PDA

View Full Version : سکاٹ لینڈ کے پہاڑ پر کیا ہے؟



Shami
06-03-2011, 07:26 PM
سکاٹ لینڈ کے پہاڑ پر کیاہے؟


تحقیق و ترجمہ: شامی
بگ گرے مین



سکاٹ لینڈ کی انچاؤں میں ایک پہاڑ واقع ہے جہاں کچھ لوگوں کو غیر معمولی واقعات پیش آئے اور انہیں باکل



مختلف قسم کے پراسرار اور ہیبت ناک تجربات سے گزرنا پڑا۔ اس پہاڑ پر ہر وقت ایک پراسرار قسم کی دھند اور کہرا چھایا رہتا ہے۔یہاں کا ہر پتھر تیرتی دھند میں لپٹا نظر آتا ہے۔



جن لوگوں ک یہاں سمجھ نہ آنے والے واقعات پیش آئے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ان پہاڑوں میں کوئی ان دیکھی عظیم الجثہ اور خوفناک مخلوق یا حیوان



(Monster)



پایا جاتا ہے۔ وہ اسے دیوہیکل سلیٹی انسان



“Big Gray Man”



کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ وہ اسے ایک جن یا شیطان کی ایک شکل تصور کرتے ہیں۔ یہ مخلوق صرف اپنی جسمانی ہیئت یا قوت سے ہی انسان کو نہیں ڈراتی بلکہ جو انسان بھی اسکے قریب جاتا ہے یہ نفسیاتی طورپر ذہن میں خودکشی کے جزبات اور رحجانات پیدا کرکے انسان کو شدید گھبراہٹ کا شکار کرتی ہے اور آدمی اپنے حواس کھو کر شدید گھبراہٹ محسوس کرتا ہے۔



Ben MacDhui



سکاٹ لینڈ کا دوسرا سب سے اونچا پہاڑ ہے، جو بہت زیادہ دشوار گزار اور خطرناک ہے۔ یہ ایک ویران پہاڑ ہے جو کافی بڑے رقبے میں پھیلا ہواہے۔ اسکی بلندی



4,000 Ft



ہے اور بہت تجربہ کار کوہ پیما ہی اس پر چڑھنے کی ہمت کرتے ہیں۔ جن لوگوں نے عظیم سلیٹی آدمی کو دیکھا یا اسکی موجودگی محسوس کی، وہ سب سنجیدہ اور کہنہ مشق کوہ پیما تھے۔یہ انکے وہم یا خیال کا کرشمہ نہیں ہوسکتا۔



دنیا کا پہلا انسان، جس نے اس عجیب اورہیبت ناک مخلوق کا سامنا کیا اسکا نام تھا۔



Professor Norman Collie



کولی ایک معزز اور مشہور کوہ پیما تھا۔ لیکن جب اس نےاپنے مشاہدات



The Cairngorm Club in 1925) The Cairngorm Club is the oldest mountain climbing club in Scotland.(



میں بیان کئے تو سننے والے سکتے میں آگئے۔ کوُلی نے بیان کیا’’اٹھارہ سو اکیانوے میں جب میں



Ben MacDhui



کی چوٹی سے واپس اتر رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھےقدموں کی آوازسنی،پہلے تو میں نے سمجھا کہ شائد یہ آواز میرے کوئی پیمائی کے سوٹ کی رگڑ سے پیدا ہورہی ہے، میں نے اپنے سوٹ کو برف سے جھاڑا اورچلنے لگا۔



میں نے اپنے پیچھے پھر قدموں کی آوازمحسوس کی،میں نے اپنے پیچھے کہرے کی چادر میں جھانکا، لیکن کچھ بھی دکھائی نہیں دیا۔ میں نے خیال کیا شائد یہ میرے قدموں کی بازگزشت ہے۔لیکن پھر میں نے محسوس کیا کہ میرے قدموں کی آواز اور میرے پیچھے آنے والی آواز میں تال میل اور ہم آہنگی نہیں ہے۔یہ آواز ایسی تھی جیسی کوئی بڑے حجم کی چیز میرا پیچھا کر رہی ہے۔ جو کوئی بھی تھا وہ میرے بعد چل رہا تھا لیکن میرے قدموں کے درمیانی وقت میں وی تین یا چار بار قدم اٹھا رہا تھا۔



کولی خوفزدہ ہوکر اندھا دندھ بھاگا اور چار پانچ میل اترائی میں آگیا، تاوقیکہ آوازیں آنا بند ہوگئیں۔ کولی پھر کبھی اس پہاڑ پر نہیں چڑھا اور مرنے تک اسے یقین تھا اس پہاڑ پر کوئی عجیب چیز ضرور موجود ہے۔



دوسری جنگ عظیم کے بعد



Peter Densham



پہاڑوں میں مددگار ورکر تھا۔پہاڑوں میں کریش ہوجانے والے جہازوں کے پائلٹوں کو بچانا اور انکی مدد کرنا اسکی ڈیوٹی تھی۔ ایک دن وہ اسی پراسرار پہاڑ کی چوٹی پر تھا، جب شدید دھند گرنا شروع ہوگئی۔وہ ایک طرف بیٹھ گیا اور موسم بہتر ہونے کا انتظار کرنے لگا۔



تھوڑی دیر بعد اسکے کانوں میں کسی سخت چیز کے رگڑنے کی آوازیں آنے لگیں۔ جیسے کوئی دانے پیس رہا ہو،پھر اچانک ’’وہ‘‘ اسکے باکل قریب سامنے آگیا۔ پیٹر کھڑا ہوگیا تاکہ جانچ کر سکے کہ یہ سب کیا ہے،



وہ گھبراہٹ کے ایک شدیدذہنی احساس سے منجمد ہو کر رہ گیا۔پھر وہ عمودی چٹانوں کی خطرناک اترائیوں میں اندھا دھند دوڑ رہا تھا۔ بعد میں اس نے بتایا۔



میں خود کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن میں نے محسوس کیا کہ خود کو روکنا بے حد مشکل ہے۔یہ ایسے ہی تھا جیسے کوئی نادیدہ قوت مجھے پیچھے سے دھکیل رہی ہے اور میں اس قوت کے رحم و کرم پر ہوں۔پھر میں نے راستہ بدلنے کی کوشش کی، لیکن یہ سب بھی بے سود ثابت ہوا،میں مکمل طور کسی ان دیکھی طاقت کی گرفت میں تھا جو مجھے اوپر سے دھکا دے رہی تھی‘‘۔



ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہیں اس مخصوس مقام کے قریب ایسے ہی واقعات اور احساسات سے سابقہ پڑا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ وہ اپنے جسم پر اپنا قدرتی اختیار کھو چکے ہیں اور کسی پراسرار ان دیکھی قوت کے جال میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔



ماضی قریب ۱۹۹۰ ء میں تین آدمی کی ایک پارٹی



Aberdeen (A city of Scotland)



کے قریب ایک جنگل کے کنارے کنارے سفر کر رہی تھی۔ ان میں سے ایک آدمی نے دیکھا کہ ان سے تھوڑے فاصلے پر ایک انسان نما چیز ان کا راستہ کاٹ کر جنگل میں داخل ہو رہی ہے۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو بتایا اور سب نے اسکی طرف دیکھا،وہ انسان کی طرح چل ضرور رہا تھا لیکن اسکا چہرہ انسانی نہیں تھا۔



چند ہفتوں بعد یہی پارٹی اسی علاقہ میں گاڑی پر سفر کر رہے تھے، انہوں نے دیکھا کہ وہی لمبی، کالی ہستی ان کا پیچھا کر رہی ہے۔انہوں نے گاڑی کی رفتار بڑھا دی، اس مخلوق نے بھی اسی رفتار سے انکا پیچھا کرنے کی کوشش کوشش کی، حتیٰ کہ گاڑی ۴۵ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگ رہی تھی۔



بلآخر وہ مخلوق تھک کر رک گئی اور پھر اس پارٹی نے وہی خوف اور گھبراہٹ کا شدید احساس محسوس کیا۔



اس عفریت کے بارے میں بہت سے مختلف خیالات ،مفروضے اور اندازے لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ کوئی آسمانی مخلوق ہوسکتی ہے یا کسی قدیم پہاڑی انسان کا بھوت ہے یا کسی قسم کی ماورائی مخلوق۔ ایک اور دلچسپ تھیوری یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ یہاں کسی اور دنیا میں جانے کا خفیہ راستہ موجود ہے اور یہ مخلوق اس راستے یادروازے کی چوکیدار ہے۔ اس تھیوری کے اصل الفاظ اس طرح ہیں۔



One interesting theory is that atop



Ben MacDhui there is a gateway to another



dimension, and this creature is the gatekeeper.



اگر یہ تھیوری صحیح ہے تو ماننا پڑے گا یہ چوکیدار اپنے فرائض بخوبی نبھا رہا ہے۔



بگ گرے مین کے تجربے سے گزرنے والوں میں سے بہت کم لوگوں نے دوبارہ اس پہاڑ پر چڑھنے کی جرات کی ہے۔



نوٹ:اگر آپ اس قسم کے مضامین جو کہ حقائق اور تحقیق پر مبنی ہیں، آپ پسند کرتے ہیں تو آپکے شامی کے پاس ایک بہت بڑا خزانہ موجود ہے۔ رائے دیں کہ کیا اس سلسلے کو جاری رکھا جائے؟

جگنو
06-03-2011, 08:26 PM
جی جی ضرور شامی بھائی
یہ اچھا اور معلوماتی سلسلہ ہے آپ اور بھی شیئر کریں ۔

Kazmi
06-03-2011, 10:24 PM
باقی کو تو چھوڑیں

Big Grey Man

کا ترجمہ " دیوہیکل سلیٹی انسان " خوب ہے !۔

Kazmi
06-03-2011, 10:30 PM
http://www.biggreyman.co.uk/