PDA

View Full Version : ( جنات کا پیدائشی دوست (قسط نمبر 19



Majzobi
22-03-2012, 09:06 PM
اور اس چلے کی وجہ سے ہم اس جناتی جیل کے اندر آجاسکتے ہیں ورنہ تو اس کے اندر جاناممکن نہیں اگر چلے جائیں تو واپس آنا ممکن نہیں۔ میں نے حامی بھرلی اس کیلئے مجھے ایک ویران قبرستان میں 11 دن کا چلہ کرنا تھا چلے کے جو لوازمات ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔
دو کفن کی چادریں‘ ایک عدد بڑی شیشی تیز خوشبو‘چار عدد تیز دھار چھریاں‘ ایک نئی جائے نماز‘ ایک سفید ٹوپی‘ ایک عدد کالے دھاگے کا چھوٹا بنڈل اب یہ چیزیں لے کر کسی ویران قبرستان میں ویران کونہ اور ویران قبر کے پاس جاکر رات ٹھیک بارہ بجے اپنی جگہ پرموجود ہونا ہے۔ کپڑے اتار کر کفن کی چادریں احرام کی طرح باندھ لیں خوب خوشبو لگانی تھی۔ سر پر ٹوپی اور جائے نماز بچھا کر چاروں طرف چھریاں مٹی میں گاڑدیں اور اپنے اردگرد دھاگہ لپیٹ لیں اور صرف ایک لفظ پڑھنا تھا وہ لفظ ہے” کہف“ اسی لفظ کو بغیر تعداد کے 3 گھنٹے بیٹھ کر پڑھنا ہے۔ 3 گھنٹے کے بعد اٹھیں پہلے چھریاں ہٹائیں پھر لباس تبدیل کرکے یہ چیزیں سمیٹ لیں اور وہ کالا دھاگہ جو اپنے اوپر کے جسم پر لپیٹا تھا یعنی 11چکر دھاگے کے دئیے تھے وہ اتار کر رکھ دیں واپس گھر آجائیں پھر دوسری رات اسی طرح جائیں اور سابقہ رات کی طرح کریں۔
کل گیارہ راتیں اگر کوئی ایسا کرے (اس کی سب کو میری طرف سے اجازت ہے) تو اس شخص کو جنات کا ہر حصار توڑنا آسان‘ جنات کی جیل میں آنا جانا ممکن‘ کوئی طاقتور جن جننی بدروح دیو‘ موکل‘ جادو‘ نظربد اور بندوق کا حملہ اس پر اثر انداز کبھی نہ ہوگا پھر جب کوئی اس لفظ یعنی کہف کو صرف پڑھ لے گا چاہے تھوڑی یا زیادہ تعداد میں تو جس پر بھی دم کرے یا پانی پر دم کرے یا کوئی کھانے پینے والی چیز پر دم کرے تو فوری اثر ہوگا۔ وہ تمام عوارضات ختم ہوں گے جو اوپر بیان کیے ہیں خیر میں نے قبرستان میں یہ عمل کیا چونکہ میرا جناتی پیدائشی تعلق ہے کچھ انوکھا یا غیرمرئی عمل محسوس نہ ہوا گیارہ دن کے بعد میں نے عبدالسلام اور عبدالرشید کو بلایا ان کے ساتھ حاجی صاحب بھی تشریف لے آئے۔ مجھے گدھ نما پروں والی سواری پر سوار کیا اور خود ساتھ ہوا بن کر پرواز کرنے لگے اس سواری پر کئی بار سفر کیا تو اس بار اس سواری میں انہوں نے میرے لیے لاجواب کھانے اور بہترین قہوے بھی رکھ لیے تھے مجھے بارہا اصرار کرکے وہ کھلا رہے تھے۔
سفر تھا کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا بہت لمبا اور بڑا سفر کیا جو کئی گھنٹوں پر محیط تھا۔ آخر کار مجھے ہر طرف پہاڑ اور برف ہی برف محسوس ہوئی پھر برف ختم ہوگئی اور ہر طرف خشک پہاڑ اور جنگل شروع ہوگئے اس کے درمیان ہم ٹھہر گئے۔ یعنی سواری اتری پروں سے بنی ہوئی سیڑھی سے میں اترا اور ہر طرف جنگل اور پہاڑیاں دوسری طرف برف پوش پہاڑ تھے۔ وہاں ہر طرف جنات کی قطاریں نظر آئیں چونکہ حاجی صاحب اور صحابی بابا اور میں ان کے وہاں بڑے اور مہمان خصوصی تھے عبدالسلام جن نے پہلے سے اطلاع کردی تھی لہٰذا وہاں سب حضرات یعنی محافظ جنات متوجہ اور چوکنے تھے جیل کیا ایک بہت بڑی پہاڑیوں کے درمیان میلوں پھیلی ہوئی وادی تھی جس کے اردگرد ایک طاقت ورحصار اور جنات کی طاقت ور فوج تھی۔
میں نے دیکھا کہ وہاں ایک نورانی فصیل تھی جو آسمان تک پہنچی ہوئی تھی اس کے اردگرد ایک جناتی مخلوق تھی جو مزید پہرہ دے رہی تھی ہر طرف ایسے جنات موجود تھے جو دن رات بس پہرہ دیتے ہیں ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی کام نہیں۔ ایک پہاڑی غار جس کا دھانہ یعنی منہ بہت بڑا تھا کہ اونٹ اندر آسانی سے چلا جائے اس دھانے پر 17 ببر شیر بیٹھے تھے میں حیران ہوا تو عبدالرشید نے بتایا کہ یہ دراصل بڑے دیو ہیں جو اس شکل میں پہرہ دے رہے ہیں۔ جب ہم غار کے قریب پہنچے تو وہ شیر اپنی جگہ سے ہٹ گئے اور اپنی مخصوص آواز میں گرج دار انداز میں دھاڑنے لگے انہوں نے بتایا یہ دراصل ہم سب کا استقبال کررہے ہیں ابھی ہم داخل ہوہی رہے تھے کہ چمگادڑیں جو شاید 10 فٹ سے بھی زیادہ لمبی ہو خطرناک آوازوں کے ساتھ اوپر مسلسل اڑرہی تھیں۔ انہوں نے یعنی عبدالرشید جن نے بتایا یہ بھی جنات کی ایک قسم ہے جو ہوائی محافظ ہوتے ہیں اور اوپر سے قیدیوں اور بدمعاش جنات پر نظر رکھتے ہیں وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ کچھ اور آگے گئے تو معلوم ہوا سانپوں کے ڈھیر اور بعض جگہ صرف کالے رنگ کے بڑے اژدھے کی طرز کے سانپ تھے جو مسلسل ہر جگہ چکر لگارہے تھے بتایا یہ بھی محافظ جنات ہیں ان کاکام صرف یہاں کے ان جنات کی خبر رکھنا ہے جو جادوگرہوں اور جادو کی وجہ سے وہ یہاں سے نکل نہ جائیں یا پھر وہ یہاں کے محافظوں پر جادو کردیتے ہیں۔ ان میں ہر سانپ خود بہت بڑا عامل ہے ان سب کو صحابی بابا نے ایسے طاقت ور قرآنی عملیات کروائے ہوئے ہیں کہ کوئی جن ان کی طاقت اور جادو تک پہنچ نہیں سکتا۔ کیونکہ جنات کے پاس آج سے 6 ہزار سال پہلے کا علم ہے۔ وہ اس علم کے مطابق وہ کچھ کرلیتے ہیں جو عامل کیا بلکہ کامل سے کامل کے بس کا روگ نہیں ابھی ہم یہ باتیں کرہی رہے تھے تو ایک بڑا کالا سانپ اپناپھن اٹھائے چلتا ہوا میرے پاس آیا‘ سلام کیا کہ میں مسلمان جن ہوں میری عمر بڑی ہے میں نے شاہ جہان بادشاہ کا دور دیکھا‘ جہانگیر کا دور دیکھا‘ رنجیت سنگھ کا دور تو کل کی بات ہے اس سے قبل میں نے لودھی خاندان کو دیکھا خاندان غلاماں کی بنیاد اور برباد ی سب کچھ میرے سامنے ہے۔ میں نے اس سانپ جن سے سوال کیا آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ لوگ برباد کیسے ہوتے ہیں۔ بے ساختہ کہنے لگے اس کی وجہ ظلم ہوتی ہے یہ لوگ دراصل ظالم ہوتے ہیں اور ظلم کی وجہ سے ان سب کا نشان تک ختم ہوجاتا ہے۔ (جاری ہے)