PDA

View Full Version : (جنات کا پیدائشی دوست (قسط نمبر 14) (علامہ لاہوتی پراسراری



Majzobi
15-03-2012, 03:00 PM
پھر انہوں نے حزب البحر سے استفادہ کرنے اور اس کے کمالات کہ جن کا میں 100 فیصد عامل بن چکا تھا‘ اس کے عملیات و وظائف مجھے بتائے۔ اگر کسی شخص کی پھانسی کا فیصلہ ہوگیا ہو اور وہ فیصلہ ناحق ہو تو وہ شخص خود حزب البحر یا اس کی طرف سے کوئی دوسرا شخص ہر نماز کے بعد 41 دفعہ پڑھ لے چند ہی دنوں میں وہ رہائی پالے گا۔
اسی طرح اگر کسی کی شادی میں رکاوٹ ہو اور رکاوٹ کامسئلہ ناممکن حدتک پہنچ چکا ہو۔ وہ ہرنماز کے بعدانتہائی یقین اور توجہ کیساتھ41 یا 91 دن تک حزب البحرپڑھیں۔شادی کا ناممکن مسئلہ چند دنوں میں ممکن ہوجائےگا۔
ایک شخص میرے پاس آیااتنا رویا کہ اس کی ہچکی بند گئی۔وہ شخص پہلے بہت مالدار تھا۔ دن بدلے‘ سب کچھ لٹ گیا‘ ہر چیز برباد ہوگئی۔ کچھ باقی نہ بچا۔ میں نے انہیں تسلی دیتے ہوئے یہی عمل ہر نماز کے بعد پڑھنے کیلئے بتایا‘چند دنوں میں ان کا مسئلہ حل ہوگیا۔
ایک شخص کا نسل در نسل بہت بڑا دفینہ تھا۔انہیں علامات محسوس ہورہی تھیں کہ ان کا خزانہ ہے انہیں اپنی علامات کی مزید تائید ایک بہت بڑے صاحب کشف سے بھی ہوئی۔صاحب کشف بزرگ نے انہیں صدیوں سے دفن اس خزانہ کی مقدار بتائی چونکہ ہر خزانے پر جنات سانپ کی شکل میں قابض ہوتے ہیں اور کہاوت مشہور ہے وہ ایسے ہے جیسے خزانے پر سانپ بیٹھا ہوا ہے۔
وہ صاحب میرے پاس آئے۔ میں نے انہیں یہی عمل دیا اور ساتھ کچھ جنات کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ان جنات سے ان کا حق دلا دے ورنہ خزانہ بھی اکثر بربادی اور پریشانی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے یہ عمل 123 دن کیا اور انہیں خزانہ مل گیا۔ آپ زندگی کی کسی مشکل میں مبتلا ہیں ایسی مشکل جس کے بارے میں آپ نے یا لوگوں نے سوچ لیا کہ اس کا حل صرف موت ہی ہے۔ مایوس نہ ہوں حزب البحر اسی ترتیب سے پڑھنا شروع کردیں آپ خود محسوس کریں گے کہ مشکلات آپ سے ایسے دور ہوں گی جیسے آٹے میں سے بال، میری طرف سے سب کو حزب البحر کی عام اجازت ہے۔ مجھے تو اس کے تجربات میں یہاں تک کمالات دیکھنے کو ملے ہیں حج کو ترسنے والے سینکڑوں ایسے خواتین وحضرات جن کیلئے حج تو کیا حج کاخواب بھی ایک خواب تھا کو بار بار حج نصیب ہوا اور اولاد چاہنے والے لاتعداد مایوس ازدواجی جوڑوں کو اولاد نرینہ کی دولت نصیب ہوئی، مفلس، تنگ دست، نادار امیر بن گئے۔ حالات کے پسے ہوئے خوشحال ہوگئے۔ ذلت میں ڈوبے ہوئے مکرم و معظم بن گئے۔ امتحان میں کامیابی والے اعلیٰ اعلیٰ پوزیشنیں لے گئے۔ مقدمات میں ہارنے والے جیتنے والے بن گئے۔ بیماریوں میں مبتلا مایوس مریض صحت مند اور صحت یاب ہوگئے ۔بے حیثیت باحیثیت ہوگئے۔ صاحب ذلت صاحب عزت بن گئے۔ بے مراد بامراد بن گئے۔ میاں یا بیوی روٹھی ہوئی ہو‘ جلے ہوئے گھر‘ خوشگوار ازدواجی زندگی سے مزین وآراستہ ہوگئے۔ نافرمان اولاد فرمانبردار بن گئی۔ عادات بد میں مبتلاافراد نیک بن گئے۔ نیکی لینے والا، تسبیح چاہنے والا کبھی اس نے حزب البحر اس ترتیب سے پڑھی ہو اور نفع نہ ہوا ہو‘ الغرض ! مجھے اپنے روحانی سفرمیںکوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا کہ جس نے مکمل توجہ اور دھیان اور 100 فیصد یقین سے یہ عمل کیا ہو اور اس کواس کے حیران کر دینے والے مشاہدات اور لاجواب فائدے حاصل نہ ہوئے ہوں ۔ قارئین! آپ بھی کرسکتے ہیں اور پاسکتے ہیں۔
قارئین!میں نے ایڈیٹر عبقری سے وعدہ لیا ہوا ہے کہ میری کسی سے ملاقات نہ کروائی جائے اور نہ ہی کسی کو میرا ایڈریس دیا جائے۔ بہت سے لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ شاید میں امیر لوگوں سے ملاقات کرتا ہوں اور غریبوں کو نظرانداز کردیتا ہوں۔ ایسا ہرگز نہیں‘ ہر شخص میرے لیے قابل احترام اور ہر دکھی میرے سر کا تاج ہے۔ کوشش کرتا ہوں اپنے زندگی کے تجربات میں سے ایسی چیزیں عبقری کے قارئین کو بتاوں جو امیر‘ غریب‘ بادشاہ اور فقیر سب کیلئے یکساں مفید ہوں اور ایڈیٹر عبقری کے ذریعے لاکھوں لوگوں کے شکرئیے مجھ تک پہنچے ہیں کہ جس جس نے بھی محنت کرکے عمل کیا اسے منزل ملی ہے۔ پریشانی دور ہوئی‘ مسائل اور مشکلات حل ہوئے ہیں۔
پچھلے دنوں میں جمعہ کی نماز پڑھنے مسجد گیا‘ ایک صاحب نے مجھے پہچان لیا‘ بہت اصرار کیا‘ آخر وہ صاحب مجھے اپنے گھر لے آئے‘ کہنے لگے!مجھے جنات قابو کرنے کا بہت شوق ہے اس کیلئے میں بے شمار عمل کرچکا ہوں‘ میرا کوئی عمل بھی کامیاب نہیں ہوا‘ میں نے انہیں اپنے نانا کا ایک واقعہ سنایا کہ جن کے ذریعے میں نے روحانیت‘ عملیات‘ لاہوت‘ ملکوت‘ جبروت‘ ناسوت اور پراسرار علم اور پراسرار قوتوں تک رسائی پانے میں بہت مدد اور رہبری ملی۔ ہاں! مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ صحابی بابا‘ حاجی صاحب اور دیگر جنات جو بچپن سے میری ہر قدم پر رہبری اور رہنمائی کررہے ہیں اور اب میں جو کچھ بھی ہوں محض اللہ جل شانہ کے فضل اور اولیاءجنات کے طفیل ہوں وہاں میں اپنے نانا مرحوم کی بے لوث خدمات کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔ میرے نانا فرمانے لگے۔ 1929ءکی سرد رات تھی۔ مجھے ایک عامل نے جنات تابع کرنے کا ایک مضبوط عمل دیا۔ اسے مسجد میں بیٹھ کر نماز عشاءکے بعد جب سب نمازی چلے جائیں اور مسجد خالی ہوجائے‘ کوئی دیکھنے والا نہ ہو اور نہ ہی کوئی جاننے والا اس وقت کرنا تھا۔ میں نے سفید کپڑے پہن کر خوشبو لگا کر وہ عمل پڑھنا شروع کردیا۔ عمل اتنا جلالی تھا کہ کچھ دیر پہلے مجھے سخت سردی محسوس ہونا شروع ہورہی تھی لیکن چند لمحوں کے بعد میں پسینے میں شرابور ہوگیا اور مجھے گرمی لگنا شروع ہوگئی میں عمل پڑھتا رہا۔ تھوڑی دیر میں مسجد کی صف لپٹنا شروع ہوئی اور کسی غیبی طاقت نے مجھے بھی مسجد کی صف میں لپیٹ کر مسجد کے کونے میں کھڑا کردیا۔ لپیٹا اتنا سخت تھا کہ میں نکلنا چاہتا بھی تو نہیں نکل سکتا تھا۔ آخر بہت دیر کی سخت کوشش کے بعد میں صف سے نکلا۔ میں صف بچھا کر پھر پڑھنے بیٹھ گیا کیونکہ اس وقت مجھ پر عمل کا جنون سوار تھا ۔ (جاری ہے)

Majzobi
15-03-2012, 03:30 PM
اسلام و علیکم،

اگلی قسطیں 3 دن کی تا خیر کے بعد پوسٹ کروں گا انشااللہ۔ مجھے کسی کام سے جانا پڑھ رہا اس لیئے پہلے سے معزرت کر رہا ہوں۔