PDA

View Full Version : جنات کا پیدائشی دوست(چوتھی قسط علامہ لاہوتی پراسراری)



Majzobi
05-03-2012, 08:40 PM
دورے‘ سر میں چکر‘ آپس میں نفرت ‘ کدورتیں یہ سب کچھ بڑھتا چلا گیا۔ لیکن انہوں نے ڈاکٹروں کی طرف رخ کیا ‘ رب کی طرف رخ نہ کیا۔ ویسے بھی جس طرح انسانوں میں نیک وبد ہوتے ہیں۔ ہمارے جنات میں تو معاملہ اس کے برعکس ہے۔ وہاں بد زیادہ اور نیک کم ہیں کیونکہ جنات کی آبادی انسانوں سے کھربوں زیادہ ہے۔ اس لئے نیک بھی اربوں سے کم نہیں تو ہمارے شریر جنات حسین اور خوبصورت لڑکیوں کی طرف اور وہ خوبصورت لڑکیاں جو خودننگے بدن اور ننگے سر رہتی ہوں‘ ننگے بدن سے مراد یہ موجودہ فیشنی لباس‘ باورچی جن کی آواز میں ارتعاش شروع ہو گیا۔ جیسے وہ تھک گئے ہوں‘ میں نے انہیں عرض کیا کہ کچھ پانی پیش کر دوں‘ فرمانے لگے نہیں پانی نہیں چاہیے کیونکہ مجھے پیاس نہیں‘ مجھے توانسانوں پر غصہ آ رہا ہے کہ وہ ہماری شرارت کے دروازے کیوں کھولتے ہیں‘ بند کیوں نہیں رکھتے اور آسمان کی طرف گھورتے ہوئے بولے اس پیر صاحب اور بزرگ کے گھر کو ہم نے جی بھر کے ستایا ‘ شاید ان کی دین اسلام کی طرف واپسی ہو جائے لیکن انہوں نے تدبیر اختیار کی کہ کسی طرح ان سے آفات ٹل جائیں وہ کیسے ٹل سکتی ہیں‘ ان آفات کی تو ہم دن رات خود نگرانی کر رہے ہیں۔ ایک بار ہم نے ان کا بچہ اٹھا کر دیوار سے مار دیا۔ اس کا سر پھٹ گیا‘ اس کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی۔ ایک عامل نے کہا کہ تمہارے اوپر جادو ہے اور تمہارے گھر میں جنات ہیں۔ انہوں نے گھر میں حسب ترتیب سورة بقرہ پڑھنا شروع کردی اور آیت الکرسی کا ورد اپنے مریدین کے ذریعے کرانا شروع کر دیا۔ خود پھر بھی نہ کیا۔ یہ کلام شریروں کیلئے ہے‘ ہم کوئی بدمعاش ‘ شریر یا شیطان تھے جو ہم پر اثر کرے‘ ہمیں غصہ آیا کہ یہ خود اعمال اور رب کی طرف کیوں نہیں آتے لیکن محسوس ہوتا تھا کہ ان کے دل پر زنگ کچھ زیادہ لگ گیا تھا۔ ان کے اندر کے پردے اور دروازے بند ہو گئے تھے۔ ان کے کان صرف موسیقی سنتے تھے۔ باقی آوازوں کیلئے بند ہو گئے تھے۔ باورچی جن نے پہلو بدلہ اب غصے سے ان کے منہ سے شعلے نکل رہے تھے اور آواز میں تلوار کی سی تیزی بڑھ گئی تھی۔ ادھر حاجی صاحب کے بیٹے عبدالسلام جن کی دلہن کی رخصتی کی تیاری ہو رہی تھی۔ میں یہ سب منظر بھی دیکھ رہا تھا اور باورچی جن کی حیرت انگیز باتیں اور تجربات سن رہا تھا۔ اسی دوران ایک خوفناک دھماکہ ہوا اور ہر طرف سفید رنگ کا دھواں اور شور چھا گیا‘ میں چونک پڑا مجھے باورچی جن نے اپنے سینے سے لگا لیا اور تسلی دی کہ کچھ نہیں یہ در اصل دولہا اور دلہن کیلئے لاہوتی سواری آئی ہے۔ یہ اس کی آمد کی آواز ہے کہ اس کی رفتار بجلی سے زیادہ تیز اور کڑک سے زیادہ بھاری ہوتی ہے۔ یہ سواری صرف جنات کے سردار استعمال کرتے ہیں یہ سواری جنات کے علاوہ ایک اور عالم ہے اسکی بھی مخلوق ہے چونکہ سرداروں کے اس عالم سے رابطے ہوتے ہیں انہوںنے حاجی صاحب کے اعزا ز میں یہ سواری بھیجی ہے یہ سواری اڑتی ہے۔ پھر حاجی صاحب مجھے لے گئے میں حیران ہو گیا اس کا منظر مجھے یاد آیا کہ جیسے کوئی بہت میلوں میں پھیلا ہوا کئی منزلہ ایک محل جس کی شکل تقریباً بحری جہاز سے ملتی جلتی تھی۔ ہر طرف اس کی روشنیاں اور قمقمے اور فانوس تھے۔ خوب چہل پہل تھی ‘ وہ محل ہلکا ہلکا ایسے ہل رہا تھا جیسے بڑی کشی پانی میں تیرتے ہوئے ہلتی ہے۔ حاجی صاحب مجھے کہنے لگے کہ اب ہم واپس بارا ت لے کر اسی لاہوتی محل میں جائینگے۔ اس سے قبل ہم جن سواریوںپر آئے تو وہ سواریاں شروع سے اب تک دیکھ رہا ہوں اور تقریباً تمام بڑے جنات وہی سواریاں استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کچھ حلیہ آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔ گدھ نما بڑے جانور جو کسی بڑے ہوائی جہاز سے بھی بڑے ہوتے ہیں۔ جن کے بڑے بڑے سینکڑوں پر ہوتے ہیں۔ ہر پر میں ایک گھر نما کمرہ ہوتا ہے اور ایک کمرے سے دوسرے کمرے کے درمیان راستہ ہوتا ہے۔ یہ گدھ چھوٹے بھی ہوتے ہیں اور بڑے بھی ‘ رفتار کا اندازہ آپ یوں لگا سکتے ہیں کہ آپ پاکستان کے کسی شہر یا میرے شہر سے مدینہ منورہ صرف 17 منٹ میں پہنچ جاتے ہیں۔ میرا حاجی صاحب اور صحابی بابا کے ساتھ سینکڑوں سفر‘ کئی شہروں اور مکہ مدینہ ‘ بیت المقدس کے ہوئے ہیں یہ سب سفر لاہوتی ہوتے ہیں۔
ابھی چند ماہ پہلے کی بات ہے میں رات کو دیر سے سویا کہ میرا بچہ کان کے درد سے روتا رہا‘ سنت کے درجے میں دوائی ڈالی‘ دم کیا اسے سکون ہو‘ ابھی لیٹا ہی تھا کہ مجھے چیل کی آواز آئی یہ دراصل اطلاع ہوتی ہے کہ حاجی صاحب تشریف لاتے ہیں ‘ میں اٹھا اور حیران ہوا اور پوچھا خیریت تو ہے کہ اچانک اتنی رات تشریف لائے تو فرمانے لگے کہ کملی والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مدینہ آپ کو ‘ مجھے اور صحابی بابا کو حکم ہوا ہے ‘ میں اٹھا وضو کیا‘ کپڑے بدلے‘ خوشبو لگائی اور میرے پاس ایک جوتا ہے جو خالص حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کی طرز کا بنا ہوا ہے پہنا اور ان حضرات کے ساتھ چل پڑا۔ میرے سرہانے چھوٹا کلاک پڑا ہوتا ہے وہ بھول کر جلدی میں کسی طرح جیب میں دوسرے سامان کے ساتھ آ گیا۔ جب رات کے وقت میں حرمین شریفین کی طرف سلام پڑھنے کیلئے گیا تو 18 منٹ گھر سے نکلے ہو گئے تھے تو وہاں میں نے کچھ دیر مراقبہ کیا ‘ لازوال مناظر دیکھے‘ صلوٰة وسلام پڑھا پھر قبرستان جنت البقیع کے قبرستان گئے‘ تقریباً پونے دو گھنٹے وہاں رہے‘ پھر ہم واپس آئے۔ گھر آ کر دو نفل پڑھ کر میں لیٹ گیا۔ (جاری ہے)

kashif!
05-03-2012, 11:28 PM
بہت خوب اگلی قسط کا انتظار رہے گا۔۔۔ :)

Majzobi
06-03-2012, 01:43 PM
اللہ سب کو جزائے خیر دے آمین۔