسوس کی حالانکہ عام طور پر مجھے غنودگی محسوس نہیں ہوتی۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے اوپر کوئی چیز گررہی ہے لیکن گرنے کا انداز ایسے ہے جیسے پھول کی پتیاں گرتی ہیں میں بالکل بے سدھ سا ہوگیا دل پر غنودگی نہیں تھی لیکن جسم بے جان تھا اور مجھے اس بات کا بھی احساس تھا کہ صحابی بابا کے علاوہ اورلاکھوں کی تعداد میں سارے جنات موجود ہیں۔ ویسے بھی میرے ساتھ ہر وقت جنات کے لشکر چلتے ہیں۔ ساری کیفیتوں کے بعد میں نے ایک چیز اور مزید محسوس کی اب میرے اوپر ہلکی سی پانی کی پھوار ایسے کہ جیسے گلاب کے پھولوں پر شبنم ہوتی ہے.... وہ گرنا شروع ہوگئی۔ خوشبو بڑھ گئی‘کیفیات میں اضافہ ہوگیا اور میں مدہوش اسی خوشبو‘ پتیوں کے گرنے اور روحانی پھوار کو مسلسل اپنے جسم پر اور اپنے دل پر محسوس کررہا تھا یہ کیفیت بہت دیر رہی میں بیٹھا رہا اور مسلسل سورہ اخلاص پڑھتا رہا‘ پڑھتا رہا۔ (جاری ہے)