PDA

View Full Version : shetani tikoon kya hey???



M.Talal
18-11-2009, 08:22 PM
shetani tikoon kya hey?
is ki koi histori bta sakta hey?
ye kaaisey bani yan koi aur wakia is k barey main???

سب کا دوست
13-12-2009, 07:20 PM
برمودا مثلث (Bermuda Triangle) شیطانی یا آسیبی تکون، جہاں اب تک سو سے زائد بحری اور ہوائی جہاز غرق ہو چکے ہیں۔ برمودامثلث میں اب تک جتنے بھی جہاز غائب ہوئے ان کا آخری پیغام بھی یہی موصول ہوا کہ''اب ہم سفید پانی پر آگئے ہیں'' اور اس کے بعد ابدی خاموشی چھاگئی

برمودا مثلث (Bermuda Triangle) جسے شیطانی یا آسیبی تکون Devil's Triangle کے نام سے بھی جانا جاتاہے ایک ایسا پراسرار سمندری علاقہ ہے جہاں اب تک سو سے زائد بحری اور ہوائی جہاز غرق ہو چکے ہیں۔اس جگہ فزکس کا کوئی قانون کام نہیں کرتا۔

بحراوقیانوس کے ایک مثلث کی طرح سمندری علاقے کو برموداٹرائی اینگل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس علاقے کا ایک کونہ برمودا میں، دوسرا پروٹوریکو میں اور تیسرا کونا فلوریڈا کے قریب ایک مقام میں واقع ہے۔ برمودا ٹرائی اینگل انہی تین کونوں کے درمیانی علاقے کو کہا جاتا ہے۔

برمودا مثلث کی شہرت کا باعث وہ حیرت انگیز واقعات ہیں جو اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان واقعات کے مطابق کئی بحری اورہوائی جہاز اس بحری اور ہوائی جہاز اس بحری علاقے سے گزرتے ہوئے لاپتہ ہوگئے اور ان کا کوئی نشان بھی نہیں ملا۔ موجودہ ترقی یافتہ دور میں اگرچہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انسان نے دنیا کے تقریباََ سارے سربستہ راز معلوم کر لئے ہیں تا ہم سائنسدان اور ماہرین ان بحری اور ہوائی جہازوں کی گمشدگی کا راز معلوم نہ کر سکے اور نہ ہی غرق ہونے والے مسافروں اور جہازوں کے ملبے کا کوئی پتہ چلا سکے۔

فلوریڈا کے جنوب مشرقی ساحل کے پاس جغرافیائی اعتبار سے یہ تند و تیز طوفانوں کا علاقہ ہے لیکن مامیڈیا میں اسے ایک ماورائی یا پیرانارمل جگہ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا جہاں فزکس کے تسلیم شدہ تمام قوانین یا تو غلط ثابت ہو جاتے ہیں، بدل جاتے ہیں یا ان کے ساتھ بیک وقت دونوں صورتیں پیش آجاتی ہیں۔

اس تکون (مثلث) نے 11لاکھ 40ہزار مربع کلو میٹر 4) لاکھ 40 ہزار مربع میل(کا علاقہ گھیر رکھاہے۔ اس کے ایک طرف برمودا جزیرہ ہے۔ دوسری طرف امریکہ کا شہر میامی اور تیسری طرف پورٹوریکو کا جزیرہ واقع ہیں۔

دراصل برمودا مثلث کا مسئلہ کوئی نیا نہیں۔ اس پر برسہابرس سے بحث ہورہی ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ اب تک سائنسدان یہاں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں کوئی ٹھوس شہادت فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اس علاقے میں جہازوں کے غائب ہونے کی بات سب سے پہلے 1950ء میں کی گئی۔ یہ کہانی ایسوسی ایٹڈ پریس کے ذریعے سامنے آئی اوراس کے لکھنے والے کا نام ای وی ڈبلیوجونز تھا۔ جونز نے جہاں اپنے آرٹیکل میں ان حادثات کو ہوائی' جہازوں اور چھوٹی کشتیوں کی ''پراسرار گمشدگی'' سے تعبیر کیاوہیں اس علاقے کو ''شیطان کی مثلث'' کا نام بھی دیا۔

دوسری بار اس کا ذکر 1952ء کے ''فیٹ میگزین'' کے ایک فیچر میں ہوا جسے جارج ایکس سینڈ نے تحریر کیا اور اس میں کئی پراسرار بحری گمشدگی کا ذکر کیا گیا۔ ''برموداٹرائی اینگل'' کی اصطلاح 1964ء میں وینسنٹ گیڈیز کے فیچر ARG-OSY کے ذریعے مقبول ہوئی۔

عام خیال یہ ہے کہ فزکس کا کوئی قانون یہاں کام نہیں کرتا اور یہاں ہر طرف عجیب و غریب روشنیوں کا ہجوم رہتا ہے۔ عام لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں شیطانی قوتوں کی حکومت ہے۔

جو مقبولیت اس علاقے کو آج حاصل ہے وہ چارلس برلٹیز نامی شخص کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ''برموداٹرائی اینگل'' کے نام سے چارلس کی ایک کتاب 1974ء شائع ہوئی اور بعد میں اس پرایک فلم بھی بنائی گئی۔اس مثلث پر اب تک کئی فلمیں بن چکی ہیں اور ناول بھی لکھے جا چکے ہیں مثلاََ ہیری پوٹر کی بعض مہمات بھی اس خطے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ''لارڈ آف دی رنگز''نامی فلم کا مرکزی خیال بھی اس سے تعلق رکھتا ہے۔

چارلس کی کتاب ''برموداٹرائی اینگل'' میں ان ہوائی اور بحری جہازوں کے بارے میں طویل اورپراسرار کہانیاں لکھی گئی ہیں جو اس سمندری علاقے میں غائب ہوگئے تھے۔ اس میں خصوصی طور پر امریکی بحریہ کے پانچ تارپیڈو بمبار طیاروں کا ذکر کیا گیا ہے جو 5 دسمبر 1945ء کو یہاں پہنچ کر غائب ہو گئے۔

اس واقعہ میں 14افراد بھی ہلاک ہوئے۔ جہاز جب روانہ ہوئے تو موسم بہت سازگار تھا لیکن پھر اچانک خطرناک ہو گیا اور ہوا بازوں کے لئے سمت تلاش کرنا مشکل ہوگیا۔

امریکی ماہرین نے ان جہازوں کو بہت تلاش کیا لیکن بے سود۔ اسے ''فلائٹ19'' کا حادثہ کہا جاتا ہے۔ یہ کتاب ریکارڈ تعداد میںفروخت ہوئی۔ اس میں گمشدگیوں کی وجوہات کا ذکر ملتا ہے۔ مثلاََ حادثوں کی ایک وجہ اس علاقے میں بھاری آمدورفت بھی ہوسکتی ہے سمندری طوفان بھی ان حادثوں کا باعث ہوسکتے ہیں۔ ان دو سمجھ میں آنے والی وجوہات کے علاوہ کئی ایسے اسباب کا ذکر بھی کتاب میں ہے جو ماورائے عقل ہیں۔ مثلاََ کتاب کے مصنف کا کہنا ہے کہ ان گمشدگیوں کا باعث ٹمپرل ہولز(Temporal Holes) بھی ہو سکتے ہیں۔

برمودامثلث میں اب تک جتنے بھی جہاز غائب ہوئے ان کا آخری پیغام بھی یہی موصول ہوا کہ''اب ہم سفید پانی پر آگئے ہیں'' اور اس کے بعد ابدی خاموشی چھاگئی۔

اس مثلث کے بارے میں دانشوروں اورسائنسدانوں کی سرگردانی صرف بحری جہازوں اور ہوائی جہازوں کو غائب ہوجانے سے متعلق ہی نہیں بلکہ اب تک ہزاروں پائلٹوں' مداحوں اوردوسرے بحری و ہوائی سفر کرنے والے مسافروں نے اس منطقے کو عبور کرنے کے موقع پر بہت سی حیرت انگیز اور مافوق الفطرت باتوں کا مشاہدہ کیا ہے۔

ان پراسرار واقعات میںبھی یہ بات مشترکہ ہے کہ مسافر جب بھی اس ٹرائی اینگل کے قریب پہنچے ان کی گھڑیوں میں تعطل پیدا ہوگیا اور مشینوں نے اپنی حرکت بند کردی اور اس کا کنٹرول پائلٹوں اور ملاحوں کے اختیار میں نہیں رہا۔

موجودہ ریکارڈ کے مطابق پہلا بحری جہاز مارچ 1918ء میں لاپتہ ہوا۔ ''US Cyclons'' نامی یہ امریکی جہاز تھا۔ بعض کے نزدیک پہلا بحری جہاز 1952ء میں یہاں ''اسکارپین'' نامی امریکی ایٹمی آبدوز غائب ہوئی تھی۔ 23مارچ 1973ء کو ''آمتا'' نامی امریکی مال بردار بحری جہاز غرق ہوا جبکہ1950ء میں سپین کے تین بحری جہاز سمندر کی تہ میں چلے گئے۔

بحری اور ہوائی جہازوں سے جو آخری ریڈیائی پیغام موصول ہوا وہ یہ تھا کہ ''ہمارے تمام آلات سے عجیب و غریب آوازیں آنے لگی ہیں'' کے بعد مکمل خاموشی چھاگئی۔ پانچ امریکی تارپیڈو بمبار جہازوں کی غرقابی کے بعد عملے اور ملبے کی تلاش میں بھیجا جانے والا ہوائی جہاز بھی برمودا تکون کے اوپرپہنچے ہی پراسرار کشش کا شکار ہوگیا اور پھر اس کا بھی نام و نشان نہ مل سکا۔

بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ شدید سمندری طوفانوں میں جہازبرقی روکا شکار ہوئے ہونگے جبکہ بعض ماہرین قیاس کرتے ہیں کہ اس علاقے کو سمندر میں موجود کوئی بہر ہی طاقتور مقناطیسی قوت بحری اورہوائی جہازوں میں نصب ریڈیائی آلات پر اثرانداز ہوجاتی ہے جس سے سارا نظام ہی معطل ہو کر رو جاتا ہے۔

بہر حال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ افواہیں' کہانیاں حقیقت اور اندازے جتنے بھی ہوں حقیقت یہ ہے کہ آج کی 21ویں صدی کی حیرت انگیز سائنسی ترقی کے باوجود برموداٹرائی اینگل سائنسدانوں کے لئے ایک چیلنج ہے۔

سب کا دوست
13-12-2009, 07:38 PM
برمودا مثلث کے بارے میں بعض علماءکرام کا خیال ھے کہ دجال برمودا ٹکون کے علاقے میں ھی کسی جزیرے پر ہو سکتا ھے اور یہ تمام پر اسرار واقعات اسی کا نتیجہ ھیں۔ جب بھی وقت ملا انشاءاللہ برمودا ٹکون کے بارے میں میرے پاس جو اسلامی حوالے سے معلومات ھیں وہ آپ دوستوں سے سیئر کروں گا۔