PDA

View Full Version : ( جنات کا پیدائشی دوست (قسط نمبر 10



Majzobi
11-03-2012, 06:10 PM
جب ہم کھانے سے فارغ ہوئے تو سب ساتھیوں یعنی بوڑھے باورچی جن عبدالسلام اور دوسرے جنات کے بڑے سردار دیو اور پریوں نے صحابی بابا سے اصرار کیا کہ آپ ہمیں ایسا واقعہ سنائیں جو واقعی انوکھا ہو پہلے تو انہوں نے انکار کیا پھر جب میں نے عرض کیا اور ان کی خدمت میں درخواست کی تو انہوں نے ایک واقعہ سنایا جو قارئین کی نذر ہے۔
کہنے لگے یہ واقعہ خلیفہ مامون الرشید کے دور کا ہے اس کی خلافت تمام براعظم ایشیاءاور عرب تک پھیلی ہوئی تھی اس کی ایک لونڈی تھی جو واقعی حسن و جمال کا ایک پیکر اور کمال تھی۔ وہ دراصل نیشاپور کے قریب ایک گاوں جس کا نام مارض تھا وہاں کے ایک کسان کی بیٹی تھی۔ بچپن سے رنگ روپ دیکھ کر اس کی ماں اسے چھپاتی تھی اور ابھی وہ چھوٹی ہی تھی کہ اسے گھر سے زیادہ باہر نکلنے پر پابندی لگادی گئی تھی۔ یوں جوانی کے دن رات طے ہوتے گئے۔ گاوں کے نو جوان بلکہ ہر نوجوان کی خواہش تھی کہ اس سے شادی کرے لیکن اسکے ماں اور باپ کی خواہش تھی کہ بیٹی ایسے شخصسے بیاہی جائے جو صالح ہو چاہے غریب ہی کیوں نہ ہو۔ یہ بات خلیفہ کے ایک وزیر واثق عطا جودری کے ذریعے خلیفہ تک پہنچی اب جب خلیفہ نے اس کسان کے گھرمامون رشید کی اطلاع پہنچائی تو وہ حیران ہوئے کہ ہماری اتنی کیا اوقات ہے‘ خلیفہ تو ہم سے مقام اور مرتبے میں بڑا ہے‘ آخر کار انہوں نے وہ لڑکی خلیفہ کو دے دی۔ خلیفہ نے اسے اپنے حرم کا حصہ بنالیا اور سب لونڈیوں سے اونچا مقام دیا۔
وہ لڑکی خوش شکل تو تھی ہی‘ خوش اخلاق بھی تھی اس نے آتے ہی خلیفہ کی زندگی میں سب سے پہلی جو تبدیلی پیدا کی وہ یہ کہ خلیفہ کی زندگی غرباءمساکین اور پسے ہوئے طبقے کے لیے وقف ہوکر رہ گئی بلکہ اس سے زیادہ خلیفہ کی زندگی میں اور تبدیلی جو آئی وہ یہ تھی کہ خلیفہ نیک اعمالکیطرف متوجہ ہوا یونہی دن رات گزرتے گئے آپس کی محبت بڑھتی گئی لیکن ایک دن عجیب واقعہ ہوا کہ خلیفہ نے محسوس کیا کہ آہستہ آہستہ اسکے دل سے اپنی لونڈی کی محبت کم ہورہی ہے خود اس لونڈی نے محسوس کیا کہ محبت کی جو شدت پہلے تھی وہ شدت واقعتا کم ہورہی ہے اب خلیفہ مامون بھی پریشان بلکہ ایک بار توخلیفہ اس لونڈی کوکہہ بیٹھا کہ اب تیرے حرم میں میرا دل آنے کو نہیں چاہتا بعض اوقات کھچے اور دکھی دل کے ساتھ آتا ہوں۔ کیا کروں مجبور ہوکر آتا ہوں ورنہ جو پہلے دل اور محبت کی موجوں کے ساتھ آتا تھا اب معاملہ اسطرح نہیں کئی ہفتے گزر گئے۔ خلیفہ کے دربار میں ایک درویش شیخ سعید بن ثابت المروزی رہتے تھے جو کہ خود بہت بڑے عامل تھے ان سے تذکرہ ہوا توانہوں نے تین دن کی مہلت مانگی‘3 دن کے بعد انہوں نے انکشاف کیا کہ اس لونڈی کے حسن وجمال کی وجہ سے ایک طاقت ورعامل جن اس لونڈی کے پیچھے پڑگیا ہے جو اسے ہر صورت میں پانا چاہتا ہے اور اس نے کالے جادو کے ذریعے لونڈی کو آہستہ آہستہ خلیفہ سے دور اور خلیفہ کو لونڈی سے دور کرنا شروع کردیا ہے اور عنقریب ان دونوں میں نفرت ہوجائے گی اور لونڈی کو خلیفہ اپنے حرم سے نکال دے گا۔ یوں یہ اپنے گھر واپس کسان کے پاس چلی جائے گی اور اس کالے جن کا مقصد پورا ہوجائے گا۔ اس درویش نے ایک اور بات یہ بھی کہی کہ گھریلو جھگڑوں میں سارا ہاتھ جنات کا ہوتا ہے اورجھگڑوں میں انکے کئی مقاصد ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں انکا مقصد عورت کو پانا ہو‘ انکے اور بھی کئی مقاصد ہوتے ہیں‘ اگر ان گھریلو جھگڑوں کا علاج کرنا ہے تو ان جنات کے دفع کرنے کاانتظام کرنا بہت ضروری ہے اسکی طرف اکثر لوگ توجہ نہیں دیتے جسکی وجہ سے کام اکثر طلاقوں‘ جھگڑوں‘ گھریلو بے سکونی کیطرف چلاجاتا ہے۔
بالکل یہی حال خلیفہ کا ہوا اب جب خلیفہ کو یہ پتہ چلا تو وہ پریشان ہوگیا ‘ لونڈی نے تو رو رو کر اپنا برا حال کرلیا۔ خلیفہ نے درویش کو حکم دیا کہ اب اس کیس کو حل کر اور اس کالے جن کا جادو ختم کر‘ درویش نے کہا کہ اس کالے جادو میں یہ جن اکیلا نہیں بلکہ اسکے ساتھ معاونت میںجنات کی ایک بڑی جماعت ہے‘ اس کے مستقل حل کیلئے مجھے بھی جنات کی مدد لینی پڑے گی جب تک جنات کی مدد نہ ہوگی ہرگز ہرگز مسئلہ حل نہ ہوسکے گا اب بادشاہ اور پریشان کہ اس کا کیا حل کیا جائے اس دور میں ایک درویش بصرہ میں رہتے تھے جن کا نام مالک بن عبید تھا بڑے اللہ والے تھے۔ دن رات سائلین کا ہجوم ان کے پاس رہتا تھا ہر شخص ان کے پاس سے اپنی مراد پاکر جاتا تھا‘ بہت متبع سنت اور صاحب شریعت تھے میں اس وقت ان کی محفل اور مجلس میں جایا کرتا تھا۔ خلیفہ کے درویش شیخ سعید بن ثابت ان سے ملنے آئے کہ یہ مسئلہ ہے آپ کے پاس لاتعداد جنات آتے ہیں کسی بڑے طاقت ور جن کے ذریعے یہ مسئلہ حل کرادیں چونکہ میں اس وقت موجود تھا اس لیے انہوں نے مجھے فرمایا کہ آپ یہ کام کردیں میں نے تعمیل حکم میں جی کہہ دیا اور کچھ دنوں کا وقت مانگا۔
اب میری کہانی سنیں کہ میں نے کس طرح اس کالے جن کا پیچھا کیا اور کس طرح اس جادو کو ختم کیا۔ سب سے پہلے میں نے درویش کو چند اعمال کی تراکیب بتائیں اور پھر اس درویش نے خلیفہ کو یہ تراکیب بتائیں یہ اعمال اور تراکیب اب تک میں نے بے شمار لوگوں کو بتائے اور کیے جس جس کو بتایا اسی کو فائدہ ہوا۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ اس عورت کے پرانے کپڑے لے کر چاہے ایک کپڑا ہو لیکن ہو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا ہوا۔ اس کپڑے پر روزانہ سورہ فلق مع تسمیہ 200 بار صبح اور سورہ الناس 200 بار شام گھر کا کوئی فرد پڑھے لیکن توجہ خلوص اور دھیان کیساتھ اگر مریض خود پڑھے تو نفع زیادہ ہوگا ورنہ گھر کا کوئی فرد ہو باہر کا کوئی فرد یعنی رقم دے کر اگر پڑھایا تو ہرگز نفع نہ ہوگا۔ یہ عمل 90 دن کیا جائے 90 دن کے بعد اس کپڑے کو جلا کر اس کی راکھ صاف پانی میں بہادی جائے۔ (جاری ہے)