PDA

View Full Version : ( جنات کا پیدائشی دوست (قسط نمبر 20



Majzobi
23-03-2012, 06:20 PM
پھر انہوں نے مجھے شاہ تغلق کے دور کے باکمال درویش حضرت خواجہ سماسی رحمة اللہ علیہ کا کرتا دیا کہ اس کرتے کی برکت یہ ہے کہ جو اس کو اپنے سرھانے رکھ کر باوضو ہوکر سوجائے تو ضرور بالضرور اس کو ایسی باکمال ہستیوں اور شخصیات کی زیارت ہوگی جو عام انسان کے بس اور گمان تک میں نہیں بلکہ یہاں تک کہ ایسی برکت کہ نسلیں بھی اس سے استفادہ کریں۔ ایک سانپ جو رنگت میں نہایت کالے رنگ کا تھا وہ آتے ہی میرے پائوں پر گر گیا اور کچھ مخصوص انداز میں باتیں کرنے لگا مجھے اس کی کسی بھی بات کی سمجھ نہ آئی کہ آخر اس کی باتیںکیا ہیں؟ یا اس کا کیا مطالبہ‘ کیا مقصد ہے؟ ساتھ عبدالرشید کہنے لگا کہ یہ یہاں کے سانپ جنات کا بڑا آفیسر ہے جو آپ کو یہاں خوش آمدید کہہ رہا ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ میری طرف سے انسانوں سے معذرت کرلیں کہ میں ان جنات کی نگرانی پر متعین ہوں جو انسانوں کو طرح طرح کی تکالیف دیتے ہیں ہم شرمندہ ہیں کہ یہ لوگ ہمارے قابو سے باہر ہیں اور ہمارے بس میں نہیں ہم انہیں کیسے کنٹرول کریں۔ بہرحال ہم شرمندہ ہیں جب میں نے اس آفیسر سانپ جن کی یہ بات سنی تو حیرت ہوئی کہ ان جنات کی قوم میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے اندر احساس اور مخلوق خدا کی خدمت اور درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔
ہم آگے چلے تو ہمیں چیلوںکا غول جو دیکھنے میں تو چیل لیکن وہ کسی بڑے جہاز سے کم نہیں تھے۔ ان کے منہ سے شعلے اور ان کی آواز بہت گرج دار نکل رہی تھی ان کا ہجوم نہیں تھا بلکہ لشکر کے لشکر تھے جو مسلسل اڑ رہے تھے اور ایک پریشان کن شور تھا جو ہرطرف پھیلا ہوا تھا۔ چیلوں کاکام سارا دن اس میلوں کے پھیلے وسیع پہاڑی رقبے پر اڑنا اور نگرانی کرنا تھا۔ وہ ہر اس جگہ پر نظر رکھتے تھے جہاں سے نکلنے کا کوئی امکان ہوسکتا تھا۔ دن رات ان کا یہی کام تھا ابھی ہم ان چیلوں کے جناتی حالات سن ہی رہے تھے کہ ہمیں احساس ہوا کہ عبدالرشید کچھ اور کہنا چاہتا ہے اس سے پوچھا تو کہنے لگا کہ میں ایک اور چیز دکھانا چاہتا ہوں جو یہاں کا سب سے خطرناک پہرہ دینے والا گروپ ہے پھر ہمیں غار کے اندر ایک اور غار میں لے کر گیا چلے چلتے ایک طویل تنگ غار سے نکلے تو ایک اور میدان آگیا اس میدان میں تھوڑی دیر چلنے کے بعد کیا دیکھا کہ چمگادڑ نما ایک مخلوق ہے جس کی گردن ایسی ہے جیسے بطخ کی گردن ہوتی ہے۔ باقی سارا جسم چمگادڑ کی طرح ہے وہ جگہ جگہ ایک ایک کرکے خاموش بیٹھی ہوئی بالکل خاموش ایسے جیسے ان میں جان نہیں۔ میں حیران ہوا ساتھ حاجی صاحب کا بیٹا عبدالسلام نے میری حیرانی کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا کہ کیوں حیران ہورہے ہیں میں نے کہا کہ حیرت کی وجہ دراصل یہ ہے ان کا کام کیا ہے اور یہ خاموش کیوں ہیں۔ اتنی لاکھوں کی تعداد میں ان کو آخر کوئی تو ذمہ داری دی گئی ہوگی۔ یہ ساری باتیں حیرت اور استعجابی کیفیت میں بیان کردی ہے۔ میری حیرت کو دیکھ کر عبدالسلام کہنے لگا یہی چیز توآپ کو دکھانے کیلئے لائے تھے۔ یہ دراصل خون خوار اور پھاڑ کھانے والی مخلوق ہے جنات تو لوگوں کو تنگ کرتے ہیں یہ جنات کو تنگ کرنے میں حرف آخر ہیں۔
ان کاکام یہ ہے کہ جب بھی کوئی جن یہاں لڑتا ہے تو اس کو پہلے یہ ہلکی سزا دیتے ہیں پھر بڑی اور بھیانک سزا دیتے ہیں اور ان کے اندر ایک خطرناک مواد جسے انسان کی زبان یا دنیا کی تھیوری کے مطابق فاسفورس پہلے آنکھوں میں پھر کانوں میں اور پھر ناک اور زبان میں بھر دیا جاتا ہے ان کو کالی زنجیروں میں باندھ دیا جاتا ہے۔ وہ زنجیریں اتنی طاقت ور ہوتی ہیں جنہیں وہ نہ توڑ سکتا ہے اور نہ ہی ان زنجیروں سے جدا اور رہا ہوسکتا ہے بلکہ اگر اسی وقت ان زنجیروں کو کوئی ہاتھ لگائے تو اس کا ہاتھ جل نہیں بلکہ پگھل جاتا ہے جنات کی خوفناک چیخیں اور فریادیں میں نے دور دور سے سنیں اور سوچا کہ آخر یہ کیا آوازیں ہیں تو میری حیرانگی پر عبدالسلام جن بولا کہ یہ جنات کو سزائیں دی جارہی ہیں تاکہ انہیں سبق حاصل ہو اور انہیں احساس ہو کہ کس طرح نافرمانی کی جاتی ہے۔
پھر عبدالرشید جن خود ہی کہنے لگا میں آپ کو ان شرارتی اور باغی جنات کی سزائیں دکھاتا ہوں ہم غار کے ایک اور دھانے کی طرف چل دئیے جیسے جیسے ہم چلتے گئے غار کا دہانہ پھیلتا گیا اور اندر ہی اندر ایک آگ اور گوشت کی طرح کی جلنے کی بو آرہی تھی جب ہم قریب پہنچے تو احساس ہوا کہ یہ ایک جن کو سزا دی جارہی ہے جو لوگوں کے گھروں سے کچا گوشت چرا کر کھاتا تھا اور بے شمار وارداتیں اس کی اسی طرح کی ہیں اور یہ ان وارداتوں میں بے شمار دفعہ رنگے
ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی یہ سزا پاچکا ہے لیکن ہر بار یہ سزا ختم ہونے پر اپنی سابقہ عادات پر باقی رہتا ہے۔ اس بار اس کی سزا بہت سخت اور بہت کڑی ہے تاکہ اس کو نصیحت ہو ہم آگے چلے تو اس سے بھی زیادہ سخت سزا تھی اس کو دیکھتے ہی پہلی دفعہ مجھے پسینہ آگیا اور دل میں گھبراہٹ شروع ہوگئی یاالٰہی اتنی سخت اور اتنی اذیت ناک سزا میں گمان نہیں کرسکتا۔ سزا کیا تھی کہ لوہے کی کنگھی جس کے دندانے تلوار جتنے بڑے یعنی ہر دندانہ تلوار سے بھی بڑا ہوتا تھا بڑے بڑے خطرناک دیو دور ایک پہاڑ پر چڑھ جاتے پھر وہاں سے تیز ہوا کی طرح دوڑتے ہوئے آتے وہ جن سخت طرح سے بندھا ہوا تھا اس کے اندر وہ کنگھی گاڑھ کر واپس جب کھینچتے تو سارا جسم ایسے ادھڑ جاتا جیسے ریشہ ریشہ ہوگیا ہو۔ سخت بدبو‘ چیخیں ہولناک آوازیں بس ایک انوکھا اور بدترین اذیتوں کا ماحول تھا جسے میں الفاظ کیا بس بیان نہیں کرسکتا اب لکھتے ہوئے میرا قلم کانپ رہا ہے اور جسم میں لرزا طاری ہورہا ہے حالانکہ میرا بچپن اور ساری زندگی جناتی دوستی اور جنات کے ساتھ پھر ان کے شادی بیاہ‘ خوشی اور موت ولادت سب جگہ آنا جانا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں بے شمار واقعات طوفان اور جناتی لڑائیاں اور کارنامے دیکھے ہیں۔ آگ خون کے سمندر اور پہاڑ دیکھے میں ڈرا نہیں‘ کانپا نہیں‘ سہما نہیں لیکن یہ منظر ایسا تھا جس نے انگ انگ اور روئے روئے کے اندر ایک طوفانی ہلچل مچا دی ۔ (جاری ہے)