PDA

View Full Version : جنات کا پیدائشی دوست (قسط نمبر 13) (علامہ لاہوتی پراسراری)



Majzobi
14-03-2012, 07:42 PM
پھر توجہ اس طرف کرتا پھر ہٹ جاتی‘ کوئی طاقت ایسی تھی جو مجھے عاجز کرنے کی کوشش کررہی تھی لیکن میں عاجز نہیں ہورہا تھا‘تھوڑی ہی دیر میں اس کا جسم بڑھنا شروع ہوگیا لیکن اب وہ مجھ سے دور ہوگئی۔ وہ میری طرف بڑھنا چاہتی تھی لیکن درمیان میں کوئی نورانی دیوار اسے میرے قریب نہیں آنے دے رہی تھی‘اب اس کا جسم اور بڑھتے بڑھتے ایک بڑی چڑیا کے برابر ہو گیا۔ جسم کا بڑھنا اور اس کا میری طرف بڑھنا یہ دونوں کیفیتیں جاری رہیں۔ جسم بڑھتے بڑھتے بلی کے برابر ہوگیا اس کے غرانے کی آوازیں آنے لگیں‘ جسم بڑھتے بڑھتے کتے کے برابر ہوگیا حتیٰ کہ جسم ایک شیر اور ببر شیر کے برابر ایسا خطرناک اور اس کے جسم سے ایسی سخت بدبو کہ ایسے محسوس ہو کہ جیسے مجھے ابھی قے آجائے گی‘ طبیعت میں سخت بے زاری ‘بے چینی بڑھانے کی مسلسل کوشش کی جارہی تھی۔ لمحہ بہ لمحہ بے چینی بڑھ رہی تھی اور چیونٹی سے شیر کی طرف بڑھنے والا مسلسل جسم بڑھ رہا تھا اور میری طرف لپک رہا تھا‘ درمیان میں نورانی دیوار اس کو روک رہی تھی‘ اب میں وظیفہ بھی پڑھ رہا تھا اور دیوار کے بارے میں بھی سوچ رہا تھا‘ یہ کونسی دیوار ہے کہ اتنی خوفناک چیز اس کی وجہ سے میری طرف بڑھنے سے رک رہی ہے‘تو میرے کانوں میں صحابی باباکی مانوس آواز آئی‘ تمہیں یاد ہے۔ اس40 دن کے عمل سے پہلے تم نے مسلسل 40 دن بہت بڑی مقدار میں مال صدقہ کیا تھا‘ یاد رکھو صدقہ جتنا زیادہ ہوگا‘ جتنا زیادہ مستحقین کو تلاش کرکے دیا جائیگا‘ وہی صدقہ اسی طرح کی نورانی دیوار بن کر صدقہ دینے والے کے اردگرد ہر وقت رہتا ہے اور اسی طرح کے ہر حملہ آور سے صدقہ کرنے والے کی حفاظت کرتا ہے
بس یہ لفظ سننے تھے‘ مجھے سمجھ آگیا وہ جو میں نے40 دن مسلسل غریب مستحقین اور ایسے لوگوں کو جو سوال نہیں کرتے تلاش کرکے روزانہ 4300روپے صدقہ کیاتھا آج وہی صدقہ اس خونخوارسے میری حفاظت کا ذریعہ بن رہا ہے۔خیر وہ جسم اور بڑھ گیا حتیٰ کہ گائے تک پہنچ گیا اب اس کی آوازیں اور تیز ہوگئیں اس کے منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہوگئی پھر اس کی زمین پر گرنے والی ہرجھاگ کا قطرہ شعلہ بن کر آگ کی طرح بھڑک رہا تھا۔ پھر تھوڑی ہی دیر میں اس کے منہ سے شعلے نکلنا شروع ہوئے‘ اس کی حرارت میں محسوس کررہا تھا لیکن ان شعلوں کا نقصان مجھے نہیں ہورہا تھا کیونکہ اس صدقہ کی نورانی دیوار میری حفاظت کررہی تھی۔ کچھ دیر کے بعد اس کا جسم ہاتھی بلکہ اونٹ سے بھی اونچا ہوگیا‘ میرامحتاط اندازا ہے کہ اس کا جسم تقریبا500فٹ تک پھیلا ہوا اور 30۔40فٹ لمبا ہو گا۔ اس کی آوازیں بہت بھیانک‘ خوفناک اور تیز تھیں۔ مجبوراً مجھے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسنا پڑیں۔
آخر اس نے کہنا شروع کردیا مجھ سے بچنا ہے تو حزب البحر پڑھنا چھوڑ دو‘ میں نے پڑھنا نہ چھوڑا‘ میںتوجہ‘ دھیان سے حزب البحر پڑھ رہا تھا‘ ادھر میں توجہ دھیان بڑھاتا‘ ادھر اس کا چنگھاڑنا‘ ڈرانا اورآوازیں اور زیادہ بڑھ جاتیں۔ بہت دیر یہ سلسلہ چلتا رہا‘ یکایک منظر بدل گیا‘ میں نے دیکھا کہ دور سے میری مرحومہ والدہ محترمہ رحمتہ اللہ علیہ بہت خوبصورت لباس میں تشریف لارہی ہیں اور ان کے ہاتھ میں بجلی نما چھڑی ہے‘ وہ جس چیز کو مارتی ہیں وہ چیز خاکستر ہوجاتی ہے‘ ان کی نورانی شکل اوران کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر مجھے ان کی محبت میں بیتے وہ لمحے ایسے یاد آئے کہ میں پل میں ان کی محبت میں ایسا کھو گیا کہ بس انتظار ہی کررہا تھا کہ میں اٹھ جاوں اور جاکر ان کے قدموں میں لپٹ جاوں یا وہ میرے قریب آجائیں۔ انہوں نے اس خونخوار بلا کو دور سے ہی چھڑی ماری ‘وہ خونخوار بلا وہیں راکھ ہوگئی‘ میری بے تابی اور بڑھ گئی اور اندر اندر ہی دل میں خیال جاں گزیں ہونے لگا کہ ماں کی ذات کتنی محبت کرنے والی ہے ان حالات میں بھی وہ میری محبت اور مجھے نہیں بھولیں۔
اسی اثناءمیں والدہ محترمہ میرے قریب آئیں‘میرے جی میں تھا کہ اٹھ کر ان کے قدموں سے لپٹ جاوں لیکن دوبارہ پھر وہی آواز میرے کانوں میں گونجی خیال کرنا یہ فریب کا نیا رنگ ہے‘ حرکت نہیں کرنی‘ توجہ نہیں کرنی‘ بس یہی فقرے میرے کانوں میں گونجے اور میں اس فریب کی تہہ تک پہنچ گیا‘ میرے آنسو نکل آئے‘ اے کاش!یہ حقیقت ہوتی‘ کہانی نہ ہوتی‘ میں اپنی والدہ مرحومہ رحمتہ اللہ علیہ کے قدموں سے لپٹ جاتا۔ میں توجہ سے عمل کررہا تھا۔ والدہ مرحومہ کے روپ میں وہ بلا بہت دیر تک مسکراتی مجھے دیکھتی رہی‘ 100 فیصد والدہ مرحومہ کی آواز میںوہ خونخواربلامجھے بلاتی اور پکارتی رہی‘ جب میں نے بالکل توجہ نہ کی تو ایک دم دھماکہ ہوا‘ زمین پھٹی اور وہ چیز اس کے اندر گم ہوگئی‘ دور ایک آواز جسے صدائے بازگشت کہتے ہیں‘ مجھے سنائی دی کہ تم ہمارے وار سے بچ گئے‘ ورنہ آج ہم تمہیں وہ سبق سکھاتے کہ تم یاد رکھتے۔ چراغ میرے سامنے مسلسل جل رہا تھا‘اس کی رسی جل جاتی تو میں اونچی کردیتا‘ تیل جل رہا تھا‘ میں مسلسل عمل پڑھ رہا تھا۔عمل سے روکنے کیلئے انوکھی کہانیاں اور ڈراونے خوفناک مناظرمسلسل سامنے لائے جارہے تھے۔40 ویں دن اچانک میں نے محسوس کیا کہ مجھے چراغ کا شعلہ نظر نہیں آرہا بلکہ صرف بتی‘ تیل اور برتن نظر آرہے ہیں۔ میں سمجھا کہ چراغ بجھ گیا ہے۔ میں بہت پریشان ہوا حصار سے ہٹ نہیں سکتا تھا۔ آخر کیا کرتا کہ اسی اثناءمیں صحابی بابا‘ حاجی صاحب اور ان کا بیٹا عبدالسلام اور دوسرے بڑے بڑے طاقتور جنات اور لاکھوں کروڑوں ان کے غلام‘ خدام پھولوں کے ہار لیے ہوئے میرے پاس تشریف لائے‘ چونکہ موسم سرماتھا‘ دن ڈوبنے کے قریب تھا‘ مجھے صحابی بابا نے گلے سے لگایا‘ مبارکباد دی۔ خوش ہوئے کہ عمل مکمل ہوگیا‘ اس عمل کے 313 موکلات میرے تابع ہوگئے ہر موکل کے تابع 3 کروڑ تین سو 13 لاکھ جنات ہیں۔ فرمایا! اس عمل کی تاثیرزندگی بھر باقی رکھنے کیلئے تمہارے لیے گناہ کبیرہ‘ رزق حرام‘ جھوٹ سے پرہیز‘ نگاہوں کو پاک اور تنہائیوں کو پاک رکھنا ضروری ہے۔
(جاری ہے)