PDA

View Full Version : (جنات کا پیدائشی دوست (قسط نمبر 8) (علامہ لاہوتی پراسراری



Majzobi
09-03-2012, 04:58 PM
میں چونکہ ان کا پڑو سی ہو ں اور خود میری عبادت اور مراقبے میں خلل ہو تاہے میں نے اپنے عمل اور طریقے کئی آزمائے لیکن میں ناکام رہا آپ کے طریقے نے ان کا جھگڑا ختم کر دیا ہے اور نفر ت کی آگ محبت میں بدل گئی ہے لہٰذا یہ عمل لینے کے لیے آپ کو سارے عمل جو میں نے صدیوں کی محنت سے حاصل کیے ہیں وہ دینے کو تیار ہو ں اتنی دیر میں وہ اونٹ نما کتا جس پر میں سوار تھا بو لا ہا ں ضرور دیں میں نے پو چھا تم کون ہو کہنے لگا میں لا ہو ت کے عالم کی ایک مخلو ق ہو ں نہ انسان نہ جن ہو ں سورئہ اخلاص کا عامل ہو ں اب تک تمہاری دنیاکے حساب کے مطابق میں نے 673 ارب سورئہ اخلاص پڑھ لی ہے۔ پھر وہ سورئہ اخلاص کے جو فوا ئد اور فضائل بتانے لگے میں خود حیران ہو گیا پھر کہا کہ میں اب سدا تمہارا خادم ہوں ساری زندگی تمہا ری خدمت کر وں گا ۔ واقعی وہ ابھی تک میرا دوست ہے۔
آخر کا ر میں نے اسے جھگڑا ختم کرنے والی آیت کی اجازت دےدی وہ بہت خو ش ہوئے میر اما تھا چو م لیا پھر وہ جو اہر اور انمول ہیرے جو ان کے پا س تھے مجھے دینا شروع کیے۔ یقین جا نیے جن چیزو ں کو آج تک میں نے معمولی سمجھا تھا وہی میرے لیے قابل قدر بن گئیں میں سنتا جا رہا تھا اور حیران ہو رہا تھا بہت دیر تک وہ مجھ سے با تیں کر تے رہے پھر انہو ں نے مجھ سے دوستی کا عہد کیا اور ایک لفظ دیا کہ جب بھی آپ یہ لفظ سانس روک کر پڑھیں گے میں فوراً حاضر ہوجاﺅں گا۔ آج تک جب بھی ان کی ضرورت پڑی ہے میں نے وہی لفظ سانس رو ک کر صرف چند با ر کہا تو وہ عامل جن میرے پا س حاضر ہو تے ہیں ۔
سندھی آدمی کی شکل و صورت اور سندھی آدمی کے لباس اور لہجے میں آتے ہیں وہ کام جو ناممکن ہو کلام الٰہی سے منٹوں میں سلجھا دیتے ہیں میں عامل جن کو بار بار تکلیف نہیں دیتا لیکن اس باکمال شخصیت کو یاد ضرور کرتا ہوں۔ میرے پاس ایک سابقہ حکمران آئے کہ میرا فلاں کام کرا دیں میں نے اس عامل جن کو بلایا اور ان کا کام کرا دیا اب وہ حکمران فوت ہوگئے ہیں۔
اب سنیے اس جھگڑے والے خاندان کی کہانی! جب میں عامل جن سے اجازت لے کر رخصت ہونے لگا تو انہوں نے مجھے ایک پتھر دیا جو چکنا، چھوٹا سا پتھر تھا بظاہر عام سا لیکن اس کے فوائد مجھے بتائے کہ آپ جب بھی اس کو زبان لگائیں گے تو یہ پھل، کھانے یا ڈش کا ذائقہ دے گا اور اسی پھل یا ڈش سے پیٹ بھرے گا اور اس کے ذائقے کا ڈکار آئے گا میں نے سینکڑوں بار اس پتھر کو آزمایا واقعی مفید پایا آج تک وہ پتھر میرے پاس ہے۔ ایک بار ایک غریب آدمی حج پر جارہا تھا اسے میں نے غائب ہونے والی آیت بتائی کہ وہ بغیر رقم کے چلا گیا اور پتھر دیا 82 دن وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہا اور یہی پتھر اس کی خوراک کی ساری ضروریات پوری کرتا رہا۔
میں یہ پتھر لے کر رخصت ہوا تو تھوڑے فاصلے پر وہ جھگڑے والا خاندان میرے تعاقب میں آیا کہنے لگا مجھے اس عامل جن نے بتایا کہ آپ نے ہمارا جھگڑا ختم کرایا اب ہم میاں بیوی بے شمار بچوں سمیت آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ہم غریب ہیں اور تو خدمت کر نہیں سکتے آپ جب بھی ٹھٹھہ کے مکلی کے قبرستان آئیں ہمارے گھر سے کھانا کھایا کریں۔ میں نے ان سے کئی بار کھانا کھایا حلال اور طبیب کھانا ہوتا ہے اور خوب لذیذ ہوتا ہے۔ جب بھی جاتا ہوں ضرور کھاتا ہوں سالہا سال سے وہ خوش و خرم زندگی بسر کررہے ہیں۔
وہ کتا نما اونٹ جب سارے قبرستان کی سیر کرا چکا اور قدرت کے عجائبات دیکھا چکا تو اب اس نے اڑنا شروع کر دیا، اڑتے اڑتے ایک بہت بڑی غار میں گیا اب اس کی شکل ابابیل کی طرح ہو گئی اور اندھیرے غار میں اڑتے اڑتے بہت دیر کے بعد ایک نیا جہاں اور نیا عالم آگیا وہ ایسا عالم تھا کہ میں اس عالم کو الفاظ کے نقشے میں بیان نہیں کر سکتا وہ انسان نہیں تھے وہاں جنات نہیں تھے بس کوئی اور مخلوق تھی جسے میں کبھی نہیں جانتا تھا۔
اس عالم کی ہر شے انوکھی، ہر چیز نرالی اور میں اپنے الفاظ میں اسے سائنسی کہوں گا کہ یہاں جدید سے جدید سائنس بھی اس کے آگے ناکام اور بے حیثیت تھی۔ ہر چیز خود کار، ہر چیز لاجواب، نفرت جھگڑے اور ناچاقی نام کی چیز اس معاشرے میں نہیں تھی، کیسا معاشرہ، عالم اور دنیا تھی بس میرے پاس الفاظ نہیں میں بہت دیر وہاں رہا اور اس قدرت کے انوکھے نظام کو دیکھتا رہا وہاں ان کے خاندان کے بے شمار اور لوگ ملے۔ میں لوگ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میں انہیں انسان تو کہہ نہیں سکتا کہ وہ اس عالم کے لوگ نہیں۔ ان میں سے ایک شخص کہنے لگا آپ نے کبھی اڑن طشتریوں کا نام سنا ہے میں نے کہا ہاں اخبارات اور کتابوں میں ضرور پڑھا، کہنے لگا وہ ہمارا جہان ہے اور اس جہان سے بعض اوقات ہم تمہارے جہان میں کبھی کبھی آتے ہیں اور بغیر نظر آئے تو ہم سارے تمہارے جہان میں آتے ہیں چونکہ مکلی میں ہمارا آنا جانا بہت زیادہ ہے تو میں نے آپ کو بہت خلوص اور نور سے سورة اخلاص مع تسمیہ پڑھتے دیکھا تو مجھے اچھا لگا ہم نے کتے کے بچے کی شکل میں اپنا خاص آدمی بھیجا تم نے اس سے محبت کی اسے پیار دیا اسے سکون دیا، اس کا احترام کیا اگر تم اسے دھتکار دیتے تو آج اس عالم میں کبھی نہ ہوتے پھر ہم راضی ہو گئے اور آج آپ یہاں ہیں کہنے لگے اس سے قبل ہم آپ کی دنیا کے بے شمار لوگوں کو یہاں لائے ہیں پھر ان کے نام گنوائے جب وہ علامہ محی الدین ابن عربی کے نام پر آئے تو میں نے تصدیق کی واقعی میں نے ان کے یہ حالات کچھ پڑھے ہیں۔
کہا انسانوں کے عالم کا جو شخص بھی سورة اخلاص مع تسمیہ لاکھوں کروڑوں اور اربوں کی تعداد میں پڑھتا ہے ایک نہ ایک دن ہم اسے اپنے عالم کی سیر ضرور کراتے ہیں ہاں اس کی پشت پر کوئی باکمال ضرور ہو۔ (جاری ہے)
نوٹ: قارئین کوعلامہ لاہوتی پراسراری کی طرف سے جنات کے پیدائشی دوست کی قسط نمبر 6 میں چھپنے والے درود شریف کی اجازتِ عام ہے۔باقی وظائف کی بھی اجازت ہے۔

Noor-ul-Ain Sahira
09-03-2012, 07:14 PM
بہت شکریہ بھائی ، اتنی پابندی سے ہر روز ایک قسط لکھنے کے لئے:)۔

رفعت
09-03-2012, 07:42 PM
۔ ایک بار ایک غریب آدمی حج پر جارہا تھا اسے میں نے غائب ہونے والی آیت بتائی کہ وہ بغیر رقم کے چلا گیا اور پتھر دیا 82 دن وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہا اور یہی پتھر اس کی خوراک کی ساری ضروریات پوری کرتا رہا۔



ہاہاہاہاہاہاہہا
سوری جی
لیکن پاکستان میں تو لاکھوں غریب ہیں یہ علامہ صاحب کو چاہیے تھا بجایے سچی کہانی چھپوانے کے سب کو حج کرواتے چھپ کر
اور غریبی دور کرواتے


ایویں ہنسی سی آگءی

Noor-ul-Ain Sahira
09-03-2012, 07:45 PM
رفعت میں اس معاملے میں تمکی ہم خیال ہوں۔ میرے ذہن میں بھی بہت سے کوئسچن پیدا ہو رھے ہیں اور یہ بھی لگ رہا ھے کہ یہ تو بے ایمانی ہوئی شاید؟ اللہ جانتا ہے۔ سوچتی ہوں ساری قسطیں پڑھ لوں تو جلیل بھائی کی منتیں کر کے لاہوتی جی کا پتہ معلوم کر کے ایک فون تو ضرور کروں گی۔

کوثر بیگ
09-03-2012, 07:50 PM
مشکور ہوں جلیل احمد بھائی آپ نے یہ سلسلہ جاری رکھے ہوا ہے ۔

رفعت
09-03-2012, 07:53 PM
رفعت میں اس معاملے میں تمکی ہم خیال ہوں۔ میرے ذہن میں بھی بہت سے کوئسچن پیدا ہو رھے ہیں اور یہ بھی لگ رہا ھے کہ یہ تو بے ایمانی ہوئی شاید؟ اللہ جانتا ہے۔ سوچتی ہوں ساری قسطیں پڑھ لوں تو جلیل بھائی کی منتیں کر کے لاہوتی جی کا پتہ معلوم کر کے ایک فون تو ضرور کروں گی۔
مجھے تو ابھی دے دے کوءی ان کا فون نمبر تو میں کہوں کہ ہم سب کو چھپا کر پاکستان کا چکر ہی لگوا دیں
دس ہزار ریال تو بچے

Noor-ul-Ain Sahira
09-03-2012, 07:55 PM
مجھے تو ابھی دے دے کوءی ان کا فون نمبر تو میں کہوں کہ ہم سب کو چھپا کر پاکستان کا چکر ہی لگوا دیں
دس ہزار ریال تو بچے
;d;d;d;d;d

Majzobi
09-03-2012, 09:10 PM
اسلام و علیکم کیا حال ہیں جناب آپ سب کی قیمتی رائے کا شکریہ ۔ اچھا مجھے بھی اس پر اسراری دنیا کو قریب سے دیکھنا ہے بس اسی جستجو میں ہوں ہاں اگر ان سے ملنے کا کبھی مجھے موقع ملا تو ضرور بتائوں گا اور آپ کو یہ بھی ضرور بتائوں گا کہ ان سے کیسے رابطہ کیا جائے ۔

Hashmi
10-03-2012, 03:31 PM
رفعت میں اس معاملے میں تمکی ہم خیال ہوں۔ میرے ذہن میں بھی بہت سے کوئسچن پیدا ہو رھے ہیں اور یہ بھی لگ رہا ھے کہ یہ تو بے ایمانی ہوئی شاید؟ اللہ جانتا ہے۔ سوچتی ہوں ساری قسطیں پڑھ لوں تو جلیل بھائی کی منتیں کر کے لاہوتی جی کا پتہ معلوم کر کے ایک فون تو ضرور کروں گی۔

امریکن آپاں۔ آپ کو ایک تھریڈ یاد ہوگا ''پیا رنگ کالا'' پر تبصرہ، اس میں اعظم بھائی نے ایک بات کہی تھی جو آپ کو کافی پسند آئی تھی۔
''جس نے جانا صرف اسی نے جانا''
جو لوگ یقین نہیں رکھتے ان چیزوں پر ان کی تو مجبوری ہے،اس سلسلے میں آج عطاءالحق قاسمی کا ایک کالم چھپا ہے جنگ میں وہ پڑھئے۔اور ایک بات یہ صاحب بھی ان لوگوں میں ہیں جو ان چیزوں پر یقین نہیں رکھتے۔

http://farm8.staticflickr.com/7193/6969021709_d1d8b3c6f7.jpg (http://www.flickr.com/photos/[email protected]/6969021709/)

Noor-ul-Ain Sahira
10-03-2012, 04:40 PM
شکریہ ہاشمی بھائی
یہ تو آپ نے خوب اچھی بات یاد کروائی جو مجھے ویسے بھی اکثر یاد آتی رہتی ہے، خاص طور پرکبھی کبھی بے بسی فیل ہوتی ہے جب کسی موقعے پر انسان بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی کو بتائی نہیں جا سکتی ہیں یا فیل نہیں کرائی جا سکتی ہیں یا سمجھائی نہیں جا سکتی ہیں۔ یا انکی کوئی منطق نہیں ہوتی۔ سب لوگ اسکا مذاق اڑاتے ہیں مگر ایسا بہت کچھ ہوتا ہے لائف میں جو عقل کے دائرے میں نہیں آ سکتا۔

Hashmi
10-03-2012, 07:08 PM
شکریہ ہاشمی بھائی
یہ تو آپ نے خوب اچھی بات یاد کروائی جو مجھے ویسے بھی اکثر یاد آتی رہتی ہے، خاص طور پرکبھی کبھی بے بسی فیل ہوتی ہے جب کسی موقعے پر انسان بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی کو بتائی نہیں جا سکتی ہیں یا فیل نہیں کرائی جا سکتی ہیں یا سمجھائی نہیں جا سکتی ہیں۔ یا انکی کوئی منطق نہیں ہوتی۔ سب لوگ اسکا مذاق اڑاتے ہیں مگر ایسا بہت کچھ ہوتا ہے لائف میں جو عقل کے دائرے میں نہیں آ سکتا۔
امریکن آپاں۔ یہ بےبسی اس وقت ہوتی ہے جب آپ کسی کو سمجھانا چاہیں تو سمجھا نا سکیں، اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ دلیل دیں اور اگلا سمجھنا ہی نا چاہے۔
سب سے پہلے آپ یہ بات سمجھیں کہ تمام طاقتیں اللہ رب العزت کے اختیار میں ہیں وہ جس کو چاہے جتنا چاہے عطار فرمائے، میں قران سے دو واقعات بیان کرتا ہوں شاید آپ اس کو صیح معنوں میں سمجھ لیں اور آپ کی تذبذب کی کیفیفت ختم ہوجائے۔
قران کریم کے پندرویں سپارے کے شروع میں اللہ پاک فرماتا ہے کہ
http://farm8.staticflickr.com/7188/6823227240_b1567890e2.jpg (http://www.flickr.com/photos/[email protected]/6823227240/)

جب ہم یہ پڑھتے ہیں تو چونکہ ہمارا اللہ پر ایمان ہے کہ وہ مالک و مولاٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اس پروردگار کے لیے معمولی بات ہے اس لئے ہمارا یقین کامل ہوجاتا ہے۔

اس کے بعد اللہ رب العزت قران میں اس طاقت کا اظہار اپنے ایک پیغمبر۔ خاص حضر سلیمان علیہ السلام کے ولی سے کرواتا ہے۔
http://farm8.staticflickr.com/7062/6969364949_aaaf8ae936.jpg (http://www.flickr.com/photos/[email protected]/6969364949/)

http://farm8.staticflickr.com/7185/6969368853_5d7aae0758.jpg (http://www.flickr.com/photos/[email protected]/6969368853/)

ہمیں اس کو پڑھ کر ہنسی بالکل نہیں آتی اور ہم اس پر یقین کرلیتے ہیں کہ اللہ نے اس کو اپنے پاک کلام میں بیان فرمادیا ہے اور اس میں شک کی بالکل گنجائش نہیں ہے، اس آیت میں اللہ پاک نے نکتہ بیان فرمادیا کہ اس اللہ کے ولی کو اس جن پر کیوں فضیلت تھی صرف ایک ‘‘علم‘‘ اور کچھ نہیں۔
اب ایک بار اور ، ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے آقا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم کا درجہ تمام مخلوق حتٰی کہ تمام انبیاء علیہ الصلواۃ والسلام سے بھی افضل و اعلٰی ہے۔ اس نسبت سے امت محمدی صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم کا رتبہ بھی بلند ہے، اب اگر بنی اسرائیل کا ایک ولی اللہ کے دیے گئے علم کی طاقت سے پلک جھپنکنے میں یہ کارنامہ سرانجام دے سکتا ہے تو آج کا ولی یہ کیوں نہیں کرسکتا۔
لائٹ چلی گئی ہے اس لئے مجھے اپنی بات یہاں پر اختتام کرنی پڑ رہی ہے۔ امید ہے آپ اسی سے سمجھ جائیں گی۔ اور یہ باتیں صرف آپ کے لیے ہیں کیونہ آپ نفی اثبات کی کیفیت میں ہیں جو نفی طاری کرکے بیٹھے ہیں ان کے لیے نہیں، کوئی بحث مقصود نہیں۔
اللہ ہم سب پر اپنا فضل وکرم فرمائے۔
آمین۔

Noor-ul-Ain Sahira
11-03-2012, 07:11 AM
بہت بہت شکریہ ۔ جی جی میں سمجھ رہی ہوں آپ کی بات ہاشمی بھائی اور بہت اچھی مثال سے سمجھایا ہے:)۔ میں تو ایسی باتوں کو اچھی طرح سمجھتی ہوں بس کچھ ڈھونگی لوگ ہیں جنہوں سے اس پورے خیال کو ہی کافی نقصان پہنچایا ہے اور جس کے بعد ہم صرف ڈیفینڈینگ پوزیشن میں ہی آ جاتے ہیں کچھ اور نہیں کہ سکتے۔
وہی اعظم بھائی والی بات پر بات ختم ہو جاتی ہے جس نے جانا اسی نے جانا۔

کچھ اور کہنا مشکل ہوتا ہے۔ میں اسی لئے رشدی کو بھی اچھی طرح سمجھنا چاہتی ہوں دوبارہ سے تاکہ اس جیسے لوگوں کا پوائنٹ آف ویو جانا جا سکے اور ان سب کو دلائل کے ساتھ ہر سوال کا جواب دیا جا سکے۔ آ خر ان سب کے مسائل کیا ہیں اور ہم کیسے ان کو منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔ انکو جواب دینے کے لئے انکو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اگر ہم سمجھیں گے نہیں تو جواب کیسے دیں گے؟ بہت سال پہلے انگلش والی پڑھی ہوئی ہے ٹکڑوں میں۔ پوری کتاب نہیں دیکھ پائی۔۔۔۔۔۔ لیکن چاہوں گی ضرور پڑھنا تاکہ جواب نہیں دے سکوں،

kashif!
15-03-2012, 08:29 AM
بہت خوب۔۔۔۔


مزہ آ رہا ہے۔۔۔

اس سب کو ایک ساتھ ایک پوسٹ میں ضرور پوسٹ کرئیے گا۔۔۔ ایک نشست میں پڑھنے کا الگ ہی مزہ ہو گا نا۔۔

جاری رکھئے۔۔۔۔ :)

Majzobi
15-03-2012, 03:32 PM
بہت خوب۔۔۔۔


مزہ آ رہا ہے۔۔۔

اس سب کو ایک ساتھ ایک پوسٹ میں ضرور پوسٹ کرئیے گا۔۔۔ ایک نشست میں پڑھنے کا الگ ہی مزہ ہو گا نا۔۔

جاری رکھئے۔۔۔۔ :)


اسلام و علیکم،

آپ کی بات غور طلب ہے انشااللہ انہیں ایک جگہ ضرور اکھٹا کروں گا۔