PDA

View Full Version : ( جنات کا پیدائشی دوست (قسط نمبر 17



Majzobi
20-03-2012, 08:03 PM
میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں یہ آیت کس نے بتائی لیکن وہ خاموش تھا جب زیادہ اصرار پر بھی اس نے نہ بتایا تو پھر جیل کے نگرانوں نے محافظوں کو حکم دیا تو انہوں نے اس پر تشدد کیا ایسا سخت تشدد کہ اگر وہ لاہوتی کوڑا جو اس جن پر برستا تھا کسی ایک انسان نہیں اگر دس انسانوں پر اکٹھا برس جائے تو وہ قیمہ کی طرح پس جائیں‘ کچھ دیر کے تشدد کے بعد وہ بولا اور وہی بولا جو پہلے صحابی بابا نے بتایا تھا۔ اب اس محافظ مسلمان جن کو پکڑوایا گیا تو اس نے انکشاف کیا کہ دراصل مجھے ایک عامل نے قابو کیا ہوا ہے اور وہ مجھ سے رقم اور مال منگواتا رہتا ہے میں مجبور ہوں کہ میری آمدنی اتنی نہیں کہ میں کہاں سے لے آئوں آخر ایک دن اس نے مجھ سے بڑی رقم کا مطالبہ کیا میں وہ رقم نہ دے سکا تو اس نے مجھے تکلیف دی۔ میری اولاد کو تکلیف دی‘ مجبوراً اس غیرمسلم جن جو کہ عرصہ سے کہہ رہا تھا کہ سنا ہے کہ قرآن میں سب کچھ ہے مجھے بھی کچھ بتائیں۔ 31 سال جیل میں ہوگئے ہیں اس نے مجھے بڑے مال اور دولت کا طمع دیا میں مجبور تھا میں نے اسے یہی آیت پڑھنے کیلئے دی اسے آتی نہیں تھی۔ میں نے اسے یاد کرائی کئی دن کی کوشش کے بعد اس نے یاد کرلی پھر اس نے مجھے دولت دی جو میں نے برگد کے بوڑھے درخت میں چھپا دی ہے اور چھٹی کے دن اس عامل کو وہ دولت دینے جانا ہے حالانکہ خود میرے گھر میں غربت ہے لیکن میں ایسا کرنے پرمجبور ہوں جب اس کی یہ بات سنی جو کہ میرے لاہوتی علم کے مطابق سوفیصد درست تھی تو اس کے حال کو میں نے حاجی صاحب اور صحابی بابا کی خدمت میں پیش کیا اور ان سے عرض کیا کہ میں یہ کیس آپ کے سپرد کرتا ہوں جو سزا یا معافی آپ اس مسلمان محافظ جن کو دینا چاہتے ہیں دیں میری طرف سے ہرطرح کی اجازت ہے۔
تھوڑی دیر مشورہ کرنے کے بعد حاجی صاحب کہنے لگے اگر آپ قبول کریں تو میرا مشورہ ہے اصل مجرم وہ عامل ہے جو اس محافظ جن کو مجبور کرتا ہے۔ اس عامل کی خبر لینی چاہیے فیصلہ درست تھا طے ہوا کہ ا س محافظ جن کو اس عامل کے چنگل سے چھڑایا جائے اور اس عامل کو سخت سبق بھی دیا جائے کہ کسی مجبور کو مجبور نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی مدد کی جاتی ہے جبکہ اس عامل نے تو اس محافظ عامل کو مجبور کیا اور چوری ڈاکے اور ناجائز کاموں پر مجبور کیا۔اب اس کافر جن کو واپس کڑی جیل میں بھجوایا گیا اور حکم دیا کہ اس کی سزا سخت کردی جائے اور اس سے اس آیت کی تاثیر واپس لے لی جائے بلکہ محافظ جنات کو یَاوَکِیلُ کا ورد بتایا جائے کہ کوئی سرکش جن نکل نہ سکے۔
مجھے احساس ہوا کہ قرآن کیسی عجیب نعمت ہے اگر گنہگار اورخواہ وہ کافر ہو‘ پڑھے تو بھی اس میں شفاءموجود ہے اور کامل شفاءموجود ہے۔ آج ہم مسلمان قرآن کی نعمت سے محروم ہیں ایک نہ پڑھنا‘ دوسرا یقین سے نہ پڑھنا‘ اس کافر جن نے ایک تو زیادہ پڑھا اور بہت زیادہ پڑھا دوسرا یقین سے پڑھا تو اس کی رہائی ہوگئی۔ ہم سے کوئی بھی شخص وہ نفس اور شیطان کی مکاری ‘عیاری‘ مکروفریب سے رہائی چاہتا ہو گناہوں کی زندگی سے نجات چاہتا ہو یا کسی جیل کا قیدی ہو تو وہ بھی اگر یہ پڑھے گا تو رہائی ہوجائے گی میری طرف سے سب کو اجازت ہے بس شرط یقین‘ اعتماد اور کثرت سے پڑھنا ہے۔ دنوں کی قید نہیں۔
ایک بار میں نے باورچی جن کا تذکرہ کیا تھا جس نے عبدالسلام جن کی شادی میں بہت لذیز کھانے کھلائے اور لاجواب کباب اور بھونے ہوئے پرندے کھلائے۔ ابھی چند دن پہلے میں نے ایک غریب جن کی بیٹی کی شادی میں شرکت کی وہ اکثر آتا اور عرض کرتا کہ میری بیٹی کی شادی ہے۔ غریب ہوں‘ آپ نے ضرور آنا ہے۔ پھر خود ہی کہتا کہ مجھے علم ہے آپ شادیوں میں نہیں جاتے لیکن میری بیٹی کی شادی میں آپ نے ضرور شرکت کرنی ہے۔
ایک دن اس کے اصرار پر میں وعدہ کر بیٹھا پچھلے ہفتے وہ غریب جن جس کا نام سہراب ہے آیا کہنے لگا کہ بیٹی کا نکاح اگر آپ پڑھا دیں تو سعادت ہوگی اور شادی میں شرکت ضرور کریں۔ مقررہ وقت پر جنات کا لشکر مجھے لینے کیلئے آگیا ہم نے کوٹ ادو ضلع مظفرگڑھ کے قریب ایک صحرائی جنگل میں ان کی شادی میں جاکر اترے۔ایک گدھ نما کی طرح کا بڑا پرندہ تھا جس کی پشت پر ایک وسیع صحن تھا ہر طرف بالوں کی اٹھی ہوئی دیوار تھی جو باڑ کا کام دے رہی تھی تاکہ شاہی مہمان کا نقصان نہ ہو اور وہ گر نہ جائے۔ پرندے کے اردگرد اٹھے بالوں میں ایسے بال بھی تھے جو بلب قمقمے اور روشنیوں کاکام دے رہے تھے اور طرح طرح کی حیرت انگیز روشنیاں ان میں سے نکل رہی تھیں۔
ایک بڑی کرسی تھی اس کے ساتھ 70 کرسیاں اور پڑی ہوئی تھیں یہ دراصل شاہ جنات کی شاہی سواری ہے حاجی صاحب جن نے میرے لیے یہ سواری بھیجی تھی میرے گھرکی چھت پر یہ سواری آکر رکی میں نے وضو تازہ کیا دو نفل تحیة الوضو پڑھے خوشبو لگائی اور چھت پر چڑھ گیا تو جنات کا لشکر اس شاہی سواری کی حفاظت کیلئے ہر وقت ساتھ ہوتا ہے وہ موجود تھا انہوں نے مجھے سلام کیا پرندے کے پروں سے بنی ہوئی نرم گداز آرام دہ سیڑھیاں تھیں ان پر چڑھ کر میں چھوٹی کرسی پر بیٹھ گیا لیکن لشکر کے سپہ سالار نے عرض کیا کہ ہمیں حکم ہے کہ آپ کو شاہی کرسی پر بٹھا کر لایا جائے۔ میں شاہی کرسی جو خالص جواہر لعل موتی چاندی اور سونے کی بنی ہوئی تھی‘ پر بیٹھ گیا پرندہ گدھ نما اڑا اور پل بھر میں آسمان کی تاریکیوں میں گم ہوگیا بس مجھے ہلکی سی ہوا کی سرسراہٹ محسوس ہورہی تھی اور یہ احساس تھا کہ سفر طے ہورہا ہے پل بھر میں سواری صحرائی جنگل میں تھی ہر طرف جنات ہی جنات تھے۔
زرق برق لباس میں لیکن جو چیز خوشی کی تھی وہ یہ تھی کہ اس سارے مجمع میں دین دار اور باشرع جنات تھے اور سنت کے مطابق شادی سادگی سے ہورہی تھی کیونکہ میں نے شادی سے پہلے ان سے وعدہ لیا تھا۔ وعدے کے مطابق وہ سنت کے مطابق شادی کررہے تھے۔ شادی سے پہلے ہی میں نے باورچی بابا جن کو عرض کیا کہ آپ ہی وہاں کھانے کی نگرانی کریں میرے سامنے سادہ کھانا لایا گیا کیونکہ میں سادہ کھانے کو طبعاً پسند کرتا ہوں وہ سادہ کھانا لایا تو میں نے جن بابا کو عرض کیا کہ آپ میرے ساتھ بیٹھیں اور مجھ سے باتیں کریں۔ پچھلی صدیوں اور زندگی کے کچھ حالات سنائیں۔ انہوں نے ایک واقعہ سنایا جو واقعی حیرت انگیز تھا کہنے لگے محمد شاہ رنگیلا کا دور تھا۔ اس دور میں مراثیوں‘ بھانڈوں‘ طوائفوں اور شاعروں کی خوب سرپرستی کی جاتی تھی۔ دین کا نقش و نگار دھندلا پڑگیا۔ ہر طرف عیاشی‘ ظلمت اور اسراف کا عالم تھا‘اس دور میں میرے والد زندہ تھے‘ دادا زندہ تھے۔ میں بھرپور جوان تھا۔ (جاری ہے)